رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ جو وحی آپ ﷺ پر نازل ہوئی آپ ﷺ اس کی تلاوت کریں۔ اسی میں دو ٹوک فیصلے ہیں۔ اس کے تمام فیصلے عین سچائی ہیں ، اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ ہمیں صرف اللہ کو پکارنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ کے سوا کوئی اور پناہ نہیں ہے۔ دیکھئے اصحاب کہف اللہ کی طرف بھاگے تو اللہ نے ان پر رحمت کی۔
آیت 26 قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْایعنی اس بحث میں بھی پڑنے کی ضرورت نہیں کہ وہ غار میں کتنا عرصہ سوئے رہے۔ اس کا جواب بھی آپ ان کو یہی دیں کہ اس مدت کے بارے میں بھی اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ ۡ وَّلَا يُشْرِكُ فِيْ حُكْمِهٖٓ اَحَدًااس کے سوا ان کا کوئی ساتھی کارساز مددگار حمایتی اور پشت پناہ نہیں ہے۔ لفظ ”ولی“ ان سب معانی کا احاطہ کرتا ہے۔ وہ اپنے اختیار اور اپنی حاکمیت کے حق میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتا۔ یہ توحید حاکمیت ہے۔ اس بارے میں سورة یوسف آیت 40 و 67 میں اس طرح ارشاد ہوا : اِنِ الْحُکْمُ الاَّ لِلّٰہِ ”اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے“۔ جبکہ سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت میں یوں فرمایا گیا : وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْْمُلْکِ ”اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہت میں۔“