اس صفحہ میں سورہ Al-Maaida کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المائدة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوٓا۟ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ
۞ وَلَقَدْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ ٱثْنَىْ عَشَرَ نَقِيبًا ۖ وَقَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَيْتُمُ ٱلزَّكَوٰةَ وَءَامَنتُم بِرُسُلِى وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَٰقَهُمْ لَعَنَّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَٰسِيَةً ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ ۙ وَنَسُوا۟ حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱصْفَحْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ
(آیت) ” نمبر 11۔
اس آیت کے مفہوم میں اختلاف ہے لیکن راجح بات یہ ہے کہ اس سے مراد وہ واقعہ ہے جو یوم حدیبیہ پر پیش آیا جب ایک گروہ مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف غداری کر کے چاہتا تھا کہ غفلت میں ان پر حملہ کر دے مگر اللہ تعالیٰ نے انکو مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بنا دیا (تفصیلات کے لئے دیکھئے سورة فتح)
غرض حادثہ کیسا بھی ہو ‘ بہرحال یہاں اعتبار اور اہمیت اس بات کی ہے جو یہاں اسلام کے نظام تربیت میں پیش نظر ہے اور وہ یہ کہ غصے اور دشمنی کو فرو کرنا چاہئے اور اس طرح دشمنوں کے خلاف اپنے دلوں میں پائے جانے والے کئے اور دشمنی کو نکالنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ ٹھنڈے دل سے سوچیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ ان کا نگہبان ہے اور ان کا محافظ ہے ۔ اس نرمی ‘ سنجیدگی اور اطمینان کی وجہ سے مسلمانوں کو ضبط نفس حاصل ہوتا ہے ان کے دلوں میں رواداری پیدا ہوتی ہے اور وہ سہولت سے عدل و انصاف قائم کرتے ہیں ۔ مسلمان اس بارے میں ندامت محسوس کریں گے اگر وہ پھر بھی اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا نہ کریں ‘ حالانکہ وہ ہر وقت ان کا نگہبان اور محافظ ہے ‘ اور ان کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کو پکڑ رہا ہے ۔ دوسری جگہ آیت یہ ہے :
(آیت) ” اذ ھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم فکف ایدیھم عنکم “۔ (5 : 11) (جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کا ارادہ کرلیا تھا مگر اللہ نے ان کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیئے)
ہاتھوں کا آگے بڑھنا اور پکڑنا اور پھر ان کا روک دیا جانا ‘ یہ انداز تعبیر ایک زندہ اور مصور انداز تعبیر ہے اور یہ معنوی انداز سے زیادہ موثر ہے ۔ اس تعبیر کے اندر تصویر اور حرکت اسکریں پر سامنے آجاتی ہے ۔ یہ انداز تعبیر بات کو زور دار اور وزنی بنا دیتا ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ بالکل ایک نیا اسلوب ہے جو پہلی مرتبہ استعمال ہوا ہے اور اس میں ایک محسوس صورت حال بھی نظروں کے سامنے آجاتی ہے ۔ اور وہ متحرک صورت میں تصور کے اسکرین پر دوڑتی ہے یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان ہے اور اسی وجہ سے قرآن معجز ہے ۔
درس نمبر 47 ایک نظر میں :
سابقہ سبق کے آخر میں اس معاہدے کا تذکرہ ہوا تھا جو اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کے درمیاں طے پایا تھا اور یہ معاہدہ کر کے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جو عظیم احسان کیا تھا وہ انہیں یاد دلایا تھا ۔ یہ اس لئے کہ وہ اس معاہدے کی رو سے ان پر عائد ہونے والی ڈیوٹیوں کو اچھی طرح ادا کریں اور اس بات سے ڈریں کہ وہ اس معاہدے کو توڑ نہ دیں اور اس کی خلاف ورزی نہ کریں ۔
اس پورے سبق میں وہ تفصیلات دی گئی ہیں جن میں اہل کتاب نے اپنے ان معاہدوں کی خلاف ورزیاں کیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے ، یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں انہیں اس دنیا میں جو سزائیں دی گئیں وہ کس قدر سخت تھیں ، یہ اس لئے کہ ایک طرف تو یہ وضاحت جماعت مسلمہ کے لئے ایک تاریخی نصیحت اور عبرت کا کام کرے اور اہل کتاب کی حقیقی صورت حال کی تفصیلات ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں اور دوسری جانب انہیں بتایا جائے کہ اللہ کی سنت اٹل ہوتی ہے اور وہ اپنے فیصلوں میں کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتا ۔ تیسرے یہ کہ یہ معلوم ہوجائے کہ اہل کتاب کی اصل حقیقت کیا ہے اور تاریخ میں ہمیشہ ان کا موقف کیا رہا ہے ۔ تاکہ مسلمانوں کے خلاف ان کی جانب سے کی جانے والی سازشوں کا اچھی طرح دفعیہ کیا جائے اور ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو ناکام کیا جاسکے ، یہ سازشیں اور اپنے دینی ثابت قدمی کے رنگ مین کرتے تھے حالانکہ وہ ہمیشہ ان معاہدوں کو توڑتے رہے تھے ۔
اس سبق میں اللہ کے اس معاہدے کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قوم موسیٰ کے ساتھ اس وقت کیا تھا ‘ جب اس کو مصر کی محکومانہ اور رسوا کن زندگی سے نجات دی گئی تھی ۔ اس میثاق کو بھی بنی اسرائیل نے توڑد یا تھا ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس عہد شکنی کے نتیجے میں میں ان پر کیا گزری ۔ خدا کی لعنت کے ساتھ انہیں جلاوطن کردیا گیا اور ہدایت اور انعام سے محروم کر کے انہیں راندہ درگاہ قرار دیا گیا ۔ پھر اس معاہدے کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جو ان لوگوں سے کیا گیا تھا ‘ جنہوں نے کہا تھا کہ وہ نصاری ہیں۔ انہوں نے اس معاہدے کو توڑا اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان نفرت اور عداوت پیدا کردی اور اعلان کردیا گیا کہ یہ عداوت تاقیامت بحال رہے گی ۔ پھر بنی اسرائیل کا موقف ‘ ارض مقدس کے حوالے سے بھی ایکسرے ہوا ہے جس میں انہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اس پر حملہ آور ہوں گے انہوں نے اس عہد کو توڑا اور الٹے پاؤں پھرگئے محض بزدلی کی وجہ سے انہوں نے اللہ کی ساتھ بدعہدی کی اور معاہدے کی ذمہ داریاں ادا نہ کیں ۔ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے صاف صاف کہہ دیا کہ آپ جائیں ‘ آپ اور آپ کا خدا دونوں لڑیں ہم توی ہیں بیٹھتے ہیں ۔
اہل کتاب کے ان معاہدوں اور مواقف کے جائزے کے بیچ میں ‘ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان عہد شکنیوں کے نتیجے میں اہل کتاب کے اندر کس قدر فکری انحراف پیدا ہوگیا تھا ۔ ان معاہدوں میں یہ طے ہوا تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کو تسلیم کریں گے اور اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں گے ۔ اس کے بدلے اللہ نے ان کو انعامات واکرامات سے نوازنا تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ تمہیں اس سرزمین کا اقتدار اعلی دیا جائے گا لیکن انہوں نے خدا کی نافرمانی کر کے اپنے آپ کو ان تمام چیزوں سے محروم کرلیا ۔ چناچہ وہ اللہ کی جانب سے ملعون ہو کر اور فرقہ پرستی میں پڑ کر جلاوطنی کی زندگی بسر کرتے رہے ۔
ان تبصروں کے بعد از سر نو انکو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ہدایت کو قبول کرلیں ۔ یہ ہدایت جو نہایت ہی اہم ہے جسے اس آخری رسالت نے پیش کیا ہے اور جسے نبی آخر الزمان خاتم النبین نے پیش کیا ہے اور جس کی وجہ سے انسانوں پر حجت تمام ہوگئی کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے اور کوئی نبی نہیں آیا اور آخری نبی گزرنے کے بعد طویل عرصہ گزر گیا ہے ۔ اس لئے وہ ہدایت بھول گئے اور اب ان پر مواخذہ کیا ہوگا ۔ لو حضرت محمد ﷺ بشیر ونذیر بن کر آگئے ہیں ‘ اب کیا بہانہ ہے بتاؤ ؟
اس تمام بحث سے یہ نتیجہ بھی از خود برآمد ہوتا ہے کہ دین اسلام اپنی اساس کے اعتبار سے ایک ہے اللہ کا اپنے بندوں کے ساتھ عہد ومثاق بھی ایک ہے کہ وہ ایمان لائیں ‘ اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھیں ‘ زکوۃ ادا کریں اور اللہ نے انکو جو رزق دیا ہے ‘ اس میں سے اللہ کے لئے خرچ کریں ۔ یہ ایک ایسا میثاق ہے جو صحیح نظریات کو متعین کردیتا ہے جو صحیح عبادات کو متعین کردیتا ہے اور اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیادوں کی نشاندی کرتا ہے ۔ اس مختصر جائزے کے بعد آب ذرا آیات پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔
(آیت) ” نمبر 12 تا 14 ۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا وہ دو فریقوں کے درمیان معاہدہ تھا ۔ اس معاہدے کی عبارت شرط اور جزائے شرط کے انداز میں تھی ۔ قرآن کریم نے اس معاہدے کی شرط اور اجزاء کو بعینہ نقل کیا ہے ۔ یہ اصل عبارت عہد کے حالات اور واقعہ عقد کے ذکر کے بعد دی گئی ہے ۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ اور بنی اسرائیل کے 12 نمائندوں کے درمیان ہوا تھا ۔ یہ نمائندے بنی اسرائیل کے 12 قبائل کے نمائندے تھے ۔ یہ 12 قبائل حضرت یعقوب (علیہ السلام) (جن کا نام اسرائیل تھا) کے پوتے اور ان کی اولاد تھے ۔ ان نمائندوں کی تعداد 12 تھی اور اس معاہدے کی عبارت یہ تھی :
(آیت) ” ً وَقَالَ اللّہُ إِنِّیْ مَعَکُمْ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاَۃَ وَآتَیْْتُمُ الزَّکَاۃَ وَآمَنتُم بِرُسُلِیْ وَعَزَّرْتُمُوہُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللّہَ قَرْضاً حَسَناً لَّأُکَفِّرَنَّ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَلأُدْخِلَنَّکُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ فَمَن کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ مِنکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاء السَّبِیْلِ (12)
” اور ان سے کہا تھا کہ ” میں تمہارے ساتھ ہوں ، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اس نے سواء السبیل گم کردی ۔ “
(انی معکم) میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ کس قدر عظیم عہد ہے ۔ جس کی حمایت میں اللہ ہو ‘ اس کے خلاف کون ہو سکتا ۔ اور جو چیز بھی اس کے خلاف ہو ‘ نہ اس کی کوئی حقیقت ہوگی ‘ نہ اثر ہوگا اور جس کے ساتھ اللہ ہو اگا تو وہ ہر گز راستہ نہ بھولے گا ‘ اس لئے کہ اللہ جس کا ساتھی ہو وہ ہدایت پر ہی ہوگا ۔ پھر اللہ اس کے لئے کافی بھی ہوگا ۔
جس کے ساتھ اللہ ہو تو نہ ہو پریشان ہوگا اور نہ نامراد ہوگا کیونکہ اللہ کے ساتھ اس کی نزدیکی اور قرب اسے مطمئن کردیتا ہے اور اسے کامیاب کردیتا ہے ۔ غرض جو اللہ کا ساتھی ہو اور جس کا ساتھی اللہ ہوا تو اس کا ضامن اللہ ہوتا ہے ۔ وہ مراد کو پہنچ جاتا ہے ۔ اس مقام بلند پر اسے مزید کسی چیز کی ضرورت یا طلب نہیں رہتی ۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی رفاقت کا یہ اعلان محض گپ اور مزاح میں نہیں کیا یا ان کے ساتھ کسی خاص دوستی کی وجہ سے نہیں کیا اور نہ یہ ان کی کوئی ذاتی بزرگی کا استحقاق ہے کہ جس کے نہ کوئی اسباب ہیں اور نہ اس کے لئے کچھ شرائط وقیود ہیں ۔ بلکہ یہ رفاقت ایک باقاعدہ معاہدے کے تحت طے پائی ہے ۔ یہ شرط وجزاء پر مبنی ہے ۔
وہ شرط یہ ہے کہ وہ نماز قائم کریں گے ۔ صرف نماز کی ادائیگی کافی نہیں ہے بلکہ اس کا قیام اس طرح ضروری ہے کہ اس کے پورے اصول اس کے اندر قائم ہوجائیں اور وہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان پورا رابطہ ہو ۔ نماز ان کے لئے ایک تہذیبی ‘ تربیتی عنصر ہو ‘ اللہ تعالیٰ کے سیدھے نظام تربیت اور نظام حیات کے مطابق ۔ اس طرح کہ یہ نماز نہیں تمام فحاشیوں سے روکتی ہو ‘ تمام برائیوں سے منع کرتی ہو اور نماز کو اس بات سے حیا آتی ہو کہ ہو فحاشی اور ناپسندیدہ افعال کے ذخیرے کے ساتھ اللہ کے دربار میں حاضر رہے ‘ منکرات لئے ہوئے ۔
اللہ نے انہیں جو رزق اور دولت دی ہے اس کا حق نعمت ادا کرتے ہوئے وہ زکوۃ کی ادائیگی باقاعدگی کے ساتھ کرتا ہو اور یہ خیال کرتا ہو کہ اصل مالک اللہ ہے اور وہ اس مال کے تصرف میں اللہ کی پیروی کر رہا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ اصل مالک ہے اور اللہ کی مال میں لوگ بطوروکلاء اور ایجنٹ تصرفات کرتے ہیں ۔ پھر زکوۃ کی ادائیگی اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ اسلامی معاشرے کی اجتماعی ضروریات کو اس کے ذریعے پورا کیا جاسکے ۔ نیز اسلامی نظام معیشت کے اس زریں اصول کو بروئے کار لایا جاسکے کہ دولت صرف مالداروں ہی کے درمیاں گردش نہ کرتی رہے بلکہ معاشی زندگی کو اجتماعی کفالتی نظام کے اصول پر قائم کیا جائے ۔ نیز دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں نہ ہو ‘ جس کی وجہ سے عام معاشرے میں کساد بازاری پیدا ہوتی ہے اور لوگوں کی قوت خرید ختم ہوجاتی ہے ۔ اور جس کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں کساد بازاری پیدا ہوتی ہے اور لوگوں کی قوت خرید ختم ہوجاتی ہے ۔ اور جس کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے کے اندر پیداواری عمل معطل ہوجاتا ہے یا کم از کم بہت ہی سست پڑجاتا ہے ۔ اس کا واضح نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک قلیل تعداد عیاشی کرتی ہے اور عوام کی کثیر تعداد مفلوک الحال رہتی ہے اور غربت کی زندگی بسر کرتی ہے ‘ جس کے نتیجے میں معاشرتی بگاڑ اور فساد پیدا ہوتا ہے اور یہ بگاڑ مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتا ہے ۔ یہ تمام فساد ادائیگی زکوۃ سے رکتا ہے اور اس فساد کو دفع کرنے میں اسلامی نظام کا تقسیم دولت کا نظام بہت بڑا کام کرتا ہے اور اسلام اپنا اقتصادی کردار ادا کرتا ہے ۔
اللہ کے رسولوں پر ایمان ‘ تمام رسولوں پر بغیر کی تفرقہ اور جدائی کے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور سب کے سب اللہ کی دین لے کر آئے اور ان میں سے کسی بھی ایک کا انکار مستلزم کفر ہے ۔ کیونکہ یہ اس ذات کا انکا رہے جس نے ان سب کو بھیجا ہے ۔
یہ عہد صرف ایمان اور مجرد عقیدہ ہی نہ ہو بلکہ ایک مثبت اقرار ہو اور اس کے ساتھ عملا رسولوں کی نصرت ہو ۔ ان فرائض میں ان کے ساتھ مدد اور تعاون بھی ہو جو فرائض ان پر اللہ نے عائد کئے ہیں اور جن کو بروئے کار لانے کے لئے ان رسولوں نے اپنی زندگیوں کو وقف کردیا ہے ۔ اللہ کے دین پر ایمان لازمی تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ دین کو قائم کرنا چاہتے ہیں ہر مومن اٹھے اور انکی بھرپور امداد کرے ۔ اس دین کو اس کرہ ارض کی کسی سرزمین پر قائم کر دے اور یہ دین لوگوں کی زندگیوں میں ایک حقیقت بن کر اٹھے ۔ اس لئے کہ اللہ کا دین محض اعتقادی تصورات کا نام نہیں ہے ‘ نہ یہ دین صرف مراسم عبادت کا نام ہے بلکہ یہ زندگی کا ایک واقعی اور عملی نظام ہے یہ ایک متعین نظام ہے جو زندگی کے تمام امور میں تصرف اور عمل کرتا ہے ۔ اور جو نظام بھی ہو اور جو منہاج بھی ہو وہ نصرت اور امداد اور تعاون کا محتاج ہوتا ہے ۔ اسے قوت کی فراہمی ضروری ہوتی ہے ۔ اس کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے تاکہ وہ قائم ہو ‘ اس کی حمایت ہو اور اسے بچایا جائے ۔ اگر ایسی صورت حال نہ ہو تو مومن نے ‘ یہ سمجھا جائے گا ‘ کہ اپنے کیے ہوئے عہد کا ایفا نہیں کیا ہے ۔
زکوۃ کے بعد اب عام انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے یہ عام انفاق فرض کیا ہے لیکن یہ قرض ہے ۔ حالانکہ اللہ خود تمام دولت کا مالک ہے اور وہی داتا ہے ۔ لیکن یہ اس کا فضل وکرم ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی چیز کو اپنے لئے بطور قرض مانگتا ہے ۔ یہ تمام امور تو شرط تھے ۔ اب اس شرط کی جزاء کیا ہے ؟
پہلی جزاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے ۔ انسان سے خطا کا صدور خواہ مخواہ ہوتا ہے اور وہ برائی پر مائل ہوتا ہے ۔ اگرچہ وہ بہت ہی نیکوکار ہو ۔ اس کی خطاؤں کو معاف کرنا بھی اس کے لئے ایک بہت ہی بڑا انعام ہے ۔ اور اللہ کی وسیع رحمت کی وجہ سے اس کے ضعف ‘ اس کی کمزوری اور اس کے عجز و قصور کا تدارک ہوتا ہے ۔
پھر اس کی جزاء میں ایسے باغات آتے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور یہ اللہ کا خالص فضل وکرم ہے ۔ کوئی انسان اللہ کے اس درجہ فضل وکرم تک محض اپنے عمل کے بل بوتے پر نہیں پہنچ سکتا ۔ یہ محض اللہ کا فضل ہے جو کسی انسان کو اس مقام تک پہنچا سکتا ہے اور یہ مقام اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اس کے لئے جدوجہد کرتا ہے ۔ جہاں تک اس کا بس چلے اور جس قدر اس کی وسعت میں ہو۔
اور عہد ومیثاق میں ایک جزئی شرط یہ بھی تھی ۔ (آیت) ” فمن کفر بعد ذلک منکم فقد ضل سوآء السبیل “۔ (5 : 12) ” مگر اس کے بعد تم میں سے جس نے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اس نے سواء السبیل گم کردی ۔ “
اس لئے اب اس کے لئے کوئی ہدایت نہ ہوگی اور نہ وہ گمراہی سے واپس ہوگا ۔ جب اس کے لئے ہدایت واضح ہو اور اس کے ساتھ معاہدہ ہوجائے اور راستہ واضح ہوجائے اور اس پر چلنے کی جزاء بھی متعین ہوجائے تو اب اس کی خلافت ورزی لازما گمراہی ہے ۔
یہ تھا اللہ تعالیٰ کا معاہدہ بنی اسرائیل کے نمائندوں کے ساتھ اور یہ پوری قوم بنی اسرائیل کے نمائندے تھے ۔ وہ سب ان کی نمائندگی پر راضی تھے ۔ اس طرح یہ میثاق گویا بنی اسرائیل کے ہر فرد کے ساتھ ہوگیا ۔ اس جماعت اور امت کے ساتھ بھی ہوگیا جو بنی اسرائیل پر مشتمل تھی لیکن ملاحظہ فرمائیں کہ بنی اسرائیل نے اس عہد کے ساتھ کیا کیا ۔
انہوں نے اپنے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اس عہد کو کھلے بندوں توڑ دیا ۔ انہوں نے اپنے نبیوں کو ناجائز طور پر قتل کیا ۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل اور سزائے موت دلوانے کی سازش کی حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے انبیاء میں سے آخری نبی تھے ۔ انہوں نے اپنی کتاب توراۃ میں تحریف کی ۔ انہوں نے اپنی شریعتوں کو بھلا دیا اور کسی بھی شریعت کو نافذ نہ کیا ۔ انہوں نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی بابت نہایت ہی مکارانہ ‘ معاندانہ اور غیر شریفانہ موقف اختیار کیا ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیانت کی اور حضور ﷺ کے ساتھ کئے ہوئے معاہدوں کی خلاف ورزی کی اس لئے وہہ اللہ کی ہدایت سے نکل گئے ، ان کے دل سخت ہوگئے اور وہ اس قابل ہی نہ رہے کہ وہ ہدایت قبول کرسکیں ۔
(آیت) ” فَبِمَا نَقْضِہِم مِّیْثَاقَہُمْ لَعنَّاہُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَہُمْ قَاسِیَۃً یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَن مَّوَاضِعِہِ وَنَسُواْ حَظّاً مِّمَّا ذُکِّرُواْ بِہِ ۔
” پھر یہ انکو اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور انکے دل کو سخت کردیا ، اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں ۔ جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں ‘ ‘
اللہ کا فرمان کس قدر سچا ہے ۔ آج بھی یہودیوں کی خصوصیات یہی ہیں ۔ یہ وہ لعنت ہے جو ان کے ماتھے سے ہو ہر وقت عیاں ہے ۔ اس سے ان کی اصل فطرت اور جبلت ظاہر ہوتی ہے ۔ جس پر خدا کی لعنت ہے وہ درگاہ ہدایت سے راندہ ہے ۔ ان کے خدوخال میں بدبختی چمکتی ہے ۔ ان کے چہرے پر اللہ کی رحمت کا نشان نہیں ہوتا ہے ۔ ان کے معاملات انسانی جذبات سے خالی ہوتے ہیں ‘ اگرچہ وہ مکاری سے یا خوف کی وجہ سے زبردستی اپنے چہروں پر مسکراہٹ لائیں اور بات میں نرمی پیدا کریں اور باہم ملاقات میں نہایت فطرت اور جبلت ظاہر ہوتی ہے ۔ جس پر خدا کی لعنت ہے وہ درگاہ ہدایت سے راندہ ہے ۔ ان کے خدوخال میں بدبختی چمکتی ہے ۔ ان کے چہرے پر اللہ کی رحمت کا نشان نہیں ہوتا ہے ۔ ان کے معاملات انسانی جذبات سے خالی ہوتے ہیں ‘ اگرچہ وہ مکاری سے یا خوف کی وجہ سے زبردستی اپنے چہروں پر مسکراہٹ لائیں اور بات میں نرمی پیدا کریں اور باہم ملاقات میں نہایت شرافت سے کام لیں ۔ اس لئے کہ چہرے مہرے کی سختی اور خدوخال میں خشکی اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ اس شخص کا دل خشک اور اس کا مزاج کرخت ہے ۔ اس کے علاوہ ان کی اصل خصوصیت یہ ہے کل وہ بات کو اپنی جگہ سے ہٹاتے ہیں ۔ انہوں نے پہلے اپنی کتاب تورات میں تحریف کی اور اس کی وہ شکل بگاڑ دی جس پر وہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمائی تھی ۔ یہ تحریف یا تو اس طرح کی گئی کہ انہوں نے اس کتاب میں اپنی مرضی کی چیزوں کا اضافہ کردیا اور یہ ظاہر کیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور یا یہ تحریف اس طرح ہوئی کہ آیات تو اصلی ہی باقی رہیں لیکن انہوں نے ان کا مفہوم اپنی مرضی کے ساتھ بدل دیا اور اپنے گھٹیا مقاصد کے حصول کے لئے ان آیات کے مفہوم کے اندر زبردست تبدیلی کردی اور اس طرح انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ، یا تحریف اس طرح کی کہ انہوں نے اللہ کے احکام کو بھلا دیا ‘ اسلامی نظام حیات اور شریعت کو موقوف کردیا اور اپنی زندگیوں میں شریعت عمل کرنا بند کردیا اپنے معاشرے کو آزاد کردیا اس لئے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ کے اس پاک وصاف اور سیدھے دین کے مطابق سیدھا طرز عمل اختیار کرنا پڑتا تھا ۔ جس کے وہ عادی نہ تھے ۔
(آیت) ” ولا تزال تطلع علی خائنۃ منھم الا قلیلا منھم “۔ (5 : 13) (اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ )
یہ حضور اکرم ﷺ کو خطاب ہے ۔ آپ ﷺ کو بتایا جاتا ہے کہ مدینہ کے اسلامی معاشرے میں یہودیوں کے حالات کیا ہیں۔ وہ ہمیشہ خائن رہیں گے اور نبی ﷺ کے ساتھ خیانت سے کبھی بھی باز نہ آئیں گے ۔ وہ بارہا عملا خیانت کا ارتکاب کرتے رہے ۔ جب تک وہ مدینہ میں رہے وہ آئے دن کچھ نہ کچھ کرتے رہے۔ اس کے بعد وہ جزیرۃ العرب میں جب تک رہے ان کی سازشیں جاری رہیں ۔ اور اس کے بعد پوری تاریخ میں اسلامی معاشرہ کے ساتھ یہودی اسی خیانت پر گامزن رہے حالانکہ اسلامی معاشرہ وہ واحد معاشرہ تھا جس نے ان کو پناہ دی ۔ اور ان کو دوسرے کے مظالم سے نجات دی ‘ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا اور اسلامی معاشرے میں وہ ہمیشہ خوشحالی کی زندگی گزارتے رہے ۔ لیکن انہوں نے ہمیشہ بعینہ انہی خطوط پر جن پر وہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ معاملے کرتے رہے ‘ وہی معاملہ اسلامی معاشرے کے ساتھ کیا بچھوؤں ‘ سانپوں ‘ بھیڑیوں اور گیدڑوں کی طرف وہ مسلمانوں کے خلاف سازش اور ان کے ساتھ خیانت کرتے رہے اور آج بھی وہ اسی مکاری و فریب کاری میں مصروف ہیں ۔ جب بھی کبھی انہیں قوت نصیب ہوئی انہوں نے مسلمانوں سے سخت انتقام لیا ۔ ان کے لئے پھندے رکھے ‘ اور ان کے خلاف سازشیں کیں ‘ اور مسلمانوں کے ہر دشمن کے وہ دوست بن گئے ، جہاں بھی انہیں فرصت ملی اور موقعہ ملا انہوں نے مسلمانوں پر وار کیا ۔ نہایت سنگدل اور نہایت ہی بےرحم واقع ہوئے ہیں وہ مسلمانوں کے حوالے سے ۔ کبھی بھی انہوں نے مسلمانوں پر رحم نہ کیا اور مسلمانوں کے بارے میں انہوں نے ہمیشہ اپنے عہد اور ذمہ داری کو بھلا دیا ۔ ان کی اکثریت ایسی ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان کے بارے میں کہا ہے ۔ اور جس طرح ان کی اس جبلت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ عہد شکن رہے ہیں اور قدیم الایام سے ان کا یہ وطیرہ ہے ۔
انداز بیان ایسا ہے کہ حضور کو خطاب کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو ایسا پائیں گے ۔ مدینہ کے حوالے سے ۔ (آیت) ” ولا تزال تطلع علی خائنۃ منھم الا قلیلا منھم “۔ (5 : 13) ” آپ ہمیشہ ان میں سے خائن لوگوں پر مطلع ہوتے رہیں گے الا یہ کہ ان میں سے کم لوگ ایسے نہ ہوں گے ۔ “
ان کے افعال خیانت کارانہ ہوں گے ‘ ان کی نیت میں فتور ہوگا ‘ ان کی بات مکارانہ ہوگی اور ان کی نظر میں خائن ہوگی ۔ یہاں آیت میں موصوف کو حذف کر کے اس کی جگہ صفت کو رکھ دیا یعنی (خائنہ) اور اس سے اس کے مفہوم میں عمومیت پیدا ہوگئی ، مجرد خیانت ‘ خیانت سے بھرپور فضاء اور خیانت کا سایہ ان پر ہر وقت چھایا ہوا ہوگا ۔ ان کی جبلت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ خائن ہیں ۔ یہ ان کے موقف کا جوہر ہے اور رسول اللہ اور جماعت مسلمہ کے ساتھ انکا یہی برتاؤ رہا ہے ۔ خائن ۔۔۔۔۔ خائن ۔۔۔۔۔ خائن۔
یہ قرآن اس امت کا معلم ‘ مرشد ‘ راہنما اور زندگی کی راہوں کے نشیب و فراز میں اس کا حدی خواں ہے ۔ وہ امت کو اس کے دشمنوں کے حالات بتاتا ہے اور دشمنوں کے مزاج اور ان کی تاریخ بھی امت کے سامنے رکھتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ہدایات بھی دیتا ہے ۔ اگر یہ امت اپنے قرآن سے مشورہ کرتی رہے ‘ قرآن کی ہدایات پر کان دھرے اور اپنی زندگی میں قرآنی اصولوں اور قوانین کو عملا نافذ کرے تو اس کے دشمن کبھی بھی اس کا کچھ نہ بگار سکیں ۔
لیکن جب امت مسلمہ نے خود اپنے اس عہد کو توڑ دیا جو اس نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا اور جب اس نے قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا تو اسے اس صورت حال سے دو چار ہونا پڑا جس میں وہ بالفعل ہے ‘ اگرچہ یہ امت قرآن کریم کو نہایت ہی ترنم اور وجد انگیز انداز میں پڑھتی ہے ۔ اس سے تعویذ اور گنڈے بھی بناتی ہے اور اسے دم اور جھاڑ کے لئے استعمال بھی کرتی ہے ۔
بنی اسرائیل پر جو گزری اس کی پوری داستاں اللہ تعالیٰ نے امت کو سنائی ۔ کس طرح وہ معلون ہوئے ‘ رائندہ درگاہ ہوئے ‘ سنگ دل بن گئے اور انہوں نے کتاب اللہ میں کیا کیا تحریفیں کیں ‘ انہوں نے اللہ کے ساتھ اپنے عہد و پیمان توڑے ۔ یہ سب داستان اس لئے بیان ہوئی کہ یہ امت اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کو نہ توڑے تاکہ اس کا انجام بھی وہ نہ ہوجائے جو اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کے ہر توڑنے والے کا ہوتا ہے ۔ ہر اس شخص کا ہوتا ہے جو اپنی بات سے پھرجاتا ہے ۔ لیکن جب ان قرآنی تنبیہات سے امت مسلمہ نے غفلت برتی اور صحیح راستے کو چھوڑ کر غلط راستے پر پڑگئی تو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے انسانیت کی قیادت کا مقام منصب ضبط کرلیا اور قافلہ انسانیت میں یہ امت پیچھے چلنے والوں کی صف میں چلی گئی ۔
جب تک یہ امت اپنے رب کی طرف رجوع نہ کرے گی ‘ جب تک یہ اپنے عہد و پیمان پر پختگی سے قائم نہ ہوگی ٗاور جب تک معاہدے کی شرائط کو پورا نہ کرے گی ‘ اس وقت تک اللہ کا وعدہ ان کے حق میں معطل رہے گا ۔ اگر وہ شرائط پوری کردے تو اللہ تعالیٰ از سر نو اس امت کو تمکن فی الارض عطا کرے گا ۔ وہ پوری انسانیت کی قائد ہوجائے گی اور تب وہ لوگوں پر شاہد حق ہوگی ۔ اگر وہ یہ شرائط پوری نہ کرے گی تو وہ قافلہ انسانیت میں پیچھے چلنے والوں ہی میں رہے گی ، یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا ۔ اس وقت جب یہ آیات نازل ہوئیں اللہ کی جانب سے اس کے نبی کے لئے درج ذیل ہدایات تھیں :
(آیت) ” فاعف عنھم واصفح ، ان اللہ یحب المحسنین “۔ (5 : 13) (پس جب یہ اس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرارتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں) لہذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو ۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں یعنی آپ ان لوگوں کے ان تمام برے افعال کو معاف کردیں ۔ یہ طریقہ احسان ہے ۔ وہ جو خیانتیں کرتے ہیں ان سے بھی صرف نظر کریں اور یہ بھی احسان ہے ۔
یہ تو اس وقت کی بات تھی جب یہ سورت نازل ہو رہی تھی ‘ بعد کے ادوار میں حالات ایسے ہوگئے کہ عفو و درگزر کی گنجائش ہی انہوں نے نہ چھوڑی اور نبی ﷺ نے ان کو مدینہ سے جلا وطن کردیا اور اس کے بعد خلافت راشدہ کے دور میں ان کو پورے جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا گیا ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو یہ بتاتے ہیں کہ عیسائیوں سے بھی اس نے عہد لیا تھا ۔ انہوں نے بھی اس عہد کو توڑ دیا ۔ اور نتیجۃ انکو بھی اس نقص عہد کی سزا بھگتنی پڑی ۔