سورہ مائدہ: آیت 31 - وما جعلنا أصحاب النار إلا... - اردو

آیت 31 کی تفسیر, سورہ مائدہ

وَمَا جَعَلْنَآ أَصْحَٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَٰٓئِكَةً ۙ وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيَسْتَيْقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ وَيَزْدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِيمَٰنًا ۙ وَلَا يَرْتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۙ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَٱلْكَٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ ۚ وَمَا هِىَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْبَشَرِ

اردو ترجمہ

ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے، تاکہ اہل کتاب کو یقین آ جائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہو سکتا ہے اِس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس دوزخ کا ذکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama jaAAalna ashaba alnnari illa malaikatan wama jaAAalna AAiddatahum illa fitnatan lillatheena kafaroo liyastayqina allatheena ootoo alkitaba wayazdada allatheena amanoo eemanan wala yartaba allatheena ootoo alkitaba waalmuminoona waliyaqoola allatheena fee quloobihim maradun waalkafiroona matha arada Allahu bihatha mathalan kathalika yudillu Allahu man yashao wayahdee man yashao wama yaAAlamu junooda rabbika illa huwa wama hiya illa thikra lilbashari

آیت 31 کی تفسیر

آیت کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ یہ فرشتے انیس ہیں اور مشرکین اس تعداد میں شک کرتے ہیں۔

وما جعلنا ............................ ملئکة (74:31) ” ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں “۔ تو یہ کارکن ان فرشتوں میں سے ہیں جو نہایت ہی قدرت والے ہیں اور ان کی طبیعت اور مزاج کو اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ نہایت ہی قوی ہیں اور ان کے بارے اللہ نے فرمایا ہے۔

لا یعصون .................... یومرون ” وہ ان احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور ان کو جو کچھ حکم دیا جاتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں “۔ یعنی وہ اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور ان کے اندر اس بات کی طاقت ہے کہ اللہ جو حکم دے وہ اس کی تعمیل کریں ۔ اللہ نے ان کو ایسی قوت دے رکھی ہے کہ وہ ان کو جو حکم دے ، اس کی تعمیل وہ فوراً کردیں۔ اگر اللہ نے ان کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ آگ کے اندر اللہ کے احکام کی تعمیل کریں تو اللہ نے ان کو قدرت دی ہے کہ وہ ایسے حالات میں کام کرسکیں۔ جس طرح اللہ نے ان کو سکھایا۔ لہٰذا ان فرشتوں کے ساتھ یہ بیچارے کب پنجہ آزمائی کرسکتے ہیں ، ان لوگوں نے جو یہ کہا کہ ان فرشتوں کو وہ قابو کرلیں گے تو یہ محض جہالت کی وجہ سے کہا ، ان لوگوں کو دراصل اللہ کی قوتوں اور اللہ کی فوجوں کی طات کا کوئی پتہ ہی نہیں۔ اور یہ معلوم ہی نہیں کہ اپنے معاملات کو کس طرح چلاتا ہے۔

وما جعلنا ................ کفروا (74:31) ” اور ہم نے ان کی تعداد کو کافروں کے لئے فتنہ بنادیا ہے “۔ یہ کافر دراصل ان فرشتوں کی تعداد پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ مقامات کیا ہیں جہاں تسلیم کے بغیر بات نہیں بنتی اور وہ مقامات کیا ہیں جہاں جدل وجدال اور بحث ومباحثے کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہ معاملہ غسیلت کا ہے۔ اور اس میں تسلیم ورضا کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان غیبی شعبوں اور موضوعات پر انسان کے پاس نہ قلیل علم ہے اور نہ کثیر علم ہے۔ جب الہل نے اپنے نبی کے ذریعہ یہ اطلاع کردی اور نبی سچا ہے اور اللہ سچا ہے تو پھر بحث و مباحثہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ انسان کا مقام یہ ہے کہ بس نبی کی بات تسلیم کرے اور یہ اطمینان رکھے کہ جس قدر خبر اللہ نے بتا دی اسی قدر بتانے میں خیر ہے اور اس میں مباحثے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ انسان مناقشہ اس موضوع پر کرسکتا ہے جس کے بارے میں اس کے پاس کوئی سابقہ علم ہو اور جدید علم کے بارے میں وہ اعتراض کرتا ہو۔ تو فرشتوں کی تعداد کے بارے میں انسان کے پاس سرے سے کوئی سابقہ علم ہی نہیں ہے اور یہ کہ ” وہ “ انیس ہیں تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے کہ وہ کیا ہیں اور انیس کیوں ہیں ؟ تو اعتراض کرنے والے بیس پر بھی اعتراض کرسکتے ہیں۔ آخر آسمان سات کیوں بنائے ہیں ، اس پر بھی اعتراض ہوسکتا ہے اور انسان کو موجودہ شکل میں کیوں بنایا اور سوکھی مٹی سے کیوں بنایا اور جنوں کو آگ کے شعلہ سے کیوں بنایا ؟ اور انسان کیوں ماں کے پیٹ میں 9 ماہ رہتا ہے اور کچھوے کیوں ہزار ہا سال زندہ رہتے ہیں اور یہ کیوں ؟ اور یہ کیوں ؟ جواب صرف یہی ہے کہ یہ اللہ کی مرضی ہے اور یہی حقیقی جواب ہے ایسے معاملات کا۔

لیستیقن ............................ والمومنون (74:31) ” تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے ، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں “۔ اور یہ دونوں فریق دوزخ کے نگرانوں کی تعداد میں یقین کا مواد پائیں گے اور اہل ایمان کا تو ایمان زیادہ ہوگا۔ رہے اہل کتاب ، تو ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی علم ضرور ہوگا۔ اور جب وہ سنیں گے کہ قرآن کریم بھی اس بات کی تصدیق کررہا ہے تو وہ بات درست ہے کیونکہ قرآن کریم کتب سابقہ کی تصدیق کرنے والا ہے۔ رہے اہل ایمان ، تو ان کا ایمان تو ہر نئی آیت کے بعد زیادہ ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے دل کھلے ہیں اور عالم بالا سے ان کا بذریعہ رسول ہر وقت رابطہ رہتا ہے۔ اور جو حقائق بھی وارد ہوتے ان کے ایمان میں اضافے کا موجب بنتے ہیں۔ ان کے دلوں میں عنقریب یہ حکمت بیٹھ جائے گی کہ کیوں اللہ نے انیس فرشتے مقرر کیے ہیں ، کیونکہ اللہ کے نظام تخلیق وتدبیر میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے اور ان دونوں کے ذہن میں جب یہ حقیقت بیٹھ جائے گی تو یہ دونوں فریق شک نہ کریں گے کیونکہ یہ بات اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔

ولیقول ............ مثلا (74:31) ” اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اس عجیب بات سے کیا مطلب ہوسکتا ہے “۔ یوں اس ایک ہی حقیقت کا اثر مختلف دلوں میں مختلف ہوتا ہے ، جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ یقین کرتے ہیں اور جو مومن ہیں ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور جن لوگوں کے دل میں بیماری ہے اور جو ضعیف الایمان اور منافق ہیں وہ حسرت واستعجاب میں پوچھتے ہیں :

ماذارا ............ مثلا (74:31) ” اللہ کا اس بات سے مطلب کیا ہے ؟ “۔ کیونکہ اس تعداد کی حکمت وہ نہیں سمجھتے۔ اور نہ وہ اصولاً اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خالق کائنات کی تمام باتوں میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔ وہ خدا اور رسول اللہ ﷺ کی خبروں کی تصدیق پیش کرتے ہیں اور نہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے ہر کام میں خیر اور حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔

کذلک .................... من یساء (74:31) ” اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخش دیتا ہے “۔” اسی طرح “ یعنی حقائق کے بیان کے ذریعہ اور آیات قرآنیہ کے بیان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مختلف دلوں کو مختلف انداز میں متاثر کرتا ہے۔ ایک گروہ اللہ کی مشیت کے مطابق ان سے ہدایت لیتا ہے اور دوسرا گروہ اللہ کے نظام مشیت کے تحت گمراہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر امر کا آخری سبب اللہ کا ارادہ مطلقہ ہوتا ہے۔ ان انسانوں کو قدرت الٰہیہ نے دونوں طرز کی صلاحتیں دی ہیں۔ ان کے اندر ہدایت کی صلاحیت بھی ہے اور گمراہی کی صلاحیت بھی ہے۔ اور یہ صلاحیت اللہ کے نظام مشیت کے اندر ہے۔ پس جو گمراہ ہو ، وہ بھی مشیت کے اندر ہے اور جو ہدایت پائے وہ بھی اس دائرے کے اندر ہے ، کیونکہ ان کی تخلیق کے اندر دونوں قسم کی صلاحیتیں رکھ دی گئی ہیں۔ دونوں راستے ان کے لئے آسان کردیئے گئے ہیں ، جو کوئی جس راستہ کو اختیار کرتا ہے ، اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے اور یہ دائرہ اللہ کی گہری حکمت پر مبنی ہے۔

یہ تصور کہ اللہ کی مشیت مطلق اور بےقید ہے اور اس کائنات میں جو امر واقع ہوتا ہے وہ اس مشیت کے دائرہ کے اندر ہوتا ہے۔ یہ ایک وسیع تصور ہے اور یہ متکلمین کی ان محدود بحثوں سے وسیع تر ہے جو وہ انسان کی جبریت اور اختیار کے بارے میں کرتے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی بحث ہے جس کا کسی فیصلہ کن انجام تک پہنچنا ہی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ جبرواختیار کی مباحث نہایت ہی تنگ زاویہ سے کی جاتی ہیں۔

یہ بحثیں انسان کی محدود سوچ ، محدود طرز استدلال کے انداز میں اور انسان کے محدود تصورات کے اندر کی جاتی ہیں جبکہ اللہ کے نظام مشیت کا تعلق اللہ کی غیر محدود الوہیت کے نظام سے ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ہدایت اور ضلالت کا راستہ بتا دیا اور وہ منہاج بھی بتادیا جس پر چل کر ہم سعادت اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ اور وہ طریقے بھی بتادیئے جن کے ذریعہ انسان گمراہ ہوتے ہیں اور برے انجام تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے ہمیں مکلف نہیں بنایا کہ اس سے زیادہ بھی ہم جان لیں ، نہ اللہ نے اس سے زیادہ ہمیں قدرت اور طاقت دی ہے۔ اللہ کا کہنا یہ ہے کہ میرا ارادہ بےقید ہے اور میں جو کچھ چاہتا ہوں وہی ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے فہم اور ادراک کے مطابق اللہ کی بےقید مشیت اور ارادہ مطلق کو سمجھنا چاہئے اور اس کے مطابق چلنا چاہئے۔ ہمیں اس منہاج پر چلنا چاہئے جس کے نتیجے میں ہدایت ملتی ہے اور اس منہاج سے بچنا چاہئے جس سے ہم گمراہ ہوتے ہیں اور ان سائل پر ہمیں فضول اور لاحاصل بحث نہیں کرنا چاہئے جن تک انسانی قوائے مدرکہ کی رسائی ممکن ہی نہیں ہے۔ اس اصول کے مطابق متکلمین مسئلہ قدرواختیار کے موضوعات پر جو مباحث کیے ہیں وہ لا حاصل ہیں۔

ہم اس حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے کہ اللہ کی مشیت ہمارے بارے میں کیا کرتی ہے۔ البتہ ہم اس حقیقت کو پاسکتے ہیں کہ انسان اللہ کے فضل وکرم کے مستحق کس طرح ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی قوتیں ان کاموں میں صرف کریں جن کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے اور اللہ کے پوشیدہ اور مشتبہ امور کو اللہ پر چھوڑدیں۔ جب اللہ کی مشیت ظاہر ہوجاتی ہے تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اللہ کی مشیت تھی اور ایسا ہوگیا۔ مشیت کے ظہور سے قبل ہم سمجھ ہی نہیں سکتے۔ ہر مشیت کے پیچھے ایک حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور یہ حکمت بھی اللہ جانتا ہے ، صرف اللہ وحدہ۔ یہ تو ہے ایک سچے مومن کا طریقہ کار۔

وما یعلم ................ الا ھو (47 : 13) ” اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا “۔ اس لئے اللہ کی افواج ، ان کی حقیقت ان کے وظائف اور ان کی قوت کا ہمیں علم نہیں ہے ، کیونکہ یہ اللہ کے غیبی امور میں سے ہیں۔ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ ان امور میں سے کسی چیز کا انکشاف کردے۔ اور اللہ جو بات کردے وہ فیصلہ کن اور اٹل ہوتی ہے۔ اللہ کے قول کے بعد کوئی مجادلہ نہیں کرسکتا ، کسی کو کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ کسی بات کے معلوم کرنے کی اجازت ہے۔ کیونکہ یہ کام کوئی کر ہی نہیں سکتا۔

وماھی ................ للبشر (74:31) ” اور اس دوزخ کا ذکر اس کے سوا کسی غرض کے لئے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو “۔ ھی کی ضمیر یا تو اللہ کے ” جنود “ کی طرف راجح ہے یا جہنم کی طرف۔ اور اس پر جو فرشتے ہیں ان کی طرف۔ اور یہ بھی اللہ کی افواج میں سے ہیں۔ اور ان کا ذکر لوگوں کو متنبہ کرنے اور ڈرانے کے لئے کیا گیا ہے۔ محض جدل وجدال کے لئے نہیں۔ اللہ کے کلام سے صرف اہل ایمان ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، رہے گمراہ دل ، تو وہ ان چیزوں کو محض جدل وجدال کا ذریعہ بناتے ہیں۔

اس غیبی حقیقت کی وضاحت اور ہدایت لینے اور گمراہ ہونے کے طریقے اور اسباب بتانے کے بعد اب حقیقت آخرت حقیقت جہنم اور رب تعالیٰ کی خفیہ قوتوں کو اس کائنات کے ظاہری مشاہد اور نشانیوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ان ظاہری نشانیوں کو تو انسان دیکھتے ہوئے بھی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ غیبی حقائق معلوم کرنے کے لئے تیر تکے چلاتے ہیں ، حالانکہ ان ظاہری امور اور نشانات سے اللہ کے ارادے اور قوتیں اچھی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور ان ظاہری نشانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے بڑا مقصد اور ایک طاقتور ارادہ ہے۔

آیت 31{ وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِکَۃًص } ”اور ہم نے نہیں مقرر کیے جہنم کے داروغے مگر فرشتے“ ان لوگوں کو فرشتوں کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ فرشتوں کی قوتوں کو انسانی قوتوں پر قیاس کرنا ان کی حماقت ہے۔ { وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْالا } ”اور ہم نے نہیں ٹھہرائی ان کی یہ تعداد مگر کافروں کی آزمائش کے لیے“ { لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ } ”تاکہ جنہیں کتاب دی گئی تھی انہیں یقین آجائے“ جامع ترمذی کی ایک روایت کے مطابق جہنم کے انیس داروغوں کا ذکر تورات میں بھی ہے۔ اب ظاہر ہے اہل ِکتاب کے لیے تو قرآن کے حق میں یہ بہت بڑی دلیل ہے۔ { وَیَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِیْمَانًا } ”اور جو اہل ایمان ہیں وہ ایمان میں بڑھیں“ اہل ایمان کے لیے تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہر وحی ایمان میں اضافے کا باعث ہی بنتی ہے۔ { وَّلَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ } ”اور نہ شک میں پڑیں اہل کتاب اور اہل ایمان“ { وَلِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْکٰفِرُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰہُ بِہٰذَا مَثَلًاط } ”اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور کفار بھی کہ بھلا اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟“ یعنی منافقین اور کفار اپنے من پسند تبصرے کرتے رہیں کہ جہنم کے فرشتوں کی تعداد بتانے سے اللہ تعالیٰ کا کیا مقصد ہے۔ { کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآئُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ } ”اسی طرح اللہ گمراہ کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔“ { وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَط } ”اور کوئی نہیں جانتا آپ کے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے۔“ { وَمَا ہِیَ اِلَّا ذِکْرٰی لِلْبَشَرِ۔ } ”اور یہ آیات صرف انسانوں کی یاد دہانی کے لیے ہیں۔“ اس کے بعد سورت کے آخر تک تمام آیات کا اسلوب اور آہنگ وہی ہے جو شروع سورت سے چلا آ رہا ہے۔ یعنی چھوٹی چھوٹی آیات اور تیز ردھم۔

سخت دل بےرحم فرشتے اور ابو جہل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عذاب دینے پر اور جہنم کی نگہبانی پر ہم نے فرشتے ہی مقرر کئے ہیں جو سخت بےرحم اور سخت کلامی کرنے والے ہیں اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابو جہل نے کہا اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو نہ تھکا سکو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہوجاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے، یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا چناچہ حضور ﷺ نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا، امام ابن اسحاق نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو) واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ اس گنتی کا ذکر تھا ہی امتحان کے لئے، ایک طرف کافروں کا کفر کھل گیا، دوسری جانب اہل کتاب کا یقین کامل ہوگیا، کہ اس رسول کی رسالت حق ہے کیونکہ خود ان کی کتاب میں بھی یہی گنتی ہے، تیسری طرف ایماندار اپنے ایمان میں مزید توانا ہوگئے حضور ﷺ کی بات کی تصدیق کی اور ایمان بڑھایا، اہل کتاب اور مسلمانوں کو کوئی شک شبہ نہ رہا بیمار دل اور منافق چیخ اٹھے کہ بھلا بتاؤ کہ اسے یہاں ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہوجاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد عقول عشرہ اور نفوس تسعہ ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی ؟ بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہوچکا ہے کہ آنحضور ﷺ نے بیت المعمور کا صوف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی، مسند احمد میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرا رہے ہیں اور انہیں چرچرانے کا حق ہے۔ ایک انگلی ٹکانے کی جگہ ایسی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تم بہت کم ہنستے، بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی بیویوں کے ساتھ لذت نہ پاسکتے بلکہ فریاد وزاری کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابوذر ؓ کی زبان سے بےساختہ یہ نکل جاتا کاش کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور حضرت ابوذر سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، طبرانی میں ہے ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہوسکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، امام محمد بن نصر مروزی کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہحضور ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ سے سوال کیا کہ کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ نے فرمایا آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں، دوسری روایت میں ہے آسمان دنیا میں ایک قدم رکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدے میں یا قیام میں کوئی فرشتہ نہ ہو، اسی لئے فرشتوں کا یہ قول قرآن کریم میں موجود ہے۔ آیت (وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ01604ۙ) 37۔ الصافات :164) یعنی ہم میں سے ہر ایک کے لئے مقرر جگہ ہے اور ہم صفیں باندھنے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے ہیں، اس حدیث کا مرفوع ہونا بہت ہی غریب ہے، دوسری روایت میں یہ قول حضرت ابن مسعود کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت حضرت ابن علاء بن سعد سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی حضور ﷺ کے ساتھ تھے ؓ ، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابو حجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو حضور ﷺ کے ساتھ نماز میں شامل ہوجاؤ تو وہ شخص تو کھڑے ہوگئے لیکن ابو جحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا من مٹی میں ملا دے تو تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا، حضرت عمر نے فرمایا اور کون آئے گا آجا میں تیار ہوں چناچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں حضرت عثمان بن عفان ؓ آگئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا ابو حفص آج کیا بات ہے ؟ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا آپ نے فرمایا اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا، یہ سنتے ہی حضرت عمر یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔ خاصی دور نکل چکے تھے جو حضور ﷺ نے انہیں آواز دی اور فرمایا بیٹھو سن تو لو کہ اللہ ابو جحش کی نماز سے بالکل بےنیاز ہے آسمان دنیا میں خشوع و خضوع والے بیشمار فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں جو قیامت کو سجدے سے سر اٹھائیں گے اور یہ کہتے ہوئے حاضر ہوں گے کہ اب بھی ہمارے رب ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہوسکا، اسی طرح دوسرے آسمان میں بھی یہی حال ہے، حضرت عمر نے سوال کیا کہ حضور ﷺ ان کی تسبیح کیا ہے ؟ فرمایا آسمان دنیا کے فرشتے تو کہتے ہیں دعا (سبحان ذی الملک والملکوت) اور دوسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں دعا (سبحان ذی العزۃ والجبروت) اور تیسرے آسمان کے فرشتے کہتے ہیں دعا (سبحان الحی الذی لا یموت) عمر تو بھی اپنی نماز میں اسے کہا کرو حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس سے پہلے جو پڑھنا آپ نے سکھایا ہے اور جس کے پڑھنے کو فرمایا ہے اس کا کیا ہوگا کہا کبھی یہ کہو کبھی وہ پڑھو پہلے جو پڑھنے کو آپ نے فرمایا تھا وہ یہ تھا دعا (اعوذ بعفوک من عقابک واعوذ برضاک من سخطک واعوذ بک منک جل وجھک) یعنی اللہ تیرے ہی پناہ پکڑتا ہوں اور تیرا چہرہ جلال والا ہے اور اسحاق مروزی جو راوی حدیث ہے اس سے حضرت امام بخاری ؒ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان ؒ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن حضرت امام ابو داؤد امام نسائی امام عقیلی اور امام دار قطنی انہیں ضعیف کہتے ہیں، امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہوگئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کرلیا کرتے تھے ہاں ان کی کاتبوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابو قتادہ جمعی میں بھی کلام ہے، تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر ؒ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کردیا ؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کردیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک حضرت سعید بن جبیر دوسری حضرت حسن بصری سے، پھر ایک اور روایت لائے ہیں کہ حضرت عدی بن ارطاۃ نے مدائن کی جامع مسجد میں اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں نے ایک صحابی سے سنا ہے انہوں نے نبی ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے بہت سے ایسے فرشتے ہیں جو ہر وقت خوف اللہ سے کپکپاتے رہتے ہیں ان کے آنسو گرتے رہتے ہیں اور وہ ان فرشتوں پر ٹپکتے ہیں جو نماز میں مشغول ہیں اور ان میں ایسے فرشتے بھی ہیں جو ابتداء دنیا سے رکوع میں ہی ہیں اور بعض سجدے میں ہی ہیں قیامت کے دن اپنی پیٹھ اور اپنا سر اٹھائیں گے اور نہایت عاجزی سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہیں ہوسکا۔ اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لئے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے۔ جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے۔

آیت 31 - سورہ مائدہ: (وما جعلنا أصحاب النار إلا ملائكة ۙ وما جعلنا عدتهم إلا فتنة للذين كفروا ليستيقن الذين أوتوا الكتاب ويزداد الذين...) - اردو