اس واقعہ سے قرآن مجید کے پیش نظر کیا نتیجہ نکالنا مقصود ہے ؟ یہ کہ بعث بعد الموت کے لئے یہ واقعہ ایک قریب انفہم اور محسوس نمونہ ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ موجودہ انسانی ڈھانچے کو بھی صدیوں تک زندہ رکھ سکتا ہے اور دوبارہ بھی اٹھا سکتا ہے اور قیام قیامت اور بعث بعد الموت حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یوں اللہ نے ان نوجوانوں کو ان کی نیند سے جگایا اور ان کی قوم کو بتایا کہ صدیوں تک یہ لوگ یونہی پڑے تھے۔
اب بعض لوگوں نے کہا
بعض لوگوں نے کہا ان پر دیوار چن دو کیونکہ ان کے عقائد کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔
ان کا رب ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے یعنی ان کے عقائد اور ان کی پوزیشن کے بارے میں لیکن اس وقت اصحاب حل و عقد نے کہا
’ ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے “ مسجد سے مقصد یہاں عبادت گاہ ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ تھا کہ و انبیاء اور اولیاء کی قبروں کے قریب عبادت گاہ بنا دیتے تھے۔ جس طرح آج مسلمانوں میں سے جو لوگ نبی ﷺ کے طریقہ کار کو چھوڑ کر ، صلحاء کی قبروں کے ساتھ مساجد اور گنبد بناتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا
” اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پ جنہوں نے اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں سے عبادت گاہ بنا دی “
اب اس منظر پر بھی پردہ گرتا ہے اور جب پردہ اٹھتا ہے تو اصحاب کہف کے بارے میں اب تاریخی مباحث شروع ہیں ، جیسا کہ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔ لوگ تاریخی خبریں اور روایات نقل کرتے رہتے ہیں۔ بعض واقعات کو حذف کردیتے ہیں ، بعض میں اضافہ کردیتے ہیں اور نسلا بعد نسل ان واقعات میں اپنے خیالات بھرتے رہتے ہیں اب قصے پھیلتے جاتے ہیں اصل قصہ الگ رہ جاتا ہے کچھ اور واقعات اہمیت اختیار کرلیتے ہیں ایک ایک بات کے بارے میں اقوال و اختلاف سامنے آتے ہیں اور قیل و قال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور جوں جوں وقت گزرتا ہے اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔
آیت 21 وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ چنانچہ اصحاب کہف کا ایک ساتھی جب کھانا لینے کے لیے شہر گیا تو اپنے لباس حلیے اور کرنسی وغیرہ کے باعث فوری طور پر اسے پہچان لیا گیا کہ وہ موجودہ زمانے کا انسان نہیں ہے۔ پھر جب اس سے تفتیش کی گئی تو سارا راز کھل گیا۔ اس وقت اگرچہ اس واقعہ کو تین سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا مگر اس کے باوجود یہ بات ابھی تک لوگوں کے علم میں تھی کہ فلاں بادشاہ کے ڈر سے اس شہر سے سات آدمی کہیں روپوش ہوگئے تھے اور پوری مملکت میں تلاش بسیار کے باوجود کہیں ان کا سراغ نہ مل سکا تھا۔ اسی طرح یہ بات بھی لوگوں کے علم میں تھی کہ اس پورے واقعے کو ایک تختی پر لکھ کر ریکارڈ کے طور پر شاہی خزانے میں محفوظ کرلیا گیا تھا۔ لہٰذا اصحاب کہف کے ساتھی سے ملنے والی معلومات کی تصدیق کے لیے جب مذکورہ تختی ریکارڈ سے نکلوائی گئی تو اس پر اس واقعہ کی تمام تفصیلات لکھی ہوئی مل گئیں اور یوں یہ واقعہ پوری وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے آگیا۔لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَایہ واقعہ گویا بعث بعد الموت کے بارے میں ایک واضح دلیل تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تین سو سال تک ان لوگوں کو سلائے رکھا اور پھر اٹھا کھڑا کیا تو اس کے لیے مردوں کا دوبارہ زندہ کرنا کیونکر ممکن نہیں ہوگا ؟اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ اَمْرَهُمْ اس کے بعد اصحاب کہف تو اپنی غار میں پہلے کی طرح سوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر حقیقی موت وارد کردی لیکن لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف پیدا ہوگیا کہ ان کے بارے میں حتمی طور پر کیا معاملہ کیا جائے۔فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا ۭ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ کچھ لوگوں نے رائے دی کہ اس معاملہ کی اہمیت کے پیش نظر یہاں ایک شاندار یادگار تعمیر کی جانی چاہیے۔
دوبارہ جینے کی حجت ارشاد ہے کہ اسی طرح ہم نے اپنی قدرت سے لوگوں کو ان کے حال پر اگاہ کردیا تاکہ اللہ کے وعدے اور قیامت کے آنے کی سچائی کا انہیں علم ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے کے وہاں موجود لوگوں کو قیامت کے آنے میں کچھ شکوک پیدا ہو چلے تھے۔ ایک جماعت تو کہتی تھی کہ فقط روحیں دوبارہ جی اٹھیں گی، جسم کا اعادہ نہ ہوگا پس اللہ تعالیٰ نے صدیوں بعد اصحاب کہف کو جگا کر قیامت کے ہونے اور جسموں کے دوبارہ جینے کی حجت واضح کردی ہے اور عینی دلیل دے دی۔ مذکور ہے کہ جب ان میں سے ایک صاحب دام لے کر سودا خریدنے کو غار سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کی دیکھی ہوئی ایک چیز نہیں سارا نقشہ بدلا ہوا ہے اس شہر کا نام افسوس تھا زمانے گزر چکے تھے، بستیاں بدل چکی تھیں، صدیاں بیت گئی تھیں اور یہ تو اپنے نزدیک یہی سمجھے ہوئے تھے کہ ہمیں یہاں پہنچے ایک آدھ دن گزار ہے یہاں انقلاب زمانہ اور کا اور ہوچکا ہے جیسے کسی نے کہا ہے۔ اما الدیار فانہا کدیارہم واری رجال الحی غیر رجالہ گھر گو انہیں جیسے ہیں لیکن قبیلے کے لوگ اور ہی ہیں اس نے دیکھا کہ نہ تو شہر کوئی چیز اپنے حال پر ہے، نہ شہر کا کوئی بھی رہنے والا جان پہچان کا ہے نہ یہ کسی کو جانیں نہ انہیں اور کوئی پہچانے۔ تمام عام خاص اور ہی ہیں۔ یہ اپنے دل میں حیران تھا۔ دماغ چکرا رہا تھا کہ کل شام ہم اس شہر کو چھوڑ کر گئے ہیں۔ یہ دفعتا ہو کیا گیا ؟ ہرچند سوچتا تھا کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تھی۔ آخر خیال کرنے لگا کہ شاید میں مجنوں ہوگیا ہوں یا میرے حواس ٹھکانے نہیں رہے یا مجھے کوئی مرض لگ گیا ہے یا میں خواب میں ہوں۔ لیکن فورا ہی یہ خیالات ہٹ گئے مگر کسی بات پر تسلی نہ ہوسکی اس لئے ارادہ کرلیا کہ مجھے سودا لے کر اس شہر کو جلد چھوڑ دینا چاہئے۔ ایک دکان پر جا کر اسے دام دئیے اور سودا کھانے پینے کا طلب کیا۔ اس نے اس سکے کو دیکھ کر سخت تر تعجب کا اظہار کیا اپنے پڑوسی کو دیا کہ دیکھنا یہ سکہ کیا ہے کب کا ہے ؟ کسی زمانے کا ہے ؟ اس نے دوسرے کو دیا اس سے کسی اور نے دیکھنے کو مانگ لیا الغرض وہ تو ایک تماشہ بن گیا ہر زبان سے یہی نکلنے لگا کہ اس نے کسی پرانے زمانے کا خزانہ پایا ہے، اس میں سے یہ لایا ہے اس سے پوچھو یہ کہاں کا ہے ؟ کون ہے ؟ یہ سکہ کہاں سے پایا ؟ چناچہ لوگوں نے اسے گھیر لیا مجمع لگا کر کھڑے ہوگئے اور اوپر تلے ٹیڑھے ترچھے سوالات شروع کر دئے۔ اس نے کہا میں تو اسی شہر کا رہنے والا ہوں، کل شام کو میں یہاں سے گیا ہوں، یہاں کا بادشاہ دقیانوس ہے۔ اب تو سب نے قہقہہ لگا کر کہا بھئی یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ آخر اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا اس سے سوالات ہوئے اس نے تمام حال کہہ سنایا اب ایک طرف بادشاہ اور دوسرے سب لوگ متحیر ایک طرف سے خود ششدر و حیران۔ آخر سب لوگ ان کے ساتھ ہوئے۔ اچھا ہمیں اپنے اور ساتھی دکھاؤ اور اپنا غار بھی دکھا دو۔ یہ انہیں لے کر چلے غار کے پاس پہنچ کر کہا تم ذرا ٹھیرو میں پہلے انہیں جا کر خبر کر دوں۔ ان کے الگ ہٹتے ہی اللہ تعالیٰ نے ان پر بیخبر ی کے پردے ڈال دئے۔ انہیں نہ معلو ہوسکا کہ وہ کہاں گیا ؟ اللہ نے پھر اس راز کو مخفی کرلیا۔ ایک روایت یہ بھی آئی ہے کہ یہ لوگ مع بادشاہ کے گئے، ان سے ملے، سلام علیک ہوئی، بغلگیر ہوئے، یہ بادشاہ خود مسلمان تھا۔ اس کا نام تندوسیس تھا، اصحاب کہف ان سے مل کر بہت خوش ہوئے اور محبت و انسیت سے ملے جلے، باتیں کیں، پھر واپس جا کر اپنی اپنی جگہ لیٹے، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں فوت کرلیا، رحمہم اللہ اجمعین واللہ اعلم۔ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ حبیب بن مسلمہ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، وہاں انہوں نے روم کے شہروں میں ایک غار دیکھا، جس میں ہڈیاں تھیں، لوگوں نے کہا یہ ہڈیاں اصحاب کہف کی ہیں، آپ نے فرمایا تین سو سال گزر چکے کہ ان کی ہڈیاں کھوکھلی ہو کر مٹی ہوگئیں (ابن جریر) پس فرماتا ہے کہ جیسے ہم نے انہیں انوکھی طرز پر سلایا اور بالکل انوکھے طور پر جگایا، اسی طرح بالکل نرالے طرز پر اہل شہر کو ان کے حالات سے مطلع فرمایا تاکہ انہیں اللہ کے وعدوں کی حقانیت کا علم ہوجائے اور قیامت کے ہونے میں اور اس کے برحق ہونے میں انہیں کوئی شک نہ رہے۔ اس وقت وہ آپس میں سخت مختلف تھے، لڑ جھگڑ رہے تھے، بعض قیامت کے قائل تھے، بعض منکر تھے، پس اصحاب کہف کا ظہور منکروں پر حجت اور ماننے والوں کے لئے دلیل بن گیا۔ اب اس بستی والوں کا ارادہ ہوا کہ ان کے غار کا منہ بند کردیا جائے اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ جنہیں سرداری حاصل تھی انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم تو ان کے اردگرد مسجد بنالیں گے امام ابن جریر ان لوگوں کے بارے میں دو قول نقل کرتے ہیں ایک یہ کہ ان میں سے مسلمانوں نے یہ کہا تھا دوسرے یہ کہ یہ قول کفار کا تھا۔ واللہ اعلم۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسکے قائل کلمہ گو تھے، ہاں یہ اور بات ہے کہ ان کا یہ کہنا اچھا تھا یا برا ؟ تو اس بارے میں صاف حدیث موجود ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ یہود و نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاء اور اولیا کی قبروں کو مسجدیں بنالیں جو انہوں نے کیا اس سے آپ اپنی امت کو بچانا چاہتے تھے۔ اسی لئے امیرالمومنین حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں جب حضرت دانیال کی قبر عراق میں پائی تو حکم فرمایا کہ اسے پوشیدہ کردیا جائے اور جو رقعہ ملا ہے جس میں بعض لڑائیوں وغیرہ کا ذکر ہے اسے دفن کردیا جائے۔