وحملنھم فی البر والبحر (71 : 07) ” او انہیں خشکی اور تری میں سواریاں عطا کیں “۔ خشکی اور تری میں انسانی ٹرانسپورٹ کا مہیا ہونا صرف اسی وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کو ایک ایسی فطرت دی ہے اور ایسا نظام فطرت دیا ہے کہ وہ انسانی زندگی اور اس کی سہولیات کے لئے زر و معاون ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کے نظام اور خصوصاً زمین و آسمان کی گردش اور ساخت کو انسانی حیات کے موافق نہ بناتا تو اس کے لئے یہاں زندگی گزار تا یا زندہ رہنا ہی مشکل ہوتا۔ نظام فطرت کی تو اے طیبہ کو دیکھا جائے تو بہ نسبت انسان کے وہ بہت ، سرکش اور پر قوت ہیں اور انسان کے لئے بحر و بر میں یہ حکمرانی ممکن نہ ہوتی۔ لیکن انسان کو اللہ نے وہقوت دی جس کی وجہ سے اس نے اس کائنات کو مسخر کرلیا اور پھر اسے مسخر کرنے کے بعد اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا اور یہ سب کچھ محض اللہ کے فضل و کرم سے ہوا۔
ورزقنھم من الطیبت (71 : 07) ” اور ان کا پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا “۔ انسان چونکہ اپنی پوری زندگی ، آغاز انسانیت سے یہاں گزار رہا ہے۔ اور دنیا کا ایک طویل عرصہ اور تاریخ گزر چکی ہے۔ اس لئے وہ روٹین میں اللہ کی عطا کردہ بیشمار پاکیزہ نعمتوں کو سرے سے شمار ہی نہیں کرتا۔ ان میں سے کسی نعمت کا احساس اسے تب ہوتا ہے جب وہ اس نعمت سے محروم ہوتا ہے۔ جب وہ محروم ہوجاتا ہے تب اسے احساس ہوتا ہے کہ اللہ کی کس قدر نعمت تھی جس سے وہ محروم ہوگیا اور وہ کس قدر مزے لیتا رہا ہے۔ لیکن جب یہ محرومیت دور ہوجاتی ہے تو پھر وہ بھول جاتا ہے۔ یہ سورج ، ہوا ، پانی ، یہ صحت ، یہ چلنے پھرنے کی قوت ، بہ حواس ، یہ عقل ، یہ کھانے پینے کی چیزیں ، بہ طویل و عریض کائنات جس میں وہ خلیفۃ اللہ ہے اور اس میں۔
لاتغذ ولا تحصی طیبات جن سے وہ لطف اندوز ہورہا ہے۔
وفضلنھم علی ……(71 : 07) ” اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت دی “۔ پہلی فضیلت تو یہ دی کہ اس عظیم کائنات کا خلیفہ اسے بنایا۔ پھر انسان کو ایسی خصوصیات بخشیں کہ وہ پوری مخلوق میں ایک ممتاز مخلوق بن گیا۔ اللہ کی تمام مخلوق میں۔
انسان کی سب سے بڑی تکریم یہ ہے کہ انسان خود اپنا ناظم اور کنٹرولر ہو۔ وہ ذمہ دار ہو اور اپنے افعال و اعمال کے نتائج بھگتے۔ کیونکہ یہی وہ بڑی خصویت ہے جس کی وجہ سے انسان انسان کہلایا ہے۔ یعنی یہ کہ وہ آزاد ہے جو چاہے کرے اور جو بھی کرے اس کے نتائج و عواقب کا ذمہ دار ہو اور جو بوئے اسے کاٹے۔
یہی وجہ ہے کہ اس دار العمل میں وہ اللہ کا خلیفہ قرار پایا ہے۔ لہٰذا عدل و انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دار الحساب اور یوم الحساب میں وہ اپنے کئے کا ذمہ دار ہو اور اس نے جو بویا ہو ، اسے کاٹے۔
آیت 70 وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ یہ آیت بہت واضح انداز میں اس حقیقت کا اظہار کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج climax انسان ہے۔ اس فلسفے کی وضاحت سورة النحل کی آیت 40 کی تشریح کے ضمن میں ہوچکی ہے۔ وہاں میں نے بہت تفصیل سے کائنات اور انسان کی تخلیق کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا نقطہ آغاز اللہ تعالیٰ کا امر کن ہے۔ حرف کن سے خنک نور کا ظہور ہوا اس نور سے ملائکہ اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی پھر Big Bang کے نتیجے میں حرارت کا گولا وجود میں آیا جس کے متحرک ذرات سے کہکشائیں ستارے اور سیارے بنے۔ اسی دور میں اس حرارت سے جنات کی تخلیق ہوئی۔ دوسرے بیشمار ستاروں اور سیاروں کی طرح ہماری زمین بھی ابتدا میں بہت گرم تھی۔ یہ آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی۔ پھر اس پر ہزاروں برس مسلسل بارش برستی رہی جس سے زمین پر ہر طرف پانی پھیل گیا۔ اس کے بعد زمین پر نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد پھر تمام مخلوق کے بادشاہ ”انسان“ کی تخلیق عمل میں آئی۔ اس پورے فلسفے کو مرزا بیدل نے اپنے اس شعر میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے : ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش آدمی اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش !اس خوبصورت شعر کا مفہوم و مطلب بھی سورة النحل کی مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یہاں ”ہم“ سے اللہ تعالیٰ کا نظام قدرت مراد ہے جس کے تحت بحر و بر میں انسانوں کی مختلف نوعیت کی سرگرمیاں ممکن بنا دی گئیں ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے یہ معاون اور دوستانہ ماحول انسان کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے ہے۔
انسان پر اللہ کے انعامات سب سے اچھی پیدائش انسان کی ہے جیسے فرمان ہے آیت (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ۡ) 95۔ التین :4) ہم نے انسان کو بہترین مسافت پر پیدا کیا ہے۔ وہ اپنے پیروں پر سیدھا کھڑا ہو کر صحیح چال چلتا ہے، اپنے ہاتھوں سے تمیز کے ساتھ اپنی غذا کھاتا ہے اور حیوانات ہاتھ پاؤں سے چلتے ہیں منہ سے چارہ چگتے ہیں۔ پھر اسے سمجھ بوجھ دی ہے جس سے نفع نقصان بھلائی برائی سوچتا ہے۔ دینی دنیوی فائدہ معلوم کرلیتا ہے۔ اس کی سواری کے لئے خشکی میں جانور چوپائے گھوڑے خچر اونٹ وغیرہ۔ اور تری کے سفر کے لئے اسے کشتیاں بنانی سکھا دیں۔ اسے بہترین، خوشگوار اور خوش ذائقہ کھانے پینے کی چیزیں دیں۔ کھیتیاں ہیں، پھل ہیں، گوشت ہیں، دودھ ہیں اور بہترین بہت سی ذائقے دار لذیذ مزیدار چیزیں۔ پھر عمدہ مکانات رہنے کو، اچھے خوشنما لباس پہننے کو، قسم قسم کے، رنگ برنگ کے، یہاں کی چیزیں یہاں لے جانے لے آنے کے اسباب اس کے لئے مہیا کر دئے اور مخلوق میں سے عموما ہر ایک پر اسے برتری بخشی۔ اس آیت کریمہ سے امر پر استدلال کیا گیا ہے کہ انسان فرشتوں سے افضل ہے۔ حضرت زید بن اسلم کہتے ہیں کہ فرشتوں نے کہا اے اللہ تو نے اولاد آدم کو دنیا دے رکھی ہے کہ وہ کھاتے پیتے ہیں اور موج مزے کر رہے ہیں تو تو اس کے بدلے ہمیں آخرت میں ہی عطا فرما کیونکہ ہم اس دنیا سے محروم ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم اس کی نیک اولاد کو جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اس کے برابر میں ہرگز نہ کروں گا جسے میں نے کلمہ کن سے پیدا کیا ہے۔ یہ روایت مرسل ہے۔ لیکن اور سند سے متصل بھی مروی ہے ابن عساکر میں ہے کہ فرشتوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہمیں بھی تو نے پیدا کیا اور بنو آدم کا خالق بھی تو ہی ہے انہیں تو کھانا پینا دے رہا، کپڑے لتے وہ پہنتے ہیں، نکاح شادیاں وہ کرتے ہیں، سورایاں ان کے لے ہیں، راحت و آرام انہیں حاصل ہے، ان میں سے کسی چیز کے حصے دار ہم نہیں۔ خیر یہ اگر دنیا میں ان کے لئے ہے تو یہ چیزیں آخرت میں تو ہمارے لئے کر دے۔ اس کے جواب میں جناب باری تعالیٰ نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اور اپنی روح جس میں میں نے پھونکی ہے اس میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہہ دیا کہ ہوجاؤ وہ ہوگیا۔ طبرانی میں ہے قیامت کے دن ابن آدم سے زیادہ بزرگ اللہ کے ہاں کوئی نہ ہوگا۔ پوچھا گیا کہ فرشتے بھی نہیں ؟ فرمایا فرشتے بھی نہیں وہ تو مجبور ہیں جیسے سورج چاند۔ یہ روایت بہت ہی غریب ہے۔