سورہ مائدہ (74): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Muddaththir کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر ابن کثیر (حافظ ابن کثیر) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المدثر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ مائدہ کے بارے میں معلومات

Surah Al-Muddaththir
سُورَةُ المُدَّثِّرِ
صفحہ 576 (آیات 18 سے 47 تک)

إِنَّهُۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَٱسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا قَوْلُ ٱلْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سَقَرُ لَا تُبْقِى وَلَا تَذَرُ لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ وَمَا جَعَلْنَآ أَصْحَٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَٰٓئِكَةً ۙ وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيَسْتَيْقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ وَيَزْدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِيمَٰنًا ۙ وَلَا يَرْتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۙ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَٱلْكَٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ ۚ وَمَا هِىَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْبَشَرِ كَلَّا وَٱلْقَمَرِ وَٱلَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ وَٱلصُّبْحِ إِذَآ أَسْفَرَ إِنَّهَا لَإِحْدَى ٱلْكُبَرِ نَذِيرًا لِّلْبَشَرِ لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ إِلَّآ أَصْحَٰبَ ٱلْيَمِينِ فِى جَنَّٰتٍ يَتَسَآءَلُونَ عَنِ ٱلْمُجْرِمِينَ مَا سَلَكَكُمْ فِى سَقَرَ قَالُوا۟ لَمْ نَكُ مِنَ ٱلْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ ٱلْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلْخَآئِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلْيَقِينُ
576

سورہ مائدہ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ مائدہ کی تفسیر (تفسیر ابن کثیر: حافظ ابن کثیر)

اردو ترجمہ

اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innahu fakkara waqaddara

اردو ترجمہ

تو خدا کی مار اس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faqutila kayfa qaddara

اردو ترجمہ

ہاں، خدا کی مار اُس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma qutila kayfa qaddara

اردو ترجمہ

پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma nathara

اردو ترجمہ

پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma AAabasa wabasara

اردو ترجمہ

پھر پلٹا اور تکبر میں پڑ گیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma adbara waistakbara

اردو ترجمہ

آخرکار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلا آ رہا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faqala in hatha illa sihrun yutharu

اردو ترجمہ

یہ تو یہ ایک انسانی کلام ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

In hatha illa qawlu albashari

اردو ترجمہ

عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Saosleehi saqara

اردو ترجمہ

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama adraka ma saqaru

اردو ترجمہ

نہ باقی رکھے نہ چھوڑے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

La tubqee wala tatharu

اردو ترجمہ

کھال جھلس دینے والی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Lawwahatun lilbashari

اردو ترجمہ

انیس کارکن اُس پر مقرر ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

AAalayha tisAAata AAashara

اردو ترجمہ

ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے، تاکہ اہل کتاب کو یقین آ جائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہو سکتا ہے اِس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس دوزخ کا ذکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama jaAAalna ashaba alnnari illa malaikatan wama jaAAalna AAiddatahum illa fitnatan lillatheena kafaroo liyastayqina allatheena ootoo alkitaba wayazdada allatheena amanoo eemanan wala yartaba allatheena ootoo alkitaba waalmuminoona waliyaqoola allatheena fee quloobihim maradun waalkafiroona matha arada Allahu bihatha mathalan kathalika yudillu Allahu man yashao wayahdee man yashao wama yaAAlamu junooda rabbika illa huwa wama hiya illa thikra lilbashari

سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بےرحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابو جہل نے کہا اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو نہ تھکا سکو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہوجاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے، یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا چناچہ حضور ﷺ نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا، امام ابن اسحاق نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو) واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لئے، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہوگیا، کہ اس رسول کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہوگئے حضور ﷺ کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہوجاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد عقول عشرہ اور نفوس تسعہ ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی ؟ بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہوچکا ہے کہ آنحضور ﷺ نے بیت المعمور کا صوف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی، مسند احمد میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پاسکتے بلکہ فریاد وزاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابوذر ؓ کی زبان سے بےساختہ یہ نکل جاتا کاش کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور حضرت ابوذر سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، طبرانی میں ہے ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہوسکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، امام محمد بن نصر مروزی کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہحضور ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ سے سوال کیا کہ کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ نے فرمایا آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں، دوسری روایت میں ہے آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لئے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے۔ آیت (وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ01604ۙ) 37۔ الصافات :164) یعنی ہم میں سے ہر ایک کے لئے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں، اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے، دوسری روایت میں یہ قول حضرت ابن مسعود کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت حضرت ابن علاء بن سعد سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی حضور ﷺ کے ساتھ تھے ؓ ، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابو حجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو حضور ﷺ کے ساتھ نماز میں شامل ہوجاؤ تو وہ شخص تو کھڑے ہوگئے لیکن ابو جحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا من مٹی میں ملا دے تو تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا، حضرت عمر نے فرمایا اور کون آئے گا آجا میں تیار ہوں چناچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں حضرت عثمان بن عفان ؓ آگئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا ابو حفص آج کیا بات ہے ؟ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا آپ نے فرمایا اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا، یہ سنتے ہی حضرت عمر یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔ خاصی دور نکل چکے تھے جو حضور ﷺ نے انہیں آواز دی اور فرمایا بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابو جحش کی نماز سے بالکل بےنیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بیشمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہوسکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے، حضرت عمر نے سوال کیا کہ حضور ﷺ ان کی تسبیح کیا ہے ؟ فرمایا آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں دعا (سبحان ذی الملک والملکوت) اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں دعا (سبحان ذی العزۃ والجبروت) اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں دعا (سبحان الحی الذی لا یموت) عمر تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کرو حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہوگا کہا کبھی یہ کہو کبھی وہ پڑھو پہلے جو پڑھنے کو آپ نے فرمایا تھا وہ یہ تھا دعا (اعوذ بعفوک من عقابک واعوذ برضاک من سخطک واعوذ بک منک جل وجھک) یعنی اللہ تیرے ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے اور اسحاق مروزی جو راوی حدیث ہے اس سے حضرت امام بخاری ؒ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان ؒ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن حضرت امام ابو داؤد امام نسائی امام عقیلی اور امام دار قطنی انہیں ضعیف کہتے ہیں، امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہوگئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کرلیا کرتے تھے ہاں ان کی کاتبوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابو قتادہ جمعی میں بھی کلام ہے، تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر ؒ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کردیا ؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کردیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک حضرت سعید بن جبیر دوسری حضرت حسن بصری سے، پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ حضرت عدی بن ارطاۃ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہوسکا۔ اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لئے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے۔ جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے۔

اردو ترجمہ

ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Kalla waalqamari

اردو ترجمہ

اور رات کی جبکہ وہ پلٹتی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallayli ith adbara

اردو ترجمہ

اور صبح کی جبکہ وہ روشن ہوتی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waalssubhi itha asfara

اردو ترجمہ

یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innaha laihda alkubari

اردو ترجمہ

انسانوں کے لیے ڈراوا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Natheeran lilbashari

اردو ترجمہ

تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے ڈراوا جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Liman shaa minkum an yataqaddama aw yataakhkhara

اردو ترجمہ

ہر متنفس، اپنے کسب کے بدلے رہن ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Kullu nafsin bima kasabat raheenatun

جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ 99ۧ) 15۔ الحجر :99) یعنی موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ اور حضرت عثمان بن مظعون ؓ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے، اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لئے کہ شفاعت وہاں نافع ہوجاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لئے شفاعت کہاں ؟ وہ ہمیشہ کے لئے (ہاویہ) میں گئے۔ پھر فرمایا کیا بات ہے کہ کونسی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے، فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں اسد کہتے ہیں اور حبشی زبان میں (ق سورة) کہتے ہیں اور نبطی زبان میں رویا۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیدہ علیحدہ کتاب اترے جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے آیت (حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ01204) 6۔ الانعام :124) یعنی جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے ؟ اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دیئے جائیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں ؟ پھر فرمایا سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کرلے اور نصیحت پکڑ لے، جیسے فرمان ہے آیت (وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 29؀) 81۔ التکوير :29) یعنی تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں۔ پھر فرمایا اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے، مسند احمد میں ہے رسول کریم ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھے سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہوگیا، ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی ؒ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورة مدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی، فالحمد اللہ

اردو ترجمہ

دائیں بازو والوں کے سوا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Illa ashaba alyameeni

اردو ترجمہ

جو جنتوں میں ہوں گے وہاں وہ،

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fee jannatin yatasaaloona

اردو ترجمہ

مجرموں سے پوچھیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

AAani almujrimeena

اردو ترجمہ

"تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ma salakakum fee saqara

اردو ترجمہ

وہ کہیں گے "ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo lam naku mina almusalleena

اردو ترجمہ

اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walam naku nutAAimu almiskeena

اردو ترجمہ

اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakunna nakhoodu maAAa alkhaideena

اردو ترجمہ

اور روز جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakunna nukaththibu biyawmi alddeeni

اردو ترجمہ

یہاں تک کہ ہمیں اُس یقینی چیز سے سابقہ پیش آ گیا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Hatta atana alyaqeenu
576