اس صفحہ میں سورہ Al-Kahf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الكهف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَىٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبًا
قَالَ أَرَءَيْتَ إِذْ أَوَيْنَآ إِلَى ٱلصَّخْرَةِ فَإِنِّى نَسِيتُ ٱلْحُوتَ وَمَآ أَنسَىٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيْطَٰنُ أَنْ أَذْكُرَهُۥ ۚ وَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِى ٱلْبَحْرِ عَجَبًا
قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ۚ فَٱرْتَدَّا عَلَىٰٓ ءَاثَارِهِمَا قَصَصًا
فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ ءَاتَيْنَٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا
قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا
قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِىَ صَبْرًا
وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِۦ خُبْرًا
قَالَ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ صَابِرًا وَلَآ أَعْصِى لَكَ أَمْرًا
قَالَ فَإِنِ ٱتَّبَعْتَنِى فَلَا تَسْـَٔلْنِى عَن شَىْءٍ حَتَّىٰٓ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا
فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا رَكِبَا فِى ٱلسَّفِينَةِ خَرَقَهَا ۖ قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْـًٔا إِمْرًا
قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِىَ صَبْرًا
قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِى بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِى مِنْ أَمْرِى عُسْرًا
فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا لَقِيَا غُلَٰمًا فَقَتَلَهُۥ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةًۢ بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْـًٔا نُّكْرًا
معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک خفیہ راز تھا اور اس راز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نوجوان بھی باخبر نہ تھے۔ ملاقات تک اسے خبر نہ تھی اور بعد کے مناظر میں بھی ان نوجوان حضرت موسیٰ اور عبدصالح کے ساتھ نظر نہیں آتے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت ہی احترام سے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا آپ ہمیں کچھ سکھائیں گے ؟ یعنی آپ کو اللہ نے جو علم دیا ہے اس میں سے کوئی راہنمائی اور دانشمندی ہمیں بھی سکھائیں گے۔ لیکن اس شخص کا علم وہ علم نہ تھا جو انسانوں کو سکھایا گیا ہے اور جس کے اسباب و نتائج معلمو اور قریب الفہم ہوتے ہیں بلکہ اس کے علم کا تعلق علم لدنی اور اس کائنات کے تکوینی انتظام کے ساتھ تھا۔ یہ اللہ کے غیبی امور کا ایک حصہ تھا۔ جو اس عبدصالح کو اللہ نے اپنی مخصوص مصلحتوں اور حکمت کے تحت سکھایا ہوا تھا۔ اس لئے عبدصالح کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ اس کے تصرفات کو برداشت نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ تو رسول اور نبی ہیں ۔ خلاف شریعت کسی بات کو برداشت نہ کریں گے۔ کیونکہ یہ تصرفات بظاہر شریعت کے بھی خلاف ہوں گے اور عقلی طرز عمل کے بھی خلاف ہوں گے اور اس بات کی ضرورت ہوگی کہ ان کی تہہ میں جو تکوینی حکمت پوشیدہ تھی وہ بھی ان کو بتائی جائے۔ اگر اصل حقیقت نہ بتائی جائے تو یہ قابل اعتراض ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عبدصالح اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ تم صبر نہ کرسکو گے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صبر اور اطاعت کے زعم کا اظہار کرتے ہیں ، اس سلسلے میں اللہ کی مدد کی بھی امید کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
عبدصالح اب بطور تاکید دوبارہ صبر کی تلقین کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے ساتھ رہنے کی شرط یہ ہے کہ میرے تصرفات کی بابت آپ کوئی سوال نہ کریں گے ، یہاں تک کہ وہ خود ان تصرفات کی حقیقت بیان نہ کردوں۔
حضرت موسیٰ یہ شرط قبول کرتے ہیں۔ اب پہلا تصرف اور اس کا منظر۔
یہ کشتی ان دونوں کو بھی لے جا رہی اور ساتھ ہی اور سوار بھی اس پر موجود ہیں۔ یہ سب لوگ سمندر کے درمیان موجوں میں سفر کر رہے ہیں۔ عبدصالح اس میں شگاف ڈال دیتے ہیں۔ بظاہر تو یہ نظر آتا ہے کہ اس شگاف کی وجہ سے یہ کشتی غرق ہو سکتی ہے اور مالکوں اور سواروں کے لئے مصیبت کا باعث ہو سکتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ عبداصالح نے یہ حرکت کیوں کی ؟
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذہن سے شرائط سفر محو ہوگئیں۔ وہ اس غیر معقول حرکت کو برداشت نہ کرسکے۔ جو عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔ انسان بعض اوقات محض تصور کی حد تک بہت کچھ کہتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی عملی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے تمام نظریاتی جائزے اور توقعات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ عملی میدان میں اس کا ردعمل محض نظری میدان سے مختلف ہوتا ہے۔ عملی تجربات اور ہوتے ہیں اور نظری تصورات اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نظری طور پر متنبہ بھی کردیا گیا تھا کہ تم ان امور پر صبر نہ کرسکو گے جن کے بارے میں تمہیں علم نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے فضل و کرم سے صبر کرنے کا عزم بھی کرتے ہیں ، وعدہ بھی کرتے ہیں ، شرط قبول بھی کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ عملاً ایک منظر کو دیکھتے ہیں تو سب کچھ بھول کر اعتراض کرتے ہیں۔
حضرت موسیٰ کی طبیعت بھی انفعالی اور جذباتی تھی۔ اس لئے وہ صبر نہ کرسکے۔ وہ وعدے کا ایفا نہ کرسکے۔ وہ اس فعل کے انوکھے پن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی برائی کو برداشت نہ کیا۔ مثلاً مصر میں جب ایک قبطی ایک بنی اسرائیل سے لڑ رہا تھا تو آپ نے غصے میں اسے مکا رسید کیا اور وہ مر گیا۔ پھر انہوں نے اس فعل پر اللہ سے معافی مانگی۔ پھر دوسرے دن جب وہی بنی اسرائیل پھر ایک مصری سے لڑر رہا تھا تو آپ پھر غصہ ہوئے۔
بہرحال حضرت مسویٰ اپنی افتاد طبع کے مطابق ہیاں بھی برداشت نہ کرسکے۔ واقعہ عجیب و غریب تھا۔ عقل و نقل کے خلاف تھا۔ اور اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وعدہ کیا تھا اور شرط بھی قبول کرلی تھی لیکن نظریات اور ہوتے ہیں اور عملی صورت حالات اور ہوتی ہے۔ چناچہ جب عملاً موسیٰ علیہ السالم کے سامنے یہ صورت حالات پیش ہوئی تو آپ نے بےساختہ اعتراض کردیا۔
اب حضرت موسیٰ معذرت کرتے ہیں کہ وہ تو بھول گئے اور درخواست کرتے ہیں کہ آپ میرے عذر کو قبول کرلیں ، بھول ہوگئی اور یہ کہ اس معاملے میں آپ میرے ساتھ سختی نہ کریں۔
عبد صالح بھی یہ عذر و معذرت قبول کرلیتے ہیں اور ہم اب دوسرے منظر کے سامنے ہیں۔
پہلے تو کشتی میں شگاف ڈالا تھا اور لوگوں کی ہلاکت کا محض احتمال تھا لیکن اب تو واضح طور پر انہوں نے ایک شخص کو قتل کردیا۔ یہ قتل عمد تھا۔ محض احتمال قتل نہ تھا اور یہ گناہ کبیرہ تھا۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) صبر نہ کرسکتے تھے۔ اگرچہ انہوں نے عہد کیا تھا اور انہیں یہ عہد یاد بھی تھا۔
اس دفعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہ بھولے تھے اور نہ غافل تھے۔ اب انہوں نے بالا ارادہ اعتراض کردیا۔ کیونکہ وہ اس گناہ کبیرہ پر اعتراض کئے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ نہ وہ اس کی کوئی تاویل کرسکتے تھے۔ ان کے خیال میں یہ لڑکا بےگناہ تھا۔ اس نے ایسا کوء فعل نہ کیا جس کے نتیجے میں اس کا قتل جائز ہو۔ بلکہ وہ تھا بھی نابالغ اس پر تو حد جاری ہی نہ ہو سکتی تھی۔
عبدصالح دوبارہ ان سے یہ کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک معاہدہ ہوچکا ہے اور وہ انہیں پھر یاد دلاتے ہیں اور یہ کہ تجربے کے بعد تجربہ بتلاتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) برداشت نہیں کرسکتے۔