اس صفحہ میں سورہ Al-Maaida کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المائدة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ غَيْرَ ٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوٓا۟ أَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا۟ مِن قَبْلُ وَأَضَلُّوا۟ كَثِيرًا وَضَلُّوا۟ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ
لُعِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُۥدَ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ
كَانُوا۟ لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ
تَرَىٰ كَثِيرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ أَن سَخِطَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ وَفِى ٱلْعَذَابِ هُمْ خَٰلِدُونَ
وَلَوْ كَانُوا۟ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِىِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَآءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ
۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ
آیت 77 قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ یہ تم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محبت اور عقیدت کی وجہ سے جو کچھ بنا دیا ہے ‘ وہ سراسر مبالغہ ہے۔ حضور ﷺ کی شان میں بھی مبالغہ آرائی اگر لوگ کرتے ہیں تو محبت کی وجہ سے کرتے ہیں ‘ عشق رسول ﷺ کے نام پر کرتے ہیں ‘ عقیدت کے غلو کی وجہ سے کرتے ہیں۔ تو غلو مبالغہ درحقیقت انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ چناچہ اس سے منع کیا جا رہا ہے۔ َ وَلاَ تَتَّبِعُوْٓا اَہْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے ‘ یہ تثلیث مصر میں زمانۂ قدیم سے موجود تھی ‘ اسی کو انہوں نے اختیار کیا
آیت 78 لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْم بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ط بنی اسرائیل کا جو کردار رہا ہے اس پر ان کے انبیاء ان کو مسلسل لعن طعن کرتے رہے ہیں۔ Old` Testament میں حضرت داؤد علیہ السلام کے حوالے سے اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ New` Testament گوسپلز میں حضرت مسیح علیہ السلام کے تنقیدی فرمودات بار بار ملتے ہیں ‘ جن میں اکثر ان کے علماء ‘ احبار اور صوفیاء مخاطب ہیں کہ تم سانپوں کے سنپولیے ہو۔ تمہارا حال ان قبروں جیسا ہے جن کے اوپر تو سفیدی پھری ہوئی ہے ‘ مگر اندر گلی سڑی ہڈیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ تم نے اپنے اوپر صرف مذہبی لبادے اوڑھے ہوئے ہیں ‘ لیکن تمہارے اندر خیانت بھری ہوئی ہے۔ تم مچھر چھانتے ہو اور سموچے اونٹ نگل جاتے ہو ‘ یعنی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر تو زور دار بحثیں ہوتی ہیں جبکہ بڑے بڑے گناہ کھلے بندوں کرتے ہو۔ یہ تو یہودی قوم اور ان کے علماء کے کردار کی جھلک ہے ان کے اپنے نبی کی زبان سے ‘ مگر دوسری طرف یہی نقشہ بعینہٖ آج ہمیں اپنے علماءِ سُوء میں بھی نظر آتا ہے۔
آیت 79 کَانُوْا لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ ط۔جس معاشرے سے نہی عن المنکر ختم ہوجائے گا ‘ وہ پورا معاشرہ سنڈاس بن جائے گا۔ یہ تو گویا انتظام صفائی ہے۔ ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے ارد گرد نگاہ رکھے ‘ ایک دوسرے کو روکتا رہے کہ یہ کام غلط ہے ‘ یہ مت کرو ! جس معاشرے سے یہ تنقید اور احتساب ختم ہوجائے گا ‘ اس کے اندر لازماً خرابی پیدا ہوجائے گی۔
آیت 80 تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْہُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط۔خود کافروں کے حمایتی بنتے ہیں اور اپنے لیے ان کی حمایت تلاش کرتے ہیں۔لَبِءْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ اَنْفُسُہُمْ یہ ان کے جو کرتوت ہیں وہ سب آگے اللہ کے ہاں جمع ہو رہے ہیں اور ان کا وبال ان پر آئے گا۔
آیت 82 لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا ج یہ بہت اہم آیت ہے۔ مکہ کے مشرکین بھی مسلمانوں کے دشمن تھے ‘ لیکن ان کی دشمنی کم از کم کھلی دشمنی تھی ‘ ان کا دشمن ہونا بالکل ظاہر و باہر تھا ‘ وہ سامنے سے حملہ کرتے تھے۔ لیکن مسلمانوں سے بد ترین دشمنی یہود کی تھی ‘ وہ آستین کے سانپ تھے اور سازشی انداز میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں مشرکین مکہ سے کہیں آگے تھے۔ آج بھی یہود اور ہنود مسلمانوں کی دشمنی میں سب سے آگے ہیں ‘ کیونکہ اس قسم بت پرستی کا شرک تو اب صرف ہندوستان میں رہ گیا ہے ‘ اور کہیں نہیں رہا۔ ہندوستان کے بھی اب یہ صرف نچلے طبقے میں ہے جبکہ عام طور پر اوپر کے طبقے میں نہیں ہے۔ لیکن بہرحال اب بھی مسلمانوں کے خلاف یہود اور ہنود کا گٹھ جوڑ ہے۔وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ط یہ تاریخی حقیقت ہے اور سیرت محمد ﷺ سے ثابت ہے کہ جس طرح کی شدید دشمنی اس وقت یہود نے آپ ﷺ سے کی ویسی نصاریٰ نے نہیں کی۔ حضرت نجاشی رح شاہ حبشہ نے اس وقت کے مسلمان مہاجروں کو پناہ دی ‘ مقوقس شاہ مصر نے بھی حضور ﷺ کی خدمت میں ہدیے بھیجے۔ ہرقل نے بھی حضور ﷺ کے نامۂ مبارک کا احترام کیا۔ وہ چاہتا بھی تھا کہ اگر میری پوری قوم مان لے تو ہم اسلام قبول کرلیں۔ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ جس کا ذکر سورة آل عمران آیت 61 میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ وہ لوگ اگرچہ مسلمان تو نہیں ہوئے مگر ان کارویّہ انتہائی محتاط رہا۔ بہر حال یہ حقیقت ہے کہ حضور ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مخالفت میں وہ شدت نہ تھی جو یہودیوں کی مخالفت میں تھی۔ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَانًا وَّاَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ یعنی عیسائیوں میں اس وقت تک علمائے حق بھی موجود تھے اور درویش راہب بھی جو واقعی اللہ والے تھے۔ بحیرہ راہب عیسائی تھا جس نے حضور ﷺ کو بچپن میں پہچانا تھا۔ اسی طرح ورقہ بن نوفل نے حضور ﷺ کی سب سے پہلے تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ اے محمد ﷺ آپ پر وہی ناموس نازل ہوا ہے جو اس سے پہلے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ ورقہ بن نوفل تھے تو عرب کے رہنے والے ‘ لیکن وہ حق کی تلاش میں شام گئے اور عیسائیت اختیار کی۔ وہ عبرانی زبان میں تورات لکھا کرتے تھے۔ یہ اس دور کے چند عیسائی علماء اور راہبوں کی مثالیں ہیں۔ لیکن وہ قِسِّیسِین اور رُہْبان اب آپ کو عیسائیوں میں نہیں ملیں گے ‘ وہ دور ختم ہوچکا ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قرآن نازل ہو رہا تھا۔ اس کے بعد جو صورت حال بدلی ہے اور صلیبی جنگوں کے اندر عیسائیت نے جو وحشت و بربر یت دکھائی ہے ‘ اور عیسائی علماء اور مذہبی پیشواؤں نے جس طرح مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے اور اپنی قوم سے اس سلسلے میں جو کارنامے انجام دلوائے ہیں وہ تاریخ کے چہرے پر بہت ہی بد نما داغ ہے۔