اس صفحہ میں سورہ Al-Muddaththir کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المدثر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَٰعَةُ ٱلشَّٰفِعِينَ
فَمَا لَهُمْ عَنِ ٱلتَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ
كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ
فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍۭ
بَلْ يُرِيدُ كُلُّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًا مُّنَشَّرَةً
كَلَّا ۖ بَل لَّا يَخَافُونَ ٱلْءَاخِرَةَ
كَلَّآ إِنَّهُۥ تَذْكِرَةٌ
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ
وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ هُوَ أَهْلُ ٱلتَّقْوَىٰ وَأَهْلُ ٱلْمَغْفِرَةِ
آیت 51{ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ۔ } ”جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں۔“ یہ لوگ ایک اللہ ‘ قرآن اور آخرت کے ذکر سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شیر کی آہٹ پا کر جان بچانے کے لیے بھاگتے ہیں۔ ایسے مناظر اب ٹیلی ویژن پر عام دکھائے جاتے ہیں کہ افریقہ کے جنگلوں میں زیبروں کے غول کے غول شیر کی آہٹ محسوس کر کے بگٹٹ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔
آیت 52{ بَلْ یُرِیْدُ کُلُّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً۔ } ”بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کو پکڑا دیے جائیں کھلے صحیفے۔“ یہ ان کی استہزائیہ گفتگو کا ذکر ہے۔ وہ لوگ حضور ﷺ کی دعوت کے جواب میں اکثر ایسی باتیں کرتے تھے کہ یہ حساب کتاب کا معاملہ قیامت پر کیوں ٹالا جا رہا ہے ؟ آپ ﷺ اپنے اللہ سے کہیں کہ وہ مہربانی فرما کر ہمارے اعمالنامے ابھی ہمارے ہاتھوں میں پکڑا دے۔ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم قرآن کو اللہ کا کلام تب مانیں گے جب ہم میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایک صحیفہ پکڑا دیا جائے گا۔
آیت 53{ کَلَّاط بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۔ } ”ہرگز نہیں ! اصل بات یہ ہے کہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔“ جب ان کے دلوں میں آخرت کا خوف نہیں رہا تو اب وہ جیسی چاہیں باتیں بنائیں۔ فارسی کا مشہور محاورہ ہے : ”بےحیا باش و ہرچہ خواہی کن !“ کہ ایک دفعہ حیا کا پردہ اٹھا دو پھر جو چاہو کرو۔ چناچہ آخرت سے بےخوف ہو کر وہ ہر طرح کی باتیں بنانے میں آزاد ہیں۔
آیت 56{ وَمَا یَذْکُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ط } ”اور یہ لوگ نصیحت اخذ نہیں کریں گے ‘ مگر یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔“ { ہُوَ اَہْلُ التَّقْوٰی وَاَہْلُ الْمَغْفِرَۃِ۔ } ”وہی ڈرنے کے لائق ہے اور وہی مغفرت کا مجاز۔“ یہ اسی کا حق ہے کہ اس کا تقویٰ اختیار کیا جائے ‘ اس کے احکام کی پاسداری کی جائے اور وہی اس کا اہل ہے کہ جس کی چاہے مغفرت فرما دے۔