ہر شخص اپنے نفس کا ذمہ دار ہے ، جس حالت میں اسے چاہے ، رکھ دے ، جو بوجھ چاہے اٹھالے ، جو قدم چاہے اٹھائے۔ اچھائی کی طرف آگے بڑھے ، یا پیچھے رہ جائے۔ اپنے آپ کو عزت دے یا ذلیل کرے۔ ہر نفس اپنی کمائی کے ہاتھ رہن ہے اور اپنے اعمال کے ہاں قید ہے۔ اللہ نے ہر شخص کو راہ ہدایت بھی بتادی ہے اور راہ ضلالت بھی دکھا دی ہے اور اس کائنات کے ان مناظر کی روشنی میں اور جہنم کی منظر کشی کے بعد وہ ہر اس چیز کو فنا کردینے والی ہے ، جو اس کے دائرے کے اندر آجائے۔
اس منظر کے بعد کہ ہر نفس اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور جو کچھ اس نے کیا اس کا مرہون ہے۔ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اصحاب الیمین ان جکڑ بندیوں اور ان پابندیوں سے آزاد ہوں گے اور وہ حساب و کتاب کے بعد رہائی پالیں گے۔ اور اس کامیابی کے بعد اب وہ مجرمین سے پوچھیں گے کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے وہ اس انجام سے دوچار ہوئے۔
آیت 37{ لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَ۔ } ”جو بھی تم میں سے چاہے کہ وہ آگے بڑھے یا پیچھے رہ جائے۔“ اب کامیابی کا دار و مدار ہر کسی کی ہمت اور کوشش پر ہے۔ جس کی ہمت جوان ہو وہ سب سے آگے بڑھ کر صدیقیت کا مقام اور ”السابقون الاولون“ کا درجہ حاصل کرلے۔ جو کوئی دوسروں کا انتظار کرکے ذرا دیر سے چلنے میں عافیت سمجھے وہ وَاتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ والوں کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لے اور جس کسی کی ہمت اور قسمت ساتھ نہ دے وہ خود کو مستقل طور پر محروم کرلے۔