اس صفحہ میں سورہ Al-Israa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الإسراء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَمَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِهِۦ ۖ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا ۖ مَّأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَٰهُمْ سَعِيرًا
ذَٰلِكَ جَزَآؤُهُم بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمًا وَرُفَٰتًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا
۞ أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى ٱلظَّٰلِمُونَ إِلَّا كُفُورًا
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّىٓ إِذًا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ ٱلْإِنفَاقِ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَٰنُ قَتُورًا
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ ءَايَٰتٍۭ بَيِّنَٰتٍ ۖ فَسْـَٔلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهُۥ فِرْعَوْنُ إِنِّى لَأَظُنُّكَ يَٰمُوسَىٰ مَسْحُورًا
قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَٰٓؤُلَآءِ إِلَّا رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ بَصَآئِرَ وَإِنِّى لَأَظُنُّكَ يَٰفِرْعَوْنُ مَثْبُورًا
فَأَرَادَ أَن يَسْتَفِزَّهُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ فَأَغْرَقْنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ جَمِيعًا
وَقُلْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ لِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱسْكُنُوا۟ ٱلْأَرْضَ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ ٱلْءَاخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا
اللہ نے ہدایت و ضلالت کے کچھ قوانین بنائے ہیں اور لوگوں کو ان قوانین کے مطابق طرز عمل اختیار کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ اور ان قوانین کے مطابق و نفع و نقصان کے ذمہ دارہوں گے۔ ان قوانین میں سے ایک یہ قانون بھی ہے کہ انسان ہدایت و ضلالت دونوں کی استعداد رکھتا ہے۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ ہدایت کے رولز کے مطابق راہ اختیار کرتا ہے یہ ضلالت کے رولز اپناتا ہے۔ جو ہدایت کے اصول اور سنن اپناتا ہے وہ ہدایت کا مستحق ہوجاتا ہے اور جو ضلالت کے اصول اور سنن اپناتا ہے وہ ضلالت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس نے گمراہی کا اپنایا اور ہدایت کے اصولوں سے اعراض کیا۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے عزاب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
فلن تحدلھم اولیاء من دونہ (71 : 79) ” اللہ کے سوا ایسے لوگوں کے لئے کوئی حامی و ناصر نہ ہوگا “۔ اور ایسے لوگوں کو اللہ قیامت کے دن نہایت ہی توہین آمیز اور خوفناک صورت میں اٹھائے گا۔
علی وجوھھم (71 : 79) ” اوندھے منہ “۔ یہ ہاتھوں کے سہارے چل رہے ہوں گے۔
عمیا وبکما وصما (71 : 79) ” اندھے ، گونگے اور بہرے “ ۔ ان کے وہ تمام اعضاء جو اس اژدھام میں ان کے لئے مفید ہوسکتے تھے سب کے سب بےکار ہوچکے ہوں گے اور یہ اس لئے کیا جائے گا کہ دنیا میں ان کو یہ اعضا اس لئے دئے گئے تھے کہ یہ لوگ ان کو صحیح کام میں لائیں اور ہدایت کے دلائل کو سمجھنے کی سعی کریں مگر انہوں نے ان اعضاء وجوارح کر بری راہوں میں استعمال کیا۔
ماوھم جھنم (71 : 79) ” ان کا ٹھکانا جہنم ہے “۔ ایسی آگ جو کبھی بجھتی نہیں اور نہ سرد پڑتی ہے۔
کلما خبت زدنھم سعیرا (71 : 79) ” جب بھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے بھڑکا دیں گے “۔
یہ نہایت ہی خوفناک انجام ہے اور یہ نہایت ہی ڈرائونی سزا ہے لیکن یہ لوگ اس کے مستحق اس لئے ہوگئے ہیں کہ انہوں نے آیات الیہ کا کفر کیا۔
ذلک جزا اوھم بانھم کفروا بایتنا (71 : 89) ” یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا “۔ انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کیا۔ اور وقوع قیامت کو مستبعد سمجھتا۔
وقالواء ………جدیدا (71 : 89) ” اور کہا کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اتھا کر کھڑا کیا جائے گا “۔
سیاق کلام میں اس منظر کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے گویا وہ آج موجود ہے۔ اور وہ دنیا جس میں وہ رہ رہے تھے اسے گویا لپیٹ لیا گیا ہے اور وہ ماضی بعید بن گئی ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مستقبل کے واقعات کو نہایت ہی مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور منظر یوں نظر آتا ہے کہ گویا وہ ایک زندہ واقعہ ہے اس طرح واقعات کا اثر دلوں پر بہت ہی گہرا ہوتا ہے۔ اور انسانی شعور پر یہ واقعات اپنا پورا اثر التے ہیں۔
اب قرآن مجید حقیقی صورت حالت ان کے سامنے رکھتا ہے اور انداز سخن بھی واقعی بن جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ تم اس حقیقت کو دیکھ رہے ہو مگر غفلت سے کام لے رہے ہو۔
اولم یروا……(71 : 99) ” کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے “۔ لہٰذا بعثت بعد الموت میں کیا انہونی بات ہے ، اللہ اس عظیم کائنات کا خالق ہے۔ وہ ان جیسے آسمان و زمین کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا وہ ان کو ختم کرکے دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔
وجعل ……(71 : 99) ” اس نے ان کے حشر کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے “۔ میں ان کو مہلت دے رہا ہوں اور ان کا وقت مقرر ہے۔
فابی ……(71 : 99) ” مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے “۔ لہٰذا ان ظالموں کو جو سزا ہوگی وہ دلائل و مشاہدات اور آیات کی وضاحت کے اعتبار سے معقول ہوگی۔
یہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے ان معجزات کا مطالبہ کرتے تھے اور یہ مطالبات نہایت ہی نامعقول تھے مثلاً یہ کہ قیمتی دھاتوں کا مکان ، کھجوروں اور انگوروں کا باغ اور زمین سے پھاڑ کر چشمے نکالنا ، مگر تم لوگ خود اس قدر بخیل ہو کہ اگر اللہ کی رحمت کے خزانوں کی کنجیاں تمہیں دے دی جائیں تو ان میں سے کچھ بھی خرچ نہ کرتے اور ہاتھ روک لیتے کہ کہیں یہ خزانے ختم نہ ہوجائیں حالانکہ اللہ کی رحمت کے خزانے ختم ہونے والے نہیں ہوتے۔
بخل اور کنجوسی کی یہ حد ہے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ اس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس کے ختم ہونے کا کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ نہ اس میں کوئی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ لیکن وہ اس قدر بخیل ہیں کہ اگر سمندر پر بھی بیٹھے ہوں تو ان کو پانی کی کمی نظر آتی ہے۔ اس طرح ان کو اللہ کی رحمت میں بھی کمی نظر آتی ہے۔
بہرحال اگر ان کے سامنے وہ معجزات کثرت سے بھی لائے جائیں جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، ان کے دل چونکہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں اس لئے یہ نہ مانیں گے۔ دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو۔ 9 بڑے معجزات دئیے گئے ، مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے مان کر نہ دیا۔ اس لئے اس پر تباہی آئی۔
قصہ بنی اسرائیل کو یہاں اس لیے لایا گیا ہے کہ سورت کے مضمون کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔ مسجد اقصیٰ اور بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ یہاں دیا گیا ہے۔ اس قصے کے آخر میں بھی آخرت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور فرعون اور اس کی قوم کے لئے آنے کا تذکرہ ہے۔ یہ ان مناظر قیامت کی مناسبت سے ہے جو ابھی سورت میں گزرے تھے اور جن میں بتایا گیا تھا کہ مکذبین کا انجام کیا ہونے والا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نو معجزات جن کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا وہ یدبیضا ، عصا ، فرعون اور اس کی قوم پر خشک سالی ، ہر قسم کی پیداوار کی کمی ، طوفان ، ٹڈی دل ، قمل ، مینڈک اور خون تھے۔
فسئل بنی اسرائیل ……(71 : 101) ” فرعون نے اس سے کہا اے موسیٰ میں سمجھتا ہوں تو ضرور سحر زدہ آدمی ہے “۔ سچی بات ، عقیدہ توحید ، ظلم و سرکشی کا ترک کرنا اور لوگوں کو ایذا نہ دینے کی دعوت دیتا ، ایک باغی اور سرکش شخص کے نزدیک ایک سحر زدہ شخص کا کام ہے۔ کوئی معقول آدمی یہ کام نہیں کرسکتا۔ کیونکہ فرعون کی طرح کے سرکش اور مغرور ڈکٹیٹر ان باتوں کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کے سامنے تو کوئی شخص سر اٹھا کے نہیں چل سکتا۔ چہ جائیکہ وہ ایسی باتیں کرے۔ ان کے خیال میں کوئی معقول فرد ایسی باتیں نہیں کرسکتا ۔ سر پھرے ہی ایسی باتیں کرتے ہیں۔
موسیٰ (علیہ السلام) تو ایک بہادر آدمی تھے اور ان کا دل سچائی کے نور اور خدائی روشنی سے بھرا ہوا تھا۔ وہ مطمئن تھے کہ اللہ کی امداد اور سر پرستی انہیں حاصل ہے۔ تو انہوں نے کہا۔
قال لقد ……(71 : 201) ” انہوں نے کہا ، تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں زمین اور آسمانوں کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں ، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے “۔ تو ہلاک ہونے والا اور تہس نہس ہونے والا ہے۔ کیونکہ تو آیات اہلیہ کی تکذیب کر رہا ہے۔ تو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور ان خارق عادت معجزات کا صدور و ظہور نہیں کرسکتا۔ یہ نہایت ہی واضح اور بصیرت افروز نشانیاں ہیں۔ گویا یہ نشانیاں خود انکھیں ہیں جن کی وجہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اب یہ سرکش آدمی اپنی مادی قوت کا سارا لیتا ہے۔ اور یہ عزم کرتا ہے کہ وہ موسیٰ کو زمین سے نکال کر ان کی قوم کو تباہ برباد کردے گا۔
فاراد ان یستفزھم من الارض (71 : 301) ” آخر کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے “۔ تمام ڈکٹیٹر اور سرکش لوگ کلمہ حق کے بارے میں یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ ان کے پاس کلمہ حق کا یہی جواب ہوتا ہے۔
اس مقام پر آکر ایسے سرکشوں پر اللہ کا کلمہ اور اللہ کی سنت کا اطلاق برحق ہوجاتا ہے اور پھر اللہ کی اٹل سنت کے مطابق ، ظالموں کو ہلاک کردیا جاتا ہے اور زمین کے اندر جو کمزور اہل ایمان اور صبر کرنے والے طبقات ہوتے ہیں ، ان کو زمین کو وارث بنا دیا جاتا ہے۔
فاغرقنہ………(401) (71 : 301۔ 401) ” مگر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کردیا اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو ، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا ، تو ہم تو سب کو ایک ساتھ لاحاضر کریں گے “۔
یہ تھا انجام آیات الٰہی کے جھٹلانے کا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین کے اقتدار کا وارث ان لوگوں کو بنایا ، جو زمین میں پسے ہوئے تھے۔ اور اب ان کو کہا گیا کہ تمہارے مستقبل کا دار و مدار تمہارے اعمال و افعال پر ہوگا۔ اس سورت کے آغاز میں بتا دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا تھا ؟ یہاں صرف یہ کہا جاتا ہے کہ تم اور تمہارے دشمن اب قیامت کے سپرد ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو تم سب کو لپیٹ کر اللہ لے آئے گا۔
یہ تھی مثال اس پیغمبر کی جو نو خوارق عادت معجزات لے کر آئے اور ان کا استقبال جھٹلانے والوں نے اس طرح کیا۔ اور اللہ کی اٹل سنت نے پھر اپنا کام یوں کیا۔ رہا یہ قرآن تو یہ تو ایک ابدی سچائی لے کر آیا ہے۔ اور اسے تھوڑا تھوڑا کرکے وقفے وقفے کے بعد نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ اسے لوگوں کو پڑھ کر مہلت بعد مہلت کے ساتھ سنائیں۔