بعض لوگ حضرت عزیر کو ابن اللہ کہتے تھے اور یہ لوگ حضرت عزیر کی بندگی بھی کرتے تھے۔ بعض لوگ ایسے تھے جو حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور ان کی بندگی کرتے تھے۔ بعض لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور ان کی پوجا کرتے تھے اور بعض لوگوں نے ان کے سوا اور معبود اور خدا بنا رکھے تھے۔ اللہ ان سب لوگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ جن لوگوں کو تم پکارتے ہو ، وہ خود اللہ کے دربار میں رسائی حاصل کرنے کے لئے وسیلے تلاش کرتے ہیں اور عبادات کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ اور اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اللہ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں ، تو تمہارے مناسب حال بھی یہ بات ہے کہ تم بھی اللہ کا تقرب حاصل کرو جیسا کہ یہ معبود اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہیں ، حالانکہ یہ معبود نہیں ہیں ، یہ تو اللہ کے بندے ہیں۔ اور اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں رہتے ہیں۔
یوں اس سبق کا آغاز اور انجام رد شرک سے ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ شرک کی تمام صورتیں باطل ہیں ، صرف اللہ وحدہ الہ ہے ، قابل عبادت ہے اور اس بات کے لائق ہے ہم اسے پکاریں۔
آیت 57 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ لفظ ”وسیلہ“ بمعنی قرب اس سے پہلے ہم سورة المائدۃ آیت 35 میں پڑھ چکے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں اللہ کے بندے اللہ کے ہاں اپنے درجات بڑھانے کی فکر میں رہتے ہیں اسی طرح عالم غیب یا عالم امر میں بھی تقرب الی اللہ کی یہ درجہ بندی موجود ہے۔ جیسے فرشتوں میں طبقہ اسفل کے فرشتے پھر درجہ اعلیٰ کے فرشتے اور پھر ملائکہ مقربین ہیں۔اللہ کی شریک ٹھہرائی جانے والی شخصیات میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو بالکل خیالی ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ لیکن ان کے علاوہ ہر زمانے میں لوگ انبیاء اولیاء اللہ اور فرشتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک سمجھتے رہے ہیں۔ ایسی ہی شخصیات کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ چاہے انبیاء و رسل ہوں یا اولیاء اللہ یا فرشتے وہ تو عالم امر میں خود اللہ کی رضا جوئی کے لیے کوشاں اور اس کے قرب کے متلاشی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم میں متعدد بار ذکر ہوا ہے کہ ایسی تمام شخصیات جنہیں دنیا میں مختلف انداز میں اللہ کے سوا پکارا جاتا تھا قیامت کے دن اپنے عقیدت مندوں کے مشرکانہ نظریات سے اظہار بیزاری کریں گی اور صاف کہہ دیں گی کہ اگر یہ لوگ ہمارے پیچھے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہراتے رہے تھے تو ہمیں اس بارے میں کچھ خبر نہیں۔