اس صفحہ میں سورہ Al-Maaida کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المائدة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَقَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ ۖ وَءَاتَيْنَٰهُ ٱلْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ ٱلْإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ
وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّ ۚ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَٰحِدَةً وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِى مَآ ءَاتَىٰكُمْ ۖ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَٰتِ ۚ إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
وَأَنِ ٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ وَٱحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَنۢ بَعْضِ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيْكَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَٱعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ لَفَٰسِقُونَ
أَفَحُكْمَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ ٱللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ
(آیت) ” نمبر 46 تا 47۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو انجیل عطا ہوئی تاکہ وہ لوگوں کے لئے نظام زندگی قرار پائے ۔ انجیل میں بذات خود کوئی نیا شرعی نظام نہ تھا ‘ البتہ انجیل میں تورات کے قانونی نظام میں نہایت ہی خفیف تبدیلیاں کی گئی تھیں ۔ انجیل نے خود تورات کے نظام قانون اور نظریات کی تصدیق کی ‘ صرف چند تبدیلیاں لائی گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل کے اندر امت مسلمہ کے لئے ہدایت ‘ نئی روشنی اور نصیحت اتاری یہ کس کے لئے ؟ ان لوگوں کے لئے جو خدا ترس تھے ۔ اس لئے متقی لوگ وہ ہوں گے جو ہدایت ‘ روشنی اور وعظ ونصیحت اللہ کی کتابوں سے اخذ کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو یہ کتابیں ہدایات دیتی ہیں ۔ رہے وہ دل جو خشک ‘ پتھر کی طرح بےجان اور سخت ہوتے ہیں تو کوئی نصیحت ان تک نہیں پہنچتی ۔ ان دلوں کو کلام کے اندر کوئی مفہوم نظر نہیں آتا ۔ ان کو ہدایات کے اندر روح نظر نہیں آتی ان کو ایمان کے اندر کوئی ذائقہ نظر نہیں آتا ۔ وہ ان ہدایات ‘ ان انوار سے کوئی راہ نہیں پاتے اور نہ ہی دعوت و پکار لبیک کہتے ہیں ۔ نور اور روشنی موجود ہوتی ہے لیکن ان کی بصارت اور بصیرت کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ راہنمائی موجود ہوتی ہے لیکن اس راہنمائی کا ادراک صرف بلند روحوں کو ہوتا ہے ۔ نصیحت موجود ہوتی ہے لیکن صرف فہم رکھنے والے دل ہی نصیحت لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انجیل میں بھی ہدایت ‘ نور اور اہل تقوی کے لئے نصیحت درج فرمائی اور اہل انجیل کے لئے اسے نظام حیات قرار دیا ۔ اور ان کے لیے قوانین کا ماخذ بنایا یعنی انجیل صراف اہل انجیل کے لئے نظام حیات تھی ۔ وہ تمام لوگوں کے لئے نہ تھی ‘ کیونکہ انجیل کی دعوت عام نہ تھی لیکن اس کا نفاذ تورات کی طرح ‘ ہر رسالت کی طرح اور ہر رسول کی دعوت کی طرح ضروری تھا ‘ جو رسول کریم ﷺ سے پہلے گزرے تھے اور جن کی دعوت نبی کریم ﷺ کی دعوت اور شریعت کے مطابق تھی ۔ لہذا شرائع سابقہ کا جو حصہ اسلام کے مطابق ہے وہ اسلام کی شریعت اور قرآن کی شریعت کا حکم دکھتا ہے جیسا کہ حکم قصاص کے ضمن میں ہم کہہ آئے ہیں۔
یعنی اہل انجیل سے بھی مطالبہ یہی تھا کہ وہ انجیل کی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے کریں ۔
(آیت) ” ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ “۔ (5 : 47) (ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اسی قانون کے مطابق فیصلہ کریں جسے اللہ نے اتارا) یعنی اصل الاصول یہی تھا کہ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کئے جائیں ۔ اہل انجیل اور یہودیوں دونوں کی کوئی حیثیت نہ تھی جب تک وہ اسلام سے قبل تورات کو نافذ کرتے تھے ۔ اسلام کے آنے کے بعد اب تو سب دنیا کے انسانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام شریعت نافذ کریں ۔ یہ شریعت اب سب کی شریعت ہے اور یہ اب آخری رسالت اور آخر شریعت ہے ۔
(آیت) ” بما انزل اللہ فیہ ومن لم یحکم بما انزل فاولئک ھم الفسقون “۔ (5 : 47) (جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں)
یہاں بھی آیت نہایت ہی عام اور مطلق ہے ۔ اور اس سے قبل اس قسم کے فعل پر صفت کفر اور ظلم کا جو اطلاق ہوا تھا ‘ صف کفر ان دونوں پر مستزاد ہے ۔ یہاں فاسقوں سے مراد کوئی اور لوگ نہیں ہیں بلکہ وہی کافرون اور ظالمون ہیں جنہوں یہاں صفت فاسقون سے بھی متصف کیا گیا ہے اور جو بھی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کرے گا وہ اس صفت سے متصف ہوگا ۔
کفر اس لئے ہوگا کہ اللہ کی شریعت کا انکار کرنے سے اللہ کی حاکمیت کا انکار ہوگا ۔ ظلم اس لئے ہوگا کہ لوگوں پر اللہ کے سوا کوئی اور قانون نافذ کرکے ظلم ہوگا اور اس قانون کے ذریعے ان کی زندگیوں میں فساد برپا ہوگا اور فسق اس لئے ہوگا کہ اللہ کے نظام حیات سے خارج ہونے والا خود بخود فاسق ہوجاتا ہے ۔ غرض یہ تمام صفات اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہ کرنے کے فعل کے ساتھ لازم ہیں اور ایسا فاعل ان تمام صفات کا مرتکب ہوتا ہے ۔ اور ان میں کوئی تفریق نہیں ہے۔
اب بات حضور اکرم ﷺ کی آخری رسالت تک آپہنچتی ہے ۔ اب آخری شریعت یعنی اسلامی شریعت کے بارے بات ہوتی ہے ۔ اس میں اسلام کو اپنی آخری شکل میں پیش کردیا گیا تاکہ وہ تمام انسانوں کا دین بن جائے اور اسلام کی شریعت تمام لوگوں کی شریعت ہو ۔ نیز اس کے اندر ان تمام ہدایات کو جمع کرکے محفوظ کردیا جائے جو اس سے پہلے کسی بھی رسول کو دی گئی تھی اور یہ شریعت اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کو لپیٹ نہیں لیتا ۔ یہ ایک ایسا نظام زندگی ہے جس پر اسلامی زندگی ہر پہلو کے اعتبار سے قائم ہوتی ہے ۔ اس کے دائرے کے اندر زندگی محدود ہوجاتی ہے اور اس کے محور کے اندر گھومتی ہے ۔ انسان اپنے اعتقادات و تصورات اسی سے اخذ کرتا ہے ۔ اپنا اجتماعی نظام بھی اس کے مطابق استوار کرتا ہے ‘ اور وہ اپنے انفرادی اور سوشل روابط اسی کے مطابق ڈھالتا ہے ۔ اور یہ شریعت اس لئے اتاری گئی ہے کہ یہ عدالتوں میں رائج ہو ‘ اس کے مطابق نظام استوار ہو ‘ کتابوں اور دفتروں کے اندر اس کا دور دورہ ہو اور اس کی پیروی اور اس کا نفاذ نہایت دقت کے ساتھ ہو ۔ اس کا کوئی جزء متروک نہ ہو ‘ اس کا کوئی جزء بدلا نہ گیا ہو ‘ چاہے چھوٹے معاملات سے متعلق ہو یا بڑے معاملات سے اس لئے کہ یا تو شریعت اسلامی ہوگی اور یہ جاہلیت ہوگی ۔ اس شریعت کے نفاذ کے سلسلے میں ان نیت سے تساہل اور مداہنت کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ اس بہانے بہت سے لوگوں کو اسلام کے نام پر جمع کردیا جائے ‘ اس لئے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا ۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اس کی شریعت کی حکمرانی قائم ہو ‘ پھر جو ہوتا ہے ہو۔
(آیت) ” نمبر 48 تا 50۔
انسان جب اس تعبیر کی صفائی پر غور کرتا ہے اور اس دوٹوک فیصلے پر نگاہ ڈالتا ہے اور اس مکمل اختیار پر غور کرتا ہے اس میں ان تمام امور کی پیش بندی کردی گئی ہے جو ترک شریعت کے بارے میں کسی انسان کے دل میں آسکتے ہیں ۔ جب انسان غور کرتا تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کوئی مسلمان ان ہدایات کے باوجود کسی طرح شریعت کو ترک کرسکتا ہے ۔ یہ ترک وہ حالات اور ضروریات کے بہانے سے کرتا ہے اور پھر بھی دعوائے اسلام کرتا ہے ۔ اس سے زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ کوئی شخص اسلامی شریعت کو کلیۃ ترک کردے اور پھر بھی یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے ۔ ان لوگوں کی جرات کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے گلے سے اسلام کا طوق اتار پھینکا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو بدستور مسلمان کہتے ہیں ۔ پوری کی پوری شریعت کو انہوں نے اپنی زندگی سے یکسر خارج کردیا ہے ۔ وہ اللہ کی حاکمیت کا اقرار ہی نہیں کرتے اور یہ یوں کہ وہ قانون سازی کو اللہ کے ساتھ مخصوص نہیں کرتے اور یہ بات نہیں مانتے کہ اسلامی شریعت ہر قسم کے حالات اور ہر قسم کے اوقات میں قابل عمل ہے اور یہ کہ ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم تمام حالات میں شریعت کو نافذ کریں ۔
(آیت) ” وانزلنا الیک الکتب بالحق “ (5 : 48) (پھر اے نبی ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے)
یہ حق اس طرح ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ شریعت نازل کرے اور لوگوں پر قانون ڈیوٹیاں عائد کرے ۔ پھر اس کتاب کے مشمولات تمام حق ہیں ‘ نظریات سچے ہیں ‘ قوانین سچے ہیں ‘ جو قصے اور خبریں اس میں درج ہیں وہ سچے ہیں اور جو ہدایات اس میں دی گئی ہیں وہ برحق دی گئی ہیں۔
(آیت) ” مصدقا لما بین یدیہ من الکتب ومھیمنا علیہ “ (5 : 48) (اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ ونگہبان ہے)
اس طرح یہ دین الہی کی آخری مکمل شکل ہے اور آخری ماخذ اور مرجع ہے ۔ یہ آخری نظام زندگی ہے ‘ آخری قانون ہے اور اس کے بعد قانون و شریعت اور نظام ودستور میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی ترمیم وتنسیخ ہوگی ۔
اس اصول کا قدرتی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے تمام اختلافات اس کتاب کی طرف لوٹائیں تاکہ یہ کتاب اس بارے میں فیصلہ کرے ‘ چاہے ان اختلافات کا تعلق اعتقادات اور تصورات کے ساتھ ہو ‘ جو عموما ادیان سماوی کے حاملین اور علماء کے درمیان ہوتا رہا ہے یا یہ اختلاف خود مسلمانوں کے اندر پایا جاتا ہو تو وہ مرجع اور ماخذ جس کی طرف وہ اپنی پوری زندگی کے امور میں رجوع کریں گے وہ یہی کتاب ہے ۔ اور ان معاملات میں انسانوں میں سے بڑے سے بڑے افراد کی ذاتی رائے کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔ اگر اس رائے کی پشت پر قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہیں ہے ۔
چناچہ اس اصول اور حقیقت کا براہ راست تقاضا یہ سامنے آتا ہے ۔
(آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق “۔ (5 : 48) (لہذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو) ابتداء یہ حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا ہے ‘ یعنی ان اہل کتاب کے بارے میں جو آپ کے پاس فیصلے لے کر آتے تھے ۔ لیکن یہ حکم اس سبب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک عام حکم ہے اور ہر زمان ومکان کے لئے ہے اس لئے کہ آپ کے بعد کوئی جدید رسول آنے والا نہیں ہے ۔ نہ آپ کے بعد کوئی جدید رسالت بھیجی جانے والی ہے کہ اس حکم میں کوئی تبدیلی لائی جاسکے کہ اب قرآن مرجع نہیں رہا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس دین کو مکمل کردیا ہے اور اس طرح مسلمانوں پر اپنی نعمت تمام کردی ہے اور ان تمام اہل ایمان کے لئے یہ اسلامی نظام حیات پسند کرلیا ہے اب اس میں کسی ترمیم اور تبدیلی کا کوئی راستہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی اصول کے مطابق اللہ کے کسی حکم کو تبدیل کرکے اسکی جگہ دوسرا حکم نافذ کرسکتے ہیں ۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے اس دین کو لوگوں کے لئے پسند فرمایا تو اللہ کو علم تھا کہ یہ دین تمام لوگوں کے لئے اپنے اندر گنجائش رکھتا ہے اور جب اس دین کو ہدایت کا مرجع بنایا گیا تو اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ اس میں سب کے لئے فلاح اور بھلائی ہے ۔ یہ تمام لوگوں کی زندگی کے تمام مسائل قیامت تک حل کرسکتا ہے اور یہ کہ اس کے اندر کوئی تبدیلی (اس سے روگردانی تو بڑی بات ہے) موجب کفر ہے ۔ ایسا فعل کرنے والا دین سے خارج ہے اگرچہ زبانی طور پر وہ لاکھ مرتبہ اپنے آپ کو مسلمان کہے ۔ یہ اس دین کی اس نوعیت کا لازمی نتیجہ ہے ۔
اللہ کو علم تھا کہ اس راہ میں لوگ لمبی چوڑی معذرتیں پیش کریں گے اور یہ معذرتیں اس لئے پیش کی جائیں گی کہ اللہ کے نازل کردہ قانون سے پھر کر ان لوگوں کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کیا جائے جو جعلی طور پر حاکم بن گئے ‘ یا محکوم ہیں۔ بعض حالات میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کے متعلق بعض لوگوں کے دلوں میں اندیشے پیدا ہوں گے ‘ لیکن ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم ﷺ کو دو بار اس بارے میں متنبہ کیا آپ ایسے لوگوں کی خواہشات اور خدشات کی پیروی نہ کریں اور ایسے لوگوں کے فتنے سے بچیں۔
ان خدشات میں سے پہلا خدشہ یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک فطری جذبہ ہوتا ہے کہ اس سے سب لوگ خوش رہیں اور تمام طبقات اور تمام رجحانات کے لوگوں کا لحاظ رکھا جائے ۔ ان کے وہ رجحانات جن کا اسلامی شریعت کے ساتھ تضاد آتا ہے ان میں ان کا لحاظ رکھا جائے ۔ اور معمولی باتوں میں نرمی کی جائے یا ان معاملات میں تساہل کیا جائے جو بظاہر شریعت کے دائرہ اثر میں نہیں آتے ۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہودیوں نے یہ پیشکش کی کہ وہ ایمان لے آئیں گے اگر آپ بعض احکام کے بارے میں ان کے ساتھ مصالحت کرلیں ان میں سے ایک رجم کا حکم تھا اور یہ تنبیہ خصوصا ایسے موقع پر نازل ہوئی جیسا کہ اس سے ظاہر ہے ۔ لیکن ان آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ کسی خصوصی سبب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے عام ہے ۔ یہ حکم مختلف احوال کے لئے ہو سکتا ہے اور حاملین شریعت کو ہر دور میں ایسے حالات پیش آسکتے ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ تھی کہ وہ اس معاملے میں نہایت ہی دو ٹوک بات کردیں اور انسانی خواہش کا ہر خفیہ راستہ بند کردیں جن میں انسان حالات اور واقعات کے مطابق پوری شریعت کے نفاذ میں تساہل کرتا ہے یا بعض لوگوں کی دلجوئی کے لئے تساہل کرتا ہے جبکہ لوگوں کی خواہشات اور میلانات مختلف ہوتے ہیں ۔ چناچہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے کہا کہ اگر اللہ چاہتا تو لوگوں کو ایک امت بنا دیتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لئے ایک نظام اور منہاج مقرر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جو شریعت عنایت فرمائی تھی انہیں اس کے بارے میں آزمائش میں ڈال دیا اور اس دنیا کی زندگی کے لئے انہیں جو کچھ دیا گیا اس کے بارے میں بھی ان کی آزمائش ہوگی ۔ ہر ایک اپنے لئے ایک طریقہ وضع کرلیتا ہے ۔ اس کے بعد تمام لوگ لوٹائے جائیں گے ۔ اللہ ان کو حقیقت سے آگاہ فرمائے گا اور انہوں نے جو جو طریقے اختیار کئے ان پر ان کا محاسبہ کرے گا ۔ اس لئے ان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ شریعت میں کوئی سستی اور تساہل برتیں اور اس طرح مختلف مسالک اور مشارب کے لوگوں کو جمع کرنے کی سعی کریں ‘ اس لئے کہ یہ اجتماع ممکن ہی نہیں ہے ۔
(آیت) ” لیبلوکم فی ما اتکم فاستبقوا الخیرت ، الی اللہ مرجعکم جمیعا فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون (5 : 48)
” ہم نے تم ” انسانوں “ میں سے ہر ایک کیلئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ۔ اگر تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا ‘ لیکن اس نے یہ اس لئے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، لہذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے ‘ پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو ۔
اللہ تعالیٰ نے اس طرح شیطان کی تمام راہیں بند کردیں ۔ یعنی وہ سب راہیں جو بظاہر اچھی تھیں اور ان کے ذریعے تالیف قلب ہو سکتی تھی ۔ خصوصا ایسی صورت میں جبکہ شریعت کے نفاذ میں بعض امور پر سودا بازی کی جائے اور اس تساہل کے ذریعہ تمام لوگوں کو راضی رکھا جائے ۔ یا شریعت میں تساہل کے ذریعہ ” قومی اتحاد کا حصول “ جیسے نعرے لگائے جائیں ۔
اسلامی شریعت ایک نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے ۔ وہ اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ اس کے بعض اجزاء کی قیمت پر کسی ایسے مقصد کو حاصل کرنے کی سعی کی جائے جسے اللہ کی تقدیر نے نہیں چاہا ۔ اللہ ہی نے تو لوگوں کو پیدا کیا ہے اور ان میں سے ہر شخص کو علیحدہ علیحدہ استعداد دی ہے اور لوگوں کے مسالک ومشارب بالکل مختلف اور متنوع ہیں ۔ ہر ایک کو اپنا طریقہ اور اپنا منہاج ہے ۔ اور یہ اللہ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ لوگوں کو اس طرح مختلف طبائع کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے ۔ اللہ نے ان پر ہدایت پیش کی اور انہوں نے اسی طرح چھوڑ دیا کہ وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی کریں ۔ یہ مسابقت ان کے درمیان ایک قسم کا ابتلاء ہے اور اسی ابتلاء آزمائش کی وجہ سے قیامت کے دن جب سب لوگ اللہ کے ہاں جائیں گے تو انہیں جزاوسزا ہوگی ۔
اس لئے کہ یہ کٹ حجتی ہوگی اور ایک ناکام کوشش ہوگی کہ کوئی شخص لوگوں کو اسلامی شریعت کے کسی حصے کو قربان کرکے جمع کرے یا لوگوں کی اصلاح اور ان کی معاشی حالات درست کرنے کے لئے شریعت کی کوئی انوکھی تعبیر کی جائے۔ اسلامی شریعت میں تبدیلی یا اس سے روگردانی کی وجہ سے دنیا میں فساد ہی برپا ہو سکتا ہے ۔ اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ اس طرح تو صرف یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ لوگ اللہ کے درست اور سیدھے منہاج سے روگردانی کرلیں ، لوگوں کی زندگیوں میں عدل و انصاف کا نام و نشان نہ رہے اور بعض لوگ بعض دوسروں کے غلام بن جائیں ۔ پھر ان میں سے بعض ‘ بعض دوسروں کے لئے الہ اور رب کا مقام حاصل کرلیں ۔ یہ ایک عظیم شروفساد ہوگا اور اس عظیم شر کو محض ایک موہوم مقصد کے لئے برپا ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ یہ مقصد ہو بھی ناممکن الحصول ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ اصول رکھا ہی نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک ہی راہ پر آجائیں ۔ یہ مقصد اس حکمت اور اسکیم کے بھی خلاف ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے مختلف راستے مختلف منہاج اور مختلف ذوق پیدا کئے ہیں ۔ وہی تو ہے جو سچائی کا بھی خالق ہے ‘ اور تمام امور اول اور آخر سب اس کے ہاتھ میں ہیں اور اسی کی طرف تمام لوگوں کو لوٹنا ہے ۔
ایسے مقاصد کے لئے شریعت کے کسی حصے کو حذف کردینے کی کوئی کوشش اس آیت کی رو سے ایک ناکام کوشش ہے اور انسانوں کی عملی زندگی اس بات کی شاہد ہے ۔ اس کے لئے کسی عملی جواز کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور اس بات پر ارادہ الہی سے بھی کوئی دلیل نہیں ہے اور اسلامی شعور کے اندر بھی ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ اسلامی شعور اور احساس تو یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا ارادہ بروئے کار آئے ۔ بعض لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ وہ یہاں تک کہتے ہیں ہم اسلامی نظام شریعت اس لئے نافذ نہیں کرتے کہ اس سے ہمارے ملک میں سیاحوں کی آمد کم ہوجائے گی ۔ بالکل وہ ایسا ہی کہتے ہیں ۔
چناچہ قرآن کریم اس حقیقت کی دوبارہ وضاحت کرتا ہے پہلی آیت تو یہ بھی ۔
(آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق “۔ (5 : 48) (پس آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اس سچائی کے مطابق جو اللہ نے نازل کی ہے اور اتباع نہ کریں ان کی خواہشات بمقابلہ اس کے جو سچائی تمہارے پاس آئی) اس سے یہ مراد ہو سکتی تھی کہ پوری شریعت کو نہ چھوڑ دیا جائے محض لوگوں کی خواہشات کی وجہ سے ۔ لیکن اگر شریعت کا حصہ چھوڑنا پڑے تو اس کے بارے میں یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ بعض (آیت) ” بما انزل اللہ (5 : 48) کا بھی چھوڑنا منع ہے ۔
(آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک “۔ (5 : 49) (پس اے نبی ﷺ تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو ۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے)
یہ تنبیہ بہت ہی شدید ہے اور بہت ہی مفصل ہے ۔ یہ صورت حال کی حقیقی تصور کشی ہے اس لئے کہ یہ ایک عظیم فتنہ ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس سے خبردار رہیں اور تمام فیصلے اللہ کی شریعت کے مطابق کریں ۔ اگر مکمل شریعت نہ ہوگی تو پھر مکمل خواہش پرستی ہوگی جس سے اللہ تعالیٰ ڈراتے ہیں ۔
اگلی آیت میں بعض خدشات اور پریشانیوں کو دور کیا جاتا ہے اور رسول خدا ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اگر یہ لوگ شریعت کے بڑے احکام سے پہلے شریعت کے چھوٹے احکام نافذ کرنا پسند نہیں کرتے اور اگر یہ لوگ اسلام کو مکمل دین کے طور پر اختیار نہیں کرتے ۔ یا اسلامی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے نہیں لے جاتے ۔ (یہ اس دور کی بات ہے جب شریعت کے مطابق فیصلے اختیاری تھے ابھی تک شریعت کا نظام حتمی طور پر نافذ نہ ہوا تھا ۔ جب دارالاسلام مکمل طور پر قائم ہوگیا تھا تو پھر شریعت کے مطابق فیصلے کرانا لازم کردیا گیا) تو پھر یہ لوگ اللہ کے عذاب کے لئے تیار رہیں ۔
(آیت) ” فان تولوا فاعلم انما یرید اللہ ان یصیبھم ببعض ذنوبھم وان کثیرا من الناس لفسقون (5 : 49)
” پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کرلیا ہے ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں ۔
اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو آپ پر کیا ذمہ داری ہے آپ اپنی جگہ شریعت کو پوری قوت کے ساتھ تھامے رہیں اور اللہ کے احکام نافذ کریں ۔ ان لوگوں کا اعراض اور روگردانی آپ کی گرفت کو ڈھیلا نہ کر دے اور آپ کو اپنے موقف سے ہٹا نہ دے ۔ یہ لوگ تو اعراض اس لئے کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں سخت مصیبت میں ڈالنے والے ہیں ۔ یہ اللہ کی اسکیم ہے کہ یہ لوگ برے نتائج کا شکار ہوں ‘ نہ آپ ‘ نہ اللہ کی شریعت اور نہ اللہ کا دین متاثر ہوگا اور نہ اسلامی محاذ متاثر ہوگا جس نے شریعت کو پوری طرح پکڑ رکھا ہے ۔ ہاں یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ لوگوں کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا رہتی ہے اس لئے وہ اسلام سے نکلتے ہیں اور منحرف ہوجاتے ہیں ۔ (آیت) ” وان کثیر من الناس لفسقون “۔ (5 : 49) بیشک لوگوں کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا رہتی ہے ۔ یہ لوگ اس طرح رہیں گے اور آپ اس صورت حال کو بدل نہیں سکتے ۔ اس میں شریعت کا بھی کوئی قصور نہیں ہے اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اکثریت کو راہ مستقیم پر استوار کردیا جائے ۔
اس طرح ایک مومن کے نفس کے اندر شیطان کی وسوسہ اندازی کے تمام راستے بند کردیئے جاتے ہیں اور ایک مومن اپنی راہ پر دلیل کے ساتھ چلتا ہے ۔ اسلامی شریعت اور اسلامی احکام میں سے کسی حکم کے چھوڑنے کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ یہ کام کسی دنیاوی غرض کے لئے بھی نہیں ہو سکتا ۔ اور نہ حالات میں سے کسی حال میں ہو سکتا ہے ۔
یہاں آکر قرآن کریم انسانوں کو دوراہئے پر لا کر کھڑا کردیتا ہے ۔ یا تو انہوں نے حکم اور قانون کی راہ اختیار کرنی ہوگی یا وہ جاہلیت کی راہ اپنائیں گے ۔ ان دوراہوں کے درمیان نہ تیسری راہ ہے اور نہ ان کے متبادل اور کوئی راہ ہے ۔ دنیا میں اللہ کے احکام نافذ ہوں گے اور لوگوں کی زندگی میں اسلامی شریعت نافذ ہوگی یعنی یا انسانیت کی قیادت اسلامی نظام کرے گا اور یا احکام جاہلیت نافذ ہوں گے ‘ قانون سرکشی نافذ ہوگا اور غلامی کا نظام جاری رہے گا ۔ اب اس دورا ہے پر لوگوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔
(آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون ، ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (5 : 50)
(اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے)
یہاں یہ آیت جاہلیت کے مفہوم اور مدلوں کو متعین کردیتی ہے ۔ یہ اللہ کا قرآن ہے جو جاہلیت کے مفہوم کو متعین کردیتا ہے اور اس کے مطابق جاہلیت یہ ہے کہ مملکت میں انسان کی حکومت انسان پر چلے ۔ یہ دراصل انسانوں کی جانب سے انسانوں کی غلامی ہے ۔ اللہ کی حاکمیت کا انکار ہے اور اللہ کی حاکمیت کے نظریہ کو ترک کرنا ہے ۔ یہ انکار اور ترک اصل انسانوں کی حاکمیت کا اقرار ہے اور انسانوں کی بندگی اور پرستش ہے ۔
اس آیت کی روشنی میں جاہلیت کا تعلق زمان ومکان سے نہیں ہے بلکہ جاہلیت ایک صورت حال کا نام ہے جو کل بھی تھی ‘ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی ۔ لہذا جس چیز کی ممانعت ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی نظام کے مطابلے میں جاہلی صورت حال نہ اختیار کی جائے جو اسلام سے متصادم ہے ۔
لوگوں کے مختلف حالات ہو سکتے ہیں اور ہر دور میں ‘ یا تو وہ اللہ کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے ‘ ماسوائے اس کے کہ وہ اس کے کچھ اجزاء کو ترک کردیں یا پھر نظام شریعت کو مکمل طور پر تسلیم ورضا کے ساتھ قبول کریں گے ۔ ایسی صورت میں لوگ اللہ کے دین میں متصور ہوں گے ۔ یا وہ اپنے فیصلے کسی ایسے قانون کے مطابق کر رہے ہوں جو انسانوں کا بنایا ہوا ہوتا ہے ‘ چاہے اس کی جو شکل و صورت بھی ہو ‘ اور وہ اسے قبول کریں گے لہذا یہ لوگ ان لوگوں کے دین کے اندر متصور ہوں گے ‘ جن کے قانون کو یہ لوگ مانتے ہیں ۔ ایسے حالات میں یہ لوگ ہر گز دین اسلام میں داخل نہ ہوں گے ۔ جو شخص اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے نہیں کراتا وہ دراصل جاہلیت کے مطابق فیصلے کراتا ہے اور جو شخص اللہ کی شریعت کا انکار کرتا ہے ‘ وہ دراصل جاہلیت کی شریعت چاہتا ہے اور جاہلیت میں بستا ہے ۔
یہ ہے ایک دوراہہ جس پر اللہ تعالیٰ کو لا کر کھڑا کردیتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ جس راہ پر جانا چاہیں اس راہ کو اختیار کرلیں ۔
اس کے بعد ذرا درشت نظروں کے ساتھ دیکھ کر پوچھا جاتا ہے ان لوگوں سے جو جاہلیت کے مطابق فیصلے کرانا چاہتے ہیں ۔ یہ استفہام انکاری ہے لیکن سوالیہ انداز میں احکام الہی کی برتری کا فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (5 : 50) (حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے ؟ ) ۔۔۔۔۔ ہاں یہ بالکل درست ہے کہ اللہ کے قانون اور احکام کے علاوہ اور کوئی قانون اور حکم نہیں ہے کون ہے جو یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ لوگوں کا قانون ساز ہے ۔ یا وہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں زیادہ اچھا قانون بنا سکتا ہے ۔ وہ اس عظیم دعوے کے حق میں کیا دلیل رکھتا ہے ۔
کیا کوئی یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ لوگوں کے خالق کے مقابلے میں لوگوں کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہو لوگوں کے رب کے مقابلے میں ان کا زیادہ ہمدرد ہے اور کوئی ہے جو یہ کہہ سکتا ہو کہ وہ الہ العالمین کے مقابلے میں لوگوں کی مصلحتوں سے زیادہ باخبر ہے ؟ کیا کوئی یہ کہنے کی جرات کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو لوگوں کے لئے آخری شریعت بنا رہا تھا ‘ جو اپنے رسول ﷺ کو خاتم النبین بنا رہا تھا ‘ جو انکی رسالت کو خاتم الرسالات بنا رہا تھا اور ان کی شریعت کو شریعت ابدی بنا رہا تھا کیا اللہ قیامت تک آنے والے حالات میں سے کسی حال سے بیخبر تھا کہ ایسا حال بھی آئے گا ۔ کیا وہ اس سے بیخبر تھا کہ لوگوں کی نئی نئی ضروریات پیدا ہوں گی ‘ نئے حالات پیدا ہوں گے اور اللہ نے اس قانوں سازی میں ان کا کوئی خیال نہ رکھا ۔ مطلب پھر یہ ہوگا کہ اللہ کو ان حالات کا علم نہ تھا اور یہ علم اب آخری زمانے میں لوگوں پر منکشف ہوا۔
اس سوال کا وہ شخص جواب دے جو زندگی کے دھارے سے اسلامی شریعت کو نکالنا چاہتا ہے ۔ اس کی جگہ جاہلیت کی شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے ۔ وہ اپنی خواہشات کو قانون میں بدلنا چاہتا ہے ‘ یا کسی قوم کی خواہشات کو قانون سمجھتا ہے یا کسی نسل کی خواہشات کو اللہ کے حکم اور اللہ کے قانون سے اونچا سمجھتا ہے ۔ میں پوچھتا ہوں کہ ایسا شخص درج بالا سوالات کا جواب کیا دیتا ہے اور خصوصا اگر یہ شخص اپنے بارے میں یہ زعم بھی رکھتا ہے کہ وہ مسلمان ہے ۔
حالات ماحول ‘ لوگوں کا دلچسپی نہ لینا ‘ دشمنوں کا خوف وغیرہ کیا یہ تمام امور اللہ کے علم میں نہ تھے ؟ خصوصا اس وقت جب اللہ مسلمانوں کو یہ حکم دے رہا تھا کہ وہ اپنے معاشرے میں معاشرے میں شریعت نافذ کریں ‘ اسلامی نظام کے مطابق زندگی بسر کریں اور اللہ تعالیٰ نے جو احکام نازل کئے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑیں ۔
کیا یہ بات اللہ کے علم میں نہ تھی ۔ نئے نئے حالات پیدا ہوں گے اور ان میں کوئی شرعی حکم نہ ہوگا ۔ نئی نئی عادات پیدا ہوں گی اور انسان کو حالات مجبور کریں گے ۔ یہ سب باتیں اللہ کے علم میں تھیں جب اللہ بڑی سختی سے یہ حکم دے رہے تھے کہ شریعت کو نافذ کرو اور اگر وہ نافذ نہ کریں تو انہیں اس قدر سخت نتائج سے ڈرا رہا تھا ۔
ایک غیر مسلم تو جو چاہے کہہ سکتا ہے لیکن مسلمان ‘ جو اسلام کے داعی ہیں ‘ وہ ان سوالات کا کیا جواب دیں گے ۔ کیا وہ اسلام پر قائم رہ سکتے ہیں یا ان کے پاس اسلام سے کوئی چیز رہ سکتی ہے اگر وہ یہی سوچیں اور یہی کہیں ؟
لاریب یہ ایک فیصلہ کن اور دو ٹوک معاملہ ہے ‘ انسان دورا ہے پر کھڑا ہے ۔ کوئی اور راہ نہیں ہے اور اس میں کوئی بحث و تکرار ممکن نہیں ۔ اور نہ کوئی حجت بازی کام کرسکتی ہے یا ایک راہ ہے اور یا دوسری راہ ہے ۔۔۔۔۔ یا اسلام ہے اور یا جاہلیت ہے یا ایمان ہے اور یا کفر ہے ‘ یا اللہ کا حکم ہوگا اور یا جاہلیت کی حکمرانی ہوگی ۔ اور جو لوگ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ‘ ظالم اور فاسق ہوں گے ۔ اور محکوموں میں سے جو لوگ اللہ کے احکام کو قبول نہیں کرتے وہ مومن نہیں رہتے ۔
ایک مومن کے دل اور فکر میں یہ مسئلہ نہایت ہی واضح اور دو ٹوک ہونا چاہئے ۔ اسے چاہئے کہ وہ نفاذ شریعت میں کسی زمان ومکان کے اثر کو قبول نہ کرے ، نہ تردد کرے اور وہ اس معاملے میں دوست اور دشمن کا کوئی لحاظ نہ کرے ۔ جب تک اس مسئلے میں اہل اسلام اپنے ضمیروں میں دو ٹوک فیصلہ نہیں کرتے تو ان کے حالات درست نہیں ہو سکتے نہ ان کا کوئی ایک معیار اور میزان ہوگا نہ ان کا نظام واضح ہوگا نہ ان کے ضمیر کے اندر حق اور باطل کی کوئی تمیز ہوگی اور نہ وہ اسلام کی شاہراہ پر ایک قدم بھی آگے بڑھ سکیں گے اگر یہ اجازت دی جاتی ہے کہ یہ مسئلہ جماہیر کے ذہنوں میں واضح نہ ہو مجمل ہی رہے ‘ اور لوگوں اور عوام الناس کے ہاں یونہی ڈھیل رہے جس طرح کہ ہے ۔ اور لیکن جو لوگ صحیح طرح مسلمان بننا چاہتے ہیں ان کے ذہن تو صاف ہونے چاہئیں ۔ ان کو تو چاہئے کہ وہ اپنے اندر یہ صفت پیدا کریں ۔
درس نمبر 50 ایک نظر میں :
اس سورة کے زمانہ نزول کے بارے میں ‘ مقدمہ میں ہم نے جو کچھ کہا تھا ‘ اس سبق کی آیات اس کی تصدیق کرتی ہیں ‘ یعنی یہ کہ یہ سورة تمام سورة فتح کے بعد نازل نہیں ہوئی ‘ جو صلح حدیبیہ کے بعد چھٹی صدی ہجری میں نازل ہوئی تھی ۔ اس سورة کے کئی ٹکڑے ہیں جو اس سے پہلے نازل ہوچکے ہوں گے ۔ یعنی کم از کم بنی قریظہ کی جلا وطنی سے پہلے جو چار ہجری میں ہوئی ‘ یعنی عام الاحزاب میں اگرچہ اس سے مزید پہلے یعنی بنی نضیر کی جلاوطنی (بعد جنگ احد) اور بنی قینقاع کی جلاوطنی (بعد جنگ بدر) کے دور تک ہم اسے قدیم نہ کہہ سکیں ۔
بہرحال یہ آیات کچھ واقعات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور جماعت مسلمہ کے اندر پیش آنے والے بعض واقعات کی طرف ان میں اشارہ ہے ۔ ان میں وہ حالات لئے گئے ہیں جو مدینہ میں منافقین اور یہودیوں کے حوالے سے موجود تھے اور یہ حالات اس وقت ہر گز نہیں رہ سکتے تھے جب کہ یہودیوں کی قوت اور شوکت کو توڑدیا گیا تھا اور ان پر آخری وار واقعہ بنی قریظہ کی صورت میں 4 ہجری میں ہوچکا تھا ۔
یہ ممانعت کہ یہود ونصاری کو دوست نہ بناؤ اور یہ ڈراوا بلکہ یہ دھمکی کہ وہ لوگ ان کو دوست بنائیں گے وہ انہی میں سے ہوں گے ‘ اور یہ اشارہ کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ‘ وہ ان کے ساتھ دوستی کرتے ہیں اور وہ اس پر اپنی یہ مجبوری بیان کرتے ہیں کہ وہ مصیبتوں سے ڈرتے ہیں اور یہ مسلمانون کو نفرت دلانا کہ ان لوگوں سے اس لئے دوستی نہ کرو کہ یہ تمہارے دین کو لہو ولعب سمجھتے ہیں اور یہ اشارہ کہ یہ لوگ اقامت صلوۃ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ یہ سب واقعات ممکن ہی تب ہو سکتے ہیں کہ مدینہ میں یہودیوں کو پوری قوت اور شوکت حاصل ہو ۔ اگر یہ قوت نہ ہوتی تو اس قسم کے حالات کا مدینہ میں مدینہ میں پیش آنا ممکن ہی نہ تھا ۔ نہ ایسے واقعات پیش آسکتے تھے ‘ اور نہ اس قدر شدید دھمکی اور ڈراوے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی ۔ اور اس مررسہ کرر مخالفت کی ضرورت نہ ہوتی ‘ نیز یہودیوں کی جبلت کو بیان نہ کیا جاتا اور انکی اس طرح تشہیر نہ ہوتی اور نہ ہی ان پر اس قدر تنقید ہوتی ۔ نہ ان کے مکر و فریب کا پردہ چاک کرنے کی ضرورت ہوتی ۔ نہ ان کے حالات کو اس قدر دہرایا جاتا یا اس قدر روشنی ڈالی جاتی ۔
بعض روایات ایسی بھی ہیں ‘ جن میں سے بعض حالات وواقعات کا تعلق واقعہ بنی قینقاع سے بتایا گیا ہے ‘ حالانکہ یہ واقعہ غزوہ بدر کے بعد پیش آیا تھا ۔ ان کے بارے میں عبداللہ ابن ابی ابن السلول کا موقف اور اس کا یہ کہنا کہ یہودی اس کے دوست ہیں اور یہ کہ وہ یہودیوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ، مثلا اس کا یہ کہنا کہ میں ایک آدمی ہوں کہ میں برے حالات سے ڈرتا ہوں اس لئے میں اپنے حلیفوں کی حمایت نہیں چھوڑ سکتا ۔
یہ روایات اگر نہ بھی ہوں تب بھی سورة کے موضوع اور مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے موضوعات اس کے اندر بیان کردہ واقعات ‘ سیرت النبی کے واقعات اور مدینہ طیبہ میں اس کے مراحل ‘ ادوار سب کے سب اسی بات کو ترجیح دیتے ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا نیز سورة کے مقدمہ میں بھی یہی موقف اختیار کیا۔
اس سبق کی تمام آیات سے وہ اسلوب معلوم ہوتا ہے جس کے مطابق قرآنی منہاج تربیت نے جماعت مسلمہ کو اس رول کے ادا کرنے کے لئے تیار کیا جو اس نے من جانب اللہ اس دنیا میں ادا کرنا تھا ۔ نیز ان آیات سے وہ بنیادی عناصر بھی معلوم ہوتے ہیں جن کا ایک نفس مسلم اور ایک جماعت مسلمہ کی فکر اور سوچ کے اندر ہونا ضروری تھا ۔ یہ بنیادی عناصر ہر دور کے لئے وہی ہیں ۔ یہ مستقل عناصر ہیں اور مستقل اصول ہیں اور یہ کسی دوریا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں یہی وہ اصول ہیں جن کے اوپر ایک فرد کی تعمیر ہوتی ہے ۔ نیز ایک جماعت کی تنظیم بھی انہیں اصولوں پر ہوتی ہے ۔
قرآن کریم ہر مسلم فرد کی تعمیر اس اساس پر کرتا ہے کہ اس کی تمام ہمدردیاں پورے خلوص کے ساتھ اللہ ‘ رسول ‘ نظریہ اور اس پر قائم ہونے والی جماعت کے ساتھ ہوں ۔ ایک مسلم فرد اور جماعت اور اس فرد اور جماعت کے درمیان مکمل بائیکاٹ ہونا چاہئے جو اسلامی صفوں کے بالمقابل کھڑی ہے اور اس جس نے اسلام کے مخالف جھنڈے اٹھا رکھے ہیں یعنی جو جماعت حضرت نبی کریم ﷺ کی قیادت کو تسلیم نہیں کرتی اور اس جماعت میں ضم نہیں ہوتی جو حزب اللہ کے مقام پر کھڑی ہے ۔ قرآن کریم انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ خوش قسمت ہے کہ اسے اللہ نے اپنے کام کے لئے چنا ہے اور وہ پردہ تقدیر الہی ہے اور اس کے ذریعے اللہ کی تقدیریں پردے سے ظاہر ہوتی ہیں ‘ ان تاریخی واقعات کی صورت میں جو پیش آتے ہیں اور یہ اللہ کا وہ کرم عظیم ہے کہ جس کے حصے میں آگیا سو آگیا ۔ الا یہ کہ اسلامی جماعت کے سوا تمام دوسری جماعتوں کے ساتھ دوستی گانٹھنا دین اسلام سے ارتداد کے مترادف ہے اور اس مقام کو ترک کردینا ہے جو اللہ نے ان کو عطا کیا اور اس خلعت فضیلت کو اتار پھینکنا ہے جو اللہ نے اسے پہنائی تھی ۔
یہ ہدایات اس سبق کی آیات میں بہت ہی واضح طور پر دی گئی ہیں مثلا اے ایمان والو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے ‘ یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے ۔ ‘ ‘
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ۔ (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے ‘ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ جسے چاہے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ “
” تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب ہونے والی ہے ۔ “
اس کے بعد قرآن کریم ایک مسلم کے شعور میں اس کے دشمنوں کی حقیقت بھی بٹھاتا ہے ‘ اور اس کشمکش کی حقیقت سے بھی انہیں آگاہ کرتا ہے جو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہے ۔ یہ کشمکش نظریاتی کشمکش ہے ۔ عقیدہ اور نظریہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ایک مسلمان اور اس کے دشمنوں کے درمیان ہر وقت برپا رہتا ہے ۔ مسلمانوں کی دشمنی تمام دوسری چیزوں سے پہلے اپنے عقیدے اور دین کے لئے ہوتی ہے ۔ اہل کفر مسلمانوں کے ساتھ یہ دشمنی اس لئے رکھتے ہیں کہ انہوں نے اس دین کی نافرمانی کی ٹھانی ہوئی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی اس دین پر سیدھا چل رہا ہو وہ اسے سخت ناپسند کرتے ہیں ۔
” ان سے کہو اے اہل کتاب ‘ تم جس بات پر ہم سے بگڑے ہو ‘ وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور دین کی اس تعلیم پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی ‘ اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ۔ “ یہ ہے نظریہ اور یہ ہے نظریاتی اختلاف اور یہ ہیں اختلافی محرکات ۔
اس نظام تربیت اور اس میں دی جانے والی ہدایات کی اہمیت بہت ہی بڑی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کی ساتھ محبت اور رسول اور اس کے دین کے ساتھ والہانہ لگاؤ اور اس کی اساس پر قائم ہونے والی جماعت کے ساتھ لگاؤ اور محبت اور اس دین اور اس کے دشمنوں کے درمیان قائم ہونے والی کشمکش کی اصل نوعیت کو سمجھنا اور اس کے دشمنوں کو اچھی طرح جان لینا ہی اصل دین ہے ۔ یہ ایسے امور ہیں کہ جن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ انکی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ ان کے بغیر ایمان کی ضروری شرائط پوری نہیں ہوتیں ‘ ایک مسلمان کی ذاتی تربیت بھی نہیں ہوتی اور اس دین کے لئے کسی محرک جماعت کی تشکیل بھی ممکن نہیں ہے ۔ جو لوگ اس دین کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں وہ اس وقت تک پکے مسلمان نہیں ہو سکتے ‘ اس وقت وہ ٹھوس شخصیت کے مالک نہیں ہو سکتے اور اس وقت تک وہ اس کرہ ارض پر کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے جب تک ان کے دلوں کے اندر ان تمام لوگوں کے مقابلے میں دوری نہیں پیدا ہوجاتی جو اس اسلامی محاذ کے خلاف جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔ جب تک اہل ایمان کی محبت اور دوستی اللہ ‘ رسول اور اہل ایمان کے لئے مختص نہیں ہوجاتی اور جب تک وہ اس کشمکش کی اصل حقیقت کو پا نہیں لیتے اس وقت تک دین کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے ۔ اور جب تک ان کو یہ یقین نہیں ہوتا ہے کہ وہ محض اس غرض کے لئے جمع ہوئے ہیں ‘ اور یہ کہ ہمارے دشمن سب کے سب اسلامی جماعت اور اسلامی عقائدے کے خلاف متحد ومتفق ہیں۔
ان آیات میں اس پر اکتفاء نہیں کیا گیا کہ مسلمانوں کو وہ اسباب بتا دیئے جائیں جن کی وجہ سے دشمنان دین اسلام کے خلاف جنگ برپا کئے ہوئے ہیں بلکہ ان آیات میں دشمنوں کی نشاندہی بھی کردی گئی ہے ۔ ان کے فسق وفجور کی مقدار کی وضاحت بھی کردی گئی ہے اور یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ وہ دین سے کس قدر منحرف ہوگئے ہیں تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہوجائے کہ ان کو کیسے دشمنوں سے واسطہ پڑا ہے اور اس کا ضمیر بھی مطمئن ہوجائے کہ وہ اس معرکے میں حق بجانب ہیں۔ اس جنگ کی سخت ضرورت ہے ۔ اور اس سے کوئی مفر نہیں ہے ۔ ” اے ایمان والو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ یہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ “ ۔
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تمہارے اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنایا ہے انہیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ ۔ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو ۔ جب تم نماز کے لئے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس سے کھیلتے ہیں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے ۔ “
” جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ‘ حالانکہ کفر لئے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں بہت ہی بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں “۔
” یہودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ‘ باندھے گئے ان کے ہاتھ ۔ اور لعنت پڑی ان پر اس بکواس کے بدولت جو یہ کرتے ہیں ۔ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے ۔ “ ۔
اس وجہ سے کہ ان کی یہ صفات ہیں اور اس وجہ سے کہ جماعت مسلمہ کے ساتھ ان کا یہ رویہ ہے ‘ اور اس وجہ سے کہ یہ جماعت مسلمہ کے خلاف سب اکھٹے ہوچکے ہیں ‘ اور اس وجہ سے کہ وہ مسلمانوں کے دین اور خصوصا نماز کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں ‘ ایک صحیح مسلمان کے لئے اور کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے کہ وہ پوری سنجیدگی اور پورے اطمینان کے ساتھ ‘ ان لوگوں کی مدافعت کرے ۔
ان تصوص کے اندر اس معرکے کے انجام کا ذکر بھی کردیا گیا ہے اور اس کا پورا نتیجہ بھی یہاں دے دیا ہے ۔ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ آخرت سے بھی پہلے خود اس دنیا میں اسلام کیا رنگ لاتا ہے : ” اور جو اللہ اور رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے ۔ “ ۔۔۔۔۔ اگر یہ اہل کتاب ایمان لے آتے ‘ اور خدا ترسی کی روش اختیار کرتے ‘ تو ہم انکی برائیاں ان سے دور کردیتے ۔ اور ان کی نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے ۔ کاش انہوں نے تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں ‘ ایسا کرتے تو ان کے لئے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا ۔ “
نیز ان آیات میں ایسے مسلمانوں کی صفات کا بھی تذکرہ ہے جن کو اللہ اپنے دین کی خدمت کے لئے چن لیتا ہے اور ان کو یہ فضل عظیم عطا کرتا ہے کہ انہیں اس عظیم کردار کے لئے اس نے چن لیا ۔
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ۔ (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے ‘ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ جسے چاہے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ “
یہ تمام فیصلے اور قرار دایدیں اسلامی نظام کے قیام کے لئے اقدامات ہیں اور ان سے مقصود یہ ہے کہ ایک مسلم فرد اور مسلم جماعت کی ٹھوس بنیادوں پر تربیت کی جائے ۔