درس نمبر 821 ایک نظر میں
درس سابق کا خاتمہ یوں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک اپنے بندوں کے معاملات میں متصرف ہے چاہے تو ان پر حم کردے اور چاہے تو انہیں سزا دے دے۔ اور لوگ جن الہوں کی بندگی کرتے ہیں وہ نہ ان سے کوئی مصیبت ٹال سکتے ہیں اور نہ کسی مصیبت کا منہ دوسروں کی طرف موڑسکتے ہیں۔
اب یہاں یہ بتایا جاتا ہے تمام انسانوں کا آخری انجام کیا ہوگا۔ کیونکہ اللہ نے اپنے علم کے مطابق جو فیصلے کیے ہیں ، وہ اٹل ہیں۔ اور یہ آخری انجام یوں ہوگا کہ قیامت سے قبل اللہ تمام بستیوں کو ہلاک کردے گا۔ اگر ان بستیوں میں سے کوئی بستی ایسے جرائم کا ارتکاب کرے جسے دنیا میں سزا دینا لازمی ہو تو یہاں ہی اسے عذاب دے دیا جاتا ہے۔ لہذا تمام زندہ انسان دو طرح کے انجام سے لازماً دو چار ہوں گے یا تو اپنی موت مریں گے یا عذاب الٰہی کے نتیجے میں ہلاک ہوں گے۔
عذاب الٰہی کے ذکر کی مناسبت سے یہاں ان معجزات کا ذکر کردیا جاتا ہے جن کا ظہور انبیائے سابق کے ہاتھوں پر ہوا۔ یعنی رسالت محمدیہ سے پہلے رسولوں پر۔ ایسے خوارق عادت معجزات کا ظہور رسالت محمدیہ کے ہاتھوں اس لئے نہیں کیا گیا امت محمدیہ کے لئے وہ عذاب مقدر نہیں جو ان اقوام پر آیا کیونکہ اللہ کی یہ سنت ہے کہ جب کوئی معجزہ ظاہر ہوتا ہے اور پھر بھی امت تسلیم نہیں کرتی تو پھر اس پر عذاب الٰہی آتا ہے۔ اور امت محمدیہ کے لئے چونکہ ہلاکت مقدر نہیں اس لئے ایسے معجزات حضرت محمد ﷺ کو نہیں دئیے گئے۔ اور امم سابقہ کے انبیاء کو یہ معجزات ڈرانے کی خاطر دئیے گئے لیکن جب معجزات دیکھ کر وہ نہ ڈرے تو ہلاک ہوئے۔
اللہ نے رسول اللہ ﷺ تک لوگوں کی رسائی کے راستے بند کردئیے۔ چناچہ وہ آپ کو کوئی دکھ نہ پہنچا سکے۔ اور اللہ نے آپ ﷺ کو سچی سیر کرائی اور جو کچھ دکھانا تھا ، دکھایا تاکہ یہ واقعہ لوگوں کے لئے آزمائش ہو اور اسے دوسرے معجزات کی طرح خارق عادت معجزہ نہ بنایا اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو شجرہ ملعونہ سے ڈرایا مگر وہ مزید سرکشی کرتے رہے۔ شجرہ ملعونہ سے مراد زقوم ہے جس کی روئیدگی جہنم کی تہہ میں ہوتی ہے ، اس تخویف کا لوگوں کے رویہ پر کوئی اثر نہ ہو لہٰذا معجزات کا صدور بھی ان پر اثر انداز نہیں ہوسکتا تھا۔
اس مضمون کے دوران قصہ آدم و ابلیس بھی بیان ہوا ہے۔ اللہ نے ابلیس کو یہ اجازت دی کہ وہ ابن آدم میں سے جس کو چاہے گمراہ کرے مگر میرے صالح بندوں پر تیری دسترس نہ ہوگی۔ کیونکہ میں نے ان کو برے اثر سے محفوظ کردیا ہے۔ چناچہ اس قصے ذریعہ گمراہی کے اصل اسباب لوگوں کو بتادئیے گئے ، جو لوگوں کو کفر اور سرکشی پر آمادہ کرتے ہیں اور وہ اللہ کی بات پر تدبر نہیں کرتے۔
یہاں سیاق کلام انسان کو یہ تاثر دیتا ہے کہ اللہ کی جانب سے اس پر کس قدر فضل و کرم ہے لیکن اس فضل و کرم کے مقابلے میں انسان ہے کہ اللہ کا انکار کرتا ہے اور سرکشی اختیار کرتا ہے۔ اور انسان کو اللہ صرف اس وقت یاد آتا ہے جب وہ نہایت ہی اضطرابی حالت میں ہو ، اگر سمندر میں کوئی مشکلات پیش آجائیں تو انسان پھر اللہ کی پناہ میں آجاتا ہے لیکن جونہی اللہ نجات دیتا ہے تو لوگ پھر شرک کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تو انہیں سمندر اور خشکی دونوں میں پکڑ سکتا ہے۔ حالانکہ انسان کو اللہ اپنی مخلوقات کے ایک بڑے حصے پر فضیلت بخشی ہے ، لیکن انسان ہے کہ شکر نہیں کرتا اور اللہ کو یاد نہیں کرتا۔
یہ سبق قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پر ختم ہوتا ہے ، جب یہ لوگ وہ سب کچھ پالیں گے جو انہوں نے کمایا تھا لہٰذا نجات صرف اس صورت میں کہ انسان اگلے جہاں کے لئے کچھ کمائی کرے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ جب قیامت آئے تو اس کرہ ارض کی چھاتی پر حیات کا نام و نشان نہ ہو ، لہٰذا قیامت سے قبل اس کرہ ارض کی تمام زندہ چیزیں ختم ہونے والی ہیں۔ اسی طرح اس کرہ ارض پر واقع بعض بستیوں کے لئے تباہی مقدر ہے اس لئے کہ وہ جرائم کا ارتکاب کرتی ہیں اور ان جرائم کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے۔ یہ تقدیر اللہ کے علم میں ہوتی ہے کہ ایسا ہونا ہے کیونکہ جو ہوچکا یا جو ہونے والا ہے اللہ کے علم میں دونوں برابر ہیں۔
تمام رسولوں کو معجزات دئیے گئے تھے اور یہ معجزات رسولوں کی حقانیت کی تصدیق کرتے تھے اور ان معجزات کے ذریعے لوگوں کو اس بات سے ڈرایا جاتا تھا کہ اگر انہوں نے تکذیب کی تو ان پر ہلاکت آجائے گی لیکن ان خوارق عادت معجزات کو دیکھ کر صرف ان لوگوں کو ایمان نصیب ہوا جن کے دل ایمان کے لئے تیار تھے۔ رہے وہ لوگ جن کو کفر پر اصرار تھا تو انہوں نے انکار ہی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی آخر الزمان کو ایسے خارچ عادت معجزات نہ دئیے گئے۔
آیت 58 وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا یہ اشارہ ہے اس بہت بڑی تباہی کی طرف جو قیامت سے پہلے اس دنیا پر آنے والی ہے۔ سورة الکہف کی دوسری آیت میں اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : لِیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ ۔ سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف کا آپس میں چونکہ زوجیت کا تعلق ہے اس لیے یہ مضمون ان دونوں آیات کو ملا کر پڑھنے سے واضح ہوتا ہے۔ احادیث میں الملحمۃ العُظمٰی کے نام سے ایک بہت بڑی جنگ کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو قیامت سے پہلے دنیا میں برپا ہوگی۔ آیت زیر نظر میں اسی تباہی کا ذکر ہے جس سے روئے زمین پر موجود کوئی بستی محفوظ نہیں رہے گی۔ سورة الکہف میں زیادہ صراحت کے ساتھ اس کا تذکرہ آئے گا۔ اس وقت دنیا میں ایٹمی جنگ چھڑنے کا امکان ہر وقت موجود ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی وقت ایسا سانحہ رونما ہوجاتا ہے تو ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے دنیا پر جو تباہی آئے گی اس کو تصور میں لانا بھی مشکل ہے۔ ان حالات میں الملحمۃ العُظمٰی کے بارے میں پیشین گوئیاں آج مجسم صورت میں سامنے کھڑی نظر آتی ہیں۔كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًایعنی یہ طے شدہ امور میں سے ہے۔ ایک وقت معین پر یہ سب کچھ ہو کر رہنا ہے۔
وہ نوشتہ جو لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے وہ حکم جو جاری کردیا گیا ہے اس کا بیان اس آیت میں ہے کہ گنہگاروں کی بستیاں یقینا ویران کردی جائیں گی یا ان کے گناہوں کی وجہ سے تباہی کے قریب ہوجائیں گی اس میں ہماری جانب سے کوئی ظلم نہ ہوگا بلکہ انکے اپنے کرتوت کا خمیازہ ہوگا، رب کی آیتوں اور اسکے رسولوں سے سرکشی کرنے کا پھل ہوگا۔