اس صفحہ میں سورہ Al-Maaida کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المائدة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِى ٱلْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحْيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِٱلْبَيِّنَٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ
إِنَّمَا جَزَٰٓؤُا۟ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓا۟ أَوْ يُصَلَّبُوٓا۟ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَٰفٍ أَوْ يُنفَوْا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْىٌ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا۟ عَلَيْهِمْ ۖ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱبْتَغُوٓا۟ إِلَيْهِ ٱلْوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُوا۟ فِى سَبِيلِهِۦ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لِيَفْتَدُوا۟ بِهِۦ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
آیت 32 مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَج کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ج والا فقرہ پچھلی آیت کے ساتھ بھی پڑھا جاسکتا ہے اور اس آیت کے ساتھ بھی ‘ یہ دونوں طرف بامعنی بن سکتا ہے۔ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ یعنی اگر کسی نے قتل کیا ہے اور وہ اس کے قصاص میں قتل کیا جائے تو یہ قتل ناحق نہیں ہے۔اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ اگر کوئی شخص ملک میں فساد پھیلانے کا مجرم ہے اور اسے اس جرم کی سزا کے طور پر قتل کردیا جائے تو اس کا قتل بھی قتل ناحق نہیں۔ لیکن ان صورتوں کے علاوہ اگر کسی نے کسی بےقصور انسان کا قتل کردیا۔ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط۔اس کا یہ فعل ایسا ہی ہے جیسے اس نے پوری نوع انسانی کو تہہ تیغ کردیا۔ اس لیے کہ اس نے قتل ناحق سے تمدن و معاشرت کی جڑ کاٹ ڈالی۔ جان اور مال کا احترام ہی تو تمدن کی جڑ اور بنیاد ہے۔وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ط وَلَقَدْ جَآءَ تْہُمْ رُسُلُنَا بالْبَیِّنٰتِ ز ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ اب آیت محاربہ آرہی ہے جو اسلامی قوانین کے لحاظ سے بہت اہم آیت ہے۔ محاربہ یہ ہے کہ اسلامی ریاست میں کوئی گروہ فتنہ و فساد مچا رہا ہے ‘ دہشت گردی کر رہا ہے ‘ خونریزی اور قتل و غارت کر رہا ہے ‘ راہزنی اور ڈاکہ زنی کر رہا ہے ‘ گینگ ریپ ہو رہے ہیں۔ اس آیت میں ایسے لوگوں کی سزا بیان ہوئی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ یہ اسلامی ریاست کی بات ہو رہی ہے ‘ جہاں اسلامی قانون نافذ ہو ‘ جہاں اسلام کا پورا نظام قائم ہو۔ ورنہ اگر نظام ایسا ہو کہ جھوٹی گواہیاں دینے والے کھلے عام سودے کر رہے ہوں ‘ ایمان فروش موجود ہوں ‘ ججوں کو خریدا جاسکتا ہو اور ایسے نظام کے تحت شرعی قوانین کا نفاذ کردیا جائے تو پھر اس سے جو نتائج نکلیں گے ان سے شریعت الٹا بدنام ہوگی۔ لہٰذا ریاست میں حکومتی نظام اور مروّجہ قوانین دونوں کا درست ہونا لازمی ہے۔ اگر ایسا ہوگا تو یہ دونوں ایک دوسرے کو مضبوط و مستحکم کریں گے اور اسی صورت میں مطلوبہ نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔
آیت 33 اِنَّمَا جَََزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ‘ یعنی اسلامی ریاست کی عملداری کو چیلنج کرتے ہیں۔ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا واضح رہے کہ یہاں فعل یُقْتَلُوْا استعمال نہیں ہوا بلکہ یُقَتَّلُوْاہے کہ ان کے ٹکڑے کیے ‘ جائیں۔ اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلَافٍ یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا ایک پاؤں کاٹا جائے۔
آیت 34 اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْہِمْ ج یعنی پکڑے جانے سے پہلے ایسے لوگ اگر توبہ کرلیں تو ان کے لیے رعایت کی گنجائش ہے ‘ لیکن جب پکڑ لیے گئے تو توبہ کا دروازہ بند ہوگیا۔ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ حضرت علی رض نے خوراج کے ساتھ یہی معاملہ کیا تھا کہ اگر تم اپنے غلط عقیدے کو اپنے تک رکھو تو تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا ‘ لیکن اگر تم خونریزی کرو گے ‘ قتل و غارت کرو گے تو پھر تمہارے ساتھ رعایت نہیں کی ‘ جاسکتی۔
آیت 35 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ یہاں لفظ وسیلہ قابل غور ہے اور اس لفظ نے کافی لوگوں کو پریشان بھی کیا ہے۔ لفظ وسیلہ اردو میں تو ذریعہ کے معنی میں آتا ہے ‘ یعنی کسی تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ بنا لینا ‘ سفارش کے لیے کسی کو وسیلہ بنا لینا۔ لیکن عربی زبان میں وسیلہ کے معنی ہیں قرب۔ بعض الفاظ ایسے ہیں جن کا عربی میں مفہوم کچھ اور ہے جبکہ اردو میں کچھ اور ہے۔ جیسے لفظ ذلیل ہے ‘ عربی میں اس کے معنی کمزور جبکہ اردو میں کمینے کے ہیں۔ جیسا کہ ہم پڑھ آئے ہیں : وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ ج آل عمران : 123 یعنی اے مسلمانو ! یاد کرو اللہ نے تمہاری مدد کی تھی بدر میں جب کہ تم بہت کمزور تھے۔ اب اگر یہاں ذلیل کا ترجمہ اردو والا کردیا جائے تو ہمارے ایمان کے لالے پڑجائیں گے۔ اسی طرح عربی میں جہل کے معنی جذباتی ہونا ہے ‘ اَن پڑھ ہونا نہیں۔ ایک پڑھا لکھا شخص بھی جاہل یعنی جذباتی ‘ اکھڑ مزاج ہوسکتا ہے لیکن اردو میں جاہل عالم کا متضاد ہے ‘ یعنی جو اَن پڑھ ہو۔ اسی طرح کا معاملہ لفظ وسیلہ کا ہے۔ اس کا اصل مفہوم قرب ہے اور یہاں بھی یہی مراد لیا جائے گا۔ یہاں ارشاد ہوا ہے :اے ایمان والو ‘ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور آگے بڑھ کر اس کا قرب تلاش کرو تقویٰ کے معنی ہیں اللہ کے غضب سے ‘ اللہ کی ناراضگی سے اور اللہ کے احکام توڑنے سے بچنا۔ یہ ایک منفی محرک ہے ‘ جبکہ قرب الٰہی کی طلب ایک مثبت محرک ہے کہ اللہ کے نزدیک سے نزدیک تر ہوتے چلے جاؤ۔ لیکن اس کے قرب کا ذریعہ کیا ہوگا ؟وَجَاہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔اس سے بات بالکل واضح ہوگئی کہ تقرّب الی اللہ کے لیے جہاد کرو۔ تقویٰ شرط لازم ہے۔ یعنی پہلے جو حرام چیزیں ہیں ان سے اپنے آپ کو بچاؤ ‘ جن چیزوں سے روک دیا گیا ہے ان سے رک جاؤ اور اللہ کی نافرمانی سے باز آجاؤ۔ اور پھر اس کا تقرب حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کی راہ میں جدوجہد کرو۔
آیت 36 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَہُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّمِثْلَہٗ مَعَہٗ لِیَفْتَدُوْا بِہٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ ج یہ حکم گویا تعلیق بالمحال ہے کہ نہ ایسا ممکن ہے اور نہ ایسا ہوگا۔ لیکن بات کی سختی واضح کرنے کے لیے یہ انداز اپنایا گیا ہے اور آخری درجے میں وضاحت کردی گئی ہے کہ اگر بالفرض ان کے پاس اتنی دولت موجود بھی ہو تب بھی اللہ کے ہاں ان کا فدیہ قبول نہیں ہوگا۔