سورہ کہف (18): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Kahf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الكهف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ کہف کے بارے میں معلومات

Surah Al-Kahf
سُورَةُ الكَهۡفِ
صفحہ 301 (آیات 62 سے 74 تک)

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَىٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبًا قَالَ أَرَءَيْتَ إِذْ أَوَيْنَآ إِلَى ٱلصَّخْرَةِ فَإِنِّى نَسِيتُ ٱلْحُوتَ وَمَآ أَنسَىٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيْطَٰنُ أَنْ أَذْكُرَهُۥ ۚ وَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِى ٱلْبَحْرِ عَجَبًا قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ۚ فَٱرْتَدَّا عَلَىٰٓ ءَاثَارِهِمَا قَصَصًا فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ ءَاتَيْنَٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِىَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِۦ خُبْرًا قَالَ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ صَابِرًا وَلَآ أَعْصِى لَكَ أَمْرًا قَالَ فَإِنِ ٱتَّبَعْتَنِى فَلَا تَسْـَٔلْنِى عَن شَىْءٍ حَتَّىٰٓ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا رَكِبَا فِى ٱلسَّفِينَةِ خَرَقَهَا ۖ قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْـًٔا إِمْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِىَ صَبْرًا قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِى بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِى مِنْ أَمْرِى عُسْرًا فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا لَقِيَا غُلَٰمًا فَقَتَلَهُۥ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةًۢ بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْـًٔا نُّكْرًا
301

سورہ کہف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ کہف کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

آگے جا کر موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا " لاؤ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma jawaza qala lifatahu atina ghadaana laqad laqeena min safarina hatha nasaban

اردو ترجمہ

خادم نے کہا "آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala araayta ith awayna ila alssakhrati fainnee naseetu alhoota wama ansaneehu illa alshshaytanu an athkurahu waittakhatha sabeelahu fee albahri AAajaban

اردو ترجمہ

موسیٰؑ نے کہا "اسی کی تو ہمیں تلاش تھی" چنانچہ وہ دونوں اپنے نقش قدم پر پھر واپس ہوئے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala thalika ma kunna nabghi fairtadda AAala atharihima qasasan

معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک خفیہ راز تھا اور اس راز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نوجوان بھی باخبر نہ تھے۔ ملاقات تک اسے خبر نہ تھی اور بعد کے مناظر میں بھی ان نوجوان حضرت موسیٰ اور عبدصالح کے ساتھ نظر نہیں آتے۔

اردو ترجمہ

اور وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fawajada AAabdan min AAibadina ataynahu rahmatan min AAindina waAAallamnahu min ladunna AAilman

اردو ترجمہ

موسیٰؑ نے اس سے کہا "کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اُس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کوسکھائی گئی ہے؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala lahu moosa hal attabiAAuka AAala an tuAAallimani mimma AAullimta rushdan

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت ہی احترام سے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا آپ ہمیں کچھ سکھائیں گے ؟ یعنی آپ کو اللہ نے جو علم دیا ہے اس میں سے کوئی راہنمائی اور دانشمندی ہمیں بھی سکھائیں گے۔ لیکن اس شخص کا علم وہ علم نہ تھا جو انسانوں کو سکھایا گیا ہے اور جس کے اسباب و نتائج معلمو اور قریب الفہم ہوتے ہیں بلکہ اس کے علم کا تعلق علم لدنی اور اس کائنات کے تکوینی انتظام کے ساتھ تھا۔ یہ اللہ کے غیبی امور کا ایک حصہ تھا۔ جو اس عبدصالح کو اللہ نے اپنی مخصوص مصلحتوں اور حکمت کے تحت سکھایا ہوا تھا۔ اس لئے عبدصالح کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ اس کے تصرفات کو برداشت نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ تو رسول اور نبی ہیں ۔ خلاف شریعت کسی بات کو برداشت نہ کریں گے۔ کیونکہ یہ تصرفات بظاہر شریعت کے بھی خلاف ہوں گے اور عقلی طرز عمل کے بھی خلاف ہوں گے اور اس بات کی ضرورت ہوگی کہ ان کی تہہ میں جو تکوینی حکمت پوشیدہ تھی وہ بھی ان کو بتائی جائے۔ اگر اصل حقیقت نہ بتائی جائے تو یہ قابل اعتراض ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عبدصالح اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ تم صبر نہ کرسکو گے۔

اردو ترجمہ

اس نے جواب دیا "آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala innaka lan tastateeAAa maAAiya sabran

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صبر اور اطاعت کے زعم کا اظہار کرتے ہیں ، اس سلسلے میں اللہ کی مدد کی بھی امید کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

اردو ترجمہ

اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakayfa tasbiru AAala ma lam tuhit bihi khubran

اردو ترجمہ

موسیٰؑ نے کہا "انشاءاللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala satajidunee in shaa Allahu sabiran wala aAAsee laka amran

عبدصالح اب بطور تاکید دوبارہ صبر کی تلقین کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے ساتھ رہنے کی شرط یہ ہے کہ میرے تصرفات کی بابت آپ کوئی سوال نہ کریں گے ، یہاں تک کہ وہ خود ان تصرفات کی حقیقت بیان نہ کردوں۔

اردو ترجمہ

اس نے کہا "اچھا، اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خود اس کا آپ سے ذکر نہ کروں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala faini ittabaAAtanee fala tasalnee AAan shayin hatta ohditha laka minhu thikran

حضرت موسیٰ یہ شرط قبول کرتے ہیں۔ اب پہلا تصرف اور اس کا منظر۔

اردو ترجمہ

اب وہ دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ ایک کشتی میں سوار ہو گئے تو اس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے اس میں شگاف ڈال دیا تاکہ سب کشتی والوں کو ڈبو دیں؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کر ڈالی"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faintalaqa hatta itha rakiba fee alssafeenati kharaqaha qala akharaqtaha litughriqa ahlaha laqad jita shayan imran

یہ کشتی ان دونوں کو بھی لے جا رہی اور ساتھ ہی اور سوار بھی اس پر موجود ہیں۔ یہ سب لوگ سمندر کے درمیان موجوں میں سفر کر رہے ہیں۔ عبدصالح اس میں شگاف ڈال دیتے ہیں۔ بظاہر تو یہ نظر آتا ہے کہ اس شگاف کی وجہ سے یہ کشتی غرق ہو سکتی ہے اور مالکوں اور سواروں کے لئے مصیبت کا باعث ہو سکتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ عبداصالح نے یہ حرکت کیوں کی ؟

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذہن سے شرائط سفر محو ہوگئیں۔ وہ اس غیر معقول حرکت کو برداشت نہ کرسکے۔ جو عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔ انسان بعض اوقات محض تصور کی حد تک بہت کچھ کہتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی عملی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے تمام نظریاتی جائزے اور توقعات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ عملی میدان میں اس کا ردعمل محض نظری میدان سے مختلف ہوتا ہے۔ عملی تجربات اور ہوتے ہیں اور نظری تصورات اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نظری طور پر متنبہ بھی کردیا گیا تھا کہ تم ان امور پر صبر نہ کرسکو گے جن کے بارے میں تمہیں علم نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے فضل و کرم سے صبر کرنے کا عزم بھی کرتے ہیں ، وعدہ بھی کرتے ہیں ، شرط قبول بھی کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ عملاً ایک منظر کو دیکھتے ہیں تو سب کچھ بھول کر اعتراض کرتے ہیں۔

حضرت موسیٰ کی طبیعت بھی انفعالی اور جذباتی تھی۔ اس لئے وہ صبر نہ کرسکے۔ وہ وعدے کا ایفا نہ کرسکے۔ وہ اس فعل کے انوکھے پن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی برائی کو برداشت نہ کیا۔ مثلاً مصر میں جب ایک قبطی ایک بنی اسرائیل سے لڑ رہا تھا تو آپ نے غصے میں اسے مکا رسید کیا اور وہ مر گیا۔ پھر انہوں نے اس فعل پر اللہ سے معافی مانگی۔ پھر دوسرے دن جب وہی بنی اسرائیل پھر ایک مصری سے لڑر رہا تھا تو آپ پھر غصہ ہوئے۔

بہرحال حضرت مسویٰ اپنی افتاد طبع کے مطابق ہیاں بھی برداشت نہ کرسکے۔ واقعہ عجیب و غریب تھا۔ عقل و نقل کے خلاف تھا۔ اور اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وعدہ کیا تھا اور شرط بھی قبول کرلی تھی لیکن نظریات اور ہوتے ہیں اور عملی صورت حالات اور ہوتی ہے۔ چناچہ جب عملاً موسیٰ علیہ السالم کے سامنے یہ صورت حالات پیش ہوئی تو آپ نے بےساختہ اعتراض کردیا۔

اردو ترجمہ

اس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala alam aqul innaka lan tastateeAAa maAAiya sabran

اب حضرت موسیٰ معذرت کرتے ہیں کہ وہ تو بھول گئے اور درخواست کرتے ہیں کہ آپ میرے عذر کو قبول کرلیں ، بھول ہوگئی اور یہ کہ اس معاملے میں آپ میرے ساتھ سختی نہ کریں۔

اردو ترجمہ

موسیٰؑ نے کہا "بھول چوک پر مجھے نہ پکڑیے میرے معاملے میں آپ ذرا سختی سے کام نہ لیں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala la tuakhithnee bima naseetu wala turhiqnee min amree AAusran

عبد صالح بھی یہ عذر و معذرت قبول کرلیتے ہیں اور ہم اب دوسرے منظر کے سامنے ہیں۔

اردو ترجمہ

پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اس شخص نے اسے قتل کر دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی برا کیا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faintalaqa hatta itha laqiya ghulaman faqatalahu qala aqatalta nafsan zakiyyatan bighayri nafsin laqad jita shayan nukran

پہلے تو کشتی میں شگاف ڈالا تھا اور لوگوں کی ہلاکت کا محض احتمال تھا لیکن اب تو واضح طور پر انہوں نے ایک شخص کو قتل کردیا۔ یہ قتل عمد تھا۔ محض احتمال قتل نہ تھا اور یہ گناہ کبیرہ تھا۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) صبر نہ کرسکتے تھے۔ اگرچہ انہوں نے عہد کیا تھا اور انہیں یہ عہد یاد بھی تھا۔

اس دفعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہ بھولے تھے اور نہ غافل تھے۔ اب انہوں نے بالا ارادہ اعتراض کردیا۔ کیونکہ وہ اس گناہ کبیرہ پر اعتراض کئے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ نہ وہ اس کی کوئی تاویل کرسکتے تھے۔ ان کے خیال میں یہ لڑکا بےگناہ تھا۔ اس نے ایسا کوء فعل نہ کیا جس کے نتیجے میں اس کا قتل جائز ہو۔ بلکہ وہ تھا بھی نابالغ اس پر تو حد جاری ہی نہ ہو سکتی تھی۔

عبدصالح دوبارہ ان سے یہ کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک معاہدہ ہوچکا ہے اور وہ انہیں پھر یاد دلاتے ہیں اور یہ کہ تجربے کے بعد تجربہ بتلاتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) برداشت نہیں کرسکتے۔

301