وہ اچھی طرح دیکھ کر کسی کو رزق میں راوانی دیتا ہے ، اور اچھی طرح دیکھ کر اور جان کر کسی کو رزق میں تنگ کرتا ہے ۔ وہ میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور بخل و اسراف کی ممانعت کرتا ہے اس لئے کہ وہ تمام حالات میں لوگوں کے بارے خبیر وبصیر ہے اور سب کچھ جانتا ہے اس لئے وہ اپنے علم کے مطابق حکم دیتا ہے۔ اور اس نے یہ قرآن نازل ہی اس لئے کیا ہے کہ تمام حالات میں یہ اچھی او سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
اہل جاہلیت اپنی لڑکیوں کو قتل کردیتے تھے ، اس ڈر سے کہ وہ ان پر بوجھ بن کر ان کو معاشی لحاظ سے کمزور کردیں گی اور ان کے لئے ان کا سنبھالنا مشکل ہوگا۔ سابقہ آیت میں چونکہ یہ حقیقت بتا دی گئی تھی کہ رزق کی فراوانی اور تنگی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے یہاں صاف صاف کہہ دیا کہ اب تم لوگ اولاد کو معاشی زاویہ سے نہ دیکھو۔ کثرت اولاد یا لڑکیوں کی وجہ سے کوئی غریب نہیں ہوگا۔ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا اکثرت نسل یا کثرت اقسام نسل کے نتیجے میں معاشی تنگی نہیں ہوگی اور نہ افراد خانہ کم ہونے کی وجہ سے کوئی معاشی لحاظ سے خوشحال ہوگا۔
آیت 30 اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ بعض اوقات اللہ کا کوئی بندہ چاہتا ہے کہ میں کوشش کر کے اپنے فلاں نادار رشتہ دار کے حالات بہتر کردوں مگر اس کی پوری کوشش کے باوجود اس کے حالات نہیں سدھرتے۔ ایسی کیفیت کے بارے میں فرمایا گیا کہ کسی کے رزق کی تنگی اور فراخی کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے اس میں تم لوگوں کو کچھ اختیار نہیں۔ لہٰذا تم لوگ اپنی سی کوشش کرتے رہو اور نتائج اللہ پر چھوڑ دو۔