لواحہ للبشر (29:74) ” کھال جھلس دینے والی ہے “۔ جس طرح سورة معارج میں کہا گیا۔
تدعوا ................ وتولی (70:17) ” یہ ہر اس شخص کو بلاتی ہے جو پیٹھ پھیر کر جائے اور منہ موڑے “۔ وہ سب کو اپنی طرف بلانے والی ہے اور اس کا منظر بہت ہی خوفناک ہے .... پھر اس کے اوپر چوکیدار اور نگران کھڑے ہیں :
آیت 29{ لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ۔ } ”انسان کی کھال کو جھلسا ڈالنے والی۔“ نہ تو اس کا عذاب ختم ہوگا اور نہ ہی اس میں جلتے ہوئے انسان کو موت آئے گی۔