اس قصے کے بیان میں سرپرائز کا عمل جاری ہے۔ اچانک جب یہ منظر سامنے آتا ہے تو نوجوان اب جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ یہ اندازہ صحیح اندازہ نہیں کرسکتے کہ انہوں نے اس غار میں کتنا وقت گزارا ۔ اور کتنی دیر تک سوتے رہے۔ یہ آنکھیں ملتے ہیں ، ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ پوچھتے ہیں بھائی کتنی دیر ہوگئی۔ طویل نند سے جاگ کر ہر شخ پہلا سوال یہی کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایک طویل نیند کے کچھ آثار بھی پا رہے تھے۔ تو انہوں نے یہی اندازہ لگایا۔
لبثنا یوما او بعض یوم (81 : 91) ” شاید ایک دن یا اس سے کچھ کم “ اس کے بعد انہوں نے یہ موضوع سخن ترک کردیا ، جس پر بحث کا کوئی عملی فائدہ نہ تھا۔ اور اس مسئلے کو اللہ کے علم کے حوالے کر کے انہوں نے عملی کام میں مشغول ہونا مناسب سمجھا۔ یہ اہل ایمان کی شان اور عادت ہوتی ہے کہ وہ ان معاملات میں طویل دلچسپی نہیں لیتے ، جن میں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بھوکے تھے اور ان کے پاس چاندی کے روپے تھے جنہیں وہ شہر سے لے کر نکلے تھے۔
قالوا ربکم اعلم بما لبتتم فابعثوآ احدکم بورقکم ھذہ الی المدینۃ فلینظر ایھا از کی طعاماً فلیاتکم برزق منہ (81 : 91) ” پھر وہ بولے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتن اوقت اسی حالت میں گزرا ، چلو اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے ، وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لئے لائے۔ “ یعنی وہ پاکیزہ اور اچھا کھانا شہر میں تلاش کرے اور اس میں سے کچھ خرید کرلے آئے۔
وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ ان کی جائے پناہ کسی کو معلوم نہ ہوجائے اور انہیں شہر کے حکمران پکڑ نہ لیں اور اس طرح ان کو سنگسار کر کے قتل نہ کردیں۔ کیونکہ ان حکمرانوں کے خیال میں وہ مروجہ دین سے خارج ہوگئے تھے۔ اس لئے کہا یک مشرک گائوں میں وہ ایک خدا کو پوجنے تھے یا انہیں اس کا ڈر تھا کہ انہیں ان کے عقائد کی وجہ سے سزا دے کر فتنے میں نہ ڈال دیں۔ یہی وہ بات تھی جس سے وہ ڈرتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ اس شخص جن کو جو شہر جا رہا تھا ، سخت احتیاط کرنے کی تاکید کر رہے تھے۔
ولیتلطف ولایشعرن بکم احداً (91) انھم ان یظھروا علیکم یرجموکم او یعبدوکم فی ملتھم ولن تفلحوا اذا ابداً (02) (81 : 91-02) ” اور چاہئے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے ، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔ اگر کہیں ان لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑگیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے ، یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے ، اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے۔ “ ظاہر ہے کہ جو شخص ایمان کی راہ چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرے وہ کب فلاح پا سکتا ہے۔ یہ تو عظیم خسارہ ہے ۔
ہم اس منظر میں دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ اس طرح ہم کلام ہیں ، ڈر رہے ہیں ، پکڑے جانے کا خوف ہے اور سہمے ہوئے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ زمانہ گزر گیا۔ سال و ماہ ایک عرصہ تک گردش کرچکے ہیں۔ صدیوں کے بعد نئے لوگ پیدا ہوگئے ہیں او نیا زمانہ ہے۔ وہ شہر جس کے وہ باشندے تھے اس کے در و دیوار بدل گئے ہیں اور جن حکمرانوں سے وہ ڈر رہے ہیں ان کا دور ہی چلا گیا ہے اور وہ قصہ کہ اس طرح فلاح صدی میں فلاں حکمران کے ظلم سے تنگ آ کر نوجوانوں کا ایک گرو شہر چھوڑ گیا تھا۔ وہ باپ دادا سے لوگوں میں نقل ہوتا چلا آ رہا تھا اور لوگوں کے درمیان ان کے بارے میں اختلاف رائے بھی نقل در نقل ہوتا ہوتا چلا آ رہا تھا۔ ان کی تعداد ان کے عقائد کے بارے میں اور یہ کہ کتنا رصہ ہوا ہے ان کا اس شہر کو چھوڑنے کا اور یہ کہ کب سے وہ لوگ روپوش ہیں۔
یہاں آ کر پردہ گر جاتا ہے ، غار کے اندر ان کی گفتگو ختم ہو جای ہے۔ یہاں سیاق کلام میں پھر ایک خلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ذہن انسانی خود اسے بھر دیتا ہے او ایک دوسرا منظر سامنے آجاتا ہے۔
اب معلوم ہوجاتا ہے کہ اہل شراب سب کے سب مومن ہوچکے ہیں اور اہل شہر کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اصحاب کیف میں سے ہے جو مدت دراز ہوئی ایمان یجذبے سے شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے تو وہ ان لوگوں کا غایت درجہ احترام کرتے ہیں لیکن ہم یہاں سوچ سکتے ہیں کہ جب اس شخص کو معلوم ہوگا کہ وہ جب شہر چھوڑ کر گئے ہیں تو صدیوں کا عرصہ گزر گیا ہے۔ نیز اس شخص نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ شہر بدل گیا ہے۔ جب سے انہوں نے چھوڑا ہے ، بہت ہی طویل عرصہ گزر گیا ہے۔ ان کے اردگرد کی دنیا بالکل بدل گئی ہے۔ اس لئے ان کے لئے ہر چیز ایک عجوبہ ہے۔ وہ جب اپنے آپ کو دیکھ رہے تھے تو وہ زمانہ قدیم کے لوگ نظر آتے تھے۔ بلکہ لوگوں کے احساس اور ان کی نظر میں وہ عجوبہ تھے۔ اس لئے لوگوں نے بھی ان کے ساتھ عام انسانوں جیسا سلوک نہ کیا ہوگا اور ان کے اپنے دور میں جو رابطے ، رشتہ داریاں ، رسم و رواج کے عادات واطوار سب کے سب بدل گئے ہیں ، گویا وہ زمانہ قدیم کی ایک زندہ یاد گار ہیں۔ جو واقعی زندہ اس معاشرے میں لا کر کھڑے کردیئے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کا مزید کرم یہی ہو سکتا ہے کہ ان کو فوراً اس دنیا سے اٹھا لے۔ چناچہ یہ لوگ فی الفور فوت ہوجاتے ہیں۔
یہ ہمارا کام ہے کہ ہم یہ سب واقعات تصور کرلیں۔ کیونکہ قرآن ان واقعات کو چھوڑ کر اب آخری منظر پیش کرتا ہے۔ یہ لوگ فوت ہوگئے ہیں اور لوگ اس غار کے بہر جمع ہیں اور ان کے بارے میں باہم گفتگو اور تکرار کر رہے ہیں۔ لوگوں کا تنازعہ یہ تھا کہ یہ لوگ کس دین پر تھے۔ اب ان کو کس طرح دوام بخشا جائے اور کیا ذرائع اختیار کئے جائیں کہ ان کا ذکر دائما رہ جائے اور اگلی نسلیں بھی انہیں یاد رکھیں تاکہ ان کے اس عجیب واقعہ سے اگلی نسلیں بھی عبرت لیں اور اصحاب کہف ، سب کے لئے مشعل راہ ہوں۔
قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۭ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ جب کچھ ساتھیوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ انہوں نے ایک دن یا اس سے کچھ کم وقت نیند میں گزارا ہے تو ان کے جواب پر کچھ دوسرے ساتھی بول پڑے کہ اس بحث کو چھوڑ دو اللہ کو سب پتا ہے کہ تم لوگ یہاں کتنا عرصہ تک سوئے رہے ہو۔فَلْيَنْظُرْ اَيُّهَآ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْيَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ ظاہر ہے کہ اپنے اعتقاد اور نظریے کے مطابق انہیں پاکیزہ کھانا ہی چاہیے تھا۔وَلْيَتَلَطَّفْ یعنی جو ساتھی کھانا لینے کے لیے جائے وہ لوگوں سے بات چیت اور لین دین کرتے ہوئے خصوصی طور پر اپنا رویہ نرم رکھے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی سے جھگڑ پڑے اور اس طرح ہم سب کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا ہوجائے۔ یہاں پر نوٹ کر لیجیے کہ قرآن کے حروف کی گنتی کے اعتبار سے لفظ وَلْیَتَلَطَّفْ کی ”ت“ پر قرآن کا نصف اوّل پورا ہوگیا ہے اور اس کے بعد لفظ ”ل“ سے نصف ثانی شروع ہو رہا ہے۔
موت کے بعد زندگی ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں سلا دیا تھا، اسی طرح اپنی قدت سے انہیں جگا دیا۔ تین سو نو سال تک سوتے رہے لیکن جب جاگے بالکل ویسے ہی تھے۔ جیسے سوتے وقت تھے، بدن بال کھال سب اصلی حالت میں تھے۔ بس جیسے سوتے وقت تھے ویسے ہی اب بھی تھے۔ کسی قسم کا کوئی تغیر نہ تھا آپس میں کہنے لگے کہ کیوں جی ہم کتنی مدت سوتے رہے ؟ تو جواب ملا کہ ایک دن بلکہ اس سے بھی کم کیونکہ صبح کے وقت یہ سو گئے تھے اور اس وقت شام کا وقت تھا اس لئے انہیں یہی خیال ہوا۔ لیکن پھر خود انہیں خیال ہوا کہ ایسا تو نہیں اس لئے انہوں نے ذہن لڑانا چھوڑ دیا اور فیصلہ کن بات کہہ دی کہ اس کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اب چونکہ بھوک پیاس معلوم ہو رہی تھی اس لئے انہوں نے بازار سے سودا منگوانے کی تجویز کی۔ دام ان کے پاس تھے۔ جن میں سے کچھ راہ اللہ خرچ کئے تھے۔ کچھ موجود تھے۔ کہنے لگے کہ اسی شہر میں کسی کو دام دے کر بھیج دو ، وہ وہاں سے کوئی پاکیزہ چیز کھانے پینے کی لائے یعنی عمدہ اور بہتر چیز جیسے آیت (وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ مَا زَكٰي مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا ۙ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 21) 24۔ النور :21) یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی پاک نہ ہوتا اور آیت میں ہے (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى 14 ۙ) 87۔ الأعلی:14) وہ فلاح پا گیا جس نے پاکیزگی کی۔ زکوٰۃ کو بھی زکوٰۃ اسی لئے کا جاتا ہے کہ وہ مال کو طیب و طاہر کردیتی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مراد بہت سارا کھانا لانے سے ہے جیسے کھیتی کے بڑھ جانے کے وقت عرب کہتے ہیں زکا الزرع اور جیسے شاعر کا قول ہے قبائلنا سبع وانتم ثلاثۃ واسبع ازکی من ثلاث والطیب پس یہاں بھی یہ لفظ زیادتی اور کثرت کے معنی میں ہے لیکن پہلا قول ہی صحیح ہے اس لئے کہ اصحاب کہف کا مقصد اس قول سے حلال چیز کا لانا تھا۔ خواہ وہ زیادہ ہو یا کم۔ کہتے ہیں کہ جانے والے کو بہت احتیاط برتنی چاہئے، آنے جانے اور سودا خریدنے میں ہوشیاری سے کام لے جہاں تک ہو سکے لوگوں کی نگاہوں میں نہ چڑھے دیکھو ایسا نہ ہو کوئی معلوم کرلے۔ اگر انہیں علم ہوگیا تو پھر خیر نہیں۔ دقیانوس کے آدمی اگر تمہاری جگہ کی خبر پا گئے تو وہ طرح طرح کی سخت سزائیں تمہیں دیں گے یا تو تم ان سے گھبرا کر دین حق چھوڑ کر پھر سے کافر بن جاؤ یا یہ کہ وہ انہی سزاؤں میں تمہارا کام ہی ختم کردیں۔ اگر تم ان کے دین میں جا ملے تو سمجھ لو کہ تم نجات سے دست بردار ہوگئے پھر تو اللہ کے ہاں کا چھٹکارا تمہارے لئے محال ہوجائے گا۔