اس سبق کا یہ خاتمہ ، اس کے آغاز کے ساتھ مماثل ہے۔ گویا اس کے دونوں سرے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یوں نظر آتا ہے کہ تمام سبق اس عظیم قاعدے اور اصول پر قائم ہے۔ جس پر اسلامی نظام حیات کی بنیاد اٹھائی گئی ہے یعنی عقیدہ توحید اور صرف اللہ وحدہ کی بندگی اور اطاعت اور اللہ کے سوا تمام طاغوتوں کی بندگی اور اطاعت سے انکار۔
آیت 39 ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ یہ احکام نوع انسانی کے لیے خزینہ حکمت ہیں۔ انسانی تہذیب و تمدن ثقافت اور اجتماعیت کے ان اصولوں پر کاربند ہو کر انسان اسی دنیا میں اپنی اجتماعی زندگی کو جنت بنا سکتا ہے۔وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًایہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ان احکام میں اول و آخر توحید کا حکم دیا گیا ہے۔ آغاز میں وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا الآَّ اِیَّاہُ کے الفاظ آئے تھے ‘ جبکہ آخر میں اسی مضمون کو وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ کے الفاظ میں پھر دہرایا گیا ہے۔
ذلیل کی عادتیں یہ احکام ہم نے دئیے ہیں۔ سب بہترین اوصاف ہیں اور جن باتوں سے ہم نے روکا ہے وہ بڑی ذلیل خصلتیں ہیں ہم یہ سب باتیں تیری طرف بذریعہ وحی کے نازل فرما رہے ہیں کہ تو لوگوں کو حکم دے اور منع کرے۔ دیکھ میرے ساتھ کسی کو معبود نہ ٹھیرانا ورنہ وہ وقت آئے گا کہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے گا اور اللہ کی طرف سے بھی ملامت ہوگی بلکہ تمام اور مخلوق کی طرف سے بھی۔ اور تو ہر بھلائی سے دور کردیا جائے گا۔ اس آیت میں بواسطہ رسول اللہ ﷺ آپ کی امت سے خطاب ہے کیونکہ حضور ﷺ تو معصوم ہیں۔