سورۃ الجمعہ (62): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Jumu'a کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الجمعة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الجمعہ کے بارے میں معلومات

سورۃ الجمعہ کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo itha noodiya lilssalati min yawmi aljumuAAati faisAAaw ila thikri Allahi watharoo albayAAa thalikum khayrun lakum in kuntum taAAlamoona

سورت کے تیسرے اور آخری حصے میں نماز جمعہ کا ذکر ہے۔ نماز جمعہ دراصل ”حزب اللہ“ کا ہفتہ وار تعلیمی و تربیتی اجتماع ہے۔ ایسے اجتماعات کا انعقاد ہر انقلابی تحریک کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی زمانے میں کمیونسٹوں کے ہاں بھی اپنے کارکنوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ہفتہ وار ”سٹڈی سرکلز“ کا انعقاد بڑے اہتمام سے کیا جاتا تھا۔ دراصل حزب اللہ کا نصب العین بہت عظیم اور راستہ بہت کٹھن ہے۔ اس راستے پر سفر جاری رکھنے کے لیے غیر معمولی صبر اور استقامت درکار ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ انقلابی کارکنوں کے ذہنوں میں ان کے بنیادی نظریے اور نصب العین کا شعور ہر لحظہ مستحضر رہے۔ چناچہ جمعہ کے اجتماع کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہر سات دن کے بعد باقاعدگی کے ساتھ دور و نزدیک سے سب اہل ایمان اکٹھے ہوں اور اللہ کا کوئی بندہ نائب رسول ﷺ کی حیثیت سے ان کے لیے ”یَتْـلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ“ کا فریضہ سرانجام دے ‘ تاکہ تعلیم و تربیت اور تزکیہ نفس کا عمل حضور ﷺ کے بعد بھی قیامت تک جاری وساری رہے۔ اجتماعِ جمعہ کے اس پہلو کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ اس کے لیے ظہر کی نماز مختصر کردی گئی۔ یعنی ظہر کے چار فرائض کے بجائے صرف دو رکعتیں رہ گئیں اور باقی دو رکعتوں کی جگہ خطبہ یعنی ”تعلیم و تعلّم“ کو لازم کردیا گیا۔ اس لحاظ سے اجتماعِ جمعہ کو تعلیم بالغاں کا ہفتہ وار پروگرام بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس پروگرام کی اہمیت پچھلے زمانے میں اور بھی زیادہ تھی ‘ جب نہ سکول کالج تھے ‘ نہ یونیورسٹیاں تھیں ‘ نہ کتابیں دستیاب تھیں ‘ نہ اخبار چھپتے تھے اور نہ ہی آڈیو ویڈیو کی سہولیات میسر تھیں۔ برعظیم پاک و ہند میں اجتماعِ جمعہ کی تعلیمی اہمیت کا شعور ماضی قریب کے زمانہ تک بھی موجود تھا۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جمعہ کے دن شہر کی جامع مسجد میں دور دراز دیہات سے لوگ صبح سات آٹھ بجے ہی پہنچنا شروع ہوجاتے تھے۔ اس دور میں جمعہ صرف شہروں میں ادا کیا جاتا تھا ‘ دیہات میں جمعہ نہیں ہوتا تھا۔ جمعہ کے لیے فقہاء نے ”مصر ِجامع“ کی شرط عائد کی ہے۔ یعنی جمعہ ہر بستی میں نہیں بلکہ صرف اس شہر میں ہوسکتا ہے جس میں بازار ہوں ‘ قیامِ امن کا انتظام ہو ‘ جامع مسجد ہو۔ لیکن جب ہر چھوٹی بڑی بستی میں جمعہ پڑھنا شروع کردیا گیا تو مجموعی طور پر اجتماعِ جمعہ کی اہمیت کم ہونا شروع ہوگئی۔ ظاہر ہے جب ہر بستی میں جمعہ ہو رہا ہو تو لوگ اس کے لیے سفر کر کے شہر کی جامع مسجد میں بھلا کیوں جائیں گے ؟ جمعہ کے اجتماعات تو آج بھی منعقد ہوتے ہیں ‘ لوگ جوق در جوق ان میں شرکت بھی کرتے ہیں ‘ خطبے بھی پڑھے اور سنے جاتے ہیں ‘ لیکن یہ سب کچھ ایک ”رسم عبادت“ کے طور پر ہو رہا ہے ‘ جبکہ اس اجتماع کا بنیادی فلسفہ اور اصل مقصد مجموعی طور پر ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے۔ بقول اقبال : ؎رہ گئی رسم ِاذاں ‘ روحِ بلالی رض نہ رہی فلسفہ رہ گیا ‘ تلقین غزالی نہ رہی ! بہرحال آج کل اجتماعِ جمعہ کے حوالے سے جو ظاہری اہتمام دیکھنے میں آتا ہے اس کی حیثیت اس عمارت کے کھنڈرات کی سی ہے جو عرصہ دراز سے زمین بوس ہوچکی ہے ‘ لیکن ان کھنڈرات کو دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ عمارت بہت عظیم الشان تھی۔آیت 9{ یٰٓــاَیـُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ } ”اے ایمان والو ! جب تمہیں پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو دوڑو اللہ کے ذکر کی طرف اور کاروبار چھوڑ دو۔“ نماز تو بہرحال اللہ کا ذکر ہے ہی ‘ لیکن یہاں اللہ کے ذکر سے خصوصی طور پر خطبہ جمعہ مراد ہے۔۔۔۔ ”اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو“ کا مطلب یہ نہیں کہ بھاگتے ہوئے آئو ‘ بلکہ اس سے مراد مستعدی سے چل کھڑے ہونا ہے ‘ یعنی جلدی سے جلدی وہاں پہنچنے کی کوشش کرو۔ نماز کے لیے بھاگ کر آنے سے نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ { ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّــکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ } ”یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔“

اردو ترجمہ

پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faitha qudiyati alssalatu faintashiroo fee alardi waibtaghoo min fadli Allahi waothkuroo Allaha katheeran laAAallakum tuflihoona

آیت 10{ فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ } ”پھر جب نماز پوری ہوچکے تو زمین میں منتشر ہو جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو“ یعنی جمعہ کے حوالے سے اسلام میں یہودیوں کے یوم سبت جیسی سختی نہیں ہے کہ پورا دن اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص کر دو۔ بلکہ مسلمانوں سے اس دن صرف یہ تقاضا ہے کہ وہ نماز جمعہ سے قبل اپنے تمام کام کاج چھوڑ دیں۔ نہائیں دھوئیں ‘ اچھے کپڑے پہنیں ‘ خوشبو لگائیں اور بروقت مسجد میں پہنچ جائیں ‘ تاکہ تعلیمی و تربیتی نشست سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔ اسی لیے نماز جمعہ کے لیے اوّل وقت مسجد میں آنے والے کو حدیث میں اونٹ کی قربانی کے برابر ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔ دوسری طرف نماز جمعہ ترک کرنے والے کے لیے حضور ﷺ نے سخت وعید سنائی ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : مَنْ تَرَکَ ثَلَاثَ جُمُعَاتٍ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ طُبِعَ عَلٰی قَلْبِہٖ 1”جو شخص بغیر کسی عذر کے مسلسل تین جمعے ترک کر دے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔“ اس وعیدی حکم میں بھی یہی فلسفہ کارفرما ہے کہ مسلمانوں کے درمیان کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ ہو جو تعلیم و تربیت کے اس اجتماعی پروگرام سے مستقل طور پر کٹ کر رہ جائے۔ بہرحال جمعہ کے دن ”شرعی مصروفیت“ صرف نماز جمعہ کی ادائیگی تک ہی ہے ‘ اس کے بعد ہر کوئی اپنی دنیوی مصروفیات کے لیے آزاد ہے۔ اس لیے حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ جمعہ کے دن ”آدھی چھٹی“ قرآن مجید کے مذکورہ حکم کے مطابق کرے۔ یعنی اگر جمعہ کے دن لوگوں کو آدھی چھٹی دینا ضروری ہے تو یہ چھٹی صبح کے وقت ہونی چاہیے تاکہ لوگ آسانی سے نماز جمعہ کی تیاری کریں ‘ نماز ادا کریں اور نماز کے بعد معمول کے مطابق اپنے کام نپٹائیں۔ { وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّــعَلَّــکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ } ”اور اللہ کو یاد کرو کثرت سے تاکہ تم فلاح پائو۔“

اردو ترجمہ

اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا ان سے کہو، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha raaw tijaratan aw lahwan infaddoo ilayha watarakooka qaiman qul ma AAinda Allahi khayrun mina allahwi wamina alttijarati waAllahu khayru alrraziqeena

آیت 1 1{ وَاِذَا رَاَوْ تِجَارَۃً اَوْ لَہْوَا نِ انْفَضُّوْآ اِلَـیْہَا } ”اور جب انہوں نے دیکھا تجارت کا معاملہ یا کوئی کھیل تماشا تو اس کی طرف چل دیے“ { وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًا } ”اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ دیا۔“ یہ خاص طور پر منافقین کے طرز عمل کا ذکر ہے کہ وہ تجارت اور کھیل تماشے کو اللہ کے ذکر پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس آیت کا شان نزول یہ بیان کیا جاتا ہے کہ مدینہ طیبہ میں شام سے ایک تجارتی قافلہ عین نماز جمعہ کے وقت آیا اور اہل شہر کو اطلاع دینے کے لیے ڈھول بجانے شروع کردیے۔ چونکہ قحط کا زمانہ تھا ‘ لہٰذا حاضرین مسجد قافلے کی آمد کی اطلاع پا کر فوراً اس کی طرف لپکے۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اکثر لوگ اس دوران اٹھ کر چلے گئے اور تھوڑے لوگ باقی رہ گئے جن میں عشرئہ مبشرہ بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ ہجرت کے بعد بالکل قریبی دور کا ہے جبکہ لوگوں کو صحبت ِنبوی ﷺ سے فیض یاب ہونے کا موقع بہت کم ملا تھا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ابتدا میں عیدین کے خطبہ کی طرح جمعہ کا خطبہ بھی نماز کے بعد ہوتا تھا ‘ اس لیے خطبہ کے دوران اٹھ کر جانے والے لوگوں نے یہی سمجھا ہوگا کہ نماز تو پڑھی جا چکی ہے اس لیے اب اٹھ جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ بہرحال اس آیت میں بھی ڈانٹ کا انداز ہے اور اس میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس سے بھی مسلمانوں کی صفوں میں اسی کمزوری کی نشاندہی ہوتی ہے جس کا ذکر قبل ازیں سورة الحدید کے مطالعہ کے دوران تفصیل سے کیا جا چکا ہے۔ { قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْـرٌ مِّنَ اللَّہْوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِط وَاللّٰہُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کہیں بہتر ہے کھیل کود اور تجارت سے۔ اور اللہ بہترین رزق عطا کرنے والا ہے۔“

554