اس صفحہ میں سورہ Al-Maaida کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المائدة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
يُرِيدُونَ أَن يَخْرُجُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنْهَا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ
وَٱلسَّارِقُ وَٱلسَّارِقَةُ فَٱقْطَعُوٓا۟ أَيْدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَٰلًا مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
فَمَن تَابَ مِنۢ بَعْدِ ظُلْمِهِۦ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْكُفْرِ مِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِأَفْوَٰهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ ۛ سَمَّٰعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّٰعُونَ لِقَوْمٍ ءَاخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ مِنۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهِۦ ۖ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَٱحْذَرُوا۟ ۚ وَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ فِتْنَتَهُۥ فَلَن تَمْلِكَ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَمْ يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌ ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
آیت 37 یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا ہُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْہَاز وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْم یعنی ان کو مسلسل دائم اور قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔
آیت 38 وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَہُمَا یعنی چور کا ایک ہاتھ کاٹ دو۔جَزَآءًً م بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّٰہِ ط دیکھئے قرآن خود اپنی حفاظت کس طرح کرتا ہے اور کیوں چیلنج کرتا ہے کہ اس کلام پر باطل حملہ آور نہیں ہوسکتا کسی بھی جانب سے حٰآ السجدہ : 42۔ ذرا ملاحظہ کیجیے اس آیت کے ضمن میں غلام احمد پرویز صاحب کہتے ہیں کہ یہاں چور کا ہاتھ کاٹنے کا مطلب ہے کہ ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں کسی کو چوری کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ یہ تو ہم بھی چاہتے ہیں کہ ایسا نظام ہو ‘ ریاست کی طرف سے کفالت عامہ کی سہولت موجود ہو تاکہ کوئی شخص مجبوراً چوری نہ کرے ‘ لیکن فاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَہُمَا کے الفاظ سے جو مطلب پرویز صاحب نے نکالا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ اور اگر فرض کرلیں کہ ایسا ہی ہے تو پھر جَزَآءًًم بِمَا کَسَبَا یہ بدلہ ہے ان کی اپنی کمائی کا کی کیا تاویل ہوگی ؟ یعنی جو کمائی انہوں نے کی ہے اس کا بدلہ یہ ہے کہ ایک اچھا نظام قائم کردیا جائے ؟ اس کے بعد پھر نَکَالاً مِّنَ اللّٰہِ کے الفاظ مزید آئے ہیں۔ نکال کہتے ہیں عبرتناک سزا کو۔ تو کیا ایسے نظام کا قائم کرنا اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ہوگی ؟ آپ نے دیکھا قرآن کے معانی و مفہوم کی حفاظت کے لیے بھی الفاظ کے کیسے کیسے پہرے بٹھائے گئے ہیں !دراصل حدودو تعزیرات کے فلسفے کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور اس کے لیے لفظ نکال بہت اہم ہے۔ قرآن میں تعزیرات اور حدود کے سلسلے میں یہ لفظ اکثر استعمال ہوا ہے۔ یعنی اگر سزا ہوگی تو عبرت ناک ہوگی۔ اسلام میں شہادت کا قانون بہت سخت رکھا گیا ہے۔ ذرا سا شبہ ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے سزا کا نفاذ آسان نہیں۔ لیکن اگر تمام مراحل طے کر کے جرم پوری طرح ثابت ہوجائے تو پھر سزا ایسی دی جائے کہ ایک کو سزا ملے اور لاکھوں کی آنکھیں کھل جائیں تاکہ آئندہ کسی کو جرم کرنے کی ہمت نہ ہو۔ یہ فلسفہ ہے اسلامی سزاؤں کا۔ یہ درحقیقت ایک تسدید deterrence ہے جس کے سبب معاشرے سے برائی کا استیصال کرنا ممکن ہے۔ آج امریکہ جیسے نام نہاد مہذبّ معاشرے میں بھی آئے دن انتہائی گھناؤنے جرائم ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ احتساب اور سزا کا نظام درست نہیں۔ لوگ جرم کرتے ہیں ‘ سزا ہوتی ہے ‘ جیل جاتے ہیں ‘ کچھ دن وہاں گزارنے کے بعد واپس آتے ہیں ‘ پھر جرم کرتے ہیں ‘ پھر جیل چلے جاتے ہیں۔ جیل کیا ہے ؟ سرکاری مہمان داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاشروں میں جرائم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔
آیت 39 فَمَنْ تَابَ مِنْم بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوْبُ عَلَیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ لیکن اس توبہ سے جرم کی سزا دنیا میں ختم نہیں ہوگی۔ یہ جرم ہے دنیا قانون کا اور گناہ ہے اللہ کا۔ جرم کی سزا دنیا میں ملے گی ‘ گناہ کی سزا اللہ نے دینی ہے ‘ اگر توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا اور اگر توبہ نہیں کی تو اس کی سزا بھی ملے گی۔
آیت 40 اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اب یہاں پھر ذکر آ رہا ہے ان لوگوں کا جو دوغلی پالیسی پر کاربند تھے ‘ لیکن سورة البقرۃ کی طرح یہاں بھی روئے سخن قطعیت کے ساتھ واضح نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اس کا انطباق منافقین پر بھی ہوگا اور اہل کتاب پر بھی۔ منافق اہل کتاب میں سے بھی تھے ‘ جن کا میلان اسلام کی طرف بھی تھا اور چاہتے بھی تھے کہ مسلمانوں میں شامل رہیں لیکن وہ اپنے ساتھیوں کو بھی چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ تو یہ لوگ جو مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِک کی مثال تھے ‘ یہ دونوں طرف کے لوگ تھے۔
آیت 41 یٰٓاَ یُّہَا الرَّسُوْلُ لاَ یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُہُمْ ج۔ آپ ﷺ ان لوگوں کی سرگرمیوں اور بھاگ دوڑ سے غمگین اور رنجیدۂ خاطر نہ ہوں۔وَمِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا ج سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ لا لَمْ یَاْتُوْکَ ط یعنی ایک تو یہ لوگ اپنے شیاطین کی جھوٹی باتیں بڑی توجہ سے سنتے ہیں ‘ جیسے سورة البقرۃ آیت 14 میں فرمایا : وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ لا قالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ لا اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِءُ وْنَ پھر یہ لوگ ان کی طرف سے جاسوس بن کر مسلمانوں کے ہاں آتے ہیں کہ یہاں سے سن کر ان کو رپورٹ دے سکیں کہ آج محمد ﷺ نے یہ کہا ‘ آج آپ ﷺ کی مجلس میں فلاں معاملہ ہوا۔ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ کا ترجمہ دونوں طرح سے ہوسکتا ہے : دوسری قوم کے لوگوں کی باتوں کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں یا سنتے ہیں دوسری قوم کے لوگوں کے لیے یعنی انہیں رپورٹ کرنے کے لیے ان کے جاسوس کی حیثیت سے۔ ان کے جو لیڈر اور شیاطین ہیں ‘ وہ آپ ﷺ کے پاس خود نہیں آتے اور یہ جو بین بین کے لوگ ہیں یہ آپ ﷺ کے پاس آتے ہیں اور ان کے ذریعے سے جاسوسی کا یہ سارا معاملہ چل رہا ہے۔یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْم بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ ج یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ہٰذَا فَخُذُوْہُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا ط اہل کتاب کے سرداروں کو اگر کسی مقدمے کا فیصلہ مطلوب ہوتا تو اپنے لوگوں کو رسول ‘ اللہ ﷺ کے پاس بھیجتے اور پہلے سے انہیں بتا دیتے کہ اگر فیصلہ اس طرح ہو تو تم قبول کرلینا ‘ ورنہ رد کردینا۔ واضح رہے کہ مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست اور پورے طور پر ایک ہمہ گیر اسلامی حکومت دراصل فتح مکہ کے بعد قائم ہوئی اور یہ صورت حال اس سے پہلے کی تھی۔ ورنہ کسی ریاست میں دوہرا عدالتی نظام نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ لوگ جب چاہتے اپنے فیصلوں کے لیے حضور ﷺ کے پاس آجاتے اور جب چاہتے کسی اور کے پاس چلے جاتے تھے۔ گویا بیک وقت دو متوازی نظام چل رہے تھے۔ اسی لیے تو وہ لوگ یہ کہنے کی جسارت کرتے تھے کہ یہ فیصلہ ہوا تو قبول کرلینا ‘ ورنہ نہیں۔وَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ فِتْنَتَہٗ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا ط اور جس کو اللہ ہی نے فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو تو تم اس کے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔