سورۃ المائدہ: آیت 82 - ۞ لتجدن أشد الناس عداوة... - اردو

آیت 82 کی تفسیر, سورۃ المائدہ

۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ

اردو ترجمہ

تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر اُن لوگوں کو پا ؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اِس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور اُن میں غرور نفس نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Latajidanna ashadda alnnasi AAadawatan lillatheena amanoo alyahooda waallatheena ashrakoo walatajidanna aqrabahum mawaddatan lillatheena amanoo allatheena qaloo inna nasara thalika bianna minhum qisseeseena waruhbanan waannahum la yastakbiroona

آیت 82 کی تفسیر

سورة المائدہ کا آخری حصہ ایک نظر میں :

اس پارے میں سورة مائدہ کا بقیہ حصہ ہے ‘ اس کے ابتدائی حصوں کے بارے میں تفصیلات پارہ ششم میں گزر چکی ہیں ۔ نیز اس میں سورة انعام کے آغاز سے لے کر آیت (آیت) ” ولو اننانزلنا الیھم الملئکۃ) تک کا حصہ بھی مذکور ہے جس کے بارے میں تفصیلی بحث سورة انعام کے آغاز میں ہوگی ۔ یہاں صرف اس حصے پر تبصرہ کیا جا رہا ہے جو سورة مائدہ سے رہ گیا تھا ۔

پارہ ششم میں اس سورة کے تعارف میں ہم نے کہا تھا :

” اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن کریم حضرت محمد ﷺ کے قلب مبارک پر اس لئے نازل فرمایا کہ اس کے ذریعے وہ ایک امت کو برپا کریں ‘ وہ امت ایک مملکت کی بنیاد رکھے ‘ ایک معاشرے کو منظم کرے اور یہ مملکت لوگوں کے ضمیر ‘ ان کے اخلاق سنوارے اور ان کی عقلی تربیت کرے ۔ اس قرآن کے ذریعے اس معاشرے کے اجتماعی تعلقات کے حدود وقیود وضع ہوں اور اس مملکت کے اندر لوگوں کے تعلقات بھی منضبط ہوں اور پھر دوسرے ممالک کے ساتھ بھی اس مملکت کے تعلقات استوار ہوں ۔ اس امت کے تعلقات دوسری امتوں اور ملتوں کے ساتھ قائم ہوں ۔ قرآن اس تمام پوری امت کو ایک مضبوط رسی کے اندر باندھ دے ‘ اس کے متفرق اجزاء کو جمع کر دے ‘ اس کے فرقوں کو جمع کر دے اور اسے ایک مضبوط محور کے اندر پختہ کر دے ‘ اسے اللہ کی اس بادشاہت کے اندر لے آئے اور اس کا رخ ایک سمت میں ہوجائے ۔ یہ ہے دین اسلام جیسا کہ درحقیقت وہ اللہ کے نزدیک ایسا ہی ہے اور جسے مسلمانوں نے ایسا ہی سمجھا جب وہ صحیح مسلمان ہوا کرتے تھے ۔

جیسا کہ سابقہ تین طویل سورتوں میں ہم نے دیکھا اس سورة میں بھی مختلف موضوعات کو لیا گیا ہے ۔ ان تمام موضوعات کے درمیان قدر مشترک کیا چیز ہے ؟ وہی جس کے حصول کے لئے اس دنیا میں پیغام اسلام کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ یعنی ایک امت کی تشکیل ‘ ایک مملکت کا قیام اور ایک مثالی اسلامی معاشرے کا قیام ۔ اس معاشرے کا قیام بھی ایک خاص نظریہ کے مطابق ایک خاص تصور حیات کی روشنی میں اور بالکل جدید انداز میں مطلوب تھا ۔ اس معاشرے کی روح عقیدہ توحید تھی ۔ عقیدہ توحید اس کا پہلا اصول اقرار پایا اور عقیدہ توحید کے اہم عناصر یہ ہیں کہ الہ اور حاکم فقط اللہ ہے ‘ وہی اس کائنات کا تھامنے والا ہے ۔ اسی کا حکم چلتا ہے ‘ زندگی گزارنے کے طریقے صرف اسی سے اخذ کئے جاسکتے ہیں ‘ وہی شارع ہے ‘ وہی زندگی کی اعلی قدریں متعین کرنے کا حق رکھتا ہے اور حس وقبح کے پیمانے صرف وہی متعین کرسکتا ہے ۔ “

” اس سورة میں اعتقادی افکار کی توضیح کی گی ہے اور اسے بت پرستانہ خرافات اور انحرافات سے پاک کیا گیا ہے ۔ نیز اہل کتاب نے جو تحریفات کیں انہیں بھی دور کیا گیا ہے اور جماعت مسلمہ کے سامنے خود اس کا اپنا تعارف پیش کیا گیا ہے ۔ کہ اس کی حقیقت کیا ہے ‘ اس کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے ‘ اور اس کے راستے میں جو کانٹے ہیں اور جو جال بچھے ہوئے ہیں ان سے بچنے کا کیا طریقہ ہے ۔ کہاں کہاں اس دین کے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں اور کہاں کہاں پھسلن ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘ اس سورة میں عبادات اسلام اور شعائر اسلام بھی بتائے گئے ہیں جن کے ذریعے ایک مسلم کی روح پاک ہوجاتی ہے اور اس کا رابطہ اس کے رب کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے ۔ نیز اعتقادات و عبادات کے ساتھ ساتھ اس میں اجتماعی روابط ‘ حکومت کے لئے قانون سازی اور پھر دوسری حکومتوں کے ساتھ اسلامی حکومت کے تعلقات کے اصول بھی بتائے گئے ہیں ۔ نیز اسلامی معاشرے میں حلال و حرام کا بھی ذکر ہے کہ مسلمانوں کے لئے کن چیزوں کا کھانا حرام ہے کن مشروبات کا پینا حرام ہے اور کن عورتوں سے نکاح حرام ہے ۔ کیا کیا اعمال برے ہیں اور کیا کیا طرز ہائے عمل غیر اسلامی ہیں۔ غرضیکہ یہ سورة ایک مکمل گٹھڑی ہے جس کے اندر ‘ یہ تمام امور ایک ہی جگہ آگئے ہیں اور یہ گٹھڑی مجموعہ دین ہے ۔ اسی نقطہ نظر سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ دین ان تمام امور پر مشتمل ہے ۔ “

اس سورة کی نوعیت اور اس کے مشمولات وموضوعات کی اس عام تصویر کشی کی روشنی میں ہم اس کے اس بقیہ حصے کا بھی بڑی خوبی سے مطالعہ کرتے ہیں ۔ چناچہ اس حصے میں بھی وہ مباحث اور موضوعات یا ان کے ساتھ ملتی جلتی بحثیں موجود ہیں جن کی تفصیلات پارہ ششم میں گزر چکی ہیں ۔

امت مسلمہ کی مخالفت کرنے والے عناصر بعض دوسرے کیمپوں کا تعارف ان مباحث میں کرایا گیا ہے ‘ جن کے بارے میں وہاں اشارات رہ گئے تھے ۔ یہ بات نہایت ہی تعجب خیز ہے کہ یہ وہی کیمپ ہیں جو ہمیشہ تحریک اسلامی یا احیائے اسلام کی تحریکات کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اگرچہ اس تحریک کے دشمنوں کے رنگ مختلف ہیں لیکن اصل کینہ ایک ہی ہے جو ان کے دلوں میں جاگزین ہے۔ نیزان میں ایک نہایت ہی قلیل تعداد ہدایت کے طالب لوگوں بھی ہے ۔ مثلا بعض عیسائی گروہ ‘ جو ہدایت قبول کر رہے ہیں اور جب اس وقت حضور کی جانب سے انہوں نے یہ دعوت پر سوز سنی تو اس ان کے دل پگھل گئے اور انہوں نے لبیک کہہ کر اپنے آپ کو ثواب آخرت اور جنت کا مستحق کرلیا ۔

ان باقی مباحث میں سے ایک بحث یہ بھی ہے کہ حلال و حرام کے موضوع پر قانون سازی کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے اور اہل ایمان کے لئے سخت ممانعت ہے کہ وہ اس موضوع پر اللہ تعالیٰ کے حق اقتدار اور قانون سازی پر دست درازی کریں ۔ اہل ایمان کو خدا کا خوف کرنا چاہئے کیونکہ یہ معاملہ ایمان وکفر کا ہے اور انہوں نے ایمان لانے کا اعلان تو کر ہی دیا ہے ۔

اس کے علاوہ قسموں ‘ جوئے ‘ شراب ‘ پانسوں ‘ بتوں اور حالت احرام کے اندر شکار جیسے قانون اور فقہی احکام ‘ خانہ کعبہ ‘ حرام مہینوں ‘ ہدی اور وہ جانور جن کے گلوں میں پٹے ڈالے ہوئے ہوتے ہیں بطور علامت قربانی کی بابت مسائل نیز اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ شرعی احکام اور نبی کریم ﷺ کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کی پیروی کی تاکید اور خدا اور رسول کی مخالفت سے ڈرانے کے مضامین بھی دیئے گئے ہیں اور تنبیہ کی گئی ہے کہ اللہ کے عذاب اور اس کے انتقام سے ڈرو اور ہر وقت اس ذات باری کو پیش نظر رکھو جس کے پاس تم نے لوٹ کر جانا ہے ۔

اس کے بعد جماعت مسلمہ کی تربیت کے بعض پہلو بھی لئے گئے ہیں ‘ وہ اقدار جن کے مطابق اس کے پوری دنیا کے ساتھ معاملہ کرنا ہے ‘ مثلا یہ کہ خبیث چیزوں کی کثرت سے انہیں متاثر نہ ہونا چاہئے ۔ انہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ پاک اور طبیب چیزیں ہمیشہ کم ہوتی ہیں ۔ نیز ان اقدار اور آداب میں سے اہم ادب یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ سے ہر بات کے بارے میں نہ پوچھا جائے اور اگر خدا تعالیٰ نے کسی بات کو مجمل چھوڑ دیا ہے تو اہل ایمان کو اس کے بارے میں پوچھنے گریز کرنا چاہئے ۔

اس حصے میں یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ جاہلیت کی عادات اور رسوم کو باطل قرار دے دیا گیا ہے ۔ بت پرستی کی ممانعت کردی گئی ہے اور بعض قسم کے جانوروں اور ذبیحوں کے حوالے سے جو شرک اور بت پرستی باقی ہے اسے ختم ہونا چاہئے ۔ مثلا بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ ‘ اور حام وغیرہ اور یہ کہ حلال و حرام کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔ پوری زندگی کے لئے قانون سازی کا اختیار اللہ کو حاصل ہے اور کوئی قانون سازی لوگوں کے رواج اور لوگوں کی اصلاحات کے مطابق نہیں ہو سکتی ۔ یہ کام صرف اللہ کا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو تنبیہ کی گئی کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے ۔ اس کے افراد کے اندر باہم مکمل تکافل ہو اور وہ دوسرے لوگوں سے مکمل طور پر جدا ہو اور کٹے ہوئے ہوں ۔ اسے اپنی مخصوص ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہئے اور دوسرے اہل باطل کی ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بری الذمہ رکھنا چاہئے ۔ اور اپنے انجام اور دوسرے لوگوں کے انجام کو بھی مکمل طور پر اللہ کے حوالے کردینا چاہئے ‘ جس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں ہوگا ۔

اسلامی قانون سازی کرتے ہوئے مضمون کا خاتمہ اس امر پر ہوتا ہے کہ اگر کوئی سفر میں ہو اور اپنے خاندان سے دور ہو اور وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس پر شہادت مقرر کرے ۔ اس طرح نظر آتا ہے کہ یہ قانون سازی اس لئے ضروری تھی کہ مسلمان جہاد فی سبیل اللہ اور تلاش وسائل اور فضل اللہ کے لئے باہر نکلیں گے ۔ لیکن اس قانون سازی میں بھی تمام معاملات کو خوف آخرت کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے ۔

باقی سورة میں اہل کتاب میں سے نصاری کے عقائد کے بعض دوسرے پہلوؤں کو لیا گیا ہے اور اس مقصد کے لئے حضرت مریم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کے بعض گوشوں کو لایا گیا ہے ۔ اور ان معجزات کو بیان کیا گیا ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ظاہر ہوئے ۔ حواریوں نے جو کھانا طلب کیا تھا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کی الوہیت کے مسائل اور یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہر گز ایسے دعاوی نہیں کئے تھے ‘ اور قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کی جھلکی بھی دکھائی گئی ہے جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا معاملہ تمام انسانیت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور وہ اللہ رب العالمین کے لئے پیش ہوتا ہے اور اس خوفناک منظر میں تمام اقوام رسل موجود ہیں۔

سورة کا خاتمہ اس موقف پر ہوتا ہے کہ زمین وآسمانوں کا اصل مالک اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کوئی قید وبند نہیں ہے ۔

(آیت) ” وللہ ملک السموت والارض وما فیھن واللہ علی کل شیء قدیر) ” زمین و آسمانوں اور تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ “

سورة کے اس بقیہ حصے کے اس سرسری جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طریق کار اور اسی منہاج بحث کے مطابق اس کے مباحث آگے بڑھ رہے ہیں ‘ جس کی طرف ہم نے محولہ بالااقتباسات میں اشارہ کیا ہے ۔ اب ہم بقیہ اسباق پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔

درس نمبر 52 ایک نظر میں :

یہ سبق یہود ونصاری اور مشرکین کے بارے میں ہونے والی طویل گفتگو ہی کا حصہ ہے ‘ جو پارہ ششم میں چل رہی تھی اور جس میں یہ بتانا مقصود تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور امت مسلمہ کے بارے میں ان لوگوں کا موقف کیا ہے ۔ یہ بات چیت اس سورة میں نصف سے بھی زیادہ حصے پر مشتمل ہے ۔ اس بات چیت میں وعموما یہود ونصاری دونوں کے نظریاتی فساد سے پردہ اٹھایا گیا ہے ‘ اور خصوصا یہودیوں کی بری نیت اور برے کردار سے بحث کی گئی ہے ۔ یہ کردار ان کا خود ان کے انبیائے سابقہ کے ساتھ رہا۔ حضرت نبی ﷺ کے ساتھ بھی رہا اور وہ اس پورے عرصہ میں اہل اسلام کے بجائے مشرکین کے معاون و مددگار رہے ۔ وہاں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہود ونصاری جن عقائد تک پہنچے ہوئے ہیں وہ صراحۃ کفریہ عقائد ہیں اس لئے کہ انہوں نے تورات ‘ انجیل اور قرآن کریم تینوں میں آئے ہوئے عقائد چھوڑ دیئے ہیں ‘ جب تک وہ تورات ‘ انجیل اور اب نازل ہونے والے کلام الہی کو قائم نہ کریں اس وقت تک ان کی کوئی دینی حیثیت نہ ہوگی ۔ اب بات کا رخ حضور اکرم ﷺ کی طرف ہوجاتا ہے کہ آپ کی طرف جو کچھ بھی نازل ہوتا ہے آپ اسے یہودی ونصاری اور مشرکین سب تک پہنچا دیں ‘ اس لئے کہ ان سب لوگوں نے دین الہی کو چھوڑ دیا ہے اور اب ان سب کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور امت مسلمہ کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان ہی کو دوست اور ولی بنائے اور یہود ونصاری اور مشرکین کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرے کیونکہ یہ لوگ خود ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ یہودی تو اہل کفر اور اہل شرک کے ساتھ بھی دوستی کا تعلق قائم کئے ہوئے ہیں حالانکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے ذریعہ ان پر لعنت ہوچکی ہے ۔ یہ تو تھا سابقہ مضمون اب یہاں حضور ﷺ کے حوالے سے ان سب گروہوں نے جو موقف اختار کر رکھا ہے وہ بیان کیا جاتا ہے اور امت مسلمہ کے ساتھ انہوں نے جو رویہ اختیار کیا ہے وہ اور آخرت میں ان کا جو انجام ہونے والا ہے وہ بیان کیا جاتا ہے ۔

نزول قرآن کے وقت امت مسلمہ قرآن کریم کو یوں لیتی تھی کہ وہ اپنے تمام منصوبے ‘ اپنی تمام سرگرمیوں اور لوگوں کے متعلق اپنے تمام مواقف اور رویے اس کے مطابق ڈھالتی چلی جاتی تھی اور حالت یہ تھی کہ قرآن کریم ‘ ان کا ہادی ‘ محرک ‘ مرشد اور لیڈر تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ ہر معرکے میں وہ غالب رہتی اور اس کے مخالف مغلوب رہتے ‘ اس لئے کہ ہر معرکے میں براہ راست وہ ربانی کمانڈ میں لڑتی تھی ‘ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ امت کی قیادت عالم بالا کی ربانی ہدایات کے مطابق فرماتے تھے ۔

کیا وہ ربانی ارشادات ہمارے سامنے موجود نہیں ؟ کیا وہ کتاب کریم جس کے اندر وہ ہدایات رقم ہیں موجود نہیں ؟ موجود ہے اور آج جو لوگ دعوت اسلامی دے رہے ہیں یا کل جو لوگ یہ کام کریں گے ان کو چاہئے کہ وہ ان ہدایات اور فیصلوں کو اس طرح لیں جس طرح کہ گویا یہ ہدایات ابھی نازل ہو رہی ہیں اور وہ تمام لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف ان ہدایات کی روشنی میں متعین کر رہے ہیں ۔ تمام مذاہب ومسالک اور تمام آراء اور نظریات اور تمام طور طریقوں اور تمام اقدار اور پیمانوں کے مقابلے میں ان کا موقف ان کی روشنی میں متعین ہو رہا ہے اور یہ کام آج بھی اسی طرح ہونا چاہئے اور کل بھی ۔

(آیت) ” لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا)

” تم اہل ایمان کی عدوات میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے ۔ “ عربیت کے اعتبار سے اس آیت کے مخاطب رسول اللہ ﷺ بھی ہو سکتے ہیں ‘ اور عام اہل ایمان بھی ‘ اس لئے کہ یہ ایک ایسی حقیقت اور ایسا مفہوم ہے جو سب کو بچشم سراب بھی نظر آتا ہے اور یہ انداز کلام ایسا ہے کہ اسالیب عربی کے اندر اس کے نظائر موجود ہیں خواہ مخاطب حضور ہوں یا ایک عام مسلمان دونوں صورتوں میں آیت کے ظاہری معنی بالکل واضح ہیں ۔

البتہ جو نکتہ قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس عبادت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے بھی پہلے یہودیوں کو لیا ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مشرکین کے مقابلے میں یہودیوں کی اسلام دشمنی زیادہ ہے اور تاریخی اور واقعاتی اعتبار سے یہ بات بھی بالکل واضح ہے ‘ اگر غور کیا جائے ۔

یہ بات درست ہے کہ گرائمر کے قواعد کے مطابق واو سے جو عطف ہوتا ہے ‘ اس میں تعاقب یا ترتیب کا لحاظ نہیں ہوتا اور معطوف اور معطوف علیہ حکم میں برابر ہوتے ہیں ۔ لیکن یہودیوں کو مشرکین سے پہلے اس لئے لایا گیا ہے کہ وہ اصلا اہل کتاب تھے اور ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ گمان کرے کہ وہ مسلم دشمنی میں شاید مشرکین سے کم ہوں گے ‘ اس لئے یہاں قواعد نحو سے ہٹ کر اس تقدیم سے یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ یہ لوگ مسلم دشمنی میں کم نہیں ہیں ۔ اگرچہ قواعد نحو میں اس تقدیم سے یہ تاثر نہیں ملتا لیکن اس بات کا احتمال ضرور ہے کہ یہ اشارہ مقصود ہو کہ یہ لوگ مشرکین سے بھی اسلام دشمنی میں شدید تر ہیں۔

آغاز اسلام سے آج تک جب ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں اسلام کے حوالے سے یہودیوں کے طرز عمل پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے مشرکین عالم کے مقابلے میں یہودی اسلام دشمنی میں بہت ہی آگے رہے ہیں ۔

جونہی مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی ‘ یہودی اس کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اور جب امت مسلمہ ایک امت بنی ‘ انہوں نے اس کے خلاف سازشیں شروع کردیں ۔ قرآن کریم نے ان کی ان سازشوں اور مکاریوں کے بارے میں نہایت ہی واضح فیصلے کئے اور اشارات دیئے جو اس معرکہ آرائی کا ایک واضح ثبوت ہیں جو یہودیوں نے اسلام اور رسول اسلام کے خلاف اور امت مسلمہ کے خلاف اس کی طویل تاریخ میں برپا کئے رکھی اور جس کے شعلے گذشتہ چودہ سو سال میں کسی بھی وقت فرد نہیں ہوئے اور جس کی گرمی آج بھی چاردانگ عالم میں ہر سو محسوس کی جارہی ہے ۔

جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے یہودیوں کے ساتھ معاہدہ امن اور معاہدہ پر امن بقائے باہمی (Co-existAnce) کیا ۔ آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی جوان کے پاس موجود کتاب تورات کی تصدیق کرتا تھا لیکن یہودیوں نے اس عہد کو وفا نہ کیا ۔ انہوں نے وہی رویہ اختیار کیا جو انہوں نے اس سے پہلے اپنے اللہ اپنے نبیوں کے ساتھ اختیار کیا تھا اور جس کی وجہ سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ تبصرہ کیا ۔

(آیت) ” ولقد انزلنا الیک ایت بینت وما یکفربھا الا الفسقون او کلما عھدوا عھدا نبذہ فریق منھم بل اکثرھم لا یومنون ولما جاء ھم رسول من عند اللہ مصدق لما معھم نبذ فریق من الذین اوتوا الکتاب کتاب اللہ وراء ظھورھم کانھم لا یعلمون)

” ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں ۔ کیا ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا ‘ تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور بالائے طاق رکھ دیا ؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں ‘ جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے ۔ اور جب ان کے پاس ‘ اللہ کی طرف سے کوئی رسول ‘ اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ‘ تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ “

جس دن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ‘ اوس اور خزرج اسلام پر جمع ہوئے ‘ یہودی مسلمانوں کے دلی دشمن بن گئے ‘ اس لئے کہ اسلام کی وجہ سے ان قبائل کے اندر یہودیوں کا عمل دخل یکسر ختم ہوگیا ۔ اس مشکل اور عظیم اتحاد کی وجہ سے ہی امت مسلمہ کی قیادت وجود میں آگئی اور اس کی زمام اختیار حضرت محمد ﷺ نے اپنی ہاتھ میں لی اور پورے علاقے سے یہودیوں کے اقتدار کے مواقع ختم ہوگئے ۔

یہودیوں کی مکارانہ ذہنیت کے بس میں جو وسائل اور جو ہتھیار تھے ‘ انہوں نے وہ سب مسلمانوں کے خلاف استعمال کئے ۔ بابل کی اسیری ‘ مصر کی غلامی اور رومن عروج کے زمانے میں گزرنے والی غلامانہ زندگی کے شب وروز میں انہوں نے جو مکاری اور عیاری سیکھی تھی وہ سب انہوں نے اسلام کے خلاف استعمال کی ۔ حالانکہ تمام اقوام اور ملتوں نے ان کے ساتھ جس تنگ دلی کا رویہ اختیار کیا تھا ‘ اسلام نے اس کے برعکس ان کے ساتھ نہایت ہی فراخدلی کا ثبوت دیا ۔ لیکن انہوں نے اسلام کے اس حسن سلوک کا بدلہ اس مکر و فریب سے دیا جو فجر اسلام سے آج تک جاری ہے اور جو نہایت ہی گھٹیا ذہنیت کا غماز ہے ۔

انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جزیرۃ العرب کی تمام قوتوں کو اکٹھا کیا اور رات دن عرب کے متفرق قبائل کو اس مہم کے لئے جمع کرتے رہے ۔

(آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولاء اھدی من الذین امنوا سبیلا “۔ ” وہ ان لوگوں سے کہتے جنہوں نے کفر کی راہ کی کہ یہ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت کی راہ پر ہیں ۔ “

اور جب اسلام یہودیوں کی سازشوں کے برعکس غالب ہوگیا تو انہوں نے اپنی سازشوں کا رنگ بدلا ۔ انہوں نے اسلامی لٹریچر کے اندر اپنی جانب سے گھڑی ہوئی باتیں داخل کرنے کی پالیسی اختیار کی ۔ صرف کتاب اللہ ان کی دسترس سے باہر رہی ‘ اس لئے کہ اس کی حفاظت کی ضمانت خود اللہ تعالیٰ نے دی تھی انہوں نے مسلمانوں کی صفوں کے اندر اپنے ایجنٹ داخل کئے ۔ جو لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ابھی ان کے ذہن میں پختگی پیدا نہ ہوئی تھی ان کے اندر انہوں نے فتنہ پردازی شروع کردی یہ کام وہ مختلف علاقوں میں کرتے رہے اور آج تک وہ مسلمانوں کے خلاف دنیا کے اطراف واکناف میں لوگوں کو جمع کرتے ہیں ۔ چانچہ اس وقت دنیا کے چپے چپے پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہودیوں نے جال بچھا رکھے ہیں ۔ اس جنگ میں وہ عیسائی اور بت پرست دونوں اقوام کو استعمال کر رہے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے اندر غیر اسلامی طور طریقے رائج کرتے ہیں اور مسلمان ممالک کے اندر ایسی لیڈر شب سٹیج پر لاتے ہیں جن کے صرف نام مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے وہ دین اسلام کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینکنے کے عمل میں مصروف ہیں ۔

ذرا پھر اللہ تعالیٰ کے اس کلام پر غور فرمائیں : ” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے ۔ “

٭ جس شخص نے مدینہ کی نوخیز اسلامی مملکت کے خلاف تمام قبائل کو جنگ احزاب میں جمع کیا اور بنی قریظہ اور دوسرے یہودیوں کو جمع کیا اور قریش مکہ اور دوسرے قبائل کو جمع کیا یہ کون تھا ؟ یہودی ۔

٭ وہ شخص جس نے عوام کو برانگیختہ کیا ‘ اشرار کو مدینہ میں جمع کیا ‘ اور مکروہ پروپیگنڈا کیا جس کے نتیجے میں حضرت عثمان شہید ہوئے اور اس کے بعد نہایت ہی تباہ کن واقعات پیش آئے وہ کون تھا ؟ یہودی ۔

٭ وہ لوگ جو احادیث رسول میں موضوعات داخل کرتے رہے وہ کون تھا ؟ یہودی ۔

٭ اسلام کی آخری خلافت ‘ خلافت عثمانیہ کے دور میں قومیت کے نعرے کس نے بلند کئے ‘ عالم اسلام میں انقلابات برپا کرکے اسلامی شریعت اور اسلامی دساتیر کو کس نے منسوک کیا اور جس شخص نے خلافت عثمانیہ کو ختم کر کے سلطان عبدالحمید کے بعد لادینی نظام رائج کیا ‘ وہ کون تھا ؟ اتاترک یہودی ۔

٭ وہ تمام اقدامات جو پورے عالم اسلام میں اور پوری دنیا میں اسلامی تحریکات کے خلاف کئے جاتے ہیں ان کی پشت پر کون ہے ؟ یہودی ۔

٭ اس کرہ ارض پر مادیت اور ملحدانہ نظریات کا موجد کون ہے ؟ یہاں حیوانی اور میلانات ‘ جنسی بےراہ روی کے پھیلانے کی تحاریک کی پشت پر کون ہے ؟ ان تمام نظریات کا پرچار کون کرتا ہے جو تمام مذہبی مقدسات اور شعائر کے خلاف ہیں ؟ صرف اور صرف یہودی ۔

غرض یہودیوں نے اسلام کے خلاف پوری اسلامی تاریخ میں جو معرکہ آرائی کی ہے اس کی داستانی نہایت ہی طویل ہے ۔ اور اس کے مقابلے میں مشرکین اور بت پرستوں نے اسلام کے خلاف جو کچھ کیا وہ بہت ہی کم ہے ۔ زمانہ قدیم میں بھی اور دور جدید میں بھی ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ مشرکین عرب کے ساتھ اسلام کی معرکہ آرائی مجموعی طور پر صرف بیس سال تک رہی ؟ اس طرح اہل فارس کے ساتھ بھی ایک مختصر عرصہ جنگ رہی ۔ دور جدید میں اگرچہ ہندوستان کے مشرکین بظاہر اسلام کے خلاف لڑتے نظر آتے ہیں لیکن ان کی دشمنی اور جنگ یہودیوں کے مقابلے میں کچ بھی نہیں ہے ۔ عالمی صہیونیت (یاد رہے کہ سوشلزم اور کمیونزم عالمی صہیونیت کی شاخیں ہی تصور ہوتی ہیں) ہمیشہ سے اسلام دشمنی میں پیش پیش رہی ہے اور اس سے قبل یہودیوں نے اسلام کے خلاف جو محاذ آرائی کی اور یہ جس قدر طویل اور وسیع رہی ہے اس کے مقابلے میں صرف صلیبی جنگیں ہی کس قدر وقعت رکھتی ہیں جن پر ہم آگے چل کر بات کریں گے ۔

اگر ہم اللہ تعالیٰ کے ان الفاظ پر بار بار غور کریں ” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت ” یہود اور مشرکین “ کو پاؤ گے “ تو بات کا حق ہونا واضح ہوجاتا ہے ۔ اس آیت میں مشرکین کے مقابلے میں یہودیوں کو پہلا نمبر دیا گیا ہے اور پھر جب ہم یہودیوں کے اس تاریخی رول کو بھی پیش نظر رکھیں جو انہوں نے اسلام کے خلاف ادا کیا ‘ جس کے کچھ واقعات کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فقرے میں یہودیوں کو کیوں پہلے نمبر پر رکھا ہے ۔

بیشک یہودی نہایت ہی بدفطرت لوگ ہیں ‘ ان کے مزاج میں شر ہے ‘ ان کے دلوں کے اندر اسلام اور نبی اسلام کے خلاف کینہ بھرا ہوا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ یہاں مسلمانوں اور نبی اکرم کو خبردار فرماتے ہیں اور ان لوگوں کی اس بری اور شریر فطرت پر اگر دنیا میں کسی نے قابو پایا تو وہ اسلام اور مسلمان تھے ‘ لیکن اس وقت جب مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان تھے ۔ صرف اسلام ہی تھا ‘ جس نے اس بدفطرت مخلوق سے لوگوں کو نجات دلائی تھی لیکن اس وقت جب اہل اسلام ‘ اسلام کا حق پورا پورا ادا کرتے تھے ۔

(آیت) لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الْیَہُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَاناً وَأَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ (82) وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ (83) وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84) فَأَثَابَہُمُ اللّہُ بِمَا قَالُواْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ جَزَاء الْمُحْسِنِیْنَ (85) وَالَّذِیْنَ کَفَرُواْ وَکَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا أُوْلَـئِکَ أَصْحَابُ الْجَحِیْمِ (86)

” تم اہل ایمان کی عدوات میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں ، یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور ان میں غرور نفس نہیں ہے ۔ جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں ، وہ بول اٹھتے ہیں کہ ” پروردگار ‘ ہم ایمان لائے ‘ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ “ ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ جزاء ہے نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لئے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا ‘ تو وہ جہنم کے مستحق ہیں ۔ “

” ذرا ان آیات پر غور کیجئے ۔ یہ ایک مخصوص صورت حال کی نشاندہی کر رہی ہیں اور ان میں جو فیصلہ ہے یہ بھی ایک مخصوص صورت حال میں ہے ۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیرورکاروں میں سے ایک فریق کے بارے میں ایک تبصرہ ہے جو کہتے تھے کہ ہم ” نصاری “ ہیں اور تبصرہ ان الفاظ میں ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ محبت میں یہ لوگ قریب تر ہیں ۔

لیکن یہ بات یہاں ذہن میں رہنا چاہئے کہ یہ ایک متعین صورت حال پر تبصرہ ہے اس لئے یہ صرف مخصوص صورت حالات پر ہی منطبق ہوگا ۔ اکثر لوگوں نے اس تبصرے کو اچھی طرح نہیں سمجھا ہے ۔ بعض لوگ اس تبصرے کو اس مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں کہ اہل اسلام بعض مخالف کیمپوں کے ساتھ اپنے موقف میں نرمی پیدا کرلیں حالانکہ اپنے موقف میں نرمی کرنا اہل اسلام کے لئے نہایت ہی مضر ہے ۔ اس سے دشمن کی پالیسی اور موقف کے سمجھنے میں بھی غلطی ہوسکتی ہے ۔ اس لئے ہم یہاں مناسب سمجھتے ہیں کہ ظلال القرآن میں اس صورت حال کی وضاحت کردیں جس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے ۔

ان آیات میں جن لوگوں کی تصویر کشی کی گئی ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ ہم ” نصاری “ ہیں ‘ اور وہ مسلمانوں کی دوستی میں قریب تر ہیں اور یہ لوگ عالم دین اور تاریک الدنیا قسم کے فقیر ہیں اور وہ متکبر اور مغرور بھی نہیں ہیں۔

(آیت) ” ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَاناً وَأَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ (82)

” یہ اس لئے کہ ان میں عالم دین اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے “۔ لیکن قرآن مجید بات کو یہاں ہی ختم نہیں کردیتا ۔ نہ بات کو مجمل چھوڑا جاتا ہے ۔ نہ اسے ہر اس شخص کے لئے عام چھوڑ دیا جاتا ہے جو کہتا ہے میں نصرانی ہوں اس گروہ کی تصویر میں کچھ مزید رنگ بھرے جاتے ہیں اور اس گروہ کے موقف کو یوں واضح کیا جاتا ہے ۔

آیت 82 لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا ج یہ بہت اہم آیت ہے۔ مکہ کے مشرکین بھی مسلمانوں کے دشمن تھے ‘ لیکن ان کی دشمنی کم از کم کھلی دشمنی تھی ‘ ان کا دشمن ہونا بالکل ظاہر و باہر تھا ‘ وہ سامنے سے حملہ کرتے تھے۔ لیکن مسلمانوں سے بد ترین دشمنی یہود کی تھی ‘ وہ آستین کے سانپ تھے اور سازشی انداز میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں مشرکین مکہ سے کہیں آگے تھے۔ آج بھی یہود اور ہنود مسلمانوں کی دشمنی میں سب سے آگے ہیں ‘ کیونکہ اس قسم بت پرستی کا شرک تو اب صرف ہندوستان میں رہ گیا ہے ‘ اور کہیں نہیں رہا۔ ہندوستان کے بھی اب یہ صرف نچلے طبقے میں ہے جبکہ عام طور پر اوپر کے طبقے میں نہیں ہے۔ لیکن بہرحال اب بھی مسلمانوں کے خلاف یہود اور ہنود کا گٹھ جوڑ ہے۔وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ط یہ تاریخی حقیقت ہے اور سیرت محمد ﷺ سے ثابت ہے کہ جس طرح کی شدید دشمنی اس وقت یہود نے آپ ﷺ سے کی ویسی نصاریٰ نے نہیں کی۔ حضرت نجاشی رح شاہ حبشہ نے اس وقت کے مسلمان مہاجروں کو پناہ دی ‘ مقوقس شاہ مصر نے بھی حضور ﷺ کی خدمت میں ہدیے بھیجے۔ ہرقل نے بھی حضور ﷺ کے نامۂ مبارک کا احترام کیا۔ وہ چاہتا بھی تھا کہ اگر میری پوری قوم مان لے تو ہم اسلام قبول کرلیں۔ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ جس کا ذکر سورة آل عمران آیت 61 میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ وہ لوگ اگرچہ مسلمان تو نہیں ہوئے مگر ان کارویّہ انتہائی محتاط رہا۔ بہر حال یہ حقیقت ہے کہ حضور ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مخالفت میں وہ شدت نہ تھی جو یہودیوں کی مخالفت میں تھی۔ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَانًا وَّاَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ یعنی عیسائیوں میں اس وقت تک علمائے حق بھی موجود تھے اور درویش راہب بھی جو واقعی اللہ والے تھے۔ بحیرہ راہب عیسائی تھا جس نے حضور ﷺ کو بچپن میں پہچانا تھا۔ اسی طرح ورقہ بن نوفل نے حضور ﷺ کی سب سے پہلے تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ اے محمد ﷺ آپ پر وہی ناموس نازل ہوا ہے جو اس سے پہلے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ ورقہ بن نوفل تھے تو عرب کے رہنے والے ‘ لیکن وہ حق کی تلاش میں شام گئے اور عیسائیت اختیار کی۔ وہ عبرانی زبان میں تورات لکھا کرتے تھے۔ یہ اس دور کے چند عیسائی علماء اور راہبوں کی مثالیں ہیں۔ لیکن وہ قِسِّیسِین اور رُہْبان اب آپ کو عیسائیوں میں نہیں ملیں گے ‘ وہ دور ختم ہوچکا ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قرآن نازل ہو رہا تھا۔ اس کے بعد جو صورت حال بدلی ہے اور صلیبی جنگوں کے اندر عیسائیت نے جو وحشت و بربر یت دکھائی ہے ‘ اور عیسائی علماء اور مذہبی پیشواؤں نے جس طرح مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے اور اپنی قوم سے اس سلسلے میں جو کارنامے انجام دلوائے ہیں وہ تاریخ کے چہرے پر بہت ہی بد نما داغ ہے۔

یہودیوں کا تاریخی کردار یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں حضرت جعفر بن ابو طالب نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور حضرت جعفر کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ سے ملیں، حاضر خدمت ہو کر آپ کے حالات وصفات دیکھیں اور آپ کا کلام سنیں۔ جب یہ آئے آپ سے ملے اور آپ کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہوگئے بہت روئے دھوئے اور اسلام قبول کیا اور واپس جاکر نجاشی سے سب حال کہا نجاشی اپنی سلطنت چھوڑ کر حضور ﷺ کی طرف ہجرت کر کے آنے لگے لیکن راستے میں ہی انتقال ہوگیا۔ یہاں بھی یہ خیال رہے کہ یہ بیان صرف سدی کا ہے اور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ حبشہ میں ہی سلطنت کرتے ہوئے فوت ہوئے ان کے انتقال والے دن ہی حضور ﷺ نے صحابہ کو ان کے انتقال کی خبر دی اور ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی۔ بعض تو کہتے ہیں اس وفد میں سات تو علماء تھے اور پانچ زاہد تھے یا پانچ علماء اور سات زاہد تھے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل پچاس آدمی تھے اور کہا گیا ہے کہ ساٹھ سے کچھ اوپر تھے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ستر تھے۔ فاللہ اعلم۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں جن کے اوصاف آیت میں بیان کئے گئے ہیں یہ اہل حبشہ ہیں۔ مسلمان مہاجرین حبشہ جب ان کے پاس پہنچے تو یہ سب مسلمان ہوگئے تھے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں پہلے یہ دین عیسوی پر قائم تھے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا اور قرآن کریم کو سنا تو فوراً سب مسلمان ہوگئے۔ امام ابن جریر کا فیصلہ ان سب اقوال کو ٹھیک کردیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا کہیں کے۔ یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد سے ناحق پر اڑتے ہیں، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں۔ علم سے کورے ہیں علماء کی تعداد ان میں بہت ہی کم ہے اور علم اور ذی علم لوگوں کی کوئی وقعت ان کے دل میں نہیں یہی تھے جنہوں نے بہت سے انبیاء کو قتل کیا خود پیغمبر الزمان احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے قتل کا ارادہ بھی کیا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار۔ آپ کو زہر دیا، آپ پر جادو کیا اور اپنے جیسے بدباطن لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضور ﷺ پر حملے کئے لیکن اللہ نے ہر مرتبہ انہیں نامراد اور ناکام کیا۔ ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کبھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں اس کے قتل کا قصد پیدا ہوتا ہے ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ہے بہت ہی غریب ہاں مسلمانوں سے دوستی میں زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں حضرت مسیح کے تابعدار ہیں انجیل کے اصلی اور صحیح طریقے پر قائم ہیں ان میں ایک حد تک فی الجملہ مسلمانوں اور اسلام کی محبت ہے یہ اس لئے کہ ان میں نرم دلی ہے جیسے ارشاد باری آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً) 57۔ الحدید :27) یعنی حضرت عیسیٰ کے تابعداروں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحم ڈال دیا ہے۔ ان کی کتاب میں حکم ہے کہ جو تیرے داہنے کلے پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے بیاں کلہ بھی پیش کر دے۔ ان کی شریعت میں لڑائی ہے ہی نہیں۔ یہاں ان کی اس دوستی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان میں خطیب اور واعظ ہیں قسسین اور قس کی جمع قسیسین ہے قسوس بھی اس کی جمع آتی ہے رھبان جمع ہے راہب کی، راہب کہتے ہیں عابد کو۔ یہ لفظ مشتق ہے رہب سے اور رہبت کے معنی ہیں خوف اور ڈر کے۔ جیسے راکب کی جمع رکبان ہے اور فرسان ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں کبھی رہبان واحد کیلئے بھی آتا ہے اور اس کی جمع رہابین آتی ہے جیسے قربان اور قرابین اور جوازن اور جوازین اور کبھی اس کی جمع رہابنۃ بھی آتی ہے۔ عرب کے اشعار میں بھی لفظ رہبان واحد کیلئے آیا۔ حضرت سلمان سے ایک شخص (قسیسین و رھبانا) پڑھ کر اس کے معنی دریافت کرتا ہے تو آپ فرماتے ہیں قسیسین کو خانقاہوں اور غیر آباد جگہوں میں چھوڑ مجھے تو رسول اللہ ﷺ نے صدیقین و رھبانا پڑھایا (بزار اور ابن مردویہ) الغرض ان کے تین اوصاف یہاں بیان ہوئے ہیں ان میں عالموں کا ہونا۔ ان میں عابدوں کا ہونا۔ ان میں تواضع فروتنی اور عاجزی کا ہونا۔

آیت 82 - سورۃ المائدہ: (۞ لتجدن أشد الناس عداوة للذين آمنوا اليهود والذين أشركوا ۖ ولتجدن أقربهم مودة للذين آمنوا الذين قالوا إنا نصارى...) - اردو