بل یرید .................... منشرة
یہ شعور وہ نبی ﷺ کے ساتھ حسد کی وجہ سے رکھتے تھے کہ حضور ﷺ کو یہ منصب کیوں عطا ہوا ؟ ہر کہ ومنہ یہ چاہتا تھا کہ یہ منصب اسے دیا جائے اور ہر شخص کے اوپر کھلے صحیفے اترتے نظر آئیں۔ یہ اشارہ ہے ان کبرائے قریش کی طرف جو اس بات پر جل بھن گئے تھے کہ محمد (ﷺ) ابن عبداللہ پر یہ کلام کیوں نازل ہوا۔
لو لا ................................ عظیم ” یہ قرآن دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوا ؟ “ لیکن اللہ نے فرمایا کہ وہ چاہتا ہے کہ منصب رسالت کا اہل کون ہے اور اس عظیم کام کے لئے اس نے کس کا انتخاب کرنا ہے۔ یہی بات تھی جس کی وجہ سے یہ لوگ اسلامی نظریہ حیات سے نفرت کرتے تھے اور قبولیت پر آمادہ نہ تھے۔
ان لوگوں کے نفوس کی اندرونی تصویر کشی جاری ہے ، چناچہ اس طمع اور لالچ اور حسد سے بھر پور ایک دوسرا سبب بھی سامنے رکھ دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس بےجا حسد اور لالچ میں کیوں مبتلا ہوگئے ہیں تو اس سے بھی دور رس سبب یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ اس وجہ سے اللہ کے اس فضل وکرم سے محروم ہوگئے ہیں۔
آیت 52{ بَلْ یُرِیْدُ کُلُّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً۔ } ”بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کو پکڑا دیے جائیں کھلے صحیفے۔“ یہ ان کی استہزائیہ گفتگو کا ذکر ہے۔ وہ لوگ حضور ﷺ کی دعوت کے جواب میں اکثر ایسی باتیں کرتے تھے کہ یہ حساب کتاب کا معاملہ قیامت پر کیوں ٹالا جا رہا ہے ؟ آپ ﷺ اپنے اللہ سے کہیں کہ وہ مہربانی فرما کر ہمارے اعمالنامے ابھی ہمارے ہاتھوں میں پکڑا دے۔ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم قرآن کو اللہ کا کلام تب مانیں گے جب ہم میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایک صحیفہ پکڑا دیا جائے گا۔