اس صفحہ میں سورہ Al-Maaida کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المائدة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَآ أَبَدًا مَّا دَامُوا۟ فِيهَا ۖ فَٱذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَٰتِلَآ إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ
قَالَ رَبِّ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِى وَأَخِى ۖ فَٱفْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ
قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةً ۛ يَتِيهُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ
۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱبْنَىْ ءَادَمَ بِٱلْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ ٱلْءَاخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْمُتَّقِينَ
لَئِنۢ بَسَطتَ إِلَىَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِى مَآ أَنَا۠ بِبَاسِطٍ يَدِىَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ
إِنِّىٓ أُرِيدُ أَن تَبُوٓأَ بِإِثْمِى وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلنَّارِ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُا۟ ٱلظَّٰلِمِينَ
فَطَوَّعَتْ لَهُۥ نَفْسُهُۥ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُۥ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ
فَبَعَثَ ٱللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُرِيَهُۥ كَيْفَ يُوَٰرِى سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَٰوَيْلَتَىٰٓ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَٰذَا ٱلْغُرَابِ فَأُوَٰرِىَ سَوْءَةَ أَخِى ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلنَّٰدِمِينَ
(آیت) ” قَالُواْ یَا مُوسَی إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَداً مَّا دَامُواْ فِیْہَا فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ (24)
(لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ” اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ‘ جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔ بس تم اور تمہارا رب ‘ دونوں جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں) یوں بزدل صفوں سے نکل جاتے ہیں اور شرمندہ ہوجاتے ہیں ۔ وہ خطرات سے ڈر کر پانبر نجیر ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح گدھوں کے پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ کوئی اقدام نہیں کرتے ۔ بزدلی اور بےشرمی آپس میں متضاد نہیں ہیں نہ ایک دوسرے سے دور ہیں ۔ یہ اوصاف بعض اوقات اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ایک بزدل جب اپنے فرائض کی طرف آگے بڑھتا ہے تو وہ بزدلی دکھا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ وہ اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح اس نے فرض کو ترک کردیا ۔ پھر وہ اس مقصد ہی کو برا کہتا ہے ‘ اس دعوت کو بھی برا بھلا کہتا ہے ‘ جو اس سے بات کا مطالبہ کرتی ہے جو وہ کرنا نہیں چاہتا ۔
(آیت) ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں) یہ تھی ایک کمزور اور بزدل کی عاجزی اس کی زبان سے بہت ہی تیز ہے لیکن مقصد کی طرف بڑھنے کے لئے اس کے قدم بوجھ ہیں اور وہ تیروں کی چبھن محسوس کرتا ہے ۔ (آیت) ” فاذھب انت وربک “۔ (5 : 24) (جاؤ تم اور تمہارا رب) اگر وہ اب ہمیں جنگ پر مجبور کرتا ہے تو ہم اس کی الوہیت کو قبول نہیں کرتے ، یہ تمہارا رب ہے ۔ (آیت) ” انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں) ہمیں نہ تو مملکت کی ضرورت ہے ‘ نہ عزت کی ضرورت ہے ‘ نہ ارض موعودہ کی ضرورت ہے ۔ اس وقت تک اس میں جبار قوم موجود ہے ۔۔۔۔ یہ تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد کا انجام ۔۔۔۔ طویل سفر ‘ اس میں ذلت و خواری ‘ اور بنی اسرائیل کی جانب سے بار بار انحراف ‘ پہلوتہی اور قدم قدم پر نافرمانی ۔۔۔۔۔ یقینا یہ ان کا انجام ہے کہ وہ ارض مقدس کی فتح سے الٹے پھرتے ہیں ، حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ساتھ ہیں اور وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہدوپیمان سے پھرتے ہیں ۔ حالانکہ اس عہد قدیم کا اس عہد یعنی فتح بیت المقدس سے گہرا ربط تھا ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس مایوسی کے عالم میں کریں تو کیا کریں ؟
(آیت) ” قال رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین “۔ (5 : 25) (اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” اے میرے رب ‘ میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر میری اپنی ذات یا میرا بھائی ‘ پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کر دے ۔ “
یہ ایک ایسی پکار ہے جو رنج والم سے بھری ہوئی ہے ۔ اس میں ایک طرف التجاء ہے تو دوسری جانب مکمل تسلیم ورضا ہے اور اس کے بعد فیصلہ کن پختگی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اچھی طرح علم تھا اور یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان کے بھائی کے سوا اور کوئی کا حامی نہیں رہا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک شرمندہ انسان کے ضعف اور ایک نبی جو کلیم اللہ ہے ‘ اس کے ایمان کے بیچ میں کھڑے ہیں اور ایک راست باز مومن کی طرح عزم صمیم کئے ہوئے ہیں ۔ ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے کہ صرف اللہ کی متوجہ ہوں اور اس کے سامنے اپنے درد و دکھ کا اظہار بشکل سرگوشی کریں اور یہ مطالبہ کریں کہ اے اللہ مجھے اجازت دے دے کہ میں اس فاسق قوم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوجاؤں اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے پختہ عہد سے روگردانی اختیار کرلی تو اب ان کے ساتھ نبی کلیم کا تعلق ہی کیا رہ گیا ہے ؟ وہ ان کے ساتھ بوجہ نسب نامہ مربوط نہ تھے ‘ نہ یہ کہ ان کی تاریخ ایک ہے ‘ نہ ان کا واسطہ ان کے ساتھ اس اساس پر تھا کہ انہوں نے ایک جگہ مل کر جدوجہد کی تھی اور رفیق کار تھے ۔ ان کے درمیان رابطہ تو دعوت الی الحق کی اساس پر ہی تھا ۔ ان کے درمیان رابطہ یہی عہد قدیم تھا اور یہ عہد انہوں نے توڑ ڈالا تھا ۔ اس لئے ان کے درمیان مکمل قطع تعلق ہوگیا اور نہایت ہی گہرائی تک چلا گیا ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے درمیان کوئی رابطہ ہی نہیں رہا ہے ۔ حضرت اپنے عہد ومیثاق کے پابند ہیں اور قوم نے اس سے نافرمانی اختیار کرلی ہے ۔ وہ عہد پر پختہ جمے ہوئے ہیں اور قوم اس سے برگشتہ ہوگئی ہے ۔
یہ ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے ادب اور احترام ۔ اور یہی ہے ان کی سنت اور یہی ہے ایک سچے مومن کا منصوبہ ۔ اور یہی ہے وہ اساس اور رابطہ جس پر لوگ جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں ۔ اس راہ میں قوم ‘ نسب ‘ نسل اور مشترکہ تاریخ کچھ چیز نہیں ہے اس میں اس زمین کے تعلقات میں سے کوئی تعلق کام نہیں دیتا ۔ راہ میں جب نظریات کا تعلق ٹوٹ جائے تو تمام تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں اور جب عقیدے جدا ہوجائیں تو راستے اور منہاج بھی جدا ہوجاتے ہیں ۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی پکار کا جواب دیتے ہیں اور فاسقوں کو پوری پوری سزا دے دی جاتی ہے ۔
(آیت) ” قال فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ ، یتیھون فی الارض ، فلا تاس علی القوم الفسقین “۔ (26)
” اللہ نے جواب دیا ” اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک ان پر حرام ہے ‘ یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے ‘ ان نافرمانوں کی حالت پر ہر گز ترس نہ کھاؤ۔ )
اللہ تعالیٰ نے ان بدبختوں کو صحراؤں کے حوالے کردیا حالانکہ وہ ارض مقدس کی دہلیز پر تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ سرزمین حرام کردی جو ان کے لئے لکھ دی گئی تھی اور راجح قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس وقت موجود نسل پر اس سرزمین کو حرام کردیا تھا ‘ اور جب تک ان کے نطفوں سے جدید نسل تیار نہ ہوئی وہ اسی طرح مارے مارے پھرتے رہے ۔ چناچہ ان پر ازض موعود میں داخلہ اس وقت تک ممنوع رہا جب تک نئی نسل تیار نہ ہوگئی ‘ ایسی نسل جو نصیحت قبول کرتی ہو ‘ یہ نسل خالص صحرا نوروی کی حالت میں تیار ہوئی اور یہ بالکل آزاد منش اور حریت پسند تھی ۔ یہ وہ نسل نہ تھی جسے ذلت ‘ غلامی اور مصریوں کے مظالم نے کمزوری کا خوگر بنا دیا تھا ۔ اس لئے وہ نسل اس کام کے لئے موزوں نہ تھی جو اولو العزم لوگوں کا کام ہے ۔ ذلت ‘ غلامی اور ظلم انسان کی فطرت کو خراب کردیتے ہیں ۔ اسی طرح ان چیزوں سے قوموں کی فطرت بھی خراب ہوجاتی ہے ۔ اس لئے کہ غلامی اور ظلم انسان کی فطرت کو خراب کردیتے ہیں ، اسی طرح ان چیزوں سے قوموں کی فطرت بھی خبراب ہوجاتی ہے اس لئے کہ غلامی میں قوموں کے ضمیر بدل جاتے ہیں ۔
یہاں آکر بات ختم ہوجاتی ہے اور ان لوگوں کو صحرا کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ اس پر مزید ان کے بارے میں یہاں کچھ نہیں کہا جاتا ۔ یہ ایک ایسا انداز ہے جس میں نفسیاتی عبرت آموزی اور فنی خوبصورت دونوں ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں یہ قرآن کریم کا خاص انداز بیان ہے ۔
اس سبق کو مسلمانوں نے اچھی طرح سمجھ لیا تھا ‘ اللہ نے ان کے سامنے یہ پوری کہانی اسی انداز میں رکھ دی تھی جس طرح وہ پیش آئی تھی ۔ چناچہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا : اے محمد ! آج ہم وہ بات نہ کہیں گے جو بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے کہی تھی کہ جاؤ تم اور تمہارا خدا لڑو تم دونوں ‘ ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں ۔ (فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “ (5 : 24) (قرآن کریم کے اندازتربیت کے یہ بعض نمونے ہیں ۔ قرآن عام قصص کے انداز میں تربیت کرتا ہے ‘ یہ تھے قصہ بنی اسرائیل کے بیان کی حکمت کے بعض پہلو) ۔
درس نمبر 48 ایک نظر میں :
اس سبق میں انسانی زندگی کے لئے بعض نہایت ہی اساسی قوانین وضع کئے گئے ہیں وہ احکام جو جان کی حفاظت کے لئے ہیں ۔ یہ احکام اس معاشرے کے لئے ہیں جس میں اسلامی زندگی رائج ہو ۔ ان قوانین کا مقصد اسلامی نظام زندگی کی حمایت اور اس نظام کے خلاف بغاوت کے راستوں کو بند کرتا ہے اور اس حکومت کو بچانا ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق قائم ہو اور شریعت کے زیر سایہ کام کر رہی ہو ۔ نیز اس سے سوسائٹی کا تحفظ مطلوب ہے جو شریعت اسلامی کے زیر سایہ اور ایک اسلامی حکومت کے زیر سایہ کام کر رہی ہو ۔ ان احکام سے اسلامی حکومت کی رعایا کے مال اور جان دونوں کی حفاظت مطلوب ہے ‘ بشرطیکہ یہ معاشرہ ‘ یہ حکومت اور یہ نظام اسلامی شریعت کے مطابق چل رہے ہوں ۔
اس پورے سبق میں ‘ سوسائٹی کی اجتماعی زندگی کے بچاؤ کے سلسلے میں نہایت ہی اساسی احکام دیئے گئے ہیں لیکن اس سبق کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے قصے سے کیا گیا ہے ۔ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ قتل و غارت کے اس جرم کے ارتکاب کے وقت مجرمین کی نفسیات کیا ہوتی ہیں ۔ وہ کیا اسباب اور فیکٹر ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مجرم جرم کا ارتکاب کے وقت مجرمین کی نفسیات کیا ہوتی ہیں ۔ وہ کیا اسباب اور فیکٹر ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مجرم جرم کا ارتکاب کرتا ہے نیز اس سبق میں بتایا جاتا ہے کہ یہ جرم نہایت ہی گھناؤنا ہے اور یہ کہ اس کا تدارک اور سدباب کرنا نہایت ہی ضروری ہے ۔ اس جرم کے مجرم کو سزا دینا بھی بہت ضروری ہے اور ان اسباب اور موثرات پر قابو پانا بھی ضروری ہے جس کی وجہ سے ایک شخص اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے ۔
معلوم ہوتا ہے کہ اس قصے کے تمام اشارات مکمل طور پر ان احکام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو اس قصے کے بعد آتے ہیں ۔ ایک غور وفکر سے پڑھنے والا اس بات کو بسہولت بسہولت محسوس کرسکتا ہے کہ اس سیاق کلام میں اس قصے کو لانے کا مقصد کیا ہے ؟ اور وہ کس قدر عمیق اور تشفی بخش اشارہ ہے ‘ جو یہ قصہ نفس انسانی پر انڈیلتا ہے اور اسے اس میں پیوست کردیتا ہے ۔ یہ قصہ انسان کے دل و دماغ کو ان احکام کو قبول کرنے کے لئے آمادہ کردیتا ہے کہ وہ ان سخت سزاؤں کو قبول کرے جو اسلام محاربت اور جان کے خلاف جرائم اور نظام ملکیت کے خلاف جرائم اور نظام مملکت میں اسلامی عدالتوں کی طرف سے نافذ ہوں گی جو اسلامی شریعت کے مطابق کام کرتی ہیں ۔
اسلامی معاشرے کا فرض ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو اسلامی نظام کے مطابق شریعت محمدیہ کے تحت چلائے ۔ وہ اپنے معاملات ‘ اپنے روابط اور تعلقات اسلامی نظام اور اسلامی قانون شریعت کے مطابق منظم کرے ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق یہ معاشرہ ایک فرد کا کفیل بھی ہوگا ‘ ایک جماعت کا بھی وہ کفیل ہوگا اور فرد اور سوسائٹی دونوں کو انصاف ‘ سیکورٹی ‘ اطمینان اور سکون عطا کرسکے گا ۔ وہ ان تمام عناصر کے فساد کے دروازے بند کرسکے گا جو افراتفری ‘ بےچینی ‘ دباؤ اور گھٹن پیدا کرتے ہیں اور وہ تمام اسباب ختم ہوجائیں گے جن کی وجہ سے معاشرے کے اندر ظلم و زیادتی ہوتی ہے ۔ اسی طرح لوگوں کی حاجات اور ضروریات بھی بڑی آسانی سے پوری ہو سکیں گی ۔ اسی طرح اس قسم کے باہم متکافل ‘ متوازن ‘ منصفانہ اور فاضلانہ معاشرے کے اندر کسی کی جان اور مال پر ‘ کسی کی انفرادی کی ملکیت پر یا نظام مملکت کے خلاف اس قسم کے جرائم کا ارتکاب نہایت ہی بری حرکت اور سخت جرم سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے لئے کوئی وجہ جوا زیا عذر یا ایسے حالات نہیں ہوتے جو اس جرم کے لئے مخفف (Mit gAting) ہوں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرم اور مجرم کے خلاف اسلام کی جانب سے یہ سختی اس وقت کی جاتی ہے جب ایک فرد کے لئے صحیح راہ پر چلنے کے تمام مواقع فراہم کردیئے جائیں ‘ یعنی معتدل مزاج لوگوں کے لئے درست طور پر زندگی بسر کرنے کے حالات موجود ہوں اور ایسے حالات موجود ہوں کہ ایک فرد اور ایک جماعت اگر چاہیں تو پاکیزہ زندگی بسر کرسکتے ہوں ۔ ان تمام باتوں کے باوجود اسلامی نظام حکومت اور اسلامی نظام عدالت مجرم کو مکمل قانونی تحقیقات اور قانونی فیصلے کے حقوق دیتا ہے ۔ اگر ذرا بھی شبہ پیدا ہوجائے تو شبہات کی وجہ سے حدود ساقط کردیئے جاتے ہیں ۔ نیز اس کے لئے توبہ کا دروازہ بھی کھلا چھوڑا جاتا ہے جس کے مطابق بعض حالات میں اس کا جرم اس دنیا میں بھی معاف ہو سکتا ہے جبکہ آخرت میں اس کے تمام جرائم اور گناہوں کو بہرحال اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں گے ۔۔۔۔ ۔۔ اس درس میں ہم اس کے تمام پہلو اور نمونے پائیں گے اور متعدد و احکام اور قوانین کا ذکر ہوگا ۔
لیکن آیات کی تفسیر اور براہ راست احکام پر کلام کرنے سے پہلے ‘ اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک عام اور اہم بات یہاں نوٹ کرلی جائے یعنی وہ معاشرہ کیسا ہوگا جس میں یہ سخت قوانین نافذ ہوں گے اور قوت نافذہ کے لئے حدود وقیود کیا ہیں ؟
اس سبق میں جو احکام اور قوانین وارد ہیں ‘ چاہے ان کا تعلق ان جرائم سے ہو جو نفس کے خلاف ہوں یا ان احکام سے ہو جو نظام مملکت کے خلاف ہوں یا ان احکام سے جو کسی کے مال کے خلاف ہوں ؟ ان کی حیثیت ان دوسرے شرعی احکام جیسی ہی ہے جو جرائم حدود ‘ قصاص اور تعزیرات میں وارد ہیں ۔ یعنی یہ تمام احکام تب نافذ ہوں گے جب ان کی قوت نافذہ اسلامی معاشرے کی شکل میں ‘ دارالاسلام میں موجود ہو۔ لہذا ضروری ہے کہ شریعت کے مطابق دارالاسلام کی تعریف بھی کردی جائے ۔
اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک پوری دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہے اور ہم کوئی تیسرا بلاک تسلیم نہیں کرتے ۔
پہلا بلاک دارالاسلام ہے اور اس سے مراد وہ ملکت ہے جس کے اندر اسلامی احکام نافذ ہوتے ہیں ۔ جس کا قانونی نظام شریعت پر مبنی ہو ‘ چاہے اس کے باشندے سب کے سب مسلمان ہوں یا مسلمانوں اور ذمیوں دونوں پر مشتمل ہوں یا اس کے لوگو سب کے سب غیر مسلم ہوں اور حکمران مسلمان ہو اور اسلامی ملک کا قانون ہو اور فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے ہیں ۔ (اگرچہ ذمہ پر تمام احکام اسلامی شریعت لازمی نہیں ہیں ‘ اسلام کے صرف سول اور فوجداری احکام لازم ہیں) یا صورت یہ ہو کہ تمام آبادی مسلم ہے یا مسلم اور غیر مسلم مشترکہ آبادی ہو لیکن اس ملک پر حربی غیری مسلموں کا قبضہ ہوجائے لیکن ملک کا قانون نظام نہ بدلا گیا ہو اور ملک کے باشندے بدستور اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہوں ۔ اس لئے کسی ملک کے دارالاسلام ہونے کا مکمل دارومدار صرف اس بات پر ہے کہ اس کا قانونی نظام شریعت کے مطابق ہے یا نہیں اور یہ کہ اس کے اندر تنازعات کا فیصلہ شریعت پر ہوتا ہے یا کسی دوسرے قانون پر ۔
دوسرا دارالحرب ہے اور دارا الحرب ہر وہ ملک ہے جس میں اسلامی شریعت نافذ نہ ہو اور جس میں فیصلے شریعت کے مطابق نہ ہوتے ہوں ، رہے اس کے باشندے تو وہ جس مذہب وملت کے پیروکار ہوں ‘ چاہے وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوں ‘ چاہے وہ اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے ہوں ‘ یا وہ دوسرے کفار ہوں وہ دارالحرب کے باشندے ہوں گے ۔ اس لئے کسی ملک کے دارالحرب ہونے کا مدار بھی مکمل طور پر صرف اس بات پر ہے کہ اس کے اندر اسلامی قوانین کا نفاذ نہ ہو اور اس کے اندر عدالتوں میں فیصلے اسلامی شریعت کے مطابق نہ ہوں ۔ ایسے مالک کو ایک مسلمان اور ایک اسلامی جماعت کے نقطہ نظر سے دارالحرب کہا جائے گا ۔
مسلم معاشرہ وہ ہوتا ہے جو دارالاسلام میں قائم ہو ‘ اپنے درج بالا مفہوم کے مطابق ۔۔۔۔۔ اور یہ اسلامی معاشرہ جو اسلامی منہاج کے مطابق ہو ‘ جس پر شریعت اسلامی کی حکمرانی ہو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس میں لوگوں کی جانوں کو تحفظ دیا جائے ‘ اس میں لوگوں کے اموال کو تحفظ دیا جائے ‘ اس کے نظام مملکت کو بچایا جائے اور اس میں اور صرف اس میں ان مجرموں پر یہ منصوص سزائیں جاری کی جائیں جن کا ذکر ان آیات میں ہوگا اور جو ان لوگوں کے خلاف نافذ ہوں جو لوگوں کی جان ‘ مال اور مملکت میں خلل انداز ہو رہے ہوں ۔ اس درس اور اس کے علاوہ دوسری قرآنی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نہایت ہی بلند اور صاحب فضیلت معاشرہ ہوگا ۔ اس میں عدل اور آزادیاں ہوں گی ۔ اس معاشرے میں روز گار اور ضروریات زندگی کی ضمانت ہوگی چاہے کوئی کام کرنے پر قادر ہو یامعذور ہو ۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہوگا جس میں بھلائی پر آمادہ کرنے والے عوامل زیادہ ہوں گے اور برائی پر آمادہ کرنے والے فیکٹر بہت ہی کم ہوں گے ۔ اس لئے ایسے معاشرے کا ان تمام لوگوں پر حق ہوگا جو اس کے اندر رہتے ہیں اور اس سے نفع اندوز ہوتے ہیں کہ وہ اس معاشرے کی دل و جان سے حفاظت کریں اور وہ دوسرے باشندگان ملک کے تمام مالی ‘ جانی ‘ عزت کے اور اخلاق کے حقوق کی رعایت و حفاظت کریں ۔ یہ تمام باشندے اس دارالاسلام کی حفاظت کریں جس میں وہ صحیح وسالم اور امن وامان سے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ جس میں ان کو مکمل سیکورٹی حاصل ہے ‘ جس میں ان کو تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں اور جس میں ان کو تمام خصائص انسانی کے مراتب حاصل ہیں ‘ جس میں ان کو تمام سوشل اور اجتماعی حقوق حاصل ہیں بلکہ تمام باشندوں کا فرض ہے کہ وہ ان تمام حقوق کی حفاظت کریں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی دارالاسلام کے اس نظام کے مقابلے میں بغاوت پر اتر آتا ہے تو وہ ظالم ‘ گناہ گار ‘ شرپسند اور تخریب کار ہے اور اس بات کا مستحق ہے کہ اسے سخت سے سخت سزا دی جائے ، لیکن اس میں بھی اسے یہ حقوق دیئے گئے ہیں کہ کسی کو محض ظن اور شب ہے کی بان پر نہ پکڑا جائے اور یہ اصول اس قانون پر بھی لاگو ہوگا کیونکہ شبہات کی وجہ سے حدود ساقط ہوجاتے ہین۔
رہا دارالحرب جس کی تعریف اوپر کردی گئی ہے تو وہ اور اس کے باشندے اس بات کے مستحق ہی نہیں ہیں کہ ان کو اسلامی شریعت کے اندر نافذ کردہ سزاؤں کا فائدہ دیا جائے ‘ اسلئے کہ وہاں تو سرے سے شریعت کا نفاذ ہی نہیں ہوتا۔
نہ یہ معاشرہ اسلام کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے ۔ پھر یہ دارالحرب ان مسلمانوں کو بھی تحفظ فراہم نہیں کرتا جو دارالاسلام میں رہتے ہیں اور جو اپنے ہاں اسلامی شریعت کو نافذ کرتے ہیں ۔ ان دارالکفر اور دارالحرب والوں کے نزدیک مسلمانوں کی جان ومال مباح ہے ۔ اس لئے اسلام کے نزدیک ایسے لوگوں کا کوئی احترام نہیں ہے الا یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی کا کوئی عہد ہو ‘ اور ان کے اور دارالاسلام والوں کے نزدیک معاہدے طے ہوجائیں ۔ اسلامی شریعت یہ تمام سہولیتیں جو دارالاسلام میں مسلمانوں کو حاصل ہیں ان افراد کو بھی فراہم کرتی ہے جو دارالحرب سے دارالاسلام کو ہجرت یا سفر کرکے آتے ہیں ۔ جب وہ دارالاسلام میں معاہدہ امن کے ساتھ داخل ہوجائیں اور اس میں عہد کی مدت طے ہو اور وہ دارالاسلام کے حدود کے اندر آجائیں جس کا حاکم مسلمان ہو اور مسلمان حاکم وہی ہوتا ہے جو دارالاسلام میں شریعت حقہ کو نافذ کرے ۔
(آیت) ” نمبر 27 تا 31۔
یہ ایک قصہ ہے جو بطور نمونہ شر اور ظلم یہاں لایا گیا ہے ۔ یہ ایک ایسے صریح ظلم کا نمونہ ہے جس کے لئے کوئی وجہ جواز نہ ہو اور یہی قصہ ایک ایسا نمونہ بھی پیش کرتا ہے جو نیک نفسی اور رواداری کا اعلی نمونہ ہے اور یہ نمونہ نہایت ہی پاک طینت اور صلح کل نمونہ ہے ۔ اس قصے میں یہ دونوں نمونے ایک دوسرے کے بالمقابل پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہر اک اپنے مزاج کے مطابق اور اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتا ہے ۔ یہ قصہ اس جرم کی نقشہ کشی کرتا ہے ‘ جو بدی اور صریح ظلم کا مظہر ہے اور اسے پڑھ کر انسانی ضمیر میں جوش آتا ہے اور وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ ایسے صریح ظلم کے خلاف قانون قصاص ضروری ہے ۔ ایک عادلانہ قانون نظام ہی اس بدی صریح ظلم کے ارتکاب سے روکتا ہے جس کے بعد یہ بدی ظلم کے ارتکاب سے رک جائے گی اور اسے ارتکاب جرم سے خوفزدہ کرکے باز رکھا جاسکے گا ۔ اگر اس تخویف کے بعد بھی بدی جرم کا ارتکاب کرتی ہے تو اسے منصفانہ سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ وہی سزا جو اس بدی کے جرم کے بالکل مناسب ہو ‘ تاکہ معاشرے کے نیک نفس لوگوں کو بچایا جائے اور نیک نفس لوگوں کی جان ومال محفوظ ہوں اس کے لئے اس قصے میں جس قسم کے نیک نفس لوگوں کا نمونہ پیش کیا گیا ہے وہ اس کے مستحق ہیں کہ انہیں تحفظ دیا جائے ‘ وہ زندہ رہ سکیں ‘ امن سے رہیں اور ایک عادلانہ قانونی نظام وانتظام کے تحت رہیں ۔
قرآن کریم نے ان دو بھائیوں کے نام اور زمان ومکان کے بارے میں تفصیلات نہیں دی ہیں ‘ اگرچہ بعض روایات اس سلسلے میں ہابیل اور قابیل کے بارے میں وارد ہیں ۔ یہ دونوں حضرت آدم کے بیٹے تھے اور ان کے درمیان تنازعہ کی تفصیلات بھی ان روایات میں دی گئی ہیں کہ ان دونوں کا تنازعہ دو بہنوں کے سلسلے میں تھا ۔ لیکن ہم اس قصے کو اسی طرح مجمل چھوڑنے ہی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ تمام روایات قطعی الثبوت نہیں ہیں ۔ یہ اہل کتاب سے لی گئی ہیں ۔ یہ قصہ عہد قدیم میں آیا ہے جہاں دونوں کے نام بھی لئے گئے ہیں اور اس میں اس واقعہ کا زمان ومکان بھی دیا گیا ہے جیسا کہ روایات میں آتا ہے ۔ اس قصے کے متعلق جو ایک صحیح حدیث وارد ہے اس میں بھی تفصیلات نہیں دی گئیں ۔ یہ روایت حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” کہ کوئی شخص بھی اگر ظلما قتل ہوگا تو حضرت آدم کے پہلے بیٹے پر اس خون کی ذمہ داری میں سے ایک حصہ ہوگا کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل انسان کا رواج ڈالا ۔ “ (روایت امام احمد) اس کا سلسلہ سند یہ ہے اعمش ‘ عبداللہ ابن مرہ ‘ مسروق ‘ عبداللہ ابن مسعود ؓ ابو داؤد کے سوا دوسرے محدثین نے بھی اسے روایت کیا ہے ۔ اس کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت انسان کی زندگی کے ابتدائی دنوں میں پیش آیا ۔ اور یہ قتل عمل کا پہلا واقعہ تھا اور قاتل کو اس قدر بھی معلوم نہ تھا کہ وہ اب میت کو کس طرح دفنائے ۔
اس قصے کو اسی مجمل چھوڑنا جس طرح قرآن کریم میں آیا ہے ۔ مقصد قصہ پر کوئی اثر نہیں ڈالتا ۔ جس غرض کے لئے اسے لایا گیا ہے وہ اچھی طرح سے پوری ہوجاتی ہے اور اس کے اشارات وہدایات پوری طرح سمجھ میں آجاتے ہیں ۔ قصے کے جو بنیادی مقاصد ہیں ‘ روایات کی تصیلات ان پر کوئی چیز زیادہ نہیں کرتی اس لئے ہم بھی اسے یہاں چھوڑ دیتے ہیں۔ نہ تفصیلات کی ضرورت ہے اور نہ اختصار کی ۔
(آیت) ” وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ ابْنَیْْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَاناً فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (27)
” اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بےکم وکاست سنا دو ۔ جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اس نے کہا ” میں تجھے مار ڈالوں گا ۔ “ اس نے جواب دیا ” اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے ۔
یعنی ان لوگوں کے ان دو نمونوں میں سے دونوں کی مثال پیش کرو ‘ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے ان واقعات کے بعد سچائی پر مبنی یہ دو نمونے ان کے سامنے رکھو ۔ یہ قصہ اپنی روایت کے اعتبار سے بالکل سچا ہے اور یہ اس لحاظ سے بھی حق ہے کہ انسانی فطرت کے اندر یہ دو نمونے ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں ۔ پھر یہ اس پہلو سے بھی حق ہے کہ یہ ایک منصفانہ نظام عدل کا تقاضا کرتا ہے جس سے شرپسندلوگ ارتکاب جرم سے باز آجائیں ۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کے ان دو بیٹوں کے حالات ایسے تھے کہ ان میں کسی ایک کا قتل کے لئے آمادہ ہوجانا اپنے اندر کوئی جواز نہیں رکھتا ۔ یہ دونوں اللہ کے مطیع فرمان ہیں۔ دونوں قربانی کرتے ہیں ۔ (آیت) ” اذ قربا قربانا “۔ (5 : 27) (جب دونوں نے قربانی کی) لیکن ہوا یہ کہ ایک کی قبول کی گئی اور دوسرے سے قبول نہ ہوئی (آیت) ” فتقبل من احدھما ولم یتقبل من الاخر “۔ (5 : 27)
یہاں فتقبل من فعل مجہول استعمال ہوا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ قربانی کا قبول کیا جانا یا نہ کیا جانا ‘ ایک ایسا معاملہ ہے جو غیبی قوت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اس کی کیفیت بھی غیبی ہے ۔ غائب کا صیغہ استعمال کرنے کے دو فائدے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہمیں اس قبولیت اور عدم قبولیت کی کیفیت کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تفاسیر میں ان آیات کی تشریح میں بہت سے قصے بیان کئے گئے ہیں اور یہ قصے عہد نامہ قدیم سے لئے گئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس کی قربانی قبول ہوئی ‘ اس نے کوئی جرم نہ کیا تھا کہ اس کے ساتھ عناد کیا جائے اور اس کے قتل کی سازش کی جائے ‘ اس لئے کہ قربانی کی قبولیت میں اس کا کوئی دخل نہ تھا ‘ بلکہ یہ قبولیت انسانی نقطہ نظر سے ایک غیبی قوت کی جانب سے ایک غیبی کیفیت کے مطابق ہوئی ۔ یہ قوت ان دونوں کے ادراک سے وراء ہے اور اس کی مشیت بھی انسان کی میشت سے وارء ہے ۔ لہذا اس فعل پر اپنے بھائی کا گلا گھوٹنے کا اس کے پاس کوئی جواز نہ تھا یا یہ جواز بھی نہ تھا کہ بھائی کے قتل کے لئے کوئی جوش میں آجائے ۔ اس معاملے میں قتل پر آمادہ ہوجانا کسی بھی سلیم الفطرت انسان سے مستبعد ہے کیونکہ معاملہ عبادت کا ہے اور قبولیت اور عدم قبولیت قوت غیبہ کی طرف سے ہے جس میں کسی انسان کا کوئی داخل نہیں ہے ۔
(آیت) ” قال لاقتلنک “۔ (5 : 27) (میں تجھے مار ڈالوں گا) نظر آتا ہے کہ قاتل اس فعل کے ارتکاب پر تلا ہوا تھا اس لئے اس نے نہایت ہی مؤکد صیغہ استعمال کیا ہے ۔ قاتل یہاں جوش و خروش کا اظہار بغیر کسی معقول وجہ کے کر رہا ہے یعنی اس کا یہ غصہ بالکل بلاوجہ ہے ۔ اس کی اگر کوئی وجہ ہے تو وہ اس کا خبیث ارادہ اور برا احساس ہے ‘ جو حسد اور بغض سے بھرا ہوا شعور ہے جس کی نشوونما کسی پاک نفس میں نہیں ہوتی ۔ قصے کے اس منظر میں پہلے مرحلے میں ہم اپنے آپ کو ظلم کے سامنے پاتے ہیں اگرچہ آیت مکمل نہیں ہوئی لیکن اس لفظ ہی سے ارتکاب جرم کے اشارے مل جاتے ہیں ۔
اب بات آگے بڑھتی ہے اور اس ظلم کو مزید بھیانک شکل دے دی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسرا نمونہ قابل قبول ہے پاک فطرت اور صلح کل ہے ۔
(آیت) ” قال انما یتقبل اللہ من المتقین “۔ (5 : 27) (بےشک اللہ متقیوں کی نذریں قبول کرتا ہے)
یہاں علی الاعلان بات کو اصلیت اور حقیقت کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے ۔ ایمان پر بھروسہ کیا جاتا ہے جسے قبولیت حاصل ہوتی ہے اور نہایت ہی لطیف انداز میں ظالم کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور اسے اس راہ کی طرف بلایا جاتا ہے جو قبولیت کی راہ سے اس صورت حال کی طرف بھی لطیف اشارہ کردیا جاتا ہے جو اس کے دل میں کھٹک رہی ہے اور اسے جوش دلاتی ہے اور بدی پر آمادہ کرتی ہے ۔
اس کے بعد مومن بھائی ‘ جو خدا ترس ‘ صلح کل اور پرامن شخصیت ہے وہ اپنے شریر بھائی کے دل میں پائے جانے والی وحشیانہ شرپسندی کے جوش کو کس طرح کم کرنا چاہتا ہے ۔
(آیت) ” لَئِن بَسَطتَ إِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَا أَنَاْ بِبَاسِطٍ یَدِیَ إِلَیْْکَ لَأَقْتُلَکَ إِنِّیْ أَخَافُ اللّہَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ (28)
” اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا ۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ۔
یوں امن تقوی اور صلح کل کے نمونے کو مصور انداز میں یہاں پیش کردیا جاتا ہے ۔ یہ نمونہ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس میں ایک عام انسانی ضمیر بھی نہایت اشتعال میں آجاتا ہے اگرچہ وہ بہت ٹھنڈا ہو۔ ایسے حالات میں ہر غیر جانبدار انسان ‘ ہر باضمیر انسان ضمیر بھی نہایت اشتعال میں آجاتا ہے اگرچہ وہ بہت ٹھنڈا ہو ۔ ایسے حالات میں ہر غیر جانبدار انسان ‘ ہر باضمیر انسان ظالم کے مقابلے میں اور مظلوم کے حق میں اٹھ جاتا ہے ۔ ان حالات میں بھی یہ مظلوم ‘ نہایت سنجیدہ ‘ نہایت مطمئن ہے حالانکہ وہ کھلی جارحیت کے خطرے سے دو چار ہے لیکن اس کا دل رب العالمین کے خوف سے بھرا ہوا ہے ‘ اس لئے وہ مطمئن ہے ۔
یہ نرم اور دلنواز بات اس کے لئے کافی تھی کہ اس دشمنی کو دوستی میں بدل دے ۔ حسد کو ٹھنڈا کرے ‘ شر کا جوش کم کردے ‘ ہیجان زدہ اعصاب کو ٹھنڈا کرکے اس شخص کو بھائی چارے کی محبت کے اندر لے آئے اور اس کے دل میں تقوی کا احساس پیدا ہوجائے ۔ ہاں یہ طرز عمل اس کے لئے بالکل کافی تھا لیکن یہ شخص باز نہیں آیا چناچہ نیک بھائی اسے متنبہ کرتا ہے اور آخرت کے برے انجام سے اسے ڈراتا ہے ۔
(آیت) ” إِنِّیْ أُرِیْدُ أَن تَبُوء َ بِإِثْمِیْ وَإِثْمِکَ فَتَکُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِکَ جَزَاء الظَّالِمِیْنَ (29)
” میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے ۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے ۔ “
اگر تم میری طرف قتل کیلئے ہاتھ بڑھاؤ تو میرا مزاج تو یہ نہیں ہے کہ میں یہی کام تمہارے ساتھ کروں ۔ نہ یہ میری طبیعت ہے اس لئے کہ میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ میں اپنے بھائی کو قتل کر دو ۔ میرا ذہن ہی اس طرف نہیں جاتا۔ میں یہ کام اس لئے نہیں کرتا کہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ میں اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتا ۔ اس لئے میں تمہیں چھوڑتا ہوں کہ تم اپنے سابقہ گناہوں کے ذخیرے میں جن کی وجہ سے تمہاری نذر ہی مسترد ہوئی میرے قتل کے گناہ کا اضافہ بھی کرلے ۔ اس طرح تمہارا گناہ بھی بڑھے گا اور پھر سزا بھی بڑھتی چلی جائے گی ۔ (آیت) ” وذلک جزاء الظلمین “۔ (ظالموں کا یہی انجام ہوتا ہے)
اس طرح اس صالح بھائی نے ظالم کے سامنے جرم قتل کے ارتکاب سے اپنے خوف کو مصور کرکے پیش کیا تاکہ یہ ظالم بھائی اس ظلم کے ارتکاب سے باز آجائے جس پر اس کا نفس اسے بار بار آمادہ کرتا ہے اور پھر اسے اس طرز عمل پر شرمندہ کر دے کہ ایک بھائی ‘ صلح کل بھائی ‘ خدا ترس بھائی کے خلاف وہ کس قدر بری طرح سوچ رکھتا ہے ۔
اس خدا ترس بھائی نے ظالم کے سامنے جرم قتل کے بھیانک نتائج پیش کئے تاکہ وہ اس گناہ سے متنفر ہوجائے اور اسے دو چند سہ چند گناہ سے نکل آنے میں بہتری نظر آجائے اور وہ اللہ رب العالمین کا خوف اپنے دل کے اندر رکھے ۔ اس سلسلے میں یہ خدا ترس بھائی اس مقام تک چلا جاتا ہے جہاں تک کوئی انسان نہیں جاسکتا اور اس سے آگے شرک کے دفعیہ کے لئے اور کوئی صورت ہی نہیں رہتی ۔
لیکن جب تک ہمیں معلوم نہ ہو کہ اس کا انجام کیا ہوا اس شریر بھائی اور مفسد بھائی کی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی ۔ اس انتہائی مثبت طرز عمل کا جواب وہ کیا دیتا ہے ۔ ؟
(آیت) ” فَطَوَّعَتْ لَہُ نَفْسُہُ قَتْلَ أَخِیْہِ فَقَتَلَہُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (30)
” آخرکا اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لئے آسان کردیا اور وہ اسے مار کر ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
ان تمام کوششوں کے باوجود اس وعظ ‘ اس نصیحت اور ڈراوے کے باوجود یہ شریر شخصیت جرم پر آمادہ ہوجاتی ہے اور جرم کا ارتکاب ہوجاتا ہے ۔ اس کے نفس نے اس کے لئے تمام نتائج آسان کردیئے ۔ تمام رکاوٹیں دور کردیں ۔ قتل پر وہ آسانی سے آمادہ کردیا گیا ۔ اس نے قتل کر ہی دیا لیکن کسے ؟ اپنے بھائی کو اور اب وہ خوفناک انجام کا مستحق ہے ۔ (آیت) ” فاصبح من الاخسرین “۔ (5 : 30) (وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا)
اس نے اپنے نفس کا نقصان کیا ۔ اسے ہلاکت میں ڈال دیا ۔ وہ اپنے بھائی کا نقصان کر گیا ‘ جو اس کا ناصر اور ساتھی تھا ۔ اس نے دنیا کا نقصان اس طرح کیا کہ اس کی زندگی اس دنیا میں تلخ ہوگئی اور آخرت کا نقصان یوں ہوگا کہ آخرت میں اپنے اس قتل کا بھی بدلہ بھگتے گا اور بعد میں آنے والے تمام قاتلوں کے گناہ میں بھی حصہ دار ہوگا ۔
اب اس کے لئے اس کے جرم کو ایک نئی شکل میں لاتا جاتا ہے ۔ بھائی کا لاشہ پڑا ہے ‘ روح نکل چکی ہے ۔ گوشت کا ڈھیر ہے اور متعفن ہو رہا ہے ۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ناقابل برداشت ہے ‘ ایک لاش اس کا گناہ اب لاش کی صورت میں ہے ۔
اب اللہ کی مشیت یہ ہے کہ یہ ذات شریر اپنے کئے کے سامنے عاجز کھڑی ہو ‘ سمجھ نہ آئے کہ اب اس لاش کے ساتھ کیا کرے ۔ ابھی تو وہ قاتل ‘ خونریز اور سخت گیر تھا ۔ اور اب بےبس ۔ سمجھ نہیں آتی کہ اس لاش کو کس طرح ٹھکانے لگائے اب تو وہ ایک پرندے سے بھی عاجز ہے ۔
(آیت) ” فَبَعَثَ اللّہُ غُرَاباً یَبْحَثُ فِیْ الأَرْضِ لِیُرِیَہُ کَیْْفَ یُوَارِیْ سَوْء ۃَ أَخِیْہِ قَالَ یَا وَیْْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَکُونَ مِثْلَ ہَـذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِیَ سَوْء ۃَ أَخِیْ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِیْنَ (31)
” پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ۔ یہ دیکھ کر وہ بولا ” افسوس مجھ پر ! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا ، اس کے بعد وہ اپنے کئے پر بہت بچھتایا)
روایات میں آتا ہے کہ ایک کوے نے دوسرے کو قتل کردیا یا اس نے دوسرے کوے کی لاش کو پایا ۔ یہ کوا زمین کھودنے لگا ۔ اس کے بعد اس نے گڑھے میں ڈال کر اس پر مٹی ڈالنا شروع کیا ، اس موقع پر اس قاتل نے افسوسناک انداز میں اپنی اس ندامت کا اظہار کیا اور پھر اپنے بھائی کی لاش کردیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قاتل نے اس سے قبل کسی کو دفن ہوتے نہ دیکھا تھا ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ ضرور لاش کو دفن کردیتا اور یہ ممکن ہے کہ اس زمین پر یہ پہلی میت ہو یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ۔ یا یہ کہ یہ قاتل نوجوان تھا اور اس نے اس سے قبل کسی کو میتوں کو دفناتے نہ دیکھا تھا ۔ دونوں باتیں اپنی جگہ درست ہیں ۔ نیز یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس قاتل کی ندامت نہ تھی ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے بلکہ وہ نادم اس بات پر ہوا کہ اس کو اس فعل کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور اس فعل کے بعد اس کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ‘ اس کی زندگی تلخ ہوگئی اور وہ نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ۔
جس طرح کوے نے دوسرے کوے کی لاش کو دفن کیا ‘ اس طرح اس نے بھی دفن کیا ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کوے ایسا کرتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قاتل کو سکھانے کے لئے ایک کوے کو بھیج دیا ہو اور یہ خارق عادت کام تھا جو اللہ نے کوے سے کروایا ۔ یہ دونوں باتیں اللہ کے لئے برابر ہیں جو ذات زندہ انسان میں کمالات ودیعت کرتی ہے ‘ وہ ذات اس پر بھی قادر ہے کہ وہ ان کمالات کا صدور کسی بھی زندہ چیز سے کرا دے ۔ یہ دونوں امور اس کی قدرت میں ہیں ۔
اس مسلسل قصے کو پڑھنے اور دیکھنے کے بعد ذہن انسانی پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ‘ قرآن یہاں ان کو ریکارڈ پر لاتا ہے تاکہ ان کو ایک شعوری سوچ بنا دے اور اس سوچ کی اساس پر اگر کوئی شخص قتل کا ارتکاب کر بھی لے تو اس سے منصفانہ قصاص لیا جائے اور مجرم کو معلوم ہو کہ اگر اس نے جرم کیا تو قانون قصاص اس کے انتظار میں ہے ۔