سورۃ المائدہ (5): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Maaida کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المائدة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ المائدہ کے بارے میں معلومات

Surah Al-Maaida
سُورَةُ المَائـِدَةِ
صفحہ 108 (آیات 6 سے 9 تک)

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغْسِلُوا۟ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى ٱلْمَرَافِقِ وَٱمْسَحُوا۟ بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى ٱلْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَٱطَّهَّرُوا۟ ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَآءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ ٱلْغَآئِطِ أَوْ لَٰمَسْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوا۟ مَآءً فَتَيَمَّمُوا۟ صَعِيدًا طَيِّبًا فَٱمْسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَٰقَهُ ٱلَّذِى وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ ۚ ٱعْدِلُوا۟ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ
108

سورۃ المائدہ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ المائدہ کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے، شاید کہ تم شکر گزار بنو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo itha qumtum ila alssalati faighsiloo wujoohakum waaydiyakum ila almarafiqi waimsahoo biruoosikum waarjulakum ila alkaAAbayni wain kuntum junuban faittahharoo wain kuntum marda aw AAala safarin aw jaa ahadun minkum mina alghaiti aw lamastumu alnnisaa falam tajidoo maan fatayammamoo saAAeedan tayyiban faimsahoo biwujoohikum waaydeekum minhu ma yureedu Allahu liyajAAala AAalaykum min harajin walakin yureedu liyutahhirakum waliyutimma niAAmatahu AAalaykum laAAallakum tashkuroona

اسلام میں نماز کی حیثیت اللہ کے ساتھ ملاقات کی ہے ۔ انسان اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑا ہوتا ہے ‘ اللہ سے دعا کرتا ہے ۔ اللہ کے ساتھ راز ونیاز ہوتا ہے اس لئے اس مقام پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب تیاری کی ضرورت ہے ۔

روحانی تطہیر سے پہلے اس بات کی ضرورت تھی کہ جسمانی پاکیزگی بھی ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ وضو کا حکم دیا گیا ۔ جہاں تک ہم سمجھے ہیں اصل حکمت تو اللہ کے علم میں ہے ۔ بہرحال وضو میں درج ذلیل چیزیں شامل ہیں چہرے کا دھونا ‘ ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا اور سر کا مسح کرنا اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا ۔ ان فرائض کے بارے میں معمولی فقہی اختلافات بھی ہیں ۔ اہم اختلاف یہ ہے کہ آیا یہ فرائض وضو اسی طرح ادا کئے جائیں گے جس ترتیب سے ان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے یا اس ترتیب کے سوا وضو ہوجاتا ہے ۔ اس بارے میں دو اقوال ہیں ۔

یہ وضو تو اس ناپاکی سے ہے جس میں وضو فرض ہے ۔ رہی جنابت چاہے وہ عورت کے ساتھ مباشرت کی وجہ سے لازم ہو یا احتلام کی وجہ سے تو اس پر غسل واجب ہے ۔ فرائض غسل اور فرائض وضو بیان کرنے کے بعد یہاں تیمم کا ذکر بھی کردیا گیا ۔ تیمم کی اجازت درج ذلیل حالات کے ساتھ مشروط ہے ۔

مثلا یہ کہ پانی سرے سے موجود ہی نہ ہو یا یہ کہ کوئی شخص مریض ہو اور وہ وضو پر قادر نہ ہو یا اس پر غسل واجب ہو پانی اس کے لئے موجب اذیت ہو۔ مسافر جو محتاج وضو ہو یا اس پر غسل واجب ہو اور پانی میسر نہ ہو ۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے وضو کی موجب ناپاکی کی تعبیر کی ہے ۔ (آیت) ” او جآء احد منکم من الغآئط (5 : 6) (یا تم میں سے کوئی نشیبی جگہ سے آیا ہو) غائط کے معنی نشیبی جگہ کے ہوتے ہیں جہاں اکثر لوگ قضائے حاجت کے لئے جاتے ہیں ‘ چاہے وہ پیشاب ہی کرے اور نشیبی جگہ نہ جائے ۔

اور غسل واجب ہونے کی ناپاکی کی تعبیر (آیت) ” اولمستم النسآء “ (5 : 6) (یا تم عورتوں کے ساتھ ہاتھ لگاؤ) یہ شریفانہ انداز بیان مباشرت کے لئے ہے ۔ ایسے حالات میں جن میں حاجت وضو ہو یا حاجت غسل کی کو نماز کے قریب جانے کی اجازت نہیں ‘ الا یہ کہ وہ تیمم کرلے اور پاک مٹی کا ارادہ کرے ۔ یعنی ایسی چیز پر تھپکی دے جو زمین سے ہو اور پاک ہو ۔ چاہے یہ مٹی سواری کی پشت پر ہو ‘ چاہے کہ اپنی ہتھیلیوں کے ساتھ مٹی وغیرہ پر تھپکی دے ‘ پھر دونوں ہاتھ جھاڑ دے اور منہ پر مسح کرلے اور پھر اپنے ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کرلے ۔ ایک بار تھپکی دے پورے تیمم کے لئے یا دو بار تھپکی دے ۔ دو فقہی اقوال کے مطابق لفظ (آیت) ” اولمستم النسآء “۔ (5 : 6) کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے ۔ کیا اس سے مراد صرف لمس ہے یا مباشرت ہے ۔ یا اس سے مراد مطلق لمس ہے چاہے شہوت اور لذت کے ساتھ ہو یا اس کے کے بغیر ہو۔ اس میں بھی فقہی اختلافات ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ مطلق مرض میں تیمم جائز ہے یا ایسے مرض میں جس میں تکلیف ہو یا تکلیف بڑھ جانے کا خطرہ ہو ۔

پھر یہ بھی مختلف فیہ ہے کہ مرض نہ ہو لیکن پانی شدید ٹھنڈا ہو اور اس سے بیماری لاحق ہونے کا خطرہ ہو تو تیمم جائز ہے ۔ راجح بات یہی ہے کہ جائز ہے ۔ اس آیت کے اختتام پر یہ تعقیب آتی ہے ۔

(آیت) ” مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اللّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْْکُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـکِن یُرِیْدُ لِیُطَہَّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (6)

” اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ‘ شاید کہ تم شکر گزار بنو)

جیسا کہ ہم نے بیان کیا اللہ کی ملاقات کی حالت میں صفائی شریعت میں واجب کی گئی ہے ۔ وضو اور غسل میں جسمانی اور روحانی صفائی حاصل ہوتی ہے ۔ رہا تیمم تو اس میں کم از کم روحانی صفائی حاصل ہوتی ہے ۔ اور صفائی کے لئے وہ وضو اور غسل کا قائم مقام ہوتا ہے جب پانی نہ ملے یا پانی کے استعمال میں ضرر کا احتمال ہو ۔ یہ اس لئے جائز کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر خواہ مخواہ سختی اور شدت نہیں چاہتے اور نہ لوگوں کو مشتقت اور مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو پاک کر دے ۔ یہ پاکی ان پر بطور انعام آئے اور اس کے بعد وہ اس نعمت کا شکر ادا کریں اور اس شکر کے بدلے اللہ اپنے فضل وکرم اور انعام اکرام میں مزید اضافہ فرمائیں ۔ یہ ہے نرمی ‘ مہربانی اور اسلامی نظام کی واقعیت پسندی اور مستقل سہولت کی فراہمی ۔ وضو غسل اور تیمم کی حکمت ۔ اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتے ہیں :

(آیت) ” مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اللّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْْکُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـکِن یُرِیْدُ لِیُطَہَّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (6)

” اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ‘ شاید کہ تم شکر گزار بنو) اسلامی نظام حیات مسلمانوں کو مراسم عبودیت اور نظام قانون دونوں میں ایک حسین ہم آہنگی عطا کرتا ہے ۔ وضو اور غسل سے محض جسمانی تطہیر کا فائدہ ہی حاصل نہیں ہوتا کہ آج کل کے نام نہاد مفکرین اسلام یہ اعتراض وارد کرسکیں کہ اس دور جدید میں ہمیں محض صفائی کے لئے اس قسم کے انتظامات کی ضرورت نہیں ہے جس طرح پسماندہ عربوں کو ضرورت تھی اس لئے کہ اب تو حماموں میں صحت وصفائی کے اچھے انتظامات ہیں اور ہم مہذب ہونے کی وجہ سے بھی صفائی کا بہت ہی خیال رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ اعتراض اس لئے نہیں وارد کرسکتے کہ وضو اور غسل کے ذریعے اسلام نے جسمانی اور روحانی دونوں پہلوؤں سے ہمارے لئے تطہیر کا نظام وضع کیا ہے ۔ پھر اس نظام کو عبادت کے ساتھ منسلک کرکے باقاعدہ بنا دیا ہے کہ تمام لوگ پاک اور صاف وستھرے ہوں ۔ جب وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ وضو اور غسل میں جسمانی صفائی سے روحانی صفائی کا پہلو زیادہ مد نظر رکھا گیا ہے تو ان کے عوض تیمم کو رکھا گیا ہے اس لئے کہ جب پانی کا استعمال ممکن نہ ہو تو ان کے عوض تیمم کو رکھا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ تیمم کے اندر ظاہری صفائی حاصل ہی نہیں ہوتی ۔ اس پر مزید یہ کہ اسلامی نظام زندگی ایک عام نظام ہے اور وہ ہر قسم کے حالات کے لئے ہے ۔ ہر خاندان ‘ ہر طور طریقے کے لئے ایک ہی نظام اور طریقہ ہے ‘ اس لئے اس کا فائدہ ہر قسم کے حالات اور ہر قسم کے ماحول اور ہر قسم کی سوسائٹی میں ہوتا ہے ۔ ہر صورت میں اور ہر مفہوم میں اس کی حکمت اور فائدہ موجود ہوتا ہے اور کسی صورت میں بھی اس سے تخلف نہیں ہوتا ۔

ہمارا فرض ہے کہ ہم سب سے پہلے اسلامی نظریہ حیات کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں اور بعد میں اس کے بارے میں اظہار خیال کریں ورنہ ہمارا فتوی بغیر علم اور بغیر روشن کتاب کی ہدایات کے ہوگا ۔ پھر ہماری سعی یہ ہونا چاہئے کہ ہم اللہ کے ساتھ نہایت ہی ادب واحترام سے پیش آئیں اور جو بات ہم جانتے ہیں اور جو باتیں نہیں جانتے دونوں میں احترام سے پیش آئیں ۔ (اس کی ایک مثال زکوۃ اور ٹیکس کے درمیان فرق ہے ۔ اس لئے ٹیکس کی وجہ سے ہم زکوۃ کو ختم نہیں کرسکتے ۔ یہ بحث بھی جلد ہی آئے گی)

یہ مسائل کہ جب وضو ممکن نہ ہو یا غسل نہ ہو عذر اور ضرر کی وجہ سے تو اس وقت تیمم جائز ہے ۔ اس میں ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے اور وہ یہ کہ اسلامی نظام حیات کے اندر نماز کی کس قدر اہمیت ہے اور اس کی راہ میں جو رکاوٹیں اور مشکلات حائل ہوں اسلامی نظام انہیں کیسے حکیمانہ انداز میں حل کرتا ہے ۔ تیمم کے اس حکم اور پھر اس کے ساتھ نماز کے بارے میں دوسرے احکام مثلا صلوۃ الخوف ‘ صلوۃ المریض کے احکام کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو ثابت ہوگا کہ بیٹھ کر ‘ لیٹ کر ‘ پہلو پر جیسے بھی ممکن ہو نماز کی ادائیگی ضروری ہے ۔ اسلام اس پر بہت تاکید کرتا ہے ۔ ان تمام احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام حیات مسلمانوں کی اخلاقی اور نفسیاتی تربیت میں نماز کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اس لئے کہ اللہ کے سامنے کھڑے ہونا اور اللہ سے ملاقات کرنا ‘ انسان پر بےحد اثر انداز ہوتا ہے ۔ اسلام سخت سے سخت حالات میں بھی اور نہایت ہی مشکل اوقات بھی اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا ، اس کی راہ میں کسی مشکل کو حائل ہونے نہیں دیتا ۔ دن میں پانچ بار بندے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب سے ملے اور اس ملاقات کو کسی وجہ سے بھی نہ چھوڑے ۔ یہ دل کی تازگی ہے اور آنکھوں کا سرور ہے اور اللہ کا سایہ اور خوشگوار سایہ ہے ۔

احکام طہارت اور اس سے پہلے دیئے جانے والے احکام کے بعد اب یہ اختتامیہ آتا ہے جس میں نعمت ایمان کے بارے میں یاد دہانی ہے ۔ اور اس عہد کی تذکیر جو انہوں نے اللہ کے ساتھ باندھا تھا اور جس میں انہوں نے سمع اور اطاعت کا اقرار کیا تھا یہ وہی میثاق تھا ‘ جس کے ذریعے وہ اسلام میں داخل ہوئے تھے ‘ جیسا کہ اس سے پہلے ہم بیان کر آئے ہیں ‘ نیز مسلمانوں کو خدا خوفی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں کے بارے میں علم ہے ‘ جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں ۔

اردو ترجمہ

اللہ نے تم کو جو نعمت عطا کی ہے اس کا خیال رکھو اور اُس پختہ عہد و پیمان کو نہ بھولو جو اُس نے تم سے لیا ہے، یعنی تمہارا یہ قول کہ، "ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی" اللہ سے ڈرو، اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waothkuroo niAAmata Allahi AAalaykum wameethaqahu allathee wathaqakum bihi ith qultum samiAAna waataAAna waittaqoo Allaha inna Allaha AAaleemun bithati alssudoori

(آیت) ” نمبر 7۔

جن لوگوں کو سب سے پہلے قرآن نے خطاب کیا تھا وہ اس دین کی قدروقیمت کو اچھی طرح جانتے تھے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں اس لئے کہ وہ اس دین کی حقیقت اپنی ذات اور شخصیت کے اندر زندہ طور پر دیکھ رہے تھے ۔ یہ دین ان کی زندگی ‘ ان کی سوسائٹی اور ان کے اردگرد پوری بشریت میں اس کے مقام کے حوالے سے ان کی آنکھوں کے سامنے تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسمت کی طرف صرف اشارہ ہی ان کے لئے کافی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ بسہولت اس عظیم حقیقت کی طرف متوجہ ہو سکتے تھے جو ان کی زندگی اور ماحول میں موجود تھی ۔

اسی طرح اس میں اس میثاق کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا ۔ اور یہاں اس کی طرف اس لئے اشارہ کیا گیا کہ یہ بھی ایک واضح حقیقت تھی جسے وہ جانتے تھے اور اس پر وہ بہت فخر کرتے تھے ۔ اس معاہدے کا فریق اول اللہ تھا ۔ اور فریق دوئم وہ تھے اور یہ بات ان کے لئے نہایت ہی قابل قدر اور قابل عزت تھی ‘ اور یہ بات نہایت عظیم تھی اور وہ اس کی اہمیت اور حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے ۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو خدا ترسی کے حوالے کرتے ہیں اور دل کے اندر اللہ کے خوف کا احساس کرنے اور خفیہ خطرات کے مقابلے میں ان کو بیدار کیا جاتا ہے ۔

(آیت) ” واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون “ (اللہ سے ڈرو ‘ اللہ ان باتوں سے خبردار ہے جو تم کرتے ہو) انداز تعبیر (آیت) ” بذات الصدور “۔ (5 : 7) باتصویر اور مفہوم کو تیزی سے منتقل کرنے والی ہے ۔ مناسب ہوگا کہ اس میں جو خوبصورتی ‘ معنی خیزی اور گہرائی ہے اس کی طرف اشارہ کیا جائے ۔ ذات الصدور کا مفہوم عربی میں ” دلوں کی مالکہ “ جو دلوں میں چسپاں ہو ‘ کنایتہ مراد وہ خفیہ جذبات ہیں جو دلوں میں پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ پوشیدہ میلانات ‘ دلوں کے خلجان ‘ خفیہ راز ایسے راز جو دلوں کے ساتھ چسپاں ہیں۔ یہ خفیہ راز بھی اللہ کے سامنے بالکل کھلے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ دلوں میں چھپی باتوں کا بھی جاننے والا ہے ۔

وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے لیا ہے ‘ اس میں یہ بات بھی ہے کہ یہ امت پوری انسانیت کے لئے عدل و انصاف کی نگران ہوگی ۔ ایسا انصاف کہ اس کے ترازو کا کوئی پلڑا دوستی اور دشمنی کی وجہ سے جھک نہ جائے ، اس پر رشتہ داری اور خواہشات نفسانیہ کے اثرات بھی نہ ہوں اور نہ وہ کسی مصلحت سے متاثر ہو ۔ یہ عدل صرف ذات باری کی رضا کے لئے ہو اور اس میں انصاف کرنے والا موثرات دنیا میں سے کسی موثر سے اثر نہ لے اور یہ انصاف اس شعور کے تحت ہو کہ اللہ رقیب اور نگہبان ہے اور خفیہ ترین گوشوں سے باخبر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی پکار یہ ہے ۔

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo koonoo qawwameena lillahi shuhadaa bialqisti wala yajrimannakum shanaanu qawmin AAala alla taAAdiloo iAAdiloo huwa aqrabu lilttaqwa waittaqoo Allaha inna Allaha khabeerun bima taAAmaloona

(آیت) ” نمبر 8۔

اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات سے روکا تھا کہ وہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے کہ انہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا تھا ‘ بےانصاف کرنے سے ہاتھ کھینچ لیں اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ کر بیٹھیں ضبط نفس اور رواداری کی یہ انتہا تھی جہاں تک اللہ تعالیٰ ان کو پہنچانا چاہتے تھے اور یہ اللہ کا نہایت ہی مضبوط منہاج تربیت تھا ۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس بات سے روکتے ہیں کہ وہ دشمنی کی وجہ سے عدل سے رک نہ جائیں ۔ یہ ایک نہایت ہی اعلی چوٹی ہے اور اس قدر مشکل اور دشوار گزار راہ ہے کہ اس پر چلنا نفس کے لئے نہایت ہی باعث مشقت ہے۔ پہلی آیت میں تھا کہ تم دشمنی کی وجہ سے ظلم نہ کرو اور یہ مرحلہ اس سے آگے کا ہے کہ دشمنی کے باوجود انصاف کرو ‘ یعنی باوجود اس کے کہ ان کے خلاف تمہارے جذبات مشتعل ہیں اور تم کراہت محسوس کرتے ہو پھر بھی عدل کرو۔ پہلا حکم بہت ہی آسان تھا اس لئے کہ وہ منفی کام تھا ‘ انسان اس سے رک سکتا تھا کہ ظلم نہ کرے ۔ رہا دوسرا حکم کہ ان ظالموں کے ساتھ اور دشمنوں کے ساتھ عدل و انصاف کرو یہ ایک مثبت اور پر مشقت کام ہے یعنی انفس انسانی کو ایسے مبغوض اور قابل نفرت لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے پر مجبور کرنا ۔

اسلام کا حکیمانہ نظام تربیت اپنے تربیت یافتہ لوگوں سے ایسا مشکل کام کروا سکتا تھا اس لئے اسلام حکم دیتا ہے ۔

(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ لِلّہِ شُہَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہوں اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ ۔ عدل کرو ‘ یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور اس کے بعد وہ بات بتائی جاتی ہے جو اس مشکل کام کے لئے معین و مددگار ہے ۔

(آیت) ” واتقوا اللہ ، ان اللہ خبیر بما تعملون “۔ (5 : 8) اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ‘ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ سے پوری طرح باخبر ہے ۔ ) انسان کا نفس اس قدر بلندی تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا ‘ الا یہ کہ اس کام کا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست ہو ‘ جس وقت انسان صرف اللہ کے لئے کھڑا ہوجائے اور اللہ کے سوا ہر چیز کو چھوڑ دے ۔ جس وقت انسان کو خدا خوفی کا شعور ہو اور اسے یہ احسان ہو کہ اللہ کی نظروں سے کوئی خفیہ بات بھی بلند کرسکتی ہے۔

دنیا میں کوئی ایسا نظام نہیں ہے جو انسانوں کو ایسا انصاف دے سکتا ہو جس میں دوست اور دشمن برابر ہوں ۔ یہ صرف دین اسلام کا کام ہے جو اہل ایمان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ انصاف کے معاملے میں محض اللہ کے لئے کھڑے ہوجائیں اور وہ انصاف کے لئے ماسوائے انصاف کے ہر سوچ (ConsiderAtion) ترک کردیں ۔

یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جن کی وجہ سے اس دین کو دین انسانیت اور عالمی دین قرار دیا گیا ہے ۔ اس کا نظام تمام لوگوں کے لئے بالکل کافی ہے ‘ چاہے وہ لوگ اس دین کے ماننے والے ہوں یا نہ ماننے والے ہوں۔ تمام لوگ اس کے زیر سایہ عدل و انصاف کی زندگی گزار سکتے ہیں ۔ انصاف قائم کرنا ان لوگوں پر فرض ہے جو اس دین کے ماننے والے ہیں اور اس قیام عدل میں ان کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ ہے ‘ اگرچہ وہ انصاف چاہنے والوں کے ظلم وعدوان کا شکار رہے ہوں اور ان کے دل میں ان کی دشمنی ہو ۔ یہ اس امت کا فریضہ ہے جسے اس پوری انسانیت کا نگران بنایا گیا ہے ۔ اگرچہ اس عدل کے قیام میں اسے مشکلات پیش آئیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس امت نے یہ فریضہ تاریخ میں بہت ہی اچھی طرح ادا کیا ہے ۔ اس نے اس کی راہ میں عظیم مشقتیں برداشت کی ہیں ‘ جبکہ اسلام قائم تھا اور یہ اس امت کی زندگی میں محض وعظ اور نصیحت کا کام نہ تھا ۔ نہ اعلی نمونوں کی چند مثالیں تھیں ‘ بلکہ یہ اس کی روز مرہ زندگی کی صورت حالات تھی ۔ یہ ایسی صورت حالات تھی جس کو انسانیت نے نہ کبھی پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں دیکھا ۔ اس معیار پر صرف اسلامی نظام زندگی ہی میں انسانیت نے یہ انصاف دیکھا ۔ اس کی مثالیں اور بلند ترین مثالیں اسلامی تاریخ میں لاتعداد ہیں اور تاریخ کا حصہ ہیں ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی ہدایات اور اس کی مقرر کردہ ڈیوٹیاں امت مسلمہ کی زندگی میں ایک واقعی اور عملی نظام کی شکل میں دیکھی گئیں جو بڑے سادہ طریقے سے ادا ہوتی رہیں ۔ اور اس امت کی روز مرہ کی زندگی میں وہ منقش اور مجسم تھیں ۔ یہ محض خیالی اعلی معیاروں کی باتیں نہ تھیں ‘ نہ کچھ انفرادی اعلی نمونے تھے بلکہ وہ عملی زندگی کا ایک نقش دل پذیر تھا جس کے سوا آج تک اعلی معیار کے نقوش انسان کو نظر نہ آئے ۔

جب اس اعلی مقام سے اور بلند ترین چوٹی سے دنیا کی جاہلیت پر نگاہ ڈالی جائے چاہے وہ جس زمان میں ہو اور جس مکان میں ہو ‘ جن جاہلیتوں میں دور جدید کی پالش شدہ جاہلیت بھی شامل ہے تو نگاہ ڈالنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے اللہ نے انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ وہ نظام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لئے بنایا ہے۔ اس مقام بلند سے نظر آتا ہے کہ اسلامی نظام حیات اور ان تمام جاہلی نظامہائے حیات کے درمیان اس قدر طویل فاصلے ہیں جنہیں عبور نہیں کیا جاسکتا ۔ عملی زندگی کے اعتبار سے بھی اور انسانی ضمیر اور عقائد کے اعتبار سے بھی ۔

بعض اوقات لوگ اصول تو پہنچان لیتے ہیں اور اصول پسندی کے نعرے بھی لگاتے ہیں لیکن اصولوں کو عملی شکل میں برتنا اصل چیز ہے ۔ یہ فطری بات ہے کہ لوگ اصولوں کی بات کرتے ہیں اور یہ بات وہ اور لوگوں کے لئے کرتے ہیں لیکن یہ اصول عالم عمل میں موجود نہیں ہوتے ۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو اصولوں کی طرف دعوت دیجائے بلکہ دیکھنا چاہیے کہ جہاں سے دعوت آرہی ہے ‘ جو دعوت کا مقصد ہے اور جو داعی ہے وہ کیسا ہے چاہئے تو یہ کہ دعوت داعی کے ضمیر اور اس کے اندرون پر حکمران ہو۔ اصل بات وہ مرجع ہے جہاں سے دعوت جاری ہوتی ہے اور داعی کی جدوجہد اور داعی کی وہ محنت ہے جو وہ دعوت اور اصولوں کو عملی شکل دینے میں خرچ کرتا ہے ۔

دعوت اسلامی کی اصل قدر و قیمت یہ ہے کہ چند دینی اصولوں کی طرف یہ دعوت دی جاتی ہے ۔ ان کی قدروقیمت دین اسلام کی سند سے ہوتی ہے ۔ دین اسلام کی قدروقیمت یہ ہے کہ وہ اللہ کا دین ہے اس لئے جو شخص دین کی دعوت دیتا ہے تو وہ اللہ کے سوا کسی اور کا سہارا اور سند نہیں لیتا اور اگر کسی کی مدد سے کبھی ایسا ہو بھی جائے تو اس سند کا لوگوں کے ایمان وضمیر پر اثر کیا ہوتا ہے ۔ اور لوگوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ کسی اور کے اصولوں کو نافذ کرنے کے لئے جدوجہد کریں اور کسی اور کے پاس ہے کیا وہ لوگوں کو بطور اجر دے گا ۔

ہزارہا لوگ عدل کے حق میں نعرے لگاتے ہیں ‘ پاکیزگی کے نعرے لگاتے ہیں ‘ آزادی کے لئے نعرے لگاتے ہیں رواداری ‘ الوالعزمی ‘ محبت ‘ قربانی اور ایثار کے نعرے لگاتے ہیں لیکن ان نعروں کے نتیجے میں لوگوں کا ضمیر اپنی جگہ سے نہیں ہلتا ‘ اور دلوں پر ان کا اثر نہیں ہوتا ‘ اس لئے کہ وہ ایک ایسی دعوت دے رہے ہوتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی سند نہیں ہوتی ہے ۔ غرض اصل بات صرف زبانی جمع خرچ کی نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت وہ چیز ہے جو بات کی پیچھے ہوتی ہے ۔

لوگ اپنے جیسے لوگوں کے منہ سے اصول بلند نمونے اور بلند علامات کی بات سنتے رہتے ہیں لیکن انکی پشت پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہیں ہوتی ۔ پس ان کی اس بات کا اثر کیا ہوتا ہے ۔ ان کی فطرت یہ کہتی ہے کہ یہ ایک بات ہے جو ان جیسے لوگوں کی طرف سے ہے ۔ اور یہ بات کرنے والے میں وہ تمام نقائص ‘ عیوب اور کو تاہیاں موجود ہیں جو دوسرے لوگوں میں موجود ہوتی ہیں ۔ انسان ان باتوں کو صرف اس اساس پر لیتے ہیں اس لئے ان کی فطرت پر ان باتوں کی حکمرانی نہیں ہوتی نہ یہ باتیں ان کی شخصیت کو جھنجوڑ سکتی ہیں ۔ ان باتوں کے اثرات ‘ ان لوگوں پر نہیں ہوتے ‘ اگر کوئی اثر ہوتا بھی ہے تو وہ تار عنکبوت کی طرح کمزور ہوتا ہے ۔

پھر یہ دینی اصولوں کی ہدایت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتیں جب تک ان کی زندگی میں عملی شکل نہ دی جائے اسلام ان ہدایات کو محض ہوا میں بکھیر نہیں دیتا بلکہ ان کو عملی زندگی میں نافذ کرتا ہے اس لئے دین جب صرف مشورہ بن جائے اور صرف چند مراسم عبودیت کا نام رہ جائے تو پھر اس کے یہ مشورے حقیقت کا روپ اختیار نہیں کرتے ۔ یہ صورت حال ہمیں آج ہر جگہ نظر آتی ہے کہ اہل دین صرف مشورے دیتے ہیں مگر ان کے پاس قوت نافذہ نہیں ہے ۔

لہذا اصل بات یہ ہے کہ دین کے لئے ایک نظام حیات ضروری ہے جو دین کے منہاج کے مطابق ہو اور اس نظام کی روشنی میں اسلامی ہدایات پر عمل کیا جائے ۔ یہ نظام ان ہدایات کو زندگی کے تمام طور طریقوں میں عملی اور عملی اقدامات کے درمیان مکمل توازن کے ساتھ نافذ کر دے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے دین کو بھی مفہوم ہے ۔ یعنی دین سے مراد وہ نظام زندگی ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں پر حکمران ہو ۔ اس کی پشت پر قوت نافذہ ہو۔

جماعت مسلمہ کی زندگی میں جب دین اپنے اس مفہوم کے ساتھ حقیقت کا روپ اختیار کرلے ‘ تب ہی وہ اس دنیا میں بلندی تک پہنچ سکتی ہے اور پھر وہاں سے پوری انسانیت کا جائزہ لے سکتی ہے ۔ اس انسانیت پر جو ابھی تک جدید جاہلیت کے گڑھوں میں افتادہ ہے ‘ جس طرح نزول قرآن کے وقت عربوں کی قدیم جاہلیت کے گڑھوں میں لوگ اوندھے گرے ہوئے تھے لیکن جب دین کو منبر پر وعظ اور مساجد کے اندر چند مراسم عبودیت تک محدود کردیا جائے اور زندگی کے وسیع عملی میدان سے اسے خارج کردیا جائے تو اس صورت میں انسان کی عملی زندگی میں دین کی کچھ حقیقت بھی نہ ہوگی ۔ نہ اسے نافذ کیا جاسکے گا ‘ نہ اس کی عملی شکل میں سامنے آئے گی ۔

مومنین کے لئے اللہ کی جانب سے اجر ضروری ہے ۔ وہ مومنین جو معاملہ صرف اللہ کی ذات کے ساتھ کرتے ہیں تاکہ وہ مزید جوش و خروش اور پوری قوت کے ساتھ اپنی ڈیوٹی برائے نگرانی بشریت ادا کریں ۔ اللہ کے ساتھ انہوں نے جو پختہ عہد کیا ہے اسے پورا کریں ۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کی راہ میں کام کرنے والوں اور نیک عمل کرنے والوں اور ان لوگوں کے انجام میں فرق ہو جو اسلام سے انکار کرتے ہیں ۔

اردو ترجمہ

جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaAAada Allahu allatheena amanoo waAAamiloo alssalihati lahum maghfiratun waajrun AAatheemun

(آیت) ” نمبر 9 تا 10۔

یہ وہ جزاء ہے جو ان برگزیدہ لوگوں کے لئے ہے جن سے دنیاوی لذات اور مفادات فوت ہوجاتے ہیں ۔ انہیں دنیا میں عیش کوشی کا موقع نہیں ملتا ۔ وہ دنیا میں اسلامی انقلاب کے فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیں اور اس انعام کے ہوتے ہوئے دنیا میں بشریت کی نگہبانی کے فرائض بہت ہی کم نظر آتے ہیں اور انسان بشری میلانات ‘ انسانی حسد وعناد اور اس دنیا کے لالچ کو خاطر میں نہیں لاتا ۔ پھر اس سے اللہ کی صفت عدل کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں اور اشرار کو ایک ہی سطح پر نہیں رکھتے ۔

اس بات کی ضرورت ہے کہ انقلابی مومنین کی نظریں اللہ کی اس جزاء کے ساتھ اٹکی ہوئی ہوں اور ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ اس طرح ہو کہ ان کی راہ میں رکاوٹوں میں سے کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے ۔ زندگی کے حالات میں اور مختلف احوال میں بھی ۔ بعض دل تو ایسے ہوتے ہیں کہ محض جذبہ حصول رضائے الہی ان کے لئے کافی ہوتا ہے اور وہ اس کو چکھ کر خوب چٹخارے لیتے ہیں جس طرح انہیں اللہ کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو ایفا کرنے میں خوب مزہ آتا ہے ۔ لیکن اسلامی نظام ان اولوالعزم لوگوں کے علاوہ عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کو مزاج بھی اللہ کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کا مزاج بھی اللہ کی پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کے ساتھ اجر عظیم کا وعدہ بھی ضروری ہے ۔ اسی طرح عوام الناس کو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ یہ جانیں کہ جھٹلانے والوں کا انجام وسزا کیا ہوگی اس لئے کہ عوام الناس اسی پر راضی ہوتے ہیں اور یہی ان کا مزاج ہوتا ہے ۔ اس لئے عوام الناس اپنی جزا اور کفار کی سزا کا حکم سن کر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح اشرار کے کاموں پر ان کے دل میں جو غیض وغضب پیدا ہوتا ہے وہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے ۔ خصوصا ایسے مواقع پر جب اہل ایمان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کریں ۔ خصوصا ایسے حالات میں جبکہ ان کے ہاتھوں اہل ایمان نے مکروفریب اور ایذاء رسانی اور نیش زنی کو برداشت کیا ہو۔ اسلامی نظام زندگی انسانیت کو اسی طرح لیتا ہے جس طرح انسانوں کی فطرت ہے اور اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتے ہیں ۔ اسلام انسانوں کو ایسا نعرہ اور ایسی دعوت دیتا ہے کہ جس سے ان کے شعور کے دریچے کھلتے ہیں اور جس پر ان کی جان اور روح لبیک کہتی ہے ۔ پھر یہ انعام یعنی مغفرت اور اجر عظیم اللہ کی رضا مندی کی دلیل ہے ۔

سیاق کلام میں ذرا آگے جائیں اور عدل انصاف اور رواداری کی روح اب جماعت مسلمہ کے اندر نہایت ہی قوی پائیں ۔ اس کے اندر زیادتی ‘ کینہ پروری ‘ اور یک رخی کا شعور ختم کردیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یاد دلاتے ہیں کہ ان پر اللہ کا یہ کس قدر عظیم کرم ہے کہ اللہ نے ان کے خلاف مشرکین کی تمام کاروائیاں بند کرادیں جبکہ حدیبیہ کے موقع پر اور دوسرے مواقع پر وہ مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہ کرسکے ۔

108