واقعہ اسرا کے بعد بعض وہ لوگ جو حضور اکرم ﷺ پر ایمان لاچکے تھے ، مرتد ہوگئے اور دوسرے اہل ایمان اس واقعہ کع سن کر مزید ثابت قد ہوگئے اور ان کے یقین میں ضافہ ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس رات اللہ نے اپنے بندے کو جو کچھ دکھایا ، وہ لوگوں کے لئے فتنے کا موجب بنا اور یہ اہل ایمان کے لئے آزمائش تھی۔ ” اللہ نے لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ کا یہ وعدہ تھا کہ لوگ آپ ﷺ کو نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور ان کی رسائی آپ تک نہ ہوسکے گی۔
حضور اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ ان کی رسائی ان تک نہیں ہوسکتی کیونکہ آپ کو سچے خواب میں یہ بات من عند اللہ بتا دی گئی تھی اور سفرا سرا میں حضور اکرم ﷺ کو جو باتیں بتائی گئیں ان میں سے ایک درخت زقوم کے بارے میں تھی کہ یہ جہنمیوں کی خوراک ہوگی اور ابو جہل اور دوسرے مشرکین نے اس کی بھی تکذیب کی اور ابوجہل نے مذاق کے طور پر کہا مجھے کچھ اور مکھن دے دو ، جب دیا گیا تو وہ کھجور کے ساھت مکھن ملا کر کھاتا اور کہنا جاتا۔ “ کھائو اس زقوم کو کہ میں اس کے سوا کسی اور زقوم کو نہیں جانتا “۔
اگر حضور اکرم ﷺ کو خارق عادت معجزات بھی دے دئیے جاتے تو بھی وہ اس قوم پر اثر انداز نہ ہوتے ، جس طرح انبیائے سابقین کے حق میں آنے والے معجزات اور آیات لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئے۔ جس طرح معجزہ اسرا ومعراج اور زقوم کے درخت سے ڈراوے نے ان کو ہدایت نہ بخشی اور وہ مزید سرکشی اختیار کرتے رہے اسی طرح دوسرے معجزات اگر صاد ربھی ہوجاتے تو لوگوں پر ان کا کوئی اثر نہ ہوتا۔
اللہ نے عذاب الٰہی کے ذریعہ امت محمدیہ کی ہلاکت لکھی ہوئی نہ تھی ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو ایسا خارق عادت معجزہ نہیں دیا ، کیونکہ اللہ کا اصول یہ تھا کہ اگر پھر بھی کوئی تکذیب کرے تو اسے ہلاک کردیا جائے۔ رہے قریش تو ان کو اللہ نے مہلت دی اور ان کو قوم نوح ، قوم ہود ، قوم صالح ، قوم لوط اور قوم شعیب (علیہم السلام) کی طرح جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینا ، کیونکہ قریش کے مکذبین میں سے پیش تر لوگ بعد میں ایمان لائے اور وہ اسلام کے نامور سپای بنے۔ اور ان ہی میں سے بعض لوگ نہایت ہی سچے مسلمانوں میں شمار ہوئے اور قرآن کریم ، ایک کھلی کتاب کے طور پر محمد ﷺ کے لئے ایک معجزہ ہے۔ اور آج بھی اس پر بیشمار ایسے لوگ ایمان لاتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا عہد دیکھا ہی نہیں۔ ہزار ہا افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے جنہوں نے قرآن مجید کو پڑھایا ایسے لوگوں کے شاگرد اور ساتھی اور رفیق بنے جنہوں نے قرآن مجید پڑھا اور سمجھا۔ آنے والی نسلوں کے لئے بھی ، قیامت تک ، یہ ایک کھلی کتاب ہوگا اور مستقبل کے پردہ غیب کے پیچھے ہزار ہو لوگ ایسے ہیں جو اس کو پڑھ کر ہدایت لیں گے اور ان میں ایسے لوگ بھی آئیں گے جو نہایت ہی پختہ مومن ، نہایت ہی صالح ، اسلام کے لئے نہایت ہی مفید اور متقی ہوں گے۔
وہ سچا خواب جو رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا اور اس خواب کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو جو علوم عطا ہوئے اور جو ملعون درخت رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا جو شیاطین کے متبعین کی خوراک ہوگا۔ اس کے بعد اسی مناسبت سے ابلیس معلون کی بحث آتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس شیطان نے بنی آدمی کو کس طرح چیلنج دیا۔
آیت 60 وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاط بالنَّاسِ قرآن حکیم کی بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ‘ مثلاً : وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآءِہِمْ مُّحِیْطٌ البروج ”اور اللہ ان کا ہر طرف سے احاطہ کیے ہوئے ہے“۔ یہ لوگ جب ایسی آیات سنتے ہیں تو ڈرنے کی بجائے فضول بحث پر اتر آتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ کہاں ہے اللہ ؟ ہمارا احاطہ کیوں کر ہوا ہے ؟اگر فلسفیانہ پہلو سے دیکھا جائے تو اس آیت میں ”حقیقت و ماہیت وجود“ کے موضوع سے متعلق اشارہ پایا جاتا ہے جو فلسفے کا مشکل ترین مسئلہ ہے اور آسانی سے سمجھ میں آنے والا نہیں ہے یعنی ایک وجود خالق کا ہے وہ ہر جگہ ہر آن موجود ہے اور ایک وجود مخلوق یعنی اس کائنات کا ہے۔ اب خالق و مخلوق کے مابین ربط کیا ہے ؟ اس سلسلے میں کچھ لوگ ”ہمہ اوست“ Pantheism کے قائل ہوگئے۔ ان کے خیال کے مطابق یہ کائنات ہی خدا ہے خدا نے ہی کائنات کا روپ دھار لیا ہے جیسے خدا خود ہی انسانوں کا روپ دھار کر ”اوتار“ کی صورت میں زمین پر آجاتا ہے۔ یہ بہت بڑا کفر اور شرک ہے۔ دوسری طرف اگر یہ سمجھیں کہ اللہ کا وجود اس کائنات میں نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کا وجود کہیں الگ ہے اور وہ نعوذ باللہ کہیں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا۔ ہمیں بس اس قدر سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ کا وجودمطلق Absolute ہے۔ وہ حدود وقیود زمان و مکان کسی سمت یا جہت کے تصور سے ماوراء وراء الوراء ثم وراء الوراء ہے۔ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ یہاں پر لفظ ”رؤیا“ خواب کے معنی میں نہیں آیا بلکہ اس سے رُؤیت بصری مراد ہے۔ انسان اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھتا ہے اس پر بھی ”رؤیا“ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شب معراج میں حضور کو جو مشاہدات کرائے تھے اور جو نشانیاں آپ کو دکھائی تھیں ان کی تفصیل جب کفار مکہ نے سنی تو یہ معاملہ ان کے لیے ایک فتنہ بن گیا۔ وہ نہ صرف خود اس کے منکر ہوئے ‘ بلکہ اس کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر انہوں نے پوری شد و مد سے یہ پرچار شروع کردیا کہ محمد پر جنون کے اثرات ہوچکے ہیں معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ اس زمانے میں جب مکہ سے بیت المقدس پہنچنے میں پندرہ دن لگتے تھے یہ دعویٰ انتہائی ناقابل یقین معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شخص راتوں رات نہ صرف بیت المقدس سے ہو آیا ہے بلکہ آسمانوں کی سیر بھی کر آیا ہے۔ چناچہ انہوں نے موقع غنیمت سمجھ کر اس موضوع کو خوب اچھالا اور مسلمانوں سے بڑھ چڑھ کر بحث مباحثے کیے۔ اس طرح نہ صرف یہ بات کفار کے لیے فتنہ بن گئی بلکہ مسلمانوں کے لیے بھی ایک آزمائش قرار پائی۔ جب یہی ناقابل یقین بات ان لوگوں نے حضرت ابوبکر سے کی اور آپ سے تبصرہ چاہا تو آپ نے بلا توقف جواب دیا کہ اگر واقعی حضور نے ایسا فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے کیونکہ جب میں یہ مانتا ہوں کہ آپ کے پاس آسمانوں سے ہر روز فرشتہ آتا ہے تو مجھے آپ کا یہ دعویٰ تسلیم کرنے میں آخر کیونکر تامل ہوگا کہ آپ راتوں رات آسمانوں کی سیر کر آئے ہیں ! اسی بلا تامل تصدیق کی بنا پر اس دن سے حضرت ابوبکر کا لقب ”صدیق اکبر“ قرار پایا۔ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ اسی طرح جب قرآن میں زقوم کے درخت کا ذکر آیا اور اس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ اس درخت کی جڑیں جہنم کی تہہ میں ہوں گی الصافات : 64 اور وہاں سے یہ جہنم کی آگ میں پروان چڑھے گا تو یہ بات بھی ان لوگوں کے لیے فتنے کا باعث بن گئی۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگ اسے اللہ کی قدرت سمجھ کر تسلیم کرلیتے الٹے اس بات پر تمسخر اور استہزا کرنے لگے کہ آگ کے اندر بھلا درخت کیسے پیدا ہوسکتے ہیں ؟ انہیں کیا معلوم کہ یہ اس عالم کی بات ہے جس کے طبعی قوانین اس دنیا کے طبعی قوانین سے مختلف ہوں گے اور جہنم کی آگ کی نوعیت اور کیفیت بھی ہماری دنیا کی آگ سے مختلف ہوگی۔وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًاقرآن میں یہ سب باتیں انہیں خبردار کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں مگر یہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ اللہ کی آیات سن کر ڈرنے اور ایمان لانے کی بجائے وہ مزید سرکش ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی سرکشی میں روز بروز مزید اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔
مقصد معراج اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے رسول ؑ کو تبلیغ دین کی رغبت دلا رہا ہے اور آپ کے بچاؤ کی ذمہ داری لے رہا ہے کہ سب لوگ اسی کی قدرت تلے ہیں، وہ سب پر غالب ہے، سب اس کے ماتحت ہیں، وہ ان سب سے تجھے بچاتا رہے گا۔ جو ہم نے تجھے دکھایا وہ لوگوں کے لیے ایک صریح آزمائش ہے۔ یہ دکھانا معراج والی رات تھا، جو آپ کی آنکھوں نے دیکھا۔ نفرتی درخت سے مراد زقوم کا درخت ہے۔ بہت سے تابعین اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ دکھانا آنکھ کا دکھانا، مشاہدہ تھا جو شب معراج میں کرایا گیا تھا۔ معراج کی حدیثیں بہت پوری تفصیل کے ساتھ اس سورت کے شروع میں بیان ہوچکی ہیں۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ معراج کے واقعہ کو سن کے بہت سے مسلمان مرتد ہوگئے اور حق سے پھرگئے کیونکہ ان کی عقل میں یہ نہ آیا تو اپنی جہالت سے اسے جھوٹا جانا اور دین کو چھوڑ کر بیٹھے۔ ان کے برخلاف کامل ایمان والے اپنے یقین میں اور بڑھ گئے اور ان کے ایمان اور مضبوط ہوگئے۔ ثابت قدمی اور استقلال میں زیادہ ہوگئے۔ پس اس واقعہ کو لوگوں کی آزمائش اور ان کے امتحان کا ذریعہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کردیا۔ حضور ﷺ نے جب خبر دی اور قرآن میں آیت اتری کہ دوزخیوں کو زقوم کا درخت کھلایا جائے گا اور آپ نے اسے دیکھا بھی تو کافروں نے اسے سچ نہ مانا اور ابو جہل ملعون مذاق اڑاتے ہوئے کہنے لگا لاؤ کجھور اور مکھن لاؤ اور اس کا زقوم کرو یعنی دونوں کو ملا دو اور خب شوق سے کھاؤ بس یہی زقوم ہے، پھر اس خوراک سے گھبرانے کے کیا معنی ؟ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد بنو امیہ ہیں لیکن یہ قول بالکل ضعیف اور غریب ہے۔ پہلے قول کے قائل وہ تمام مفسر ہیں جو اس آیت کو معراج کے بارے میں مانتے ہیں۔ جیسے ابن عباس مسروق، ابو مالک، حسن بصری وغیرہ۔ سہل بن سعید کہتے ہیں حضور ﷺ نے فلاں قبیلے والوں کو اپنے منبر پر بندروں کی طرح ناچتے ہوئے دیکھا اور آپ کو اس سے بہت رنج ہوا پھر انتقال تک آپ پوری ہنسی سے ہنستے ہوئے نہیں دکھائی دئے اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ (ابن جریر) لیکن یہ سند بالکل ضعیف ہے۔ محمد بن حسن بن زبالہ متروک ہے اور ان کے استاد بھی بالکل ضعیف ہیں۔ خود امام ابن جریر ؒ کا پسندید قول بھی یہی ہے کہ مراد اس سے شب معراج ہے اور شجرۃ الزقوم ہے کیونکہ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے۔ ہم کافروں کو اپنے عذابوں وغیرہ سے ڈرا رہے ہیں لیکن وہ اپنی ضد، تکبر، ہٹ دھرمی اور بےایمانی میں اور بڑھ رہے ہیں۔