(آیت) ” نمبر 48 تا 50۔
انسان جب اس تعبیر کی صفائی پر غور کرتا ہے اور اس دوٹوک فیصلے پر نگاہ ڈالتا ہے اور اس مکمل اختیار پر غور کرتا ہے اس میں ان تمام امور کی پیش بندی کردی گئی ہے جو ترک شریعت کے بارے میں کسی انسان کے دل میں آسکتے ہیں ۔ جب انسان غور کرتا تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کوئی مسلمان ان ہدایات کے باوجود کسی طرح شریعت کو ترک کرسکتا ہے ۔ یہ ترک وہ حالات اور ضروریات کے بہانے سے کرتا ہے اور پھر بھی دعوائے اسلام کرتا ہے ۔ اس سے زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ کوئی شخص اسلامی شریعت کو کلیۃ ترک کردے اور پھر بھی یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے ۔ ان لوگوں کی جرات کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے گلے سے اسلام کا طوق اتار پھینکا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو بدستور مسلمان کہتے ہیں ۔ پوری کی پوری شریعت کو انہوں نے اپنی زندگی سے یکسر خارج کردیا ہے ۔ وہ اللہ کی حاکمیت کا اقرار ہی نہیں کرتے اور یہ یوں کہ وہ قانون سازی کو اللہ کے ساتھ مخصوص نہیں کرتے اور یہ بات نہیں مانتے کہ اسلامی شریعت ہر قسم کے حالات اور ہر قسم کے اوقات میں قابل عمل ہے اور یہ کہ ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم تمام حالات میں شریعت کو نافذ کریں ۔
(آیت) ” وانزلنا الیک الکتب بالحق “ (5 : 48) (پھر اے نبی ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے)
یہ حق اس طرح ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ شریعت نازل کرے اور لوگوں پر قانون ڈیوٹیاں عائد کرے ۔ پھر اس کتاب کے مشمولات تمام حق ہیں ‘ نظریات سچے ہیں ‘ قوانین سچے ہیں ‘ جو قصے اور خبریں اس میں درج ہیں وہ سچے ہیں اور جو ہدایات اس میں دی گئی ہیں وہ برحق دی گئی ہیں۔
(آیت) ” مصدقا لما بین یدیہ من الکتب ومھیمنا علیہ “ (5 : 48) (اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ ونگہبان ہے)
اس طرح یہ دین الہی کی آخری مکمل شکل ہے اور آخری ماخذ اور مرجع ہے ۔ یہ آخری نظام زندگی ہے ‘ آخری قانون ہے اور اس کے بعد قانون و شریعت اور نظام ودستور میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی ترمیم وتنسیخ ہوگی ۔
اس اصول کا قدرتی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے تمام اختلافات اس کتاب کی طرف لوٹائیں تاکہ یہ کتاب اس بارے میں فیصلہ کرے ‘ چاہے ان اختلافات کا تعلق اعتقادات اور تصورات کے ساتھ ہو ‘ جو عموما ادیان سماوی کے حاملین اور علماء کے درمیان ہوتا رہا ہے یا یہ اختلاف خود مسلمانوں کے اندر پایا جاتا ہو تو وہ مرجع اور ماخذ جس کی طرف وہ اپنی پوری زندگی کے امور میں رجوع کریں گے وہ یہی کتاب ہے ۔ اور ان معاملات میں انسانوں میں سے بڑے سے بڑے افراد کی ذاتی رائے کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔ اگر اس رائے کی پشت پر قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہیں ہے ۔
چناچہ اس اصول اور حقیقت کا براہ راست تقاضا یہ سامنے آتا ہے ۔
(آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق “۔ (5 : 48) (لہذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو) ابتداء یہ حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا ہے ‘ یعنی ان اہل کتاب کے بارے میں جو آپ کے پاس فیصلے لے کر آتے تھے ۔ لیکن یہ حکم اس سبب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک عام حکم ہے اور ہر زمان ومکان کے لئے ہے اس لئے کہ آپ کے بعد کوئی جدید رسول آنے والا نہیں ہے ۔ نہ آپ کے بعد کوئی جدید رسالت بھیجی جانے والی ہے کہ اس حکم میں کوئی تبدیلی لائی جاسکے کہ اب قرآن مرجع نہیں رہا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس دین کو مکمل کردیا ہے اور اس طرح مسلمانوں پر اپنی نعمت تمام کردی ہے اور ان تمام اہل ایمان کے لئے یہ اسلامی نظام حیات پسند کرلیا ہے اب اس میں کسی ترمیم اور تبدیلی کا کوئی راستہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی اصول کے مطابق اللہ کے کسی حکم کو تبدیل کرکے اسکی جگہ دوسرا حکم نافذ کرسکتے ہیں ۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے اس دین کو لوگوں کے لئے پسند فرمایا تو اللہ کو علم تھا کہ یہ دین تمام لوگوں کے لئے اپنے اندر گنجائش رکھتا ہے اور جب اس دین کو ہدایت کا مرجع بنایا گیا تو اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ اس میں سب کے لئے فلاح اور بھلائی ہے ۔ یہ تمام لوگوں کی زندگی کے تمام مسائل قیامت تک حل کرسکتا ہے اور یہ کہ اس کے اندر کوئی تبدیلی (اس سے روگردانی تو بڑی بات ہے) موجب کفر ہے ۔ ایسا فعل کرنے والا دین سے خارج ہے اگرچہ زبانی طور پر وہ لاکھ مرتبہ اپنے آپ کو مسلمان کہے ۔ یہ اس دین کی اس نوعیت کا لازمی نتیجہ ہے ۔
اللہ کو علم تھا کہ اس راہ میں لوگ لمبی چوڑی معذرتیں پیش کریں گے اور یہ معذرتیں اس لئے پیش کی جائیں گی کہ اللہ کے نازل کردہ قانون سے پھر کر ان لوگوں کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کیا جائے جو جعلی طور پر حاکم بن گئے ‘ یا محکوم ہیں۔ بعض حالات میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کے متعلق بعض لوگوں کے دلوں میں اندیشے پیدا ہوں گے ‘ لیکن ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم ﷺ کو دو بار اس بارے میں متنبہ کیا آپ ایسے لوگوں کی خواہشات اور خدشات کی پیروی نہ کریں اور ایسے لوگوں کے فتنے سے بچیں۔
ان خدشات میں سے پہلا خدشہ یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک فطری جذبہ ہوتا ہے کہ اس سے سب لوگ خوش رہیں اور تمام طبقات اور تمام رجحانات کے لوگوں کا لحاظ رکھا جائے ۔ ان کے وہ رجحانات جن کا اسلامی شریعت کے ساتھ تضاد آتا ہے ان میں ان کا لحاظ رکھا جائے ۔ اور معمولی باتوں میں نرمی کی جائے یا ان معاملات میں تساہل کیا جائے جو بظاہر شریعت کے دائرہ اثر میں نہیں آتے ۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہودیوں نے یہ پیشکش کی کہ وہ ایمان لے آئیں گے اگر آپ بعض احکام کے بارے میں ان کے ساتھ مصالحت کرلیں ان میں سے ایک رجم کا حکم تھا اور یہ تنبیہ خصوصا ایسے موقع پر نازل ہوئی جیسا کہ اس سے ظاہر ہے ۔ لیکن ان آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ کسی خصوصی سبب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے عام ہے ۔ یہ حکم مختلف احوال کے لئے ہو سکتا ہے اور حاملین شریعت کو ہر دور میں ایسے حالات پیش آسکتے ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ تھی کہ وہ اس معاملے میں نہایت ہی دو ٹوک بات کردیں اور انسانی خواہش کا ہر خفیہ راستہ بند کردیں جن میں انسان حالات اور واقعات کے مطابق پوری شریعت کے نفاذ میں تساہل کرتا ہے یا بعض لوگوں کی دلجوئی کے لئے تساہل کرتا ہے جبکہ لوگوں کی خواہشات اور میلانات مختلف ہوتے ہیں ۔ چناچہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے کہا کہ اگر اللہ چاہتا تو لوگوں کو ایک امت بنا دیتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لئے ایک نظام اور منہاج مقرر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جو شریعت عنایت فرمائی تھی انہیں اس کے بارے میں آزمائش میں ڈال دیا اور اس دنیا کی زندگی کے لئے انہیں جو کچھ دیا گیا اس کے بارے میں بھی ان کی آزمائش ہوگی ۔ ہر ایک اپنے لئے ایک طریقہ وضع کرلیتا ہے ۔ اس کے بعد تمام لوگ لوٹائے جائیں گے ۔ اللہ ان کو حقیقت سے آگاہ فرمائے گا اور انہوں نے جو جو طریقے اختیار کئے ان پر ان کا محاسبہ کرے گا ۔ اس لئے ان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ شریعت میں کوئی سستی اور تساہل برتیں اور اس طرح مختلف مسالک اور مشارب کے لوگوں کو جمع کرنے کی سعی کریں ‘ اس لئے کہ یہ اجتماع ممکن ہی نہیں ہے ۔
(آیت) ” لیبلوکم فی ما اتکم فاستبقوا الخیرت ، الی اللہ مرجعکم جمیعا فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون (5 : 48)
” ہم نے تم ” انسانوں “ میں سے ہر ایک کیلئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ۔ اگر تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا ‘ لیکن اس نے یہ اس لئے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، لہذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے ‘ پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو ۔
اللہ تعالیٰ نے اس طرح شیطان کی تمام راہیں بند کردیں ۔ یعنی وہ سب راہیں جو بظاہر اچھی تھیں اور ان کے ذریعے تالیف قلب ہو سکتی تھی ۔ خصوصا ایسی صورت میں جبکہ شریعت کے نفاذ میں بعض امور پر سودا بازی کی جائے اور اس تساہل کے ذریعہ تمام لوگوں کو راضی رکھا جائے ۔ یا شریعت میں تساہل کے ذریعہ ” قومی اتحاد کا حصول “ جیسے نعرے لگائے جائیں ۔
اسلامی شریعت ایک نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے ۔ وہ اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ اس کے بعض اجزاء کی قیمت پر کسی ایسے مقصد کو حاصل کرنے کی سعی کی جائے جسے اللہ کی تقدیر نے نہیں چاہا ۔ اللہ ہی نے تو لوگوں کو پیدا کیا ہے اور ان میں سے ہر شخص کو علیحدہ علیحدہ استعداد دی ہے اور لوگوں کے مسالک ومشارب بالکل مختلف اور متنوع ہیں ۔ ہر ایک کو اپنا طریقہ اور اپنا منہاج ہے ۔ اور یہ اللہ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ لوگوں کو اس طرح مختلف طبائع کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے ۔ اللہ نے ان پر ہدایت پیش کی اور انہوں نے اسی طرح چھوڑ دیا کہ وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی کریں ۔ یہ مسابقت ان کے درمیان ایک قسم کا ابتلاء ہے اور اسی ابتلاء آزمائش کی وجہ سے قیامت کے دن جب سب لوگ اللہ کے ہاں جائیں گے تو انہیں جزاوسزا ہوگی ۔
اس لئے کہ یہ کٹ حجتی ہوگی اور ایک ناکام کوشش ہوگی کہ کوئی شخص لوگوں کو اسلامی شریعت کے کسی حصے کو قربان کرکے جمع کرے یا لوگوں کی اصلاح اور ان کی معاشی حالات درست کرنے کے لئے شریعت کی کوئی انوکھی تعبیر کی جائے۔ اسلامی شریعت میں تبدیلی یا اس سے روگردانی کی وجہ سے دنیا میں فساد ہی برپا ہو سکتا ہے ۔ اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ اس طرح تو صرف یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ لوگ اللہ کے درست اور سیدھے منہاج سے روگردانی کرلیں ، لوگوں کی زندگیوں میں عدل و انصاف کا نام و نشان نہ رہے اور بعض لوگ بعض دوسروں کے غلام بن جائیں ۔ پھر ان میں سے بعض ‘ بعض دوسروں کے لئے الہ اور رب کا مقام حاصل کرلیں ۔ یہ ایک عظیم شروفساد ہوگا اور اس عظیم شر کو محض ایک موہوم مقصد کے لئے برپا ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ یہ مقصد ہو بھی ناممکن الحصول ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ اصول رکھا ہی نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک ہی راہ پر آجائیں ۔ یہ مقصد اس حکمت اور اسکیم کے بھی خلاف ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے مختلف راستے مختلف منہاج اور مختلف ذوق پیدا کئے ہیں ۔ وہی تو ہے جو سچائی کا بھی خالق ہے ‘ اور تمام امور اول اور آخر سب اس کے ہاتھ میں ہیں اور اسی کی طرف تمام لوگوں کو لوٹنا ہے ۔
ایسے مقاصد کے لئے شریعت کے کسی حصے کو حذف کردینے کی کوئی کوشش اس آیت کی رو سے ایک ناکام کوشش ہے اور انسانوں کی عملی زندگی اس بات کی شاہد ہے ۔ اس کے لئے کسی عملی جواز کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور اس بات پر ارادہ الہی سے بھی کوئی دلیل نہیں ہے اور اسلامی شعور کے اندر بھی ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ اسلامی شعور اور احساس تو یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا ارادہ بروئے کار آئے ۔ بعض لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ وہ یہاں تک کہتے ہیں ہم اسلامی نظام شریعت اس لئے نافذ نہیں کرتے کہ اس سے ہمارے ملک میں سیاحوں کی آمد کم ہوجائے گی ۔ بالکل وہ ایسا ہی کہتے ہیں ۔
چناچہ قرآن کریم اس حقیقت کی دوبارہ وضاحت کرتا ہے پہلی آیت تو یہ بھی ۔
(آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق “۔ (5 : 48) (پس آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اس سچائی کے مطابق جو اللہ نے نازل کی ہے اور اتباع نہ کریں ان کی خواہشات بمقابلہ اس کے جو سچائی تمہارے پاس آئی) اس سے یہ مراد ہو سکتی تھی کہ پوری شریعت کو نہ چھوڑ دیا جائے محض لوگوں کی خواہشات کی وجہ سے ۔ لیکن اگر شریعت کا حصہ چھوڑنا پڑے تو اس کے بارے میں یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ بعض (آیت) ” بما انزل اللہ (5 : 48) کا بھی چھوڑنا منع ہے ۔
آیت 48 وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَمُہَیْمِنًا عَلَیْہ یہ کتاب تورات اور انجیل کی مصداق بھی ہے اور مصدق بھیّ۔ اور اس کی حیثیت کسوٹی کی ہے۔ پہلی کتابوں کے اندر جو تحریفات ہوگئی تھیں اب ان کی تصحیح اس کے ذریعے سے ہوگی۔ ِ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَل اللّٰہُ وَلاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ ہُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ ط لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا ط جہاں تک شریعت کا تعلق ہے سب کو معلوم ہے کہ شریعت موسوی علیہ السلام شریعت محمدی ﷺ سے مختلف تھی۔ مزید برآں رسولوں کے منہاج طریق کار میں بھی فرق تھا۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے منہاج میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام ایک مسلمان امت بنی اسرائیل کے لیے بھیجے گئے تھے۔ وہ امت جو کہ دبی ہوئی تھی ‘ پسی ہوئی تھی ‘ غلام تھی۔ اس میں اخلاقی خرابیاں بھی تھیں ‘ دینی اعتبار سے ضعف بھی تھا ‘ وہ آل فرعون کے ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنی ہوئی تھی۔ چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقصد بعثت میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ایک بگڑی ہوئی مسلمان امت کو کافروں کے تسلط اور غلبے سے نجات دلائیں۔ اس کا ایک خاص طریقہ کار اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں بتایا گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک مسلمان امت کے لیے مبعوث کیے گئے ‘ یعنی یہودیوں ہی کی طرف۔ اس قوم میں نظریاتی فتور آچکا تھا ‘ ان کے معاشرے میں اخلاقی و روحانی گراوٹ انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ ان کے علماء کی توجہ بھی دین کے صرف ظاہری احکام اور قانونی پہلوؤں پر رہ گئی تھی اور وہ اصل مقاصد دین کو بھول چکے تھے۔ دین کی اصل روح نگاہوں سے اوجھل ہوگئی تھی۔ اس سارے بگاڑ کی اصلاح کے لیے حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص منہج ‘ ایک خاص طریقہ کار عطا فرمایا۔ محمد رٌسول اللہ ﷺ کو ان لوگوں میں مبعوث کیا گیا جو مشرک تھے ‘ اَن پڑھ تھے ‘ کسی نبی کے نام سے ناواقف تھے سوائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے۔ ان کا احترام بھی وہ اپنے جد امجدّ کے طور پر کرتے تھے ‘ ایک نبی کے طور پر نہیں۔ کوئی شریعت ان میں موجود نہیں تھی ‘ کوئی کتاب ان کے پاس نہیں تھی۔ گویا ضَلَّ ضَلَالاً بَعِیْدًاکی مجسّم تصویر ! آپ ﷺ نے اپنی دعوت و تبلیغ کے ذریعے ان میں سے صحابہ کرام رض کی ایک عظیم جماعت پیدا کی ‘ انہیں حزب اللہ بنایا ‘ اور پھر اس جماعت کو ساتھ لے کر آپ ﷺ نے کفر ‘ شرک اور ائمہ کفر کے خلاف جہاد و قتال کیا ‘ اور بالآخر اللہ کے دین کو اس معاشرے میں قائم کردیا۔ یہ منہاج ہے محمد رسول اللہ ﷺ کا۔ تو یہ مفہوم ہے اس آیت کا لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا ط ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک منہاج طریقہ کار ‘ منہج عمل مقرر کیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت بہت اہم ہے۔وَلَوْ شَآء اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰٹکُمْ یعنی اللہ کی حکمت اس کی متقاضی ہوئی کہ جس کو جو جو کچھ دیا گیا ہے اس کے حوالے سے اس کو آزمائے۔ چناچہ اب ہمارے لیے اصل اسوہ نہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں اور نہ ہی حضرت ‘ عیسیٰ علیہ السلام ‘ بلکہ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ الاحزاب : 21 کے مصداق ہمارے لیے اسوہ ہے تو صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اگر شادی نہیں کی تو یہ ہمارے لیے اسوہ نہیں ہے۔ ہمیں تو حضور ﷺ کے فرمان کو پیش نظر رکھنا ہے ‘ جنہوں نے فرمایا : اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِی 1 اور پھر فرمایا : فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّی 2۔ تو واقعہ یہ ہے کہ تمام انبیاء اللہ ہی کی طرف سے مبعوث تھے ‘ اور ہر ایک کے لیے جو بھی طریقہ اللہ تعالیٰ نے مناسب سمجھاوہ ان کو عطا کیا ‘ البتہ ہمارے لیے قابل تقلید منہاج نبوی ﷺ ہے۔ اب ہم پر فرض ہے کہ اس منہج انقلاب نبوی ﷺ کا گہرا شعور حاصل کریں ‘ پھر اس راستے پر اسی طرح چلیں جس طرح حضور ﷺ چلے۔ جس طرح آپ ﷺ نے دین کو قائم کیا ‘ غالب کیا ‘ ایک نظام برپا کیا ‘ پھر اس نظام کے تحت اللہ کا قانون نافذ کیا ‘ اسی طرح ہم بھی اللہ کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔
قرآن ایک مستقل شریعت ہے تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ " ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول ﷺ پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا) 17۔ الاسراء :107) جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں اور زبانی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ سچا ثابت ہوچکا، اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لئے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جیسے فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) 15۔ الحجر :9) بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ حضور ﷺ اس کتاب پر امین ہیں۔ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔ امام ابن جریر نے بھی حضرت مجاہد سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے " یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لئے مھیمن کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا "۔ اگر حضرت مجاہد کے معنی صحیح مان لئے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہئے تھی خواہ عرب ہوں، خواہ عجم ہوں، خواہ لکھے پڑھے ہوں، خواہ ان پڑھ ہوں۔ اللہ کی طرف سے نازل کردہ سے مراد وحی اللہ ہے خواہ وہ اس کتاب کی صورت میں ہو، خواہ جو پہلے احکام اللہ نے مقرر کر رکھے ہوں۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے تو آپ کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں، ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لئے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی ﷺ تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنادیا ہے۔ کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو شرعۃ کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔ جیسے حدیث شریف میں ہے " ہم سب انبیاء علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے، ہر نبی توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی "۔ جیسے قرآن فرماتا ہے کہ " تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول ﷺ ہم نے بھیجے، ان سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو "۔ اور آیت میں (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ) 16۔ النحل :36) ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوا دیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوال دوسروں کی عبادت سے بچو۔ احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہوجایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ اے امت محمد ﷺ ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدار اور تابعداری کرنی چاہئے۔ اس صورت میں جعلنا کے بعد ضمیر ہ کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کردیتا۔ پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کردیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔ لیکن رب کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہوا کہ علیحدہ علیحدہ شریعتیں مقرر کرے، ایک کے بعد دوسرا نبی بھیجے اور بعض احکام اگلے نبی کے پچھلے نبی سے بدلوا دے، یہاں تک کہ اگلے دین حضرت محمد ﷺ کی نبوت سے منسوخ ہوگئے اور آپ تمام روئے زمین کی طرف بھیجے گئے اور خاتم الانبیاء بنا کر بھیجے گئے۔ یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر ﷺ کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہئے۔ لوگو ! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتادے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔ جو حق کو ماننا تو ایک طرف بلکہ حق سے چڑتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔ ضحاک کہتے ہیں مراد امت محمد ﷺ ہے، مگر اول ہی اولیٰ ہے۔ پھر پہلی بات کی اور تاکید ہو رہی ہے اور اس کے خلاف سے روکا جاتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ " دیکھو کہیں اس خائن، مکار، کذاب، کفار یہود کی باتوں میں آکر اللہ کے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ ہوجانا۔ اگر وہ تیرے احکام سے رو گردانی کریں اور شریعت کے خلاف کریں تو تو سمجھ لے کہ ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے اللہ کا کوئی عذاب ان پر آنے والا ہے۔ اسی لئے توفیق خیر ان سے چھین لی گئی ہے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اطاعت حق سے خارج۔ اللہ کے دین کے مخالف، ہدایت سے دور ہیں۔ " جیسے فرمایا آیت (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ) 12۔ یوسف :103) یعنی گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں۔ اور فرمایا آیت (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) 6۔ الانعام :116) اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے۔ یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں اگر ہم آپ کو مان لیں تو تمام یہود آپ کی نبوت کا اقرار کرلیں گے اور ہم آپ کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئے، آپ نے انکار کردیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ اس کے بعد جناب باری تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہٹ جائیں، جس میں تمام بھلائیاں موجود اور تمام برائیاں دور ہیں۔ ایسے پاک حکم سے ہٹ کر رائے قیاس کی طرف، خواہش نفسانی کی طرف اور ان احکام کی طرف جھکے جو لوگوں نے از خود اپنی طرف سے بغیر دلیل شرعی کے گھڑ لئے ہیں جیسے کہ اہل جاہلیت اپنی جہالت و ضلالت اور اپنی رائے اور اپنی مرضی کے مطابق حکم احکام جاری کرلیا کرتے تھے اور جیسے کہ تاتاری ملکی معاملات میں چنگیز خان کے احکام کی پیروی کرتے تھے جو الیاسق نے گھڑ دیئے تھے۔ وہ بہت سے احکام کے مجموعے اور دفاتر تھے جو مختلف شریعتوں اور مذہبوں سے چھانٹے گئے تھے۔ یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی طرف آجائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جاہلیت کے احکام کا ارادہ کرتے ہیں اور حکم رب سے سرک رہے ہیں ؟ یقین والوں کیلئے اللہ سے بہتر حکمران اور کار فرما کون ہوگا ؟ اللہ سے زیادہ عدل و انصاف والے احکام کس کے ہوں گے ؟ ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں " اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے "۔ ایک شخص نے حضرت طاؤس سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں ؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بےوجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہوجائے۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔