سورۃ الاسراء (17): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Israa کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الإسراء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الاسراء کے بارے میں معلومات

Surah Al-Israa
سُورَةُ الإِسۡرَاءِ
صفحہ 287 (آیات 50 سے 58 تک)

۞ قُلْ كُونُوا۟ حِجَارَةً أَوْ حَدِيدًا أَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِى صُدُورِكُمْ ۚ فَسَيَقُولُونَ مَن يُعِيدُنَا ۖ قُلِ ٱلَّذِى فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَ ۖ قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَرِيبًا يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِۦ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا وَقُل لِّعِبَادِى يَقُولُوا۟ ٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ كَانَ لِلْإِنسَٰنِ عَدُوًّا مُّبِينًا رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِكُمْ ۖ إِن يَشَأْ يَرْحَمْكُمْ أَوْ إِن يَشَأْ يُعَذِّبْكُمْ ۚ وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِمَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ ٱلنَّبِيِّۦنَ عَلَىٰ بَعْضٍ ۖ وَءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ زَبُورًا قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ ٱلْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُۥ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُۥٓ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا وَإِن مِّن قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْكِتَٰبِ مَسْطُورًا
287

سورۃ الاسراء کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الاسراء کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

ان سے کہو "تم پتھر یا لوہا بھی ہو جاؤ

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul koonoo hijaratan aw hadeedan

اردو ترجمہ

یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبول حیات سے بعید تر ہو" (پھر بھی تم اٹھ کر رہو گے) وہ ضرور پوچھیں گے "کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا کر لائے گا؟" جواب میں کہو "وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا" وہ سر ہلا ہلا کر پوچھیں گے "اچھا، تو یہ ہوگا کب؟" تم کہو "کیا عجب، وہ وقت قریب ہی آ لگا ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Aw khalqan mimma yakburu fee sudoorikum fasayaqooloona man yuAAeeduna quli allathee fatarakum awwala marratin fasayunghidoona ilayka ruoosahum wayaqooloona mata huwa qul AAasa an yakoona qareeban

آیت 51 اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ اے نبی ! ان سے کہیے کہ آپ تو ہڈیوں کی بات کرتے ہو اور اپنے جسموں کے ریزہ ریزہ ہو کر ختم ہوجانے کا تصور لیے بیٹھے ہو۔ تم اگر پتھر اور لوہا بھی بن جاؤ یا اپنی سوچ کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر کسی عجیب مخلوق کا روپ دھار لو تب بھی تمہیں ازسرنو اٹھا لیا جائے گا۔فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ لا جواب ہو کر اپنے سروں کو مٹکاتے ہوئے بولیں گے کہ چلو مان لیا کہ یہ سب کچھ ممکن ہے مگر یہ تو بتائیے کہ ایسا ہوگا کب ؟ قُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًاعجب نہیں کہ تمہاری شامت کی وہ گھڑی آیا ہی چاہتی ہو زیادہ دور نہ ہو۔

اردو ترجمہ

جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آؤ گے اور تمہارا گمان اُس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اِس حالت میں پڑے رہے ہیں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yawma yadAAookum fatastajeeboona bihamdihi watathunnoona in labithtum illa qaleelan

آیت 52 يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ جب وہ گھڑی آئے گی اور تمہارا خالق تمہیں قبروں سے باہر آنے کے لیے بلائے گا تو تمہاری ہڈیاں اور تمہارے جسموں کے بکھرے ذرات سب سمٹ کر پھر سے زندہ انسانوں کا روپ دھار لیں گے اور تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کی تعمیل میں بھاگے چلے جا رہے ہو گے۔وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًااس وقت تمہیں دنیا اور عالم برزخ قبر میں اپنا بیتا ہوا زمانہ ایسے لگے گا جیسے کہ چند گھڑیاں ہی تم وہاں گزار کر آئے ہو۔

اردو ترجمہ

اور اے محمدؐ، میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسا ن کا کھلا دشمن ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqul liAAibadee yaqooloo allatee hiya ahsanu inna alshshaytana yanzaghu baynahum inna alshshaytana kana lilinsani AAaduwwan mubeenan

آیت 53 وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ یہاں وہ نکتہ ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی قبل ازیں وضاحت ہوچکی ہے کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ ان سے براہ راست تخاطب کا سلسلہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا تحویل قبلہ کے بعد شروع ہوا جب انہیں باقاعدہ امت مسلمہ کے منصب پر فائز کردیا گیا۔ اس سے پہلے اہل ایمان کو رسول اللہ کی وساطت سے ہی مخاطب کیا جاتا رہا۔ چناچہ اسی اصول کے تحت یہاں بھی حضور سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ میرے بندوں مؤمنین کو میری طرف سے یہ بتادیں کہ وہ ہر حال میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں اور گفتگو میں کبھی ترشی اور تلخی نہ آنے دیں۔ اس طرح آپس میں بھی شیر و شکر بن کر رہیں اور مخالفین کے سامنے بھی بہتر اخلاق کا نمونہ پیش کریں۔ اقامت دین کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے مؤمنین کے سامنے بہت زیادہ رکاوٹیں ہیں۔ ان کے مخاطبین جہالت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے جاہلانہ اعتقادات نسلوں سے چلے آ رہے ہیں۔ اسی طرح انہیں اپنے رسم و رواج سیاسی و معاشی مفادات اور غیرت و حمیت کے جذبات بہت عزیز ہیں۔ انہیں اس سب کچھ کا دفاع کرنا ہے اور اس کے لیے وہ ہر طرح کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔ ان حالات میں داعیانِ حق کو تحمل بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اشتعال میں آکر اعلیٰ اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔

اردو ترجمہ

تمہارا رب تمہارے حال سے زیادہ واقف ہے، وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے اور اے نبیؐ، ہم نے تم کو لوگوں پر حوالہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Rabbukum aAAlamu bikum in yasha yarhamkum aw in yasha yuAAaththibkum wama arsalnaka AAalayhim wakeelan

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًاہدایت کو قبول کرنا یا نہ کرنا ہر شخص کا ذاتی معاملہ اور ذاتی انتخاب ہے۔ آپ ان تک پیغام پہنچانے کے ذمہ دار ہیں انہیں ہدایت پر لانے کے مکلف نہیں۔

اردو ترجمہ

تیرا رب زمین اور آسمانوں کی مخلوقات کو زیادہ جانتا ہے ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیے، اور ہم نے ہی داؤدؑ کو زبور دی تھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Warabbuka aAAlamu biman fee alssamawati waalardi walaqad faddalna baAAda alnnabiyyeena AAala baAAdin waatayna dawooda zabooran

وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ یہاں اس فقرے کے سیاق وسباق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورة بنی اسرائیل مکی دور کے آخری برسوں میں نازل ہوئی اور اس کا آغاز بھی بنی اسرائیل کی تاریخ سے ہوا۔ اس سورة کے نزول سے پہلے نبی آخرالزماں کی بعثت اور قرآن کے بارے میں تمام خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ایک ایک بات اور ایک ایک خبر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ پھر عنقریب حضور خود بھی مدینہ تشریف لانے والے تھے۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کا یہودیوں کے ساتھ عقائد و نظریات کے بارے میں تبادلہ خیالات ہونا تھا تو انبیاء کرام کے فضائل کے بارے میں سوالات کا اٹھنا ناگزیر تھا کہ اگر محمد نبی ہیں تو آپ اور موسیٰ میں سے افضل کون ہیں ؟ یا یہ مسئلہ کہ محمد افضل ہیں یا عیسیٰ ؟ چناچہ اس حوالے سے یہاں ایک بنیادی اور اصولی بات بیان فرما دی گئی کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان میں موجود اپنی تمام مخلوق کے احوال و کیفیات سے خوب واقف ہے اور اس نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 253 میں یہی بات یوں بیان فرمائی گئی ہے : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ”یہ رسول ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے“۔ ایسا نہ ہو کہ اس بحث میں پڑ کر آپ لوگ اپنے نبی کی فضیلت اس طرح بیان کریں کہ مخالفین کے منفی جذبات کو ہوا ملے اور وہ تعصب سے مغلوب ہو کر آپ کی بات ہی سننے سے انکار کردیں۔یہ بہت نازک مسئلہ ہے اور اس کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ سب سے افضل ہیں مگر موقع و محل دیکھے بغیر اپنے اس عقیدے کا اس طرح سے چرچا کرنا درست نہیں کہ اس سے دوسرے مشتعل ہوں اور ان کے مخالفانہ جذبات و خیالات کو انگیخت ملے۔ اس ضمن میں حضور کی واضح حدیث ہے کہ لَا تُفَضِّلُوْا بَیْنَ اَنْبِیَاء اللّٰہِ ”اللہ کے نبیوں کے مابین درجہ بندی نہ کیا کرو“۔ آپ نے مزید فرمایا : لاَ یَنْبَغِیْْ لِعَبْدٍ اَنْ یَقُوْلَ اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی ”کسی شخص کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں محمد یونس بن متی ٰسے افضل ہوں“۔ آپ نے یہاں حضرت یونس کا ذکر شاید اس لیے فرمایا کہ حضرت یونس واحد نبی ہیں جن کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ گرفت ہوئی ہے۔ بہر حال آپ نے واضح طور پر اس سے منع فرمایا ہے کہ دوسرے انبیاء پر آپ کی فضیلت کا پرچار کیا جائے۔ وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًااسی سیاق وسباق کی مناسبت سے یہاں بنی اسرائیل کے ایک نبی کا تذکرہ فرما دیا اور آپ کی فضیلت بھی بیان فرما دی کہ حضرت داؤد کو ہم نے زبور جیسی جلیل القدر کتاب عطا فرمائی تھی۔ یہاں پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ موقع و محل کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء و رسل کے فضائل اور اعلیٰ مراتب کے ذکر سے ان کی عزت افزائی کرتا ہے۔

اردو ترجمہ

اِن سے کہو، پکار دیکھو اُن معبودوں کو جن کو تم خدا کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Quli odAAu allatheena zaAAamtum min doonihi fala yamlikoona kashfa alddurri AAankum wala tahweelan

اردو ترجمہ

جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون اُس سے قریب تر ہو جائے اور وہ اُس کی رحمت کے امیدوار اور اُس کے عذاب سے خائف ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Olaika allatheena yadAAoona yabtaghoona ila rabbihimu alwaseelata ayyuhum aqrabu wayarjoona rahmatahu wayakhafoona AAathabahu inna AAathaba rabbika kana mahthooran

آیت 57 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ لفظ ”وسیلہ“ بمعنی قرب اس سے پہلے ہم سورة المائدۃ آیت 35 میں پڑھ چکے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں اللہ کے بندے اللہ کے ہاں اپنے درجات بڑھانے کی فکر میں رہتے ہیں اسی طرح عالم غیب یا عالم امر میں بھی تقرب الی اللہ کی یہ درجہ بندی موجود ہے۔ جیسے فرشتوں میں طبقہ اسفل کے فرشتے پھر درجہ اعلیٰ کے فرشتے اور پھر ملائکہ مقربین ہیں۔اللہ کی شریک ٹھہرائی جانے والی شخصیات میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو بالکل خیالی ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ لیکن ان کے علاوہ ہر زمانے میں لوگ انبیاء اولیاء اللہ اور فرشتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک سمجھتے رہے ہیں۔ ایسی ہی شخصیات کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ چاہے انبیاء و رسل ہوں یا اولیاء اللہ یا فرشتے وہ تو عالم امر میں خود اللہ کی رضا جوئی کے لیے کوشاں اور اس کے قرب کے متلاشی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم میں متعدد بار ذکر ہوا ہے کہ ایسی تمام شخصیات جنہیں دنیا میں مختلف انداز میں اللہ کے سوا پکارا جاتا تھا قیامت کے دن اپنے عقیدت مندوں کے مشرکانہ نظریات سے اظہار بیزاری کریں گی اور صاف کہہ دیں گی کہ اگر یہ لوگ ہمارے پیچھے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہراتے رہے تھے تو ہمیں اس بارے میں کچھ خبر نہیں۔

اردو ترجمہ

اور کوئی بستی ایسی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا سخت عذاب نہ دیں یہ نوشتہ الٰہی میں لکھا ہوا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wain min qaryatin illa nahnu muhlikooha qabla yawmi alqiyamati aw muAAaththibooha AAathaban shadeedan kana thalika fee alkitabi mastooran

آیت 58 وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا یہ اشارہ ہے اس بہت بڑی تباہی کی طرف جو قیامت سے پہلے اس دنیا پر آنے والی ہے۔ سورة الکہف کی دوسری آیت میں اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : لِیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ ۔ سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف کا آپس میں چونکہ زوجیت کا تعلق ہے اس لیے یہ مضمون ان دونوں آیات کو ملا کر پڑھنے سے واضح ہوتا ہے۔ احادیث میں الملحمۃ العُظمٰی کے نام سے ایک بہت بڑی جنگ کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو قیامت سے پہلے دنیا میں برپا ہوگی۔ آیت زیر نظر میں اسی تباہی کا ذکر ہے جس سے روئے زمین پر موجود کوئی بستی محفوظ نہیں رہے گی۔ سورة الکہف میں زیادہ صراحت کے ساتھ اس کا تذکرہ آئے گا۔ اس وقت دنیا میں ایٹمی جنگ چھڑنے کا امکان ہر وقت موجود ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی وقت ایسا سانحہ رونما ہوجاتا ہے تو ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے دنیا پر جو تباہی آئے گی اس کو تصور میں لانا بھی مشکل ہے۔ ان حالات میں الملحمۃ العُظمٰی کے بارے میں پیشین گوئیاں آج مجسم صورت میں سامنے کھڑی نظر آتی ہیں۔كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًایعنی یہ طے شدہ امور میں سے ہے۔ ایک وقت معین پر یہ سب کچھ ہو کر رہنا ہے۔

287