اولئک الذین کفروا بایت ربھم ولقائہ فحبطت اعمالھم (81 : 501) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا ، اس لئے ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔ “
حبوط کا اصلی اور لغوی مفہوم ، جانور کا پیٹ پھولنا ہے ، جب وہ کوئی زہریلی گھاس کھالے۔ ضائع ہونے والے انسانی اعمال کی حقیقت بنانے کے لئے حبوط سے کوئی موزوں لفظ نہیں ہے۔ یہ جانور پھول جاتا ہے ، نادان مالک جانتا ہے کہ یہ جانور توانا اور مضبوط ہوگیا ہے اور اب وہ کامیاب اور نفع بخش ہوگا لیکن اس کے نتیجے میں اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے۔
اولئک الذین کفر وا بایت ربھم ولقائہ فحبطت اعمالھم فلا نقیم لھم یوم القیمۃ وزناً (81 : 501) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا ، اس لئے ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے۔ قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ “ کیونکہ یہ بےکار اور مہمل ہوگئے تھے۔ نہ ان کی قیمت ہے اور نہ وزن اللہ کے صحیح پیمانوں کے مطابق ان کا وزن نہ ہوگا ، تو اب کیا ہوگا ان لوگوں کا ؟
آیت 105 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاۗىِٕهٖ ایسے لوگ بیشک اقرار کرتے ہیں کہ وہ اللہ کو اور قرآن کو مانتے ہیں لیکن اگر حقیقتاً وہ آخرت کو بھلا کر دن رات دنیا سمیٹنے ہی میں مصروف ہیں تو اپنے عمل سے گویا وہ اللہ کی آیات اور آخرت میں اس سے ہونے والی ملاقات کا انکار کر رہے ہیں۔ اللہ کا فیصلہ تو یہ ہے : وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ العنکبوت : 64 ”یقینا آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے“۔ لیکن طالبان دنیا کا عمل اللہ کی اس بات کی تصدیق کرنے کے بجائے اس کو جھٹلاتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو اور اس کے سامنے روزمحشر کی حاضری کو عملی طور پر جھٹلادیا ہے۔فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًاقیامت کے دن ایسے لوگوں کے اعمال کا وزن نہیں کیا جائے گا۔ اگر انہوں نے اپنے دل کی تسلی اور ضمیر کی خوشی کے لیے بھلائی کے کچھ کام کیے بھی ہوں گے تو ایسی نیکیاں جو ایمان اور یقین سے خالی ہوں گی ان کی اللہ کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ چناچہ ان کی ایسی تمام نیکیاں ضائع کردی جائیں گی اور میزان میں ان کا وزن کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ اس بھیانک انجام کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ دنیا کی آرائش و زیبائش میں گم ہو کر انسان کو نہ اللہ کا خیال رہتا ہے اور نہ آخرت کی فکر دامن گیر ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کی زیب وزینت کے حوالے سے یہ مضمون اس سورت میں بار بار دہرایا گیا ہے ملاحظہ ہو : آیت 7 ‘ 27 اور 46۔