(آیت) ” نمبر 38 تا 40۔
” اسلامی معاشرہ ‘ باشندگان دارالاسلام کے لئے ایک ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جس میں کوئی معتدل شخص چوری کے بارے میں سوچ ہی نہ سکے ‘ چاہے ان باشندوں کے عقائد ونظریات جو بھی ہوں۔ اسلامی معاشرہ اپنے باشندوں کو معاشی کفالت ‘ اخلاقی تربیت اور درست طرز عمل اختیار کرنے کی ضمانت دیتا ہے ۔ نیزانصاف اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا انتظام کرتا ہے اور وہ یہ انتظام بھی کرتا ہے کہ اس کے اندر انفرادی ملکیت کی شکل ایسی ہو کہ وہ پوری سوسائٹی کے لیے نفع بخش ہو اور وہ معاشرے کے لئے باعث اذیت نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کردینے کے بعد بھی اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اسلام اسے سخت ترین سزا دیتا ہے ۔ اسی طرح انفرادی ملکیت پر دست درازی کرنے والے اور سوسائٹی کا امن وامان تباہ کرنے والے کو عبرت ناک سزا دیتا ہے ۔ ان سخت ترین سزاؤں کی تجویز کے ساتھ ساتھ اسلام شبہات کی بنا پر حدود کو ساقط بھی کرتا ہے اور ملزم کو مکمل قانونی دفاع کا اختیار اور حق عطا کرتا ہے تاکہ کسی شخص کو مکمل ثبوت کے بغیر سزا نہ دی جاسکے ۔ اب مناسب ہے کہ اس اجمال کے بعد قدرے تفصیلی بحث کردی جائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام ایک باہم مربوط کل ہے ۔ اس نظام کے کسی جزء کو اس وقت تک نہیں سمجھا جاسکتا جب تک کسی کے پیش نظر وہ تمام اصولی مباحث نہ ہوں اور وہ ضمانتیں نہ ہوں جو یہ نظام اسلامی معاشرے کو فراہم کرتا ہے اور جن اصولوں اور قواعد پر اس کی جزئیات قائم ہیں ۔ پھر اسلامی نظام کا ایک ایک جزء نافذ بھی نہیں ہو سکتا جب تک اسے مکمل طور پر نافذ نہ کیا جائے اور اسے مجموعی طور پر روبعمل نہ لایا جائے ، رہی یہ صورت کہ اس نظام کے کسی ایک جزء کو نافذ کرنا یا اس کے اصولوں میں سے کسی ایک اصول کو نافذ کرنا اور یہ نفاذ ایک ایسے معاشرے اور ایک ایسے نظام کے اندر کرنا جو مجموعی طور پر اسلامی نظام نہیں ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔
اسلام سے کٹا ہوا یہ جزء بھی اسلام کا نفاذ تصور نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ اسلام ‘ اسلام کے اجزاء اور ٹکڑوں کا نام نہیں ہے ۔ اسلام ایک ایسا نظام ہے جو تمام شعبہ ہائے حیات پر حاوی ہے اور اس کے احکام باہم مربوط ہیں ۔۔۔۔۔ یہ تو ایک عمومی بات تھی ۔
رہی یہ بات کہ چوری کے قانون اسلامی کے بارے میں بات قدرے مختلف ہے تو حقیقت یہ ہے کہ دارالاسلام میں اسلام ہر فرد کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ زندہ رہے ‘ اور اپنی زندگی کے حفظ اور بقاء کے لئے تمام وسائل سے کام لے ۔ ہر شخص کھا پی سکتا ہے ‘ ہر شخص کو مکان اور لباس کا حق ہے جہاں وہ آرام اور سکون سے رات گزرے ۔ ایک فرد کا اسلامی سوسائٹی پر یہ حق ہے کہ وہ اسے اس کی یہ بنیادی ضروریات فراہم کرے اور ظاہر ہے کہ ایک حکومت پوری سوسائٹی کی طرف سے نمائندہ ہوتی ہے ۔ یہ حق اس طرح فراہم ہوگا کہ حکومت ان تمام لوگوں کو روز گار فراہم کرے جو کام کرنے کے قابل ہوں ۔ یہ حق ایک فرد کا سوسائٹی پر ہے اور پھر حکومت پر ہے ۔ یہ سوسائٹی اور حکومت لوگوں کو کام کرنے کی تربیت بھی دے گی اور لوگوں کو کام کرنے کے مواقع اور کام کے اوزار بھی فراہم کرے گی ۔ اگر کوئی بےروز گار ہوجاتا ہے اس طرح کہ اسے کام نہیں ملتا ‘ یا کام کے اوزار نہیں ملتے ‘ یا وہ محنت کے قابل نہیں رہتا اور یہ بیکاری جزئی ہے یا کلی ہے ‘ وقتی ہے یا دائمی ہے ‘ یا صورت یہ ہے کہ وہ کام تو کرتا ہے لیکن یہ کام اس کی ضروریات کے لیے کافی نہیں ہے تو اس فرد کا یہ حق ہے کہ وہ اجتماعی نظام یا سوسائٹی اس فرد کو یہ ضروریات خزانہ سے فراہم کرے یا ان لوگوں کے ذریعے فراہم کرائے جن پر ایسے افراد کا نفقہ فرض ہے ۔ اہل محلہ سے ایسے لوگوں کی ضروریات فراہم کرائے ورنہ جیسا کہ کہا گیا بیت المال اور خزانہ سے فراہم کرے ۔ بیت المال کی ایک مد زکوۃ تو ہے ہی اس کے لیے ۔ اگر زکوۃ فنڈ سے بھی پورا نہ ہو تو پھر پورے دارالاسلام پر اس سلسلے میں ٹیکس عائد ہو سکتا ہے جس کے ذریعے غرباء کو اس قدر دیا جائے کہ ان کی ضروریات پوری ہوں ۔ لیکن یہ ٹیکس بھی غرباء کی ضرورت کے مطابق ہی عائد ہو اور ضرورت سے زیادہ نہ ہو اور ایسی انفرادی ملکیت پر ظلم نہ ہو جو بالکل حلال ذرائع سے کمائی گئی ہو۔
پھر اسلام دولت کے ارتکانی پر بھی سخت پابندیاں عائد کرتا ہے ۔ اسلامی نظام میں انفرادی دولت صرف حلال ذرائع سے جمع کی جاسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں انفرادی ملکیت کو بغض وحسد کا سامنا کرنا نہیں پڑتا یعنی ان لوگوں کی طرف سے جو نادار ہیں۔ اسی طرح اسلامی معاشرے میں کوئی شخص دوسرے کی جائیداد چھین لینے کے بارے میں بھی نہیں سوچتا خصوصا اس وقت جب اسلامی نظام ان کے بقدر کفایت انتظام کرتا ہے اور ان کو بالکل محروم نہیں چھوڑتا ۔
اسلام لوگوں کے ضمیر اور ان کے اخلاق کی تربیت پر بھی زور دیتا ہے ۔ اس لئے اسلام لوگوں کو کسب وعمل پر آمادہ کرتا ہے اور یہ کسب وعمل اسلامی طریقے کے مطابق چاہتا ہے ۔ اگر عمل اور روز گار نہ ملے تو اسلامی نظام لوگوں کی ضروریات کی فراہمی کا انتظام کرتا ہے ‘ اور پاک وصاف ذرائع سے ان کی کفالت کرتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ایسے معاشرے اور ایسے حالات میں ایک شخص اگر چوری کرتا ہے تو کیوں کرتا ہے ؟ یہ شخص ضروریات کے لئے چوری نہیں کرتا بلکہ یہ دولت جمع کرنے کے لئے چوری کرتا ہے ۔ یہ دولت وہ کسب اور محنت کے ذریعہ جمع نہیں کرنا چاہتا بلکہ چوری کے ذریعہ دولت جمع کرنے کے لئے چوری کرتا ہے ۔ یہ دولت وہ کسب اور محنت کے ذریعہ جمع نہیں کرنا چاہتا بلکہ چوری کے ذریعہ دولت جمع کرنے کی خواہش کرتا ہے جس سے پورے دارالاسلام کے امن وامان اور اطمینان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔ اسلامی سوسائٹی کا یہ حق ہے کہ وہ امن و سکون سے جاری وساری رہے لیکن یہ چوری کا فعل ایک حلال مال کے مالک کو اپنے حق اطمینان سے محروم کردیتا ہے اور پھر سوسائٹی کو بھی ۔
اسلامی معاشرے میں جو شخص حلال دولت کماتا ہے ‘ سود خوری نہیں کرتا ‘ دھوکہ دہی نہیں کرتا ‘ ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا ‘ مزدوروں کی مزدوری نہیں مارتا ‘ زکوۃ ادا کرتا ہے ‘ اور اسلامی معاشرے کو وہ ٹیکس بھی ادا کرتا ہے جس کی اس معاشرے کو ضرورت ہو تو ایسے شخص کا بھی اسلامی معاشرے اور دارالاسلام پر یہ حق ہے کہ اس کا مال محفوظ ہو اور اس کی یہ دولت چوری اور ڈاکے سے محفوظ رہے ۔
ایسے تمام حالات اور سہولتوں کے بعد بھی اگر کوئی چوری کرتا ہے ‘ وہ اس حال میں چوری کرتا ہے کہ اس کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں ‘ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ چوری ایک سنگین جرم ہے اور اسے دوسروں کا مال لوٹنے کی ضرورت اور احتیاج بھی نہیں ہے اور ان مالداروں نے نہ لوٹ مار کے ذریعہ یہ مال جمع کیا ہے اور نہ حرام ذرائع سے جمع کیا ہے ۔ اگر کوئی ایسے حالات میں سرقے کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ سرقہ بلاجواز ہے ۔ ایسے حالات میں کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے ۔ کہ وہ ایسے شخص پر رحم کرے بشرطیکہ اس پر جرم ثابت ہوجائے ۔
اگر حالات مقدمہ ایسے ہوں کہ جن میں یہ ثابت ہوجائے کہ چور ضرورت مند تھا ‘ یا کوئی اور عذر تھا تو اسلامی قانون کا عام اصول یہی ہے کہ حدود شبہات کی وجہ سے ساقط ہوجاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قحط سالی کے سال میں حضرت عمر ؓ نے قطع ید کی سزا کو موقوف فرمایا تھا ۔ اس موقعہ پر حالات ایسے تھے کہ لوگ بالعموم بھوکے ہوتے تھے ۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ نے ایک خاص حادثے میں بھی سزائے قطع ید نہ دی تھی ۔ حاطب بن ابی بلتہ کے غلاموں نے مزینہ کے ایک شخص کی اونٹنی چوری کرلی تھی ۔ حضرت عمر ؓ نے ان کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھا ‘ لیکن جب حضرت عمر ؓ کو معلوم ہوا کہ ان غلاموں کا مالک ان کا بھوکا رکھتا ہے تو آپ نے حد کی سزا ساقط کردی اور غلاموں کے مالک پر اونٹنی کی قیمت سے دوگنا قیمت بطور تاوان عائد کردیا۔
مناسب یہ ہے کہ ہم اسلامی حدود کو اس انداز سے سمجھنے کی کوشش کریں اور انہیں اسلام کے مکمل اور مربوط نظام کی شکل و صورت میں سمجھیں جو افراد معاشرہ کو زندگی کی ضمانتیں فراہم کرتا ہے ۔ یہ ضمانتیں کسی ایک طبقے کو دوسرے طبقے کے خلاف نہیں فراہم کرتا بلکہ اسلام سزا کے اسباب فراہم کرنے سے پہلے سزا بچانے کے اسباب فراہم کرتا ہے ۔ اسلام صرف ان لوگوں کو سزا دیتا ہے جو بلاجواز جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
اس عمومی حقیقت کے اظہار کے بعد اب ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ حد سرقہ کی تفصیلات دی جائیں ۔ سرقہ کی تعریف یہ ہے کہ دوسرے کا مال خفیہ طور پر لیا جائے جو مال حرز کے اندر ہو ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مال مقوم ہو یعنی مالیت رکھتا ہو ۔ مال کے نصاب کے سلسلے میں فقہاء کے درمیان متفق علیہ بات یہ ہے کہ جو مال لیا گیا ہو اور خفیہ طور پر حرز کے اندر سے لیا گیا ہو ‘ اس کی مقدار 41 دینار کے برابر ہونا چاہئے یعنی ہمارے دور کے 25 مصری قرش کے برابر یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ یہ مال حرز کے اندر ہو اور چور اسے حرز کے اندر سے لے لے ۔ اور وہ لے کر حرز سے نکل جائے ۔ اب اگر کوئی کسی کے پاس مالی امانت رکھتا ہے اور وہ اسے چوری کرلیتا ہے تو اس پر حد سرقہ نہ ہوگی ۔ اسی طرح جو شخص ملازم ہے اور وہ گھر یا دکان وگودام میں آتا جاتا ہے تو بھی اس پر حد سرقہ جاری نہ ہوگی ۔ اس طرح اگر کوئی کسی سے کوئی چیز مانگ کرلے جاتا ہے اور پھر انکار کردیتا ہے اور اس سے برآمد ہوجاتی ہے تو بھی اس پر حد سرقہ جاری نہ ہوگی ۔ نیز ان پھلوں پر بھی حد سرقہ نہ ہوگی جب تک کھلیاں میں انہیں جمع نہ کرلیا جائے ۔ نہ ایسے مال پر یہ حد ہوگی جو گھر سے باہر ہو یا اس صندوق سے باہر ہو جو اس کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ہو ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ مال محفوظ کسی دوسرے شخص کی ملکیت میں ہو ‘ اس لیے اگر کوئی شریک چوری کرلے تو اس پر حد سرقہ نہ ہوگی ۔ اس لئے کہ اس میں وہ خود بھی شریک ہے اور وہ خالص طور پر دوسرے کا نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی سرکاری مال چرائے یعنی دارالاسلام کے خزانے سے تو اسے بھی قطع ید کی سزا نہ ہوگی کیونکہ اس مال میں اس کا بھی حصہ ہے اور وہ خالص مال الغیسر نہیں ہے ۔ ایسے حالات میں سزا قطع ید نہ ہوگی بلکہ تعزیری سزا ہوگی (یاد رہے کہ تعزیری سزا سزائے حد سے کم ہوتی ہے ، مثلا کوڑے ‘ قید ‘ ڈانٹ ڈپٹ اور وعظ ونصیحت بھی اور یہ سزا ظرف احوال کے مطابق قاضی کے اختیار تمیزی پر ہوگی)
” قطع ید “ دائیں ہاتھ کا ہوگا یعنی کلائی تک اگر دوبارہ چوری کرے تو بایاں پاؤں ٹخنے تک کاٹا جائے گا یہاں تک تو تمام لوگوں کا اتفاق ہے تیسری اور چوتھی بار چوری کرنے کی صورت میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ۔
شبہات کی وجہ سے حدود معاف ہوجاتی ہیں حد سرقہ میں شبہات درج ذیل ہو سکتے ہیں ‘ مثلا بھوک اور شدید ضرورت کی وجہ سے حد ساقط ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح اگر مال میں شرکت کا شبہ ہو تو بھی حد ساقط ہوگی ‘ اگر کسی نے اعتراف کیا ہو اور باقی شہادت نہ ہو تو بھی اعتراف جرم سے رجوع کرتے ہی حد ساقط تصور ہوگی ۔ اسی طرح اگر کسی نے شہادت دی ہو لیکن بعد میں وہ شہادت سے پھرجائے تو یہ بھی ایک طرح کا شبہ ہوگا ۔
اور فقہاء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کیا چیز ہے جسے شبہ تصور کیا جائے گا ۔ امام ابوحنفیہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو پیر مباح ہو اصلا تو اس میں قطع ید کی سزا نہ ہوگی اگرچہ وہ حرز اور حفاظت میں ہو ۔ مثلا ایک شخص کسی کے حزز سے پانی چوری کرتا ہے یا مثلا ایک شخص شکار کرے اور اسے محفوظ کرلے اور دوسرا اسے چرا لے ۔ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جو اپنی اصلیت کے اعتبار سے سب کے لیے مباح ہیں
اس میں یہ شبہ لاحق ہو سکتا ہے کہ حرز اور حفاظت میں آنے کے بعد بھی اباحت جاری ہو ۔ اسی طرح عوام الناس کی مشترکہ دولت اگرچہ کسی خاص شخص کے حرز اور حفاظت میں آجائے ‘ اس میں بھی شبہ لاحق ہو سکتا ہے کہ وہ اب بھی مفاد عامہ کی چیز ہے ۔ جبکہ امام شافعی ‘ (رح) امام مالک (رح) ‘ اور امام احمد (رح) ایسے حالات میں شبہ کے قائل نہیں ہیں اور حد کو ساقط نہیں کرتے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) ان تمام چیزوں کی چوری میں حد ساقط فرماتے ہیں جن میں گلنے سڑنے کا عمل تیزی سے آتا ہے ، مثلا کھانا ‘ پھل ‘ سبزیاں ‘ گوشت ‘ روٹی اور ان جیسی دوسری اشیاء ہاں امام ابو یوسف (رح) ‘ امام ابو حنفیہ (رح) سے اختلاف کرتے ہیں ۔ اور وہ ان میں قطع ید کے قائل ہیں جس طرح ائمہ ثلاثہ قائل ہیں ۔
یہاں ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم فقہاء کے اختلافات میں تفصیل سے بحث کریں ‘ یہ تفصیلات کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ یہ چند مثالیں اس بات کے اظہار کے لئے کافی ہیں کہ اسلامی قانون کی پالیسی یہ نہیں ہے کہ وہ خواہ مخواہ سزا نافذ کرے بلکہ اسلام شبہات کی وجہ سے حدود کو ساقط کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ (ادروا الحدود بالشبہات) (حدود کی سزاؤں کو شبہات کی وجہ سے ساقط کر دو ) اور حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں : میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ شبہات کی وجہ سے حدود کو معطل کر دوں بہ نسبت اس کے کہ میں ایسے حالات میں حدود کو نافذ کروں ۔
لیکن قطع ید کے بارے میں مناسب ہے کہ ذرا تفصیلی بات ہوجائے ‘ یہ بات تو ہم کہہ چکے ہیں کہ دارالاسلام میں ‘ ملزم کے بچاؤ اور اسے پورے پورے عدالتی تحفظات دینے کے بعد چور کے ساتھ سختی کیوں کی گئی ہے ۔ یہاں مناسب ہے کہ ہم جناب عبدالقادر عودہ کی مشہور کتاب سے کچھ اقتباسات دے دیں ۔
” سارق کے لئے قطع ید کی سزا اس لئے تجویز کی گئی ہے کہ چور جب چوری کرتا ہے تو اس کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کی کمائی حاصل کرکے اپنی کمائی میں اضافہ کرے ۔ وہ خود حلال طریقے سے جو کماتا ہے اسے ناکافی تصور کرتا ہے اس طرح وہ حرام طریقے سے اپنی کمائی بڑھانا چاہتا ہے ۔ وہ اپنے عمل اور کسب کے نتائج پر اکتفاء کرتا ‘ اور دوسرے کی کمائی ہتھیانے کا لالچ کرتا ہے ۔ اور اس کام کے پس پشت وہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس طرح وہ زیادہ خرچ کرے یا زیادہ دولتمندی کا مظاہرہ کرے یا یہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ کام کرنے اور مشقت کرنے سے بچ جائے یا اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کا مستقبل محفوظ ہوجائے ، غرض چوری پر مائل کرنے کا عامل صرف یہ ہوتا ہے جو اوپر ہم نے بیان کیا یعنی زیادہ کمائی اور دولتمندی۔ اسلامی شریعت نے ان کی نفسیات کے اندر اس بیماری کا علاج اس طرح شروع کردیا کہ اس کہ اس نے جرم کے لئے قطع ید کی سزا تجویز کی اس قطع ید یا قطع پا سے اس شخص کی کمائی پر اثر پڑے گا اس لئے کہ ہاتھ اور پاؤں دونوں کمائی کے آلات ہیں ۔ اب کمائی کم ہوگی تو دولت کم ہوگی اور دولت کم ہوگی تو زیادہ انفاق اور زیادہ دولتمندی کا اظہار بھی کم ہوگا ۔ اس کی وجہ سے اب ایسے شخص کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت پڑے گی اور وہ زیادہ وقت کے لئے کام کرے گا اور اسے اپنے پورے مستقبل سے ہاتھ دھونے کا خطرہ درپیش ہوگا ۔ “
اس طرح شریعت نے قطع ید کی سزا مقرر کرکے ان نفسیاتی عوامل کو ختم کردیا جو اس جرم پہ کسی کو آمادہ کرتے ہیں اور مجرم کی نفسیات کے اندر اس جرم پر آمادہ کرنے کے مخالف نفسیاتی عوامل داخل کردیئے ۔ تاہم اگر پھر بھی کسی کی نفسیات میں پائے جانے والے چوری پر آمادہ کنندہ عوامل غالب آجائیں اور انسان یہ جرم کربیٹھے تو اس صورت میں اسے جو تلخ سزا ملے گی وہ ان مؤثرات پر غالب آجائے گی جو اسے چوری پر آمادہ کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ہر گز دوبارہ اس جرم کے ارتکاب کے لئے آمادہ ہوگا ۔ “
” یہی وہ بنیاد ہے جس پر اسلامی نظام قانون میں قطع ید کی سزا رکھی گئی ہے ۔ اور یہ خدا کی قسم آغاز انسانیت سے لے کر آج تک اس جرم کے لئے بہترین سزا ہے ۔ “
” دوسر جدید کے قوانین چور کو سزائے قید دیتے ہیں ۔ یہ وہ سزا ہے جو ہر قسم کے جرائم کو ختم کرنے میں بالکل ناکام رہی ہے اور خصوصا چوری کی سزا کو یہ ختم نہیں کرسکی ۔ اس کی حقیقی وجہ یہ ہے کہ سزائے قید چور کی نفسیات کے اندر وہ عوامل داخل نہیں کرسکتی جو اسے اس جرم سے باز رکھے اس لئے کہ یہ سزا چور کو صرف اسی عرصہ میں جرم سے باز رکھ سکتی ہے جس عرصے کے لئے وہ قید میں ہوتا ہے ۔ جب وہ قید ہوتا ہے تو اسے کمانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ‘ اس لئے کہ جیل کے اندر اس کی تمام ضروریات وحاجات کا انتظام ہوتا ہے اور جب وہ جیل سے نکلتا ہے تو وہ کمانے اور محنت کرنے پر قدرت رکھتا ہے ۔ اس کو از سرنو موقعہ مل جاتا ہے کہ وہ اپنی کمائی میں اضافہ کرے ۔ اپنی دولت کو بڑھائے اور اس میں حلال اور حرام دونوں ذرائع استعمال کرے ۔ وہ پھر لوگوں کو دھوکہ دے سکے ‘ اپنے آپ کو شریف ظاہر کرسکے ‘ لوگ اس کی طرف سے مطمئن ہوجائیں اور اس کے ساتھ تعاون کریں ۔ اگر وہ اچھا رویہ اختیار کرے جو اسے کرنا چاہئے تو وہ ایسا کرے گا ۔ اور اگر وہ اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکے تو اس کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوا ہے اور وہ بڑی سہولت سے دوبارہ برے راستے پر جاسکتا ہے ۔ “
” رہی یہ صورت کہ اسے قطع ید کی سزا دے دی جائے تو وہ دوبارہ کسب وعمل پر سرے سے قادر ہی نہ ہوگا یا اس کی کسب وعمل کی صلاحیت بڑی حد تک کم ہوجائے گی اور اس طرح اس کی زیادہ کمائی کے مواقع بہرحال کم ہوں گے ۔ بعض اوقات تو یہ مواقع بہت ہی محدود ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات بالکل ختم ہوجاتے ہیں ۔ اب وہ لوگوں کو دھوکہ بھی نہ دے سکے گا اور وہ لوگوں کو اس بات پر آمادہ نہ کرسکے گا کہ وہ اس پر کوئی اعتبار اور اعتماد کریں ۔ اس لئے کہ اس کے جسم پر جرم کے آثار موجود ہوں گے ۔ اس کا سابقہ کردار اس کے کٹے ہوئے ہاتھ سے عیاں ہوگا ۔ اگر قطع یعد کی سزا نافذ ہو تو اس صورت میں چور کے لئے خسارہ یقینی اور حتمی ہوگا ۔ اگر اسے سزائے قید دی جائے تو اسے فائدہ زیادہ ہوگا اور نقصان کم ۔ اور چور ہی کا نہیں بلکہ تمام لوگوں کا یہ اصول ہے کہ وہ اسی طرف جھکتے ہیں جس میں نفع کا احتمال زیادہ ہو ۔ اور ایسا کام وہ ہرگز نہیں کرتے جس میں خسارہ یقینی ہو ۔ “
” اس بحث کے بعد ان لوگوں کی باتیں نہایت ہی عجیب ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ سزائے قطع ید آج کل کے ترقی یافتہ دور اور مہذب دنیا کے ساتھ لگا نہیں کھاتی ۔ گویا تہذیب و تمدن اس چیز کا نام ہے کہ جدید علم اور گہری حکمت کا انکار کردیا جائے ، انسان کے مزاج کو بھلا دیا جائے اور تمام اگلی پچھلی امتوں کے تجربات سے انکار کردیا جائے ۔ ہم اپنی عقل کو یک دم معطل کردیں ‘ اور ہماری فکر واضح طور پر جن نتائج تک پہنچ چکی ہے اسے ترک کردیں ‘ اور ان باتوں کو لے لیں جن کے عوامل کے پاس ان پر بےراہ روی اور گمراہی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے ۔ “
” اگر تہذیب و تمدن کا تقاضا یہ ہے کہ جو بھی سزا ہو وہ تہذیب و تمدن کے مطابق ہو تو پھر سزائے قید اس بات کی مستحق ہے کہ اسے سرے سے ختم کردیا جائے اور سزائے قطع ید کو نافذ کردیا جائے ۔ اس لئے کہ سزائے قطع ید نفسیاتی محرکات اور علم النفس کے مسلمہ اصولوں کے عین مطابق ہے ۔ یہ انسان کے مزاج کے عین مطابق اور تمام اقوام عالم کے تجربات کی روشنی میں بھی نہایت ہی مفید ہے ۔ یعنی تمام چیزوں کا ادراک اور اس کی حکمت ۔ تہذیب و تمدن بھی اسی اصول ادراک اور اصول حکمت پر مبنی ہوتے ہیں ۔ رہی سزا قید تو وہ ہر گز علم النفس ‘ حکمت و تجربہ پر قائم نہیں ہے اور نہ یہ عقلی منطق اور دنیا کی مخلوقات کے مزاج سے متفق ہے ۔
” سزائے قطع ید کی بنیاد انسان کی نفسیات اور اس کی عقلمندی پر ہے ۔ یہ سزا افراد کے لئے زیادہ مناسب ہے ۔ یہ معاشرے اور سوسائٹی کے لئے بھی مفید ہے ۔ اس کی وجہ سے جرائم میں ایک دم کمی آجاتی ہے ۔ معاشرے میں امن قائم ہوجاتا ہے ۔ جب ایک سزا فرد کے لئے مناسب اور ایک سوسائٹی کے لئے مفید ہو تو وہ تمام سزاؤں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے ۔ “
” لیکن یہ سب دلائل بھی بعض لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکتے کہ سزائے قطع مفید ہے ۔ ان کی رائے پر ان کے پاس صرف یہ دلیل ہے کہ یہ سنگدلانہ سزا ہے ۔ یہ ان کی اول اور آخر دلیل ہے اور ان کی یہ دلیل اس طرح قابل رد ہے کہ لفظ عقوبت (سزا) عقاب کے مشتق ہے ۔ اور سزا اس وقت سزا ہی نہیں رہتی اگر وہ نرم اور محض تفریح ہو ‘ بلکہ وہ محض ایک کھیل تماشا یا اس جیسی کوئی اور چیز ہوگی ۔ لہذا سزا ہونی ہی ایسی چاہئے جس میں مجرم پر سختی ہو تاکہ سزا کو سزا کہا جاسکے۔ “
اللہ تعالیٰ تو ارحم الراحمین ہے ۔ اللہ کا فرمان یہ ہے اور بہت ہی سخت فرمان ہے ۔
(آیت) ” فَاقْطَعُواْ أَیْْدِیَہُمَا جَزَاء بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّہِ (5 : 38)
(اور چور خواہ عورت ہو یا مرد دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ‘ یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتناک اور جرائم سے روکنے والی سزا ہے جس شخص کے دل میں ارتکاب جرم کا داعیہ ہو اور وہ اس سے رک جائے تو یہ اس پر اللہ کی رحمت ہوجاتی ہے ۔ یہ رحمت ربانی اسے روکتی ہے ‘ اور پھر یہ پوری سوسائٹی پر ایک قسم کی رحمت ربانی ہوتی ہے کہ اس سے جرم کم ہوتا ہے اور وہ مطمئن زندگی بسر کرتی ہے ۔ کسی کا دعوی یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے خالق سے بھی زیادہ ان پر مہربان ہے الا یہ کہ کوئی دلی طور پر اندھا ہو ‘ اور اس کی روح مسخ ہوچکی ہو اور یہ امر واقعہ ہے کہ اسلام کے دور اول میں ایک صدی گزر جانے کے باوجود صرف چند لوگوں کا ہاتھ کٹا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی نظام حیات کی برکات اور اسلامی سوسائٹی میں لوگوں کی ضروریات کی کفالت کی وجہ سے صرف چند لوگوں پر ہی اس سزا کا اجراء ہوا ۔
پھر اللہ تعالیٰ تائب ہونے والوں کے لئے بھی دروازہ کھلا چھوڑتے ہیں کہ اگر وہ تائب ہوجائیں اور شرمندہ ہوجائیں اور ارتکاب جرم سے باز آجائیں تو اللہ بھی معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ صرف توبہ ہی نہ کریں بلکہ اپنے اندر مثبت تبدیلی پیدا کریں اور نیک کام شروع کردیں ۔
آیت 38 وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَہُمَا یعنی چور کا ایک ہاتھ کاٹ دو۔جَزَآءًً م بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّٰہِ ط دیکھئے قرآن خود اپنی حفاظت کس طرح کرتا ہے اور کیوں چیلنج کرتا ہے کہ اس کلام پر باطل حملہ آور نہیں ہوسکتا کسی بھی جانب سے حٰآ السجدہ : 42۔ ذرا ملاحظہ کیجیے اس آیت کے ضمن میں غلام احمد پرویز صاحب کہتے ہیں کہ یہاں چور کا ہاتھ کاٹنے کا مطلب ہے کہ ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں کسی کو چوری کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ یہ تو ہم بھی چاہتے ہیں کہ ایسا نظام ہو ‘ ریاست کی طرف سے کفالت عامہ کی سہولت موجود ہو تاکہ کوئی شخص مجبوراً چوری نہ کرے ‘ لیکن فاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَہُمَا کے الفاظ سے جو مطلب پرویز صاحب نے نکالا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ اور اگر فرض کرلیں کہ ایسا ہی ہے تو پھر جَزَآءًًم بِمَا کَسَبَا یہ بدلہ ہے ان کی اپنی کمائی کا کی کیا تاویل ہوگی ؟ یعنی جو کمائی انہوں نے کی ہے اس کا بدلہ یہ ہے کہ ایک اچھا نظام قائم کردیا جائے ؟ اس کے بعد پھر نَکَالاً مِّنَ اللّٰہِ کے الفاظ مزید آئے ہیں۔ نکال کہتے ہیں عبرتناک سزا کو۔ تو کیا ایسے نظام کا قائم کرنا اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ہوگی ؟ آپ نے دیکھا قرآن کے معانی و مفہوم کی حفاظت کے لیے بھی الفاظ کے کیسے کیسے پہرے بٹھائے گئے ہیں !دراصل حدودو تعزیرات کے فلسفے کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور اس کے لیے لفظ نکال بہت اہم ہے۔ قرآن میں تعزیرات اور حدود کے سلسلے میں یہ لفظ اکثر استعمال ہوا ہے۔ یعنی اگر سزا ہوگی تو عبرت ناک ہوگی۔ اسلام میں شہادت کا قانون بہت سخت رکھا گیا ہے۔ ذرا سا شبہ ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے سزا کا نفاذ آسان نہیں۔ لیکن اگر تمام مراحل طے کر کے جرم پوری طرح ثابت ہوجائے تو پھر سزا ایسی دی جائے کہ ایک کو سزا ملے اور لاکھوں کی آنکھیں کھل جائیں تاکہ آئندہ کسی کو جرم کرنے کی ہمت نہ ہو۔ یہ فلسفہ ہے اسلامی سزاؤں کا۔ یہ درحقیقت ایک تسدید deterrence ہے جس کے سبب معاشرے سے برائی کا استیصال کرنا ممکن ہے۔ آج امریکہ جیسے نام نہاد مہذبّ معاشرے میں بھی آئے دن انتہائی گھناؤنے جرائم ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ احتساب اور سزا کا نظام درست نہیں۔ لوگ جرم کرتے ہیں ‘ سزا ہوتی ہے ‘ جیل جاتے ہیں ‘ کچھ دن وہاں گزارنے کے بعد واپس آتے ہیں ‘ پھر جرم کرتے ہیں ‘ پھر جیل چلے جاتے ہیں۔ جیل کیا ہے ؟ سرکاری مہمان داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاشروں میں جرائم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔
احکام جرم و سزا حضرت ابن مسعود کی قرأت میں (فاقطعوا ایمانھما) ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کردیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کردیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دو یک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت عام ہے تو ممکن ہے اس قول کا یہی مطلب ہو اور دوسرے مطالب بھی ممکن ہیں۔ ایک دلیل ان حضرات کی یہ حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے، جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز چناچہ صحیح بخاری مسلم میں حضور ﷺ کا ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹنا مروی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی تھی۔ حضرت عثمان نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ حضرت عثمان کا فعل گویا صحابہ کا جماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی کا فرمان ہے کہ پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہئے مسلم کی ایک حدیث میں ہے چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں۔ پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کردیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں حضور ﷺ سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لئے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ حضرت عمر بن خطاب حضرت عثمان بن عفان حضرت علی بن ابی طالب بھی یہی فرماتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابو ثور داؤد بن علی ظاہری کا بھی یہی قول ہے۔ ایک روایت میں امام اسحاق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ نسائی میں ہے چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے ؟ فرمایا پاؤ دینار۔ پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے واللہ اعلم۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جس ڈھال کے بارے میں حضور ﷺ کے زمانے میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت نو درہم تھی چناچہ ابوبکر بن شیبہ میں یہ موجود ہے اور عبداللہ بن عمر سے۔ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمرو مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لئے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے علی ابن مسعود ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر سے یہی مروی ہے۔ سعید بن جیر فرماتے ہیں پانچوں نہ کاٹی جائیں مگر پانچ دینار پچاس درہم کی قیمت کے برابر کے مال کی چوری میں۔ ظاہریہ کا مذہب ہے کہ ہر تھوڑی بہت چیز کی چوری پر ہاتھ کٹے گا انہیں جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ اولاً تو یہ اطلاق منسوخ ہے لیکن یہ جواب ٹھیک نہیں اس لئے تاریخ نسخ کا کوئی یقینی عمل نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد کشتیوں کے قیمتی رسے ہیں۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ کیسا رذیل اور بےخوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے۔ مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہوسکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کردیئے گئے۔ قاضی عبد الوہاب نے جواب دیا تھا کہ جب تک ہاتھ امین تھا تب تک ثمین یعنی قیمتی تھا اور جب یہ خائن ہوگیا اس نے چوری کرلی تو اس کی قیمت گھٹ گئی۔ بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن وامان قائم ہوتا ہے، جو کسی کا ہاتھ بےوجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہوجائے۔ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہوجائے۔ اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اللہ کی طرف جھک جائے، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے، لہذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔ جمہور ائمہ کا یہی قول ہے، صرف امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ " جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہوچکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں "۔ دار قطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ " ایک چور حضور ﷺ کے سامنے لایا گیا، جس نے چادر چرائی تھی، آپ نے اس سے فرمایا، میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی، انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ میں نے چوری کی ہے تو آپ نے فرمایا اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا توبہ کرو، انہوں نے توبہ کی، آپ نے فرمایا اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی " ؓ ابن ماجہ میں ہے کہ " حضرت عمر بن سمرہ حضور ﷺ کے پاس آکر کہتے ہیں کہ مجھ سے چوری ہوگئی ہے تو آپ مجھے پاک کیجئے، فلاں قبیلے والوں کا اونٹ میں نے چرا لیا ہے۔ آپ نے اس قبیلے والوں کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اونٹ تو ضرور گم ہوگیا ہے۔ آپ نے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا وہ ہاتھ کٹنے پر کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے میرے جسم سے الگ کردیا، تو نے میرے سارے جسم کو جہنم میں لے جانا چاہا تھا " ؓ ابن جریر میں ہے کہ " ایک عورت نے کچھ زیور چرا لئے، ان لوگوں نے حضور ﷺ کے پاس اسے پیش کیا، آپ نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میری توبہ بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا تم تو ایسی پاک صاف ہوگئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی "۔ اس پر آیت (فمن تاب) نازل ہوئی۔ مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا، بالاخر یہ طے ہوا کہ حضرت اسامہ بن زید جو رسول اللہ ﷺ کے بہت پیارے ہیں، وہ ان کے بارے میں حضور ﷺ سے سفارش کریں، حضرت اسامہ نے جب اس کی سفارش کی تو حضور ﷺ کو سخت ناگوار گزرا اور غصے سے فرمایا ! اسامہ تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہا ہے ؟ اب تو حضرت اسامہ بہت گھبرائے اور کہنے لگے مجھ سے بڑی خطا ہوئی، میرے لئے آپ استفغار کیجئے۔ شام کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے ایک خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اسی خصلت پر تباہ و برباد ہوگئے کہ ان میں سے جب کوئی شریف شخص بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کریں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دوں۔ پھر حکم دیا اور اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ حضرت صدیقہ فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کرلیا، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت آنحضرت ﷺ سے بیان کردیا کرتی تھی۔ ؓ " مسلم میں ہے ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی، پھر انکار کر جایا کرتی تھی، حضور ﷺ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا " اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم حضرت بلال کو ہوا تھا۔ کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ فالحمد للہ۔ جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ، سچا حاکم، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔