سورۃ الاسراء (17): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Israa کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الإسراء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الاسراء کے بارے میں معلومات

Surah Al-Israa
سُورَةُ الإِسۡرَاءِ
صفحہ 286 (آیات 39 سے 49 تک)

ذَٰلِكَ مِمَّآ أَوْحَىٰٓ إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ ٱلْحِكْمَةِ ۗ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتُلْقَىٰ فِى جَهَنَّمَ مَلُومًا مَّدْحُورًا أَفَأَصْفَىٰكُمْ رَبُّكُم بِٱلْبَنِينَ وَٱتَّخَذَ مِنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ إِنَٰثًا ۚ إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِى هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لِيَذَّكَّرُوا۟ وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا قُل لَّوْ كَانَ مَعَهُۥٓ ءَالِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لَّٱبْتَغَوْا۟ إِلَىٰ ذِى ٱلْعَرْشِ سَبِيلًا سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا تُسَبِّحُ لَهُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ ٱلسَّبْعُ وَٱلْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِۦ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا وَإِذَا قَرَأْتَ ٱلْقُرْءَانَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِى ٱلْقُرْءَانِ وَحْدَهُۥ وَلَّوْا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَٰرِهِمْ نُفُورًا نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُونَ بِهِۦٓ إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَإِذْ هُمْ نَجْوَىٰٓ إِذْ يَقُولُ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا ٱنظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا۟ لَكَ ٱلْأَمْثَالَ فَضَلُّوا۟ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمًا وَرُفَٰتًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا
286

سورۃ الاسراء کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الاسراء کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کی ہیں اور دیکھ! اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم ہو کر

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thalika mimma awha ilayka rabbuka mina alhikmati wala tajAAal maAAa Allahi ilahan akhara fatulqa fee jahannama malooman madhooran

آیت 39 ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ یہ احکام نوع انسانی کے لیے خزینہ حکمت ہیں۔ انسانی تہذیب و تمدن ثقافت اور اجتماعیت کے ان اصولوں پر کاربند ہو کر انسان اسی دنیا میں اپنی اجتماعی زندگی کو جنت بنا سکتا ہے۔وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًایہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ان احکام میں اول و آخر توحید کا حکم دیا گیا ہے۔ آغاز میں وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا الآَّ اِیَّاہُ کے الفاظ آئے تھے ‘ جبکہ آخر میں اسی مضمون کو وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ کے الفاظ میں پھر دہرایا گیا ہے۔

اردو ترجمہ

کیسی عجیب بات ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں سے نوازا اور خود اپنے لیے ملائکہ کو بیٹیاں بنا لیا؟ بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبانوں سے نکالتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afaasfakum rabbukum bialbaneena waittakhatha mina almalaikati inathan innakum lataqooloona qawlan AAatheeman

آیت 40 اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًایہ اہل عرب کے اس عقیدے کا جواب ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ لوگ بیٹوں پر فخر کرتے تھے اور بیٹیوں کو اپنے لیے باعث عار سمجھتے تھے۔ ان کی اسی سوچ کی بنیاد پر ان سے سوال کیا گیا ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے عار سمجھتے ہو اسے آخر کس منطق کے مطابق اللہ سے منسوب کرتے ہو ؟

اردو ترجمہ

ہم نے اِس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں، مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جا رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad sarrafna fee hatha alqurani liyaththakkaroo wama yazeeduhum illa nufooran

آیت 41 وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْاان کی نصیحت کے لیے ہم نے قرآن میں اسلوب بدل بدل کر حق کو واضح کیا ہے۔ اس سورة مبارکہ کے بارے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں قرآن کا لفظ اور ذکر بار بار آیا ہے۔ گویا اس سورت کے مضامین کا تانا بانا قرآن سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے آیت 9 میں فرمایا گیا : اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ ۔ آیت زیر نظر میں بھی قرآن کا ذکر ہے اور یہ ذکر اس انداز میں آئندہ آیات میں بھی بار بار آئے گا۔وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًایہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ قرآن میں گوناگوں اسلوبوں میں حق واضح ہوجانے کے باوجود ان کی بیزاری اور نفرت ہی میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ حق سے اور زیادہ دور بھاگے جا رہے ہیں۔

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، ان سے کہو کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ مالک عرش کے مقام پر پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul law kana maAAahu alihatun kama yaqooloona ithan laibtaghaw ila thee alAAarshi sabeelan

آیت 42 قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا اگر واقعی اللہ کے ساتھ ساتھ دوسرے معبودوں کا بھی کوئی وجود ہوتا تو وہ ضرور سرکشی اور بغاوت کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں آنے کی کوشش کرتے۔ جس طرح چھوٹے چھوٹے راجوں کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح کوشش کر کے مہاراجہ کی کرسی تک پہنچ جائیں اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ بغاوت تک کا خطرہ مول لے لیتے ہیں اسی طرح اگر اللہ کے بھی شریک ہوتے تو وہ بھی اللہ کے مقابلے میں ضرور مہم جوئی کرتے اور اگر ایسا ہوتا تو اس کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔

اردو ترجمہ

پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Subhanahu wataAAala AAamma yaqooloona AAuluwwan kabeeran

اردو ترجمہ

اُس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Tusabbihu lahu alssamawatu alssabAAu waalardu waman feehinna wain min shayin illa yusabbihu bihamdihi walakin la tafqahoona tasbeehahum innahu kana haleeman ghafooran

آیت 44 تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ اس کائنات کی ایک ایک چیز چاہے جاندار ہو یا بظاہر بےجان وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ تسبیح کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کائنات کی ہرچیز اپنے وجود سے گویا اپنے خالق کی خلاقی اور اپنے صانع کی صناعی کا اعلان کر رہی ہے۔ جیسے ایک تصویر اپنے مصور کے معیارِ فن کا اظہار کرتی ہے لیکن تمام مخلوقات کا ایک طرز تسبیح قولی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو زبان عطا کر رکھی ہے اور وہ اپنی زبان خاص سے اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے۔ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًاہر چیز کا یہی انداز تسبیح ہے جس کا ادراک انسان نہیں کرسکتے۔ سورة حٰم السجدہ کی آیت 21 میں اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا ذکر ہے کہ اس نے ہرچیز کو قوت ناطقہ عطا کی ہے۔ روز محشر جب انسانوں کے اپنے اعضاء ان کے خلاف شہادت دیں گے تو وہ حیران ہو کر اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ یہ سب کیا ہے ؟ قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْءٍ ”ان کے چمڑے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی عطا کی ہے جس نے ہرچیز کو بولنا سکھایا ہے۔“

اردو ترجمہ

جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha qarata alqurana jaAAalna baynaka wabayna allatheena la yuminoona bialakhirati hijaban mastooran

آیت 45 وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًااس آیت میں ایک دفعہ پھر قرآن کا ذکر آیا ہے۔ یہاں ایک غیر مرئی پردے کا ذکر ہے جو منکرین آخرت اور ہدایت کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ ایسے لوگوں کے ہر عمل کا معیار و مقصود صرف اور صرف دنیا کی زندگی ہے۔ وہ نہ تو آخرت کی زندگی کے قائل ہیں اور نہ ہی وہاں کے اجر وثواب کے بارے میں سنجیدہ۔ دنیا میں وہ ”بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“ کے نظریے پر زندگی بسر کر رہے ہیں اور قرآن کو یا ہدایت کی کسی بھی بات کو توجہ سے نہیں سنتے۔ ایسے لوگوں کو ان کے اسی رویے کی بنا پر ہدایت سے مستقلاً محروم کردیا جاتا ہے۔ اور چونکہ یہ اللہ کا قانون ہے اس لیے آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب کیا ہے کہ جب آپ انہیں قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو ان کے غیر سنجیدہ رویے ّ کی بنا پر ہم آپ کے اور ان کے درمیان ایک غیر مرئی پردہ حائل کردیتے ہیں۔

اردو ترجمہ

اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WajaAAalna AAala quloobihim akinnatan an yafqahoohu wafee athanihim waqran waitha thakarta rabbaka fee alqurani wahdahu wallaw AAala adbarihim nufooran

وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًایہ لوگ اپنے تعصب کی وجہ سے اکیلے اللہ کا ذکر بطور معبود برداشت ہی نہیں کرسکتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ ساتھ ان کے معبودوں کا بھی کبھی کبھار ذکر ہوا کرے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ اکیلے اللہ کا ذکر سننے کو تیار نہیں ہیں۔ چناچہ وہ بدک کر نفرت کے ساتھ پیٹھ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔

اردو ترجمہ

ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں تو دراصل کیا سنتے ہیں، اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ ایک سحر زدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جا رہے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Nahnu aAAlamu bima yastamiAAoona bihi ith yastamiAAoona ilayka waith hum najwa ith yaqoolu alththalimoona in tattabiAAoona illa rajulan mashooran

آیت 47 نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖٓ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ قریش مکہ کی اس چال کا ذکر پہلے بھی ہوچکا ہے۔ ان کے بعض بڑے سردار اپنے عوام کو دھوکا دینے کے لیے رسول اللہ کی مجلس میں آتے اور بظاہر بڑے انہماک سے سب کچھ سنتے۔ پھر واپس جا کر کہتے کہ لو جی ہم تو بڑے خلوص اور اشتیاق کے ساتھ گئے تھے محمد کی محفل میں کہ وہ جو کلام پیش کرتے ہیں اس کو سنیں اور سمجھیں مگر افسوس کہ ہمیں تو وہاں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس طرح وہ کوشش کرتے کہ ان کے عوام بھی ان کے ہم نوا بن جائیں اور ان میں بھی یہ سوچ عام ہوجائے کہ یہ بڑے بڑے سردار آخر سمجھدار ہیں بات کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں محمد کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے مخلص بھی ہیں اور اسی اخلاص میں وہ خصوصی طور پر آپ کی مجلس میں بھی جاتے ہیں۔ اگر اس نئے کلام میں کوئی خاص بات ہوتی تو وہ ضرور ان کی سمجھ میں آجاتی۔ اب جب یہ لوگ وہاں جا کر اور اس کلام کو سن کر کہہ رہے ہیں کہ اس میں کچھ بھی خاص بات نہیں ہے تو یقیناً یہ لوگ سچ ہی کہہ رہے ہیں۔وَاِذْ هُمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًاان میں سے کسی کے دل پر جب قرآن کی کوئی آیت اثر کرتی ہے اور وہ اس کا اظہار اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرتا ہے کہ ہاں بھئی محمد نے آج جو فلاں بات کی ہے اس میں بہت وزن ہے اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تو ایسی صورت میں وہ فوراً اس کا توڑ کرنے کے لیے اپنے اس ساتھی کو سمجھانا شروع کردیتے ہیں کہ جی چھوڑو ! تم کہاں ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے چل پڑے۔ ان کی باتوں پر کوئی سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔

اردو ترجمہ

دیکھو، کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں یہ بھٹک گئے ہیں اِنہیں راستہ نہیں ملتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Onthur kayfa daraboo laka alamthala fadalloo fala yastateeAAoona sabeelan

آیت 48 اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ کبھی وہ آپ کو سحر زدہ آدمی کہتے ہیں کبھی کاہن اور کبھی شاعر ! دیکھیں کیسی کیسی بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور اس میں بھی کسی ایک رائے پر اتفاق نہیں کرسکتے۔

اردو ترجمہ

وہ کہتے ہیں "جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqaloo aitha kunna AAithaman warufatan ainna lamabAAoothoona khalqan jadeedan

آیت 49 وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًایہ لوگ آپ سے بڑی حیرت سے سوال کرتے ہیں کہ آپ جو انسانوں کی دوبارہ زندگی کی بات کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے ؟ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور گوشت گل سڑ جائے گا تو اس کے بعد ہمیں پھر سے نئی زندگی کیسے مل سکتی ہے ؟ گویا ان کی سوچ کے مطابق ایسا ہونا بالکل محال اور ناممکن ہے۔

286