ان ھذا ........................ البشر (74:25) ” یہ کچھ نہیں مگر ایک جادو جو پہلے سے چلاآرہا ہے ، یہ تو ایک انسانی کلام ہے “۔
یہ زندہ لمحات ہیں جن کو قرآن مجید الفاظ کی شکل دیتا ہے۔ یہ اس قدر قومی اور واضح تخیل دیتے ہیں کہ تصویر سے زیادہ واضح ہے ، اور متحرک قلم سے زیادہ اثر انگیز اور سحر آفریں ہے۔ جس شخص کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اسے قیامت تک اضحوکہ اور قابل نفرت اور نہایت ہی بدنما تصویر دے دی جاتی ہے۔ جسے نسلوں تک لوگوں نے دیکھا پڑھا اور دیکھیں گے اور پڑھیں گے۔ اس تصویر کشی کے بعد اب اس شخص کو ایک خوفناک دھمکی دی جاتی ہے۔
آیت 25{ اِنْ ہٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ۔ } ”یہ نہیں ہے مگر انسان کا کلام۔“ یعنی اس کلام میں جادو کا سا اثر تو ہے ‘ لیکن محمد ﷺ کا یہ دعویٰ کہ یہ اللہ کا کلام ہے اسے میں نہیں مانتا۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ یہ انسانی کلام ہی ہے۔۔۔۔ اب اگلی آیات کو پڑھنے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے حق کو پہچانتے ہوئے جھٹلا کر اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے دی۔