سورہ کہف (18): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Kahf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الكهف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ کہف کے بارے میں معلومات

Surah Al-Kahf
سُورَةُ الكَهۡفِ
صفحہ 296 (آیات 21 سے 27 تک)

وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَآ إِذْ يَتَنَٰزَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ ۖ فَقَالُوا۟ ٱبْنُوا۟ عَلَيْهِم بُنْيَٰنًا ۖ رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ۚ قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُوا۟ عَلَىٰٓ أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا سَيَقُولُونَ ثَلَٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِٱلْغَيْبِ ۖ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ ۚ قُل رَّبِّىٓ أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِم مَّا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ ۗ فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَآءً ظَٰهِرًا وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِم مِّنْهُمْ أَحَدًا وَلَا تَقُولَنَّ لِشَا۟ىْءٍ إِنِّى فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَٱذْكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَىٰٓ أَن يَهْدِيَنِ رَبِّى لِأَقْرَبَ مِنْ هَٰذَا رَشَدًا وَلَبِثُوا۟ فِى كَهْفِهِمْ ثَلَٰثَ مِا۟ئَةٍ سِنِينَ وَٱزْدَادُوا۟ تِسْعًا قُلِ ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا۟ ۖ لَهُۥ غَيْبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ أَبْصِرْ بِهِۦ وَأَسْمِعْ ۚ مَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِىٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِى حُكْمِهِۦٓ أَحَدًا وَٱتْلُ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلْتَحَدًا
296

سورہ کہف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ کہف کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اِس طرح ہم نے اہل شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آ کر رہے گی (مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اُس وقت وہ آپس میں اِس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اِن (اصحاب کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے کچھ لوگوں نے کہا "اِن پر ایک دیوار چن دو، ان کا رب ہی اِن کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے" مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا " ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakathalika aAAtharna AAalayhim liyaAAlamoo anna waAAda Allahi haqqun waanna alsaAAata la rayba feeha ith yatanazaAAoona baynahum amrahum faqaloo ibnoo AAalayhim bunyanan rabbuhum aAAlamu bihim qala allatheena ghalaboo AAala amrihim lanattakhithanna AAalayhim masjidan

اس واقعہ سے قرآن مجید کے پیش نظر کیا نتیجہ نکالنا مقصود ہے ؟ یہ کہ بعث بعد الموت کے لئے یہ واقعہ ایک قریب انفہم اور محسوس نمونہ ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ موجودہ انسانی ڈھانچے کو بھی صدیوں تک زندہ رکھ سکتا ہے اور دوبارہ بھی اٹھا سکتا ہے اور قیام قیامت اور بعث بعد الموت حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یوں اللہ نے ان نوجوانوں کو ان کی نیند سے جگایا اور ان کی قوم کو بتایا کہ صدیوں تک یہ لوگ یونہی پڑے تھے۔

اب بعض لوگوں نے کہا

بعض لوگوں نے کہا ان پر دیوار چن دو کیونکہ ان کے عقائد کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔

ان کا رب ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے یعنی ان کے عقائد اور ان کی پوزیشن کے بارے میں لیکن اس وقت اصحاب حل و عقد نے کہا

’ ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے “ مسجد سے مقصد یہاں عبادت گاہ ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ تھا کہ و انبیاء اور اولیاء کی قبروں کے قریب عبادت گاہ بنا دیتے تھے۔ جس طرح آج مسلمانوں میں سے جو لوگ نبی ﷺ کے طریقہ کار کو چھوڑ کر ، صلحاء کی قبروں کے ساتھ مساجد اور گنبد بناتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا

” اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پ جنہوں نے اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں سے عبادت گاہ بنا دی “

اب اس منظر پر بھی پردہ گرتا ہے اور جب پردہ اٹھتا ہے تو اصحاب کہف کے بارے میں اب تاریخی مباحث شروع ہیں ، جیسا کہ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔ لوگ تاریخی خبریں اور روایات نقل کرتے رہتے ہیں۔ بعض واقعات کو حذف کردیتے ہیں ، بعض میں اضافہ کردیتے ہیں اور نسلا بعد نسل ان واقعات میں اپنے خیالات بھرتے رہتے ہیں اب قصے پھیلتے جاتے ہیں اصل قصہ الگ رہ جاتا ہے کچھ اور واقعات اہمیت اختیار کرلیتے ہیں ایک ایک بات کے بارے میں اقوال و اختلاف سامنے آتے ہیں اور قیل و قال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور جوں جوں وقت گزرتا ہے اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔

اردو ترجمہ

کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کتا تھا یہ سب بے تکی ہانکتے ہیں کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کتا تھا کہو، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Sayaqooloona thalathatun rabiAAuhum kalbuhum wayaqooloona khamsatun sadisuhum kalbuhum rajman bialghaybi wayaqooloona sabAAatun wathaminuhum kalbuhum qul rabbee aAAlamu biAAiddatihim ma yaAAlamuhum illa qaleelun fala tumari feehim illa miraan thahiran wala tastafti feehim minhum ahadan

اب ان لوگوں کی تعداد کے بارے میں بحث لا حاصل ہے۔ اس لئے کہ اگر ان کی تعداد تین ہو یا چار ہو ، پانچ ہو یا زیادہ تو اس سے اصل واقعہ اور اس سے جو عبرت سکھانا تھا اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ کتنے تھے ، یہ بات اللہ ہی جانتا ہے۔ یا وہ قلیل لوگ جانتے تھے جن کے سامنے یہ واقعہ ہوا۔ یا جن تک صحیح روایات پہنچیں۔ لہٰذا ان کی تعداد کے بارے میں مباحثہ کرنا بےفائدہ بات ہے ان کی تعداد کم ہو یا زیادہ ان کے واقعہ سے جو نصیحت اور عبرت حاصل ہوتی ہے ، اس پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لئے قرآن مجید حضور ﷺ کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ آپ ﷺ کسی سے ان کی تعداد کے بارے میں نہ الجھیں اور نہ ان کے بارے ان اہل کتاب سے پوچھیں کیونکہ ان کا علم خود مضطرب ہے۔ اس لئے کہ اسلام اور قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ انسان کو عقل و خرو کی قوتوں کو ایسے کاموں میں نہیں کھپانا چاہئے جس سے کوئی فائدہ نہ ہو۔ نیز ایک مسلم کو اس موضوع پر بحث نہیں کرنا چاہئے جس میں اسے پورا پورا علم حاصل نہ ہو۔ یہ واقعہ ایک قدیم تاریخی واقعہ ہے۔ اصل حقائق سے صرف اللہ خبردار ہے۔ لہٰذا اسے علم الٰہی کے لئے چھوڑ دینا چاہئے۔

ماضی کے غیوبات کے باے میں بحث سے منع کیا گیا تو اس موقعہ پر اس سے بھی منع کردیا گیا کہ مستقبل کے غیوبات کے بارے میں فضول پیشن گوئیوں میں بھی نہ الجھا جائے کہ کل کیا ہوگا ؟ جب انسان مستقبل کے بارے میں کوئی بات جانتا نہیں تو وہ اس کے بارے میں کیا قطعی رائے دے سکتا ہے ؟

اردو ترجمہ

اور دیکھو، کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala taqoolanna lishayin innee faAAilun thalika ghadan

واقعہ یہ ہے کہ ہر حرکت اور پر سکون بلکہ زندہ انسانوں کے سا انسوں میں سے ہر سانس اللہ کے ارادے کی مرہون منت ہے۔ عالم غیب لمحہ حاضرہ کے پردے کے پچیھے مستور ہے اور انسانی آنکھ اس پر دے کے پیچھے نہیں دیکھ سکتی۔ انسان چاہے بہت ہی عقلمند ہو ، مستقبل کے بارے میں اس کی عقل کند ہے اور کچھ جاننے سے قاصر ہے۔ لہٰذا کسی انسان کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں کل یہ کروں گا۔ جبکہ کل پردہ غیب کے پیچھے ہے اور کل کے نتائج کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔

لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ انسان بیٹھ جائے اور مستقبل کے امور کے بارے میں کوئی غور و فکر نہ کرے۔ اور وہ اپنی زندگی کے بارے میں صرف ایک دن ہی کی منصوبہ بندی کرے یا لمحہ بہ لمحہ زندگی کے بارے میں نئی نئی سوچ سامنے لائے اور اپنی سابقہ زندگی کو حال اور مستقبل کے ساتھ مربوط نہ کرے۔ ایسا مفہوم اس آیت کا ہرگز نہیں ہے بلکہ مفہوم یہ ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں غیبی اور ناگہانی واقعات اور اللہ کی مشیت کا بھی خیال رکھے۔ وہ جو عزم چاہے کرے ، جو منصوبہ چاہے بنائے ، لیکن اس کے بارے میں اللہ کی مدد کا طلب گار ہو ، یہ بات ذہن میں رکھے کہ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اگر کام اس کے منصوبے کے مطابق ہوگیا تو بہتر ورنہ اگر اللہ کی مشیت نے اس کے لخاف کوئی اور تدبیر کردی تو اسے بھی وہ معبد نہ سمجھے ، کیونکہ اللہ کا حکم بہر حال برتر رہتا ہے۔

انسان کو چاہئے کہ وہ سوچے ، تدبیر کرے۔ لیکن اسے یہ شعور زندہ رکھنا چاہئے کہ وہ جو سوچتا ہے ، وہ توفیق الٰہی اور اللہ کی فراہم کردہ آسانیوں کے نتیجے ہی میں کرسکتا ہے۔ اس کی وہی سوچ اور وہی تدبیر کامیاب ہو سکتی ہے جس کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال ہو۔ یاد رہے کہ یہ کاہلی ، سستی ، ضعف اور بےتدبیری کا جواز فراہم نہ کرے بلکہ چاہئے کہ اس سے قوت ، اعتماد ، اطمینان اور عزم مضبوط ہو۔ اور اگر کام اس کی تدابیر کے خلاف ہوجائے تو بس وہ یہی کہہ دے کہ اللہ کا حکم اور فیصلہ ایسا ہی ہوگا۔ ہم اللہ کے فیصلے پر راضی ہیں مطمئن ہیں اور سر تسلیم خم کرتے ہیں کیو ن کہ ہونا وہی تھا جو ہوا ، البتہ ہمیں وہ معلوم نہ تھا وہ پردہ غیب کے پیچھے مستور تھا۔

یہ ہے وہ طریقہ کار جس پر اسلام ایک مومن کو ڈالنا چاہتا ہے لہٰذا ایک مومن تنہائی اور وحشت محسوس نہیں کرتا۔ بلکہ ہر وقت فکر و تدبیر کرتا رہتا ہے اور اگر وہ کامیاب ہوتا ہے تو وہ غرور اور سرکشی اختیار نہیں کرتا۔ نہ وہ قنوطیت اور مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی منصوبے میں ناکام ہوجائے ، بلکہ کامیابی اور ناکامی دونوں میں وہ اللہ سے جڑا رہتا ہے۔ اس کا اللہ پر پورا پورا بھروسہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق پر راضی ہوتا ہے۔ اس کے فیصلوں پر راضی برضا ہوتا ہے نہ وہ متکبر ہوتا ہے اور نہ قنوطی ہوتا ہے۔

اردو ترجمہ

(تم کچھ نہیں کر سکتے) اِلّا یہ کہ اللہ چاہے اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو اور کہو "امید ہے کہ میرا رب اِس معاملے میں رشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Illa an yashaa Allahu waothkur rabbaka itha naseeta waqul AAasa an yahdiyani rabbee liaqraba min hatha rashadan

” اور جب تم بھول ائو تو اللہ کو یاد کرو “ اگر کسی وقت تم اللہ کی طرف متوجہ ہونا بھول جائو تو فوراً اس کی طرف متوجہ ہو جائو اور کہہ دو

” اور کہو ، امید ہے کہ میرا رب اس معاملے میں رشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا۔ “ اس نہج کے مطابق انسانی دل ہمیشہ اللہ سے جڑا ہوتا ہے اپنے اہم امور میں بھی اور اپنے تمام منصوبوں میں بھی۔

یہاں لفظ عسی (امید ہے) اور لفظ ناقرب (یعنی قریب تر بات) کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس لئے کہ یہ مقام بلند پانا عام لوگوں کے لئے بہت ہی مشکل ہے اور ہر انسان کو چاہئے کہ وہ ایسے مقام پر قائم رہنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے۔

اس قصے سے یہاں تک ہمیں معلوم نہ تھا کہ یہ لوگ غار میں کتنا عرصہ رہے۔ اب ہمیں یقینی طور پر معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کتنا عرصہ رہے ہیں۔

اردو ترجمہ

اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور (کچھ لوگ مدّت کے شمار میں) ۹ سال اور بڑھ گئے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walabithoo fee kahfihim thalatha miatin sineena waizdadoo tisAAan

یہ ہے ان کے بارے میں فیصلہ کن بات۔ اللہ جو عالم ہے غیوب السموات والارض کا اس نے یہ اطلاع دے دی۔ وہی ہے جو بہترین سننے والا ہے اور وہی ہے جو بہترین دیکھنے والا ہے۔ اس اعلان کے بعد کسی کے لئے کوئی بحث وجدال کی گنجائش نہیں ہے۔

اس قصے پر اب یہ تبصرہ سامنے آتا ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ولی ہے اور اس کے حکم اور اس کے قانون میں بھی کوئی شریک نہیں ہے۔

اردو ترجمہ

تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا! زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اُس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Quli Allahu aAAlamu bima labithoo lahu ghaybu alssamawati waalardi absir bihi waasmiAA ma lahum min doonihi min waliyyin wala yushriku fee hukmihi ahadan

رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ جو وحی آپ ﷺ پر نازل ہوئی آپ ﷺ اس کی تلاوت کریں۔ اسی میں دو ٹوک فیصلے ہیں۔ اس کے تمام فیصلے عین سچائی ہیں ، اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ ہمیں صرف اللہ کو پکارنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ کے سوا کوئی اور پناہ نہیں ہے۔ دیکھئے اصحاب کہف اللہ کی طرف بھاگے تو اللہ نے ان پر رحمت کی۔

اردو ترجمہ

اے نبیؐ! تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں) سنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں رد و بدل کرو گے تو) اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waotlu ma oohiya ilayka min kitabi rabbika la mubaddila likalimatihi walan tajida min doonihi multahadan

یوں یہ قصہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے اس کے آغاز میں اس کے درمیان میں اور اس کی انتہا میں جا بجا وہ ہدایات ہیں جن کی وجہ سے اس قصے کو قرآن میں جگہ دی گئی ہے۔ دینی اور نظریاتی ہدایات ساتھ ساتھ قصے کا فنی انداز بیان بھی نہایت اعلیٰ ہے۔

296