(آیت) ” نمبر 8۔
اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات سے روکا تھا کہ وہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے کہ انہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا تھا ‘ بےانصاف کرنے سے ہاتھ کھینچ لیں اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ کر بیٹھیں ضبط نفس اور رواداری کی یہ انتہا تھی جہاں تک اللہ تعالیٰ ان کو پہنچانا چاہتے تھے اور یہ اللہ کا نہایت ہی مضبوط منہاج تربیت تھا ۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس بات سے روکتے ہیں کہ وہ دشمنی کی وجہ سے عدل سے رک نہ جائیں ۔ یہ ایک نہایت ہی اعلی چوٹی ہے اور اس قدر مشکل اور دشوار گزار راہ ہے کہ اس پر چلنا نفس کے لئے نہایت ہی باعث مشقت ہے۔ پہلی آیت میں تھا کہ تم دشمنی کی وجہ سے ظلم نہ کرو اور یہ مرحلہ اس سے آگے کا ہے کہ دشمنی کے باوجود انصاف کرو ‘ یعنی باوجود اس کے کہ ان کے خلاف تمہارے جذبات مشتعل ہیں اور تم کراہت محسوس کرتے ہو پھر بھی عدل کرو۔ پہلا حکم بہت ہی آسان تھا اس لئے کہ وہ منفی کام تھا ‘ انسان اس سے رک سکتا تھا کہ ظلم نہ کرے ۔ رہا دوسرا حکم کہ ان ظالموں کے ساتھ اور دشمنوں کے ساتھ عدل و انصاف کرو یہ ایک مثبت اور پر مشقت کام ہے یعنی انفس انسانی کو ایسے مبغوض اور قابل نفرت لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے پر مجبور کرنا ۔
اسلام کا حکیمانہ نظام تربیت اپنے تربیت یافتہ لوگوں سے ایسا مشکل کام کروا سکتا تھا اس لئے اسلام حکم دیتا ہے ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ لِلّہِ شُہَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہوں اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ ۔ عدل کرو ‘ یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور اس کے بعد وہ بات بتائی جاتی ہے جو اس مشکل کام کے لئے معین و مددگار ہے ۔
(آیت) ” واتقوا اللہ ، ان اللہ خبیر بما تعملون “۔ (5 : 8) اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ‘ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ سے پوری طرح باخبر ہے ۔ ) انسان کا نفس اس قدر بلندی تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا ‘ الا یہ کہ اس کام کا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست ہو ‘ جس وقت انسان صرف اللہ کے لئے کھڑا ہوجائے اور اللہ کے سوا ہر چیز کو چھوڑ دے ۔ جس وقت انسان کو خدا خوفی کا شعور ہو اور اسے یہ احسان ہو کہ اللہ کی نظروں سے کوئی خفیہ بات بھی بلند کرسکتی ہے۔
دنیا میں کوئی ایسا نظام نہیں ہے جو انسانوں کو ایسا انصاف دے سکتا ہو جس میں دوست اور دشمن برابر ہوں ۔ یہ صرف دین اسلام کا کام ہے جو اہل ایمان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ انصاف کے معاملے میں محض اللہ کے لئے کھڑے ہوجائیں اور وہ انصاف کے لئے ماسوائے انصاف کے ہر سوچ (ConsiderAtion) ترک کردیں ۔
یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جن کی وجہ سے اس دین کو دین انسانیت اور عالمی دین قرار دیا گیا ہے ۔ اس کا نظام تمام لوگوں کے لئے بالکل کافی ہے ‘ چاہے وہ لوگ اس دین کے ماننے والے ہوں یا نہ ماننے والے ہوں۔ تمام لوگ اس کے زیر سایہ عدل و انصاف کی زندگی گزار سکتے ہیں ۔ انصاف قائم کرنا ان لوگوں پر فرض ہے جو اس دین کے ماننے والے ہیں اور اس قیام عدل میں ان کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ ہے ‘ اگرچہ وہ انصاف چاہنے والوں کے ظلم وعدوان کا شکار رہے ہوں اور ان کے دل میں ان کی دشمنی ہو ۔ یہ اس امت کا فریضہ ہے جسے اس پوری انسانیت کا نگران بنایا گیا ہے ۔ اگرچہ اس عدل کے قیام میں اسے مشکلات پیش آئیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس امت نے یہ فریضہ تاریخ میں بہت ہی اچھی طرح ادا کیا ہے ۔ اس نے اس کی راہ میں عظیم مشقتیں برداشت کی ہیں ‘ جبکہ اسلام قائم تھا اور یہ اس امت کی زندگی میں محض وعظ اور نصیحت کا کام نہ تھا ۔ نہ اعلی نمونوں کی چند مثالیں تھیں ‘ بلکہ یہ اس کی روز مرہ زندگی کی صورت حالات تھی ۔ یہ ایسی صورت حالات تھی جس کو انسانیت نے نہ کبھی پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں دیکھا ۔ اس معیار پر صرف اسلامی نظام زندگی ہی میں انسانیت نے یہ انصاف دیکھا ۔ اس کی مثالیں اور بلند ترین مثالیں اسلامی تاریخ میں لاتعداد ہیں اور تاریخ کا حصہ ہیں ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی ہدایات اور اس کی مقرر کردہ ڈیوٹیاں امت مسلمہ کی زندگی میں ایک واقعی اور عملی نظام کی شکل میں دیکھی گئیں جو بڑے سادہ طریقے سے ادا ہوتی رہیں ۔ اور اس امت کی روز مرہ کی زندگی میں وہ منقش اور مجسم تھیں ۔ یہ محض خیالی اعلی معیاروں کی باتیں نہ تھیں ‘ نہ کچھ انفرادی اعلی نمونے تھے بلکہ وہ عملی زندگی کا ایک نقش دل پذیر تھا جس کے سوا آج تک اعلی معیار کے نقوش انسان کو نظر نہ آئے ۔
جب اس اعلی مقام سے اور بلند ترین چوٹی سے دنیا کی جاہلیت پر نگاہ ڈالی جائے چاہے وہ جس زمان میں ہو اور جس مکان میں ہو ‘ جن جاہلیتوں میں دور جدید کی پالش شدہ جاہلیت بھی شامل ہے تو نگاہ ڈالنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے اللہ نے انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ وہ نظام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لئے بنایا ہے۔ اس مقام بلند سے نظر آتا ہے کہ اسلامی نظام حیات اور ان تمام جاہلی نظامہائے حیات کے درمیان اس قدر طویل فاصلے ہیں جنہیں عبور نہیں کیا جاسکتا ۔ عملی زندگی کے اعتبار سے بھی اور انسانی ضمیر اور عقائد کے اعتبار سے بھی ۔
بعض اوقات لوگ اصول تو پہنچان لیتے ہیں اور اصول پسندی کے نعرے بھی لگاتے ہیں لیکن اصولوں کو عملی شکل میں برتنا اصل چیز ہے ۔ یہ فطری بات ہے کہ لوگ اصولوں کی بات کرتے ہیں اور یہ بات وہ اور لوگوں کے لئے کرتے ہیں لیکن یہ اصول عالم عمل میں موجود نہیں ہوتے ۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو اصولوں کی طرف دعوت دیجائے بلکہ دیکھنا چاہیے کہ جہاں سے دعوت آرہی ہے ‘ جو دعوت کا مقصد ہے اور جو داعی ہے وہ کیسا ہے چاہئے تو یہ کہ دعوت داعی کے ضمیر اور اس کے اندرون پر حکمران ہو۔ اصل بات وہ مرجع ہے جہاں سے دعوت جاری ہوتی ہے اور داعی کی جدوجہد اور داعی کی وہ محنت ہے جو وہ دعوت اور اصولوں کو عملی شکل دینے میں خرچ کرتا ہے ۔
دعوت اسلامی کی اصل قدر و قیمت یہ ہے کہ چند دینی اصولوں کی طرف یہ دعوت دی جاتی ہے ۔ ان کی قدروقیمت دین اسلام کی سند سے ہوتی ہے ۔ دین اسلام کی قدروقیمت یہ ہے کہ وہ اللہ کا دین ہے اس لئے جو شخص دین کی دعوت دیتا ہے تو وہ اللہ کے سوا کسی اور کا سہارا اور سند نہیں لیتا اور اگر کسی کی مدد سے کبھی ایسا ہو بھی جائے تو اس سند کا لوگوں کے ایمان وضمیر پر اثر کیا ہوتا ہے ۔ اور لوگوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ کسی اور کے اصولوں کو نافذ کرنے کے لئے جدوجہد کریں اور کسی اور کے پاس ہے کیا وہ لوگوں کو بطور اجر دے گا ۔
ہزارہا لوگ عدل کے حق میں نعرے لگاتے ہیں ‘ پاکیزگی کے نعرے لگاتے ہیں ‘ آزادی کے لئے نعرے لگاتے ہیں رواداری ‘ الوالعزمی ‘ محبت ‘ قربانی اور ایثار کے نعرے لگاتے ہیں لیکن ان نعروں کے نتیجے میں لوگوں کا ضمیر اپنی جگہ سے نہیں ہلتا ‘ اور دلوں پر ان کا اثر نہیں ہوتا ‘ اس لئے کہ وہ ایک ایسی دعوت دے رہے ہوتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی سند نہیں ہوتی ہے ۔ غرض اصل بات صرف زبانی جمع خرچ کی نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت وہ چیز ہے جو بات کی پیچھے ہوتی ہے ۔
لوگ اپنے جیسے لوگوں کے منہ سے اصول بلند نمونے اور بلند علامات کی بات سنتے رہتے ہیں لیکن انکی پشت پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہیں ہوتی ۔ پس ان کی اس بات کا اثر کیا ہوتا ہے ۔ ان کی فطرت یہ کہتی ہے کہ یہ ایک بات ہے جو ان جیسے لوگوں کی طرف سے ہے ۔ اور یہ بات کرنے والے میں وہ تمام نقائص ‘ عیوب اور کو تاہیاں موجود ہیں جو دوسرے لوگوں میں موجود ہوتی ہیں ۔ انسان ان باتوں کو صرف اس اساس پر لیتے ہیں اس لئے ان کی فطرت پر ان باتوں کی حکمرانی نہیں ہوتی نہ یہ باتیں ان کی شخصیت کو جھنجوڑ سکتی ہیں ۔ ان باتوں کے اثرات ‘ ان لوگوں پر نہیں ہوتے ‘ اگر کوئی اثر ہوتا بھی ہے تو وہ تار عنکبوت کی طرح کمزور ہوتا ہے ۔
پھر یہ دینی اصولوں کی ہدایت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتیں جب تک ان کی زندگی میں عملی شکل نہ دی جائے اسلام ان ہدایات کو محض ہوا میں بکھیر نہیں دیتا بلکہ ان کو عملی زندگی میں نافذ کرتا ہے اس لئے دین جب صرف مشورہ بن جائے اور صرف چند مراسم عبودیت کا نام رہ جائے تو پھر اس کے یہ مشورے حقیقت کا روپ اختیار نہیں کرتے ۔ یہ صورت حال ہمیں آج ہر جگہ نظر آتی ہے کہ اہل دین صرف مشورے دیتے ہیں مگر ان کے پاس قوت نافذہ نہیں ہے ۔
لہذا اصل بات یہ ہے کہ دین کے لئے ایک نظام حیات ضروری ہے جو دین کے منہاج کے مطابق ہو اور اس نظام کی روشنی میں اسلامی ہدایات پر عمل کیا جائے ۔ یہ نظام ان ہدایات کو زندگی کے تمام طور طریقوں میں عملی اور عملی اقدامات کے درمیان مکمل توازن کے ساتھ نافذ کر دے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے دین کو بھی مفہوم ہے ۔ یعنی دین سے مراد وہ نظام زندگی ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں پر حکمران ہو ۔ اس کی پشت پر قوت نافذہ ہو۔
جماعت مسلمہ کی زندگی میں جب دین اپنے اس مفہوم کے ساتھ حقیقت کا روپ اختیار کرلے ‘ تب ہی وہ اس دنیا میں بلندی تک پہنچ سکتی ہے اور پھر وہاں سے پوری انسانیت کا جائزہ لے سکتی ہے ۔ اس انسانیت پر جو ابھی تک جدید جاہلیت کے گڑھوں میں افتادہ ہے ‘ جس طرح نزول قرآن کے وقت عربوں کی قدیم جاہلیت کے گڑھوں میں لوگ اوندھے گرے ہوئے تھے لیکن جب دین کو منبر پر وعظ اور مساجد کے اندر چند مراسم عبودیت تک محدود کردیا جائے اور زندگی کے وسیع عملی میدان سے اسے خارج کردیا جائے تو اس صورت میں انسان کی عملی زندگی میں دین کی کچھ حقیقت بھی نہ ہوگی ۔ نہ اسے نافذ کیا جاسکے گا ‘ نہ اس کی عملی شکل میں سامنے آئے گی ۔
مومنین کے لئے اللہ کی جانب سے اجر ضروری ہے ۔ وہ مومنین جو معاملہ صرف اللہ کی ذات کے ساتھ کرتے ہیں تاکہ وہ مزید جوش و خروش اور پوری قوت کے ساتھ اپنی ڈیوٹی برائے نگرانی بشریت ادا کریں ۔ اللہ کے ساتھ انہوں نے جو پختہ عہد کیا ہے اسے پورا کریں ۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کی راہ میں کام کرنے والوں اور نیک عمل کرنے والوں اور ان لوگوں کے انجام میں فرق ہو جو اسلام سے انکار کرتے ہیں ۔
آیت 8 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِ ز یہاں پر سورة النساء کی آیت 135 کا حوالہ ضروری ہے۔ سورة النساء کی آیت 135 اور زیر مطالعہ آیت المائدۃ : 8 میں ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے ‘ فرق صرف یہ ہے کہ ترتیب عکسی ہے دونوں سورتوں کی نسبت زوجیت بھی مدّ نظر رہے۔ وہاں الفاظ آئے ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُہَدَاءَ لِلّٰہِ اور یہاں الفاظ ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِ ز۔ ایک حقیقت تو میں نے اس وقت بیان کردی تھی کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ گویا اللہ اور قسط مترادف ہیں۔ ایک جگہ فرمایا : قسط کے لیے کھڑے ہوجاؤ اور دوسری جگہ فرمایا : اللہ کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ اسی طرح ایک جگہ اللہ کے گواہ بن جاؤ اور دوسری جگہ قسط کے گواہ بن جاؤ فرمایا۔ تو گویا اللہ اور قسط ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر آئے ہیں۔ دوسرا اہم نکتہ اس آیت سے ہمارے سامنے یہ آرہا ہے کہ معاشرے میں عدل قائم کرنے کا حکم ہے۔ انسان فطرتاً انصاف پسند ہے۔ انصاف عام انسان کی نفسیات اور اس کی فطرت کا تقاضا ہے۔ آج پوری نوع انسانی انصاف کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ انصاف ہی کے لیے انسان نے بادشاہت سے نجات حاصل کی اور جمہوریت کو اپنایا تاکہ انسان پر انسان کی حاکمیت ختم ہو ‘ انصاف میسر آئے ‘ مگر جمہوریت کی منزل سراب ثابت ہوئی اور ایک دفعہ انسان پھر سرمایہ دارانہ نظام Capitalism کی لعنت میں گرفتار ہوگیا۔ اب سرمایہ دار اس کے آقا اور ڈکٹیٹربن گئے۔ اس لعنت سے نجات کے لیے اس نے کمیونزم Communism کا دورازہ کھٹکھٹایا مگر یہاں بھی متعلقہ پارٹی کی آمریت One Party Dictatorship اس کی منتظر تھی۔ گویا رست ازیک بند تا افتاد دربندے دگر یعنی ایک مصیبت سے نجات پائی تھی کہ دوسری آفت میں گرفتار ہوگئے۔ اب انسان عدل اور انصاف حاصل کرنے کے لیے کہاں جائے ؟ کیا کرے ؟ یہاں پر ایک روشنی تو انسان کو اپنی فطرت کے اندر سے ملتی ہے کہ اس کی فطرت انصاف کا تقاضا کرتی ہے اور اپنی فطرت کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے وہ عدل قائم کرنے کے لیے کھڑا ہوجائے ‘ مگر اس سے اوپر بھی ایک منزل ہے اور وہ یہ ہے کہ العدل اللہ کی ذات ہے جس کا دیا ہوا نظام ہی عادلانہ نظام ہے۔ ہم اس کے بندے ہیں ‘ اس کے وفادار ہیں ‘ لہٰذا اس کے نظام کو قائم کرنا ہمارے ذمے ہے ‘ ہم پر فرض ہے۔ چناچہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِز میں اسی بلند تر منزل کا ذکر ہے۔ یہ صرف فطرت انسانی ہی کا تقاضا نہیں بلکہ تمہاری عبدیت کا تقاضا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کے رشتے کا تقاضا ہے کہ پوری قوت کے ساتھ ‘ اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ‘ جو بھی اسباب و ذرائع میسر ہوں ان سب کو جمع کرکے کھڑے ہوجاؤ اللہ کے لیے ! یعنی اللہ کے دین کے گواہ بن کر کھڑے ہوجاؤ۔ اور اس دین میں جو تصور ہے عدل ‘ انصاف اور قسط کا اس عدل و انصاف اور قسط کو قائم کرنے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ یہ ہے اس حکم کا تقاضا۔ اب دیکھئے ‘ وہاں سورۃ النساء آیت 135 میں کیا تھا : اے ایمان والو ! انصاف کے علمبردار اور اللہ واسطے کے گواہ بن جاؤ۔ وَلَوْ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ اگرچہ اس کی تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین یا رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔انصاف سے روکنے والے عوامل میں سے ایک اہم عامل مثبت تعلق یعنی محبت ہے۔ اپنی ذات سے محبت ‘ والدین اور رشتہ داروں وغیرہ کی محبت انسان کو سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ میں اپنے خلاف کیسے فتویٰ دے دوں ؟ اپنے ہی والدین کے خلاف کیونکر فیصلہ سنا دوں ؟ سچی گواہی دے کر اپنے عزیز رشتہ دارکو کیسے پھانسی چڑھا دوں ؟ لہٰذا وَلَوْ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ۔۔ فرما کر اس نوعیت کی تمام عصبیتوں کی جڑکاٹ دی گئی کہ بات اگر حق کی ہے ‘ انصاف کی ہے تو پھر خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ جا رہی ہو ‘ تمہارے والدین پر ہی اس کی زد کیوں نہ پڑ رہی ہو ‘ تمہارے عزیز رشتہ دار ہی اس کی کاٹ کے شکار کیوں نہ ہو رہے ہوں ‘ اس کا اظہار بغیر کسی مصلحت کے ڈنکے کی چوٹ پر کرنا ہے۔ اس سلسلے میں دوسرا عامل منفی تعلق ہے ‘ یعنی کسی فرد یا گروہ کی دشمنی ‘ جس کی وجہ سے انسان حق بات کہنے سے پہلو تہی کرجاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ بات تو حق کی ہے مگر ہے تو وہ میرا دشمن ‘ لہٰذا اپنے دشمن کے حق میں آخر کیسے فیصلہ دے دوں ؟ آیت زیر نظر میں اس عامل کو بیان کرتے ہوئے دشمنی کی بنا پر بھی کتمانِ حق سے منع کردیا گیا :وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلاَّ تَعْدِلُوْا ط اِعْدِلُوْاقف ہُوَ اَقْرَبُ للتَّقْوٰی ز وَاتَّقُوا اللّٰہَط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ rّ تمہارا کوئی عمل اور کوئی قول اس کے علم سے خارج نہیں ‘ لہٰذا ہر وقت چوکس رہو ‘ چوکنے رہو۔ آیت زیر نظر اور سورة النساء کی آیت 135 کے معانی و مفہوم کا باہمی ربط اور الفاظ کی عکسی اور reciprocal ترتیب کا حسن لائقِ توجہ ہے۔