سورہ کہف: آیت 65 - فوجدا عبدا من عبادنا آتيناه... - اردو

آیت 65 کی تفسیر, سورہ کہف

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ ءَاتَيْنَٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا

اردو ترجمہ

اور وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fawajada AAabdan min AAibadina ataynahu rahmatan min AAindina waAAallamnahu min ladunna AAilman

آیت 65 کی تفسیر

آیت 65 فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ اٰتَيْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس سے اپنے خاص خزانۂ فیض سے اسے خصوصی علم عطا کر رکھا تھا۔ ”علم لدنی“ کی اصطلاح یہیں سے اخذ کی گئی ہے۔ لَدُن کے معنی قریب یا نزدیک کے ہیں۔ چناچہ علم لدنی سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت سے کسی کو عطا کر دے۔ یعنی ایک علم تو وہ ہے جو انسان اپنے حواس خمسہ کے ذریعے سے باقاعدہ محنت و مشقت کے عمل سے گزر کر حاصل کرتا ہے جیسے مدارس عربیہ میں صرف و نحو تفسیر و حدیث اور فقہ وغیرہ علوم حاصل کیے جاتے ہیں یا سکول و کالج میں متداول عمرانی و سائنسی علوم سیکھے جاتے ہیں لیکن علم کی ایک قسم وہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ براہ راست کسی انسان کے دل میں ڈال دیتا ہے اور اس کو اس کی تحصیل کے لیے کوئی مشقت وغیرہ بھی نہیں اٹھانی پڑتی۔

آیت 65 - سورہ کہف: (فوجدا عبدا من عبادنا آتيناه رحمة من عندنا وعلمناه من لدنا علما...) - اردو