میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ منہ سے وہی بات نکالا کریں جو بہتر ہو۔ ہر حال میں بہترین بات سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ کیونکہ بری بات سے لوگوں کا دل دکھتا ہے اور شیطان کا مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑا حربہ یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کے درمیان رخنہ ڈال دے۔ اور اس سے وہ صرف اس صورت میں بچ سکتے ہیں کہ وہ اچھی بات کریں۔ اگر کوئی بری بات منہ سے نکل جائے تو جواب بھی برا ہوگا۔ یوں نزاع شروع ہوجائے گا اور محبت اور آشتی کی فضا نہ رہے گی۔ سختی پیدا ہوگی ، پھر دشمنی ہوجائے گی۔ جبکہ اچھی بات سے دلوں کے زخم مند مل ہوجاتے ہیں اور دلوں کو خشکی اور سختی میں لچک پیدا ہوتی ہے۔ اور آخر کار اچھے کلمات سے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔
ان الشیطن کان للانسان عدوا مبینا (71 : 35) ” حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے “۔ شیان تاک میں رہتا ہے کہ کسی کے منہ سے بری بات نکلے ، اس کی زبان لغزش کرے اور یوں اسے بغض وعداوت کی آگ بھڑکانے کا موقعہ مل جائے اور بھائی بھائی کا دشمن ہوجائے ، جبکہ بھلی بات سے رخنے بھر جاتے ہیں ، شیان کی راہ بند ہوجاتی ہے اور اسلامی اخوت شیطان کی وسوسہ اندازیوں اور رخنہ پردازیوں سے مامون ہوجاتی ہے۔
اس کے بعد روئے سخن اب انسانوں کے انجام کی طرف مڑ جاتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ کی ایک آواز پر یہ لوگ جمع ہوجائیں گے۔ اس دن ان کا نظام خالص اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس دن کوئی شریک نہ ہوگا۔ اللہ چاہے گا تو رحم کرے گا ، چاہے گا تو سزا گا ، اب لوگوں کا انجام اللہ ہی کے فیصلے پر ہوگا۔ اب تو رسول بھی ان کے لئے وکیل نہ ہوگا۔ وہ تو رسول تھا۔
آیت 53 وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ یہاں وہ نکتہ ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی قبل ازیں وضاحت ہوچکی ہے کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ ان سے براہ راست تخاطب کا سلسلہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا تحویل قبلہ کے بعد شروع ہوا جب انہیں باقاعدہ امت مسلمہ کے منصب پر فائز کردیا گیا۔ اس سے پہلے اہل ایمان کو رسول اللہ کی وساطت سے ہی مخاطب کیا جاتا رہا۔ چناچہ اسی اصول کے تحت یہاں بھی حضور سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ میرے بندوں مؤمنین کو میری طرف سے یہ بتادیں کہ وہ ہر حال میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں اور گفتگو میں کبھی ترشی اور تلخی نہ آنے دیں۔ اس طرح آپس میں بھی شیر و شکر بن کر رہیں اور مخالفین کے سامنے بھی بہتر اخلاق کا نمونہ پیش کریں۔ اقامت دین کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے مؤمنین کے سامنے بہت زیادہ رکاوٹیں ہیں۔ ان کے مخاطبین جہالت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے جاہلانہ اعتقادات نسلوں سے چلے آ رہے ہیں۔ اسی طرح انہیں اپنے رسم و رواج سیاسی و معاشی مفادات اور غیرت و حمیت کے جذبات بہت عزیز ہیں۔ انہیں اس سب کچھ کا دفاع کرنا ہے اور اس کے لیے وہ ہر طرح کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔ ان حالات میں داعیانِ حق کو تحمل بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اشتعال میں آکر اعلیٰ اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔
مسلمانو ایک دوسرے کا احترام کرو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ مومن بندوں سے فرما دیں کہ وہ اچھے الفاظ، بہتر فقروں اور تہذیب سے کلام کرتے رہیں، ورنہ شیطان ان کے آپس میں سر پھٹول اور برائی ڈلوا دے گا، لڑائی جھگڑے شروع ہوجائیں گے۔ وہ انسان کا دشمن ہے گھات میں لگا رہتا ہے، اسی لئے حدیث میں مسلمان بھائی کی طرف کسی ہتھیار سے اشارہ کرنا بھی حرام ہے کہ کہیں شیطان اسے لگا نہ دے اور یہ جہنمی نہ بن جائے۔ ملاحظہ ہو مسند احمد۔ حضور ﷺ نے لوگوں کے ایک مجمع میں فرمایا کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے کوئی کسی کو بےعزت نہ کرے پھر آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تقوی یہاں ہے جو دو شخص آپس میں دینی دوست ہوں پھر ان میں جدائی ہوجائے اسے ان میں سے جو بیان کرے وہ بیان کرنے والا برا ہے وہ بدتر ہے وہ نہایت شریر ہے (مسند)