سورہ کہف (18): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Kahf کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الكهف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ کہف کے بارے میں معلومات

Surah Al-Kahf
سُورَةُ الكَهۡفِ
صفحہ 304 (آیات 98 سے 110 تک)

قَالَ هَٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّى ۖ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّى جَعَلَهُۥ دَكَّآءَ ۖ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّى حَقًّا ۞ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِى بَعْضٍ ۖ وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَجَمَعْنَٰهُمْ جَمْعًا وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِّلْكَٰفِرِينَ عَرْضًا ٱلَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِى غِطَآءٍ عَن ذِكْرِى وَكَانُوا۟ لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا أَفَحَسِبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَن يَتَّخِذُوا۟ عِبَادِى مِن دُونِىٓ أَوْلِيَآءَ ۚ إِنَّآ أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَٰفِرِينَ نُزُلًا قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِٱلْأَخْسَرِينَ أَعْمَٰلًا ٱلَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَآئِهِۦ فَحَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَزْنًا ذَٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا۟ وَٱتَّخَذُوٓا۟ ءَايَٰتِى وَرُسُلِى هُزُوًا إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّٰتُ ٱلْفِرْدَوْسِ نُزُلًا خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا قُل لَّوْ كَانَ ٱلْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَٰتِ رَبِّى لَنَفِدَ ٱلْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَٰتُ رَبِّى وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِۦ مَدَدًا قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ ۖ فَمَن كَانَ يَرْجُوا۟ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَٰلِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدًۢا
304

سورہ کہف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ کہف کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

ذوالقرنین نے کہا " یہ میرے رب کی رحمت ہے مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئیگا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا، اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala hatha rahmatun min rabbee faitha jaa waAAdu rabbee jaAAalahu dakkaa wakana waAAdu rabbee haqqan

آیت 98 قَالَ ھٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّيْ اتنا بڑا کارنامہ سر انجام دینے کے بعد بھی ذوالقرنین کوئی کلمہ فخر زبان پر نہیں لائے بلکہ یہی کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ سب اللہ کی مہربانی سے ہی ممکن ہوا ہے۔فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ رَبِّيْ جَعَلَهٗ دَكَّاۗءَ چنانچہ امتداد زمانہ کے سبب یہ دیوار اب ختم ہوچکی ہے صرف اس کے آثار موجود ہیں جن سے اس کے مقام اور سائز وغیرہ کا پتا چلتا ہے۔

اردو ترجمہ

اور اُس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دُوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صُور پھُونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Watarakna baAAdahum yawmaithin yamooju fee baAAdin wanufikha fee alssoori fajamaAAnahum jamAAan

آیت 99 وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ یہ قیامت سے پہلے رونما ہونے والے جنگی واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ قرب قیامت کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ یاجوج و ماجوج کا ظہور بھی ہے۔ احادیث میں ان کے بارے میں ایسی خبریں ہیں کہ وہ دریاؤں اور سمندروں کا پانی پی جائیں گے اور ہرچیز کو ہڑپ کر جائیں گے۔ عین ممکن ہے وہ آدم خور بھی ہوں اور ضرورت پڑنے پر انسانوں کو بھی کھا جائیں۔ جیسے آج ہم چینی قوم کو دیکھتے ہیں کہ وہ سانپ بچھو کتا بلی ہرچیز کو ہڑپ کر جاتے ہیں۔ کثرت آبادی کے لحاظ سے بھی یاجوج و ماجوج کی بیشتر علامات کا تطابق چینی قوم پر ہوتا نظر آتا ہے۔یاجوج و ماجوج کی یلغار کا نقشہ سورة الانبیاء میں اس طرح کھینچا گیا ہے : وَہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ”اور وہ ہر پہاڑ کی ڈھلوان سے اترتے ہوئے نظر آئیں گے“۔ 1962 ء میں چین بھارت جنگ کے دوران اخباروں نے چینی افواج کے حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے بھی کچھ ایسی ہی تصویر کشی کی تھی : " Waves after waves of Chinese soldiers were coming down the slopes." بہرحال جس طرح یاجوج و ماجوج آج سے ڈھائی ہزار سال پہلے اپنے ملحقہ علاقوں کی مہذب آبادیوں کو تاخت و تاراج کرتے تھے ‘ اسی طرح قیامت سے پہلے ایک دفعہ پھر وہ دنیا میں تباہی مچائیں گے اور ان کا ظہور اپنی نوعیت کا ایک بہت اہم واقعہ ہوگا۔

اردو ترجمہ

اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaAAaradna jahannama yawmaithin lilkafireena AAardan

آیت 100 وَّعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَىِٕذٍ لِّلْكٰفِرِيْنَ عَرْضَۨاکہ دیکھ لو اپنی آنکھوں سے اسے ہم نے تمہارے انجام کے لیے تیار کر رکھا ہے۔

اردو ترجمہ

اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena kanat aAAyunuhum fee ghitain AAan thikree wakanoo la yastateeAAoona samAAan

آیت 101 الَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ فِيْ غِطَاۗءٍ عَنْ ذِكْرِيْ وَكَانُوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَمْعًاوہ لوگ جو اندھے اور بہرے ہو کر دنیا سمیٹنے میں لگے ہوئے تھے حقیقی مسبب الاسباب کو بالکل فراموش کرچکے تھے صرف دنیوی اسباب و وسائل پر بھروسا کرتے تھے اور دنیا میں ان کی ساری تگ و دو مادی منفعت کے حصول کے لیے تھی۔ یہی مضمون اگلے آخری رکوع میں بہت تیکھے انداز میں آ رہا ہے۔

اردو ترجمہ

تو کیا یہ لوگ، جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا لیں؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afahasiba allatheena kafaroo an yattakhithoo AAibadee min doonee awliyaa inna aAAtadna jahannama lilkafireena nuzulan

اس آخری رکوع میں بہت واضح الفاظ میں بتادیا گیا ہے کہ اللہ کی نظر میں کون لوگ حقیقی گمراہی اور کفر و دجل میں مبتلا ہیں۔ اگرچہ قرب قیامت کے زمانے میں ایک شخص معینّ ”دجال اکبر“ کا فتنہ اور اس کا ظہور اپنی جگہ ایک حقیقت ہے یہ اس کی تفصیل کا موقع نہیں مگر عمومی طور پر دجالیت کا فتنہ یہی ہے کہ انسان حصول دنیا میں مشغول ہو کر اس حد تک غافل ہوجائے کہ اسے نہ تو اپنے دار آخرت کی کوئی فکر رہے اور نہ ہی اپنے خالق ومالک کی مرضی و منشا کا کچھ ہوش رہے۔ وہ اس ”عروس ہزار داماد“ کی زلف گرہ گیر کا ایسا اسیر ہو کہ اس کی ظاہری دل فریبیوں اور چمک دمک ہی میں کھو کر رہ جائے۔آیت 102 اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ يَّــتَّخِذُوْا عِبَادِيْ مِنْ دُوْنِيْٓ اَوْلِيَاۗءَ یہ لوگ جن انبیاء و رسل ملائکہ اور صلحاء کو میرے شریک ٹھہراتے ہیں اور اپنا کارساز سمجھتے ہیں وہ سب میرے بندے ہیں۔ کیا ان کا خیال ہے کہ میرے یہ بندے میرے مقابلے میں ان کی مدد اور حمایت کریں گے ؟ خواہ حضرت عیسیٰ ہوں یا عبدالقادر جیلانی میرے یہ بندے میرے مقابلے میں ان کے حامی و مددگار اور حاجت روا ثابت ہوں گے ؟

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul hal nunabbiokum bialakhsareena aAAmalan

آیت 103 قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًایہ ہے وہ مضمون جسے ابتدا میں اس سورت کا عمود قرار دیا گیا تھا یعنی دنیا اور اس کی زیب وزینت ! اس مضمون کے سائبان کا ایک کھونٹا سورت کے آغاز میں نصب ہے جبکہ دوسرا کھونٹا یہاں ان آیات کی صورت میں۔ ابتدائی آیات میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ دنیا کی زیب وزینت اور رونقوں پر مشتمل یہ خوبصورت محفل سجائی ہی انسانوں کی آزمائش کے لیے گئی ہے۔ اس کے ذریعے سے انسانوں کے رویوں کی پرکھ پڑتال کرنا اور ان کی جدو جہد کی غرض وغایت کا تعین کرنا مقصود ہے : اِنَّاجَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۔ اب یہاں آیت زیر نظر میں ان لوگوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو اپنے اعمال اپنی محنت و مشقت بھاگ دوڑ اور سعی وجہد میں سب سے زیادہ گھاٹا کھانے والے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس آزمائش میں ناکام ہو کر دنیا کی زیب وزینت ہی میں کھو گئے ہیں۔جہاں تک محنت اور مشقت کا تعلق ہے وہ تو ہر شخص کرتا ہے۔ جیسے حضور نے فرمایا : کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ فَبَاءِعٌ نَفْسَہٗ ‘ فَمُعْتِقُھَا اَوْ مُوْبِقُھَا ”ہر انسان جب صبح کرتا ہے تو خود کو بیچنا شروع کرتا ہے پھر یا تو وہ اسے آزاد کرا لیتا ہے یا گناہوں سے ہلاک کردیتا ہے“۔ چناچہ ہر کوئی اپنے آپ کو بیچتا ہے۔ کوئی اپنی طاقت اور قوت بیچتا ہے کوئی اپنی ذہانت اور صلاحیت بیچتا ہے اور کوئی اپنا وقت اور ہنر بیچتا ہے۔ گویا یہ دنیا محنت عمل اور کوشش کی دوڑ کا میدان ہے اور ہر انسان اپنے مفاد کے لیے بقدر ہمت اس دوڑ میں شامل ہے۔ مگر بدقسمتی سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی پوری کوشش اور محنت کے باوجود گھاٹے میں رہتے ہیں۔ ان کے لیے خود کو بیچنے کے اس عمل میں کچھ بھی نفع نہیں بلکہ نقصان ہی نقصان ہے خسارا ہی خسارا ہے۔ تو اللہ کی نظر میں سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے یہ کون لوگ ہیں ؟

اردو ترجمہ

وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena dalla saAAyuhum fee alhayati alddunya wahum yahsaboona annahum yuhsinoona sunAAan

آیت 104 اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَاایسے لوگ جنہیں آخرت مطلوب ہی نہیں ان کی ساری تگ و دو اور سوچ بچار دنیا کمانے کے لیے ہے۔ آخرت کے لیے انہوں نے نہ تو کبھی کوئی منصوبہ بندی کی اور نہ ہی کوئی محنت۔ بس برائے نام اور موروثی مسلمانی کا بھرم رکھنے کے لیے کبھی کوئی نیک کام کرلیا کبھی نماز بھی پڑھ لی اور کبھی روزہ بھی رکھ لیا۔ مگر اللہ کو اصل میں ان سے مقصود و مطلوب کیا ہے ؟ اس بارے میں انہوں نے کبھی سنجیدگی سے سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ ایسے لوگوں کو ان کی محنت کا صلہ حسب مشیت الٰہی دنیا ہی میں مل جاتا ہے جبکہ آخرت میں ان کے لیے سوائے جہنم کے اور کچھ نہیں۔ اس مضمون کا ذروۂ سنام سورة بنی اسرائیل کی یہ آیات ہیں : مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا ”جو کوئی طلب گار بنتا ہے جلدی والی دنیا کا تو ہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں جو کچھ ہم چاہتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں پھر ہم مقرر کردیتے ہیں اس کے لیے جہنم وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ دھتکارا ہوا۔ اور جو کوئی آخرت کا طلبگار ہو اور کوشش کرے اس کے لیے اس کی سی کوشش اور وہ مؤمن بھی ہو تو وہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی“۔ چناچہ نجات اخروی کا امیدوار بننے کے لیے ہر بندۂ مسلمان کو واضح طور پر اپنا راستہ متعین کرنا ہوگا کہ وہ طالب دنیا ہے یا طالب آخرت ؟ جہاں تک دنیا میں رہتے ہوئے ضروریات زندگی کا تعلق ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیک و بد سب کی پوری ہو رہی ہیں : كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا بنی اسرائیل ”ہم سب کو مدد پہنچائے جا رہے ہیں ان کو بھی اور ان کو بھی آپ کے رب کی عطا سے اور آپ کے رب کی عطا رکی ہوئی نہیں ہے“۔ لہٰذا انسان کو اپنی ضروریات زندگی کے حصول کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنا چاہیے۔ اس نے انسان کو دنیا میں زندہ رکھنا ہے تو وہ اس کے کھانے پینے کا بندو بست بھی کرے گا : وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ الطلاق : 3 ”وہ اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا“۔ چناچہ ایک بندۂ مؤمن کو چاہیے کہ فکر دنیا سے بےنیاز ہو کر آخرت کو اپنا مطلوب و مقصود بنائے اور ان لوگوں کے راستے پر نہ چلے جنہوں نے سرا سر گھاٹے کا سودا کیا ہے جن کی ساری محنت اور تگ و دو دنیا کی زندگی ہی میں گم ہو کر رہ گئی ہے :وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًاایسے لوگ اپنے کاروبار کی ترقی جائیدادوں میں اضافے اور دیگر مادی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ ان کی محنتیں روز بروز نتیجہ خیز اور کوششیں بار آور ہو رہی ہیں۔

اردو ترجمہ

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Olaika allatheena kafaroo biayati rabbihim waliqaihi fahabitat aAAmaluhum fala nuqeemu lahum yawma alqiyamati waznan

آیت 105 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاۗىِٕهٖ ایسے لوگ بیشک اقرار کرتے ہیں کہ وہ اللہ کو اور قرآن کو مانتے ہیں لیکن اگر حقیقتاً وہ آخرت کو بھلا کر دن رات دنیا سمیٹنے ہی میں مصروف ہیں تو اپنے عمل سے گویا وہ اللہ کی آیات اور آخرت میں اس سے ہونے والی ملاقات کا انکار کر رہے ہیں۔ اللہ کا فیصلہ تو یہ ہے : وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ العنکبوت : 64 ”یقینا آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے“۔ لیکن طالبان دنیا کا عمل اللہ کی اس بات کی تصدیق کرنے کے بجائے اس کو جھٹلاتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو اور اس کے سامنے روزمحشر کی حاضری کو عملی طور پر جھٹلادیا ہے۔فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًاقیامت کے دن ایسے لوگوں کے اعمال کا وزن نہیں کیا جائے گا۔ اگر انہوں نے اپنے دل کی تسلی اور ضمیر کی خوشی کے لیے بھلائی کے کچھ کام کیے بھی ہوں گے تو ایسی نیکیاں جو ایمان اور یقین سے خالی ہوں گی ان کی اللہ کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ چناچہ ان کی ایسی تمام نیکیاں ضائع کردی جائیں گی اور میزان میں ان کا وزن کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ اس بھیانک انجام کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ دنیا کی آرائش و زیبائش میں گم ہو کر انسان کو نہ اللہ کا خیال رہتا ہے اور نہ آخرت کی فکر دامن گیر ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کی زیب وزینت کے حوالے سے یہ مضمون اس سورت میں بار بار دہرایا گیا ہے ملاحظہ ہو : آیت 7 ‘ 27 اور 46۔

اردو ترجمہ

ان کی جزا جہنم ہے اُس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اُس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اور میرے رسولوں کے ساتھ کرتے رہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thalika jazaohum jahannamu bima kafaroo waittakhathoo ayatee warusulee huzuwan

آیت 106 ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْٓا اٰيٰتِيْ وَرُسُلِيْ هُزُوًااللہ کی آیات اور رسولوں کے فرمودات کے مطابق تو اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور دنیوی زندگی کی کچھ اہمیت نہیں مگر ان طالبان دنیا نے سمجھ رکھا تھا کہ اصل کامیابی اسی دنیوی زندگی کی ہی کامیابی ہے۔ چناچہ اسی کامیابی کے حصول کے لیے انہوں نے محنت اور کوشش کی اور اسی زندگی کو سنوارنے کے لیے وہ خود کو ہلکان کرتے رہے۔ آخرت کو لائق اعتناء سمجھا اور نہ ہی اس کے لیے انہوں نے کوئی سنجیدہ تگ ودو کی۔ آخرت کا خیال کبھی آیا بھی تو یہ سوچ کر خود کو تسلی دے لی کہ ہم نے فلاں فلاں بھلائی کے کام بھی تو کیے ہیں اور پھر ہم حضور کے امتی بھی تو ہیں۔ آپ ہماری شفاعت فرمائیں گے اور ہم کامیاب و کامران ہو کر جنت میں پہنچ جائیں گے۔ یہ عقیدہ یہودیوں کے عقیدے سے ملتا جلتا ہے۔ وہ بھی دعویٰ کرتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹوں کی مانند ہیں اس کے لاڈلے اور چہیتے ہیں۔ ان آیات کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی توجہ طلب ہے کہ یہاں کفار سے مراد اصطلاحی کفار نہیں بلکہ ایسے لوگ ہیں جو قانونی طور پر تو مسلمان ہی ہیں مگر اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو پس پشت ڈال کر سر تا پا دنیا کے طالب بنے بیٹھے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مذکورہ مفہوم میں جو شخص بھی آخرت کے مقابلے میں دنیا کا طالب ہے وہی ان آیات کا مصداق ہے بظاہر چاہے وہ مسلمان ہو مسلمانوں کا لیڈر ہو مذہبی پیشوا ہو یا کوئی بہت بڑا عالم ہو۔ اسی مضمون کو کسی بزرگ نے ”جو دم غافل سو دم کافر“ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ چناچہ آخرت کی نجات کے سلسلے میں یہ بات طے کرنا انتہائی ضروری ہے کہ بنیادی طور پر انسان طالب دنیا ہے یا طالب آخرت !آخری رکوع کی ان آیات کا سورت کی ابتدائی آیات کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے اور دجالی فتنے سے حفاظت کے لیے ان کی خصوصی اہمیت ہے۔ چناچہ حدیث میں ان کو فتنہ دجال سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ابتدائی دس آیات اور ان آخری آیات کو حفظ کرلیا جائے اور کثرت سے ان کی تلاوت کی جائے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو جمعہ کے روز پوری سورة الکہف کی تلاوت کو بھی معمول بنایا جائے۔

اردو ترجمہ

البتّہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena amanoo waAAamiloo alssalihati kanat lahum jannatu alfirdawsi nuzulan

آیت 107 اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاجن لوگوں نے ایمان کے تقاضے بھر پور طور پر پورے کیے اور وہ نیک اعمال کرتے رہے ان کے لیے ٹھنڈی چھاؤں والے باغات ہوں گے۔ آج ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ وہ باغات کیسے ہوں گے اور کہاں ہوں گے۔ اس کائنات کی وسعت بیحد و حساب ہے اور جنت کی وسعت بھی ہمارے احاطہ خیال میں نہیں سما سکتی۔ اس کائنات میں اَن گنت کہکشائیں ہیں اور نہ معلوم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کہاں کہاں جنتیں بنا رکھی ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ نچلے درجے والا جنتی اوپر والے جنتی کو ایسے دیکھے گا جیسے آج ہم زمین سے ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ بہرحال معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کی ابتدائی مہمان نوازی نُزُل یہیں اسی زمین پر ہوگی۔ یعنی ”قصۂ زمین برسر زمین“ ہی طے کیا جائے گا۔

اردو ترجمہ

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اُس جگہ سے نکل کر کہیں جانے کو اُن کا جی نہ چاہے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Khalideena feeha la yabghoona AAanha hiwalan

آیت 108 خٰلِدِيْنَ فِيْهَا لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًایعنی جنت ایسی جگہ نہیں ہے کہ جہاں رہتے رہتے کسی کا جی اکتا جائے۔ دنیا میں انسان ہر وقت تغیر و تبدیلی کا خواہاں ہے۔ تبدیلی کی اسی خواہش کے تحت بری سے بری جگہ پر بھی کچھ دیر کے لیے انسان کا دل بہل جاتا ہے جبکہ اچھی سے اچھی جگہ پر بھی مستقل طور پر رہنا پڑے تو بہت جلد اسے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہم کشمیر اور سوئزر لینڈ کو ”فردوس بر روئے زمین“ گمان کرتے ہیں لیکن وہاں کے رہنے والے وہاں کی زمینی و آسمانی آفات سے تنگ ہیں۔ اہل جنت مستقل طور پر ایک ہی جگہ رہنے کے باعث اکتائیں گے نہیں اور وہاں سے جگہ بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔اب اس سورت کی آخری دو آیات آرہی ہیں جو گویا توحید کے دو بہت بڑے خزانے ہیں۔

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں، بلکہ اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul law kana albahru midadan likalimati rabbee lanafida albahru qabla an tanfada kalimatu rabbee walaw jina bimithlihi madadan

آیت 109 قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًایہاں پر سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت سے پہلے کی آیت کو دوبارہ ذہن میں لائیں : قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَط اَیًّامَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ”آپ کہہ دیجیے کہ تم پکارو اللہ کہہ کر یا پکارو رحمن کہہ کر جس نام سے بھی تم پکارو اسی کے ہیں تمام نام اچھے“۔ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اسماء کا ذکر ہے ‘ جبکہ یہاں آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ کے کلمات کا ذکر ہے۔ اللہ کے کلمات سے مراد اس کی مختلف النوع مخلوقات ہیں اور اس کی ہر مخلوق اس کے ایک کلمہ کن کا ظہور ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی جملہ مخلوقات کا احاطہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ سورة لقمان میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ یَمُدُّہٗ مِنْم بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ”اور اگر زمین کے تمام درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی ہو اس کے بعد سات سمندر اور ہوں تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے۔ یقیناً اللہ غالب حکمت والا ہے۔“

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul innama ana basharun mithlukum yooha ilayya annama ilahukum ilahun wahidun faman kana yarjoo liqaa rabbihi falyaAAmal AAamalan salihan wala yushrik biAAibadati rabbihi ahadan

فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًایعنی عبادت خالص اللہ کی ہو۔ یہ توحید عملی ہے۔ اس بارے میں سورة بنی اسرائیل آیت 23 میں یوں فرمایا گیا ہے : وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا الآَّ اِیَّاہُ ”اور فیصلہ کردیا ہے آپ کے رب نے کہ تم لوگ نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اس کے“۔ سورة الکہف کی اس آخری آیت اور سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کا بھی آپس میں معنوی ربط وتعلق ہے۔ موازنہ کے لیے سورة بنی اسرائیل کی آیت ملاحظہ کیجیے : وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا ”اور کہہ دیجیے کہ کل حمد اور کل شکر اللہ کے لیے ہے جس نے نہیں بنائی کوئی اولاد اور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں اور نہ ہی اس کا کوئی دوست ہے کمزوری کی وجہ سے اور اس کی تکبیر کرو جیسے کہ تکبیر کرنے کا حق ہے“۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا بلند مقام اور اس کی شان بیان کر کے شرک کی نفی کی گئی ہے۔ در اصل اللہ کے ساتھ شرک کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو اللہ کو مرتبہ الوہیت سے نیچے اتار کر مخلوقات کے ساتھ کھڑا کردیا جاتا ہے یا پھر مخلوقات کی صف میں سے کسی کو اٹھا کر اللہ کے برابر بٹھا دیا جاتا ہے۔ چناچہ سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت میں اللہ کی کبریائی کا اعلان کرنے کا حکم دے کر شرک کی پہلی صورت کا ابطال کیا گیا ہے جبکہ سورة الکہف کی آخری آیت میں شرک کی دوسری صورت یعنی مخلوقات میں سے کسی کو اللہ کے برابر کرنے کی نفی کی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو اللہ کی مخلوق میں سے اس کے شریک بنانے کی روایت ہر زمانے میں رہی ہے۔ عیسائیوں نے حضرت مسیح کو خدا کا درجہ دے دیا اور اہل عرب نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ ہمارے ہاں بھی بعض لوگوں نے حضور کو نعوذ باللہ خدا بنا دیا : وہی جو مستوئ عرش تھا خدا ہو کر اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفیٰ ہو کر !اور کسی نے حضرت علی کو خدا کی ذات سے ملا دیا :ہر چند علی کی ذات نہیں ہے خدا کی ذات لیکن نہیں ہے ذات خدا سے جدا علی اور مرزا غالب تو اس سلسلے میں یہاں تک کہہ گئے :غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست مشغولِ حق ہوں بندگی بو تراب میں یعنی جب میں ابو تراب حضرت علی کی بندگی کرتا ہوں تو درحقیقت اللہ ہی کی بندگی کر رہا ہوتا ہوں۔ اسی طرح آغا خانیوں کے ہاں حضرت علی کو ”دشم اوتار“ قرار دیا گیا۔ ہندوؤں کے ہاں نو 9 اوتار تسلیم کیے جاتے تھے ‘ انہوں نے حضرت علی کو ”دسواں اوتار“ مان لیا۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک ! !بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

304