کلا .................... الاخرة
ان کی یہ بےخوفی اور لاابالی پن ہی ہے جو انہیں اس نصیحت و حکمت سے دور کررہا ہے اور دعوت اسلامی سے یہ دور بھاگ رہے ہیں۔ اگر ان کے دلوں میں آخرت کا شعور ہوتا تو ان کی صورت حال یہ نہ ہوتی کہ یہ ہر معاملے میں شک میں گرفتار ہیں۔
اس کے بعد ایک بار پھر ان کو تنبیہ کی جاتی ہے۔ اب آخری بات کہہ دی جاتی ہے اور ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اب جو چاہیں کریں اور جو انجام چاہیں ، قبول کریں۔
آیت 53{ کَلَّاط بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۔ } ”ہرگز نہیں ! اصل بات یہ ہے کہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔“ جب ان کے دلوں میں آخرت کا خوف نہیں رہا تو اب وہ جیسی چاہیں باتیں بنائیں۔ فارسی کا مشہور محاورہ ہے : ”بےحیا باش و ہرچہ خواہی کن !“ کہ ایک دفعہ حیا کا پردہ اٹھا دو پھر جو چاہو کرو۔ چناچہ آخرت سے بےخوف ہو کر وہ ہر طرح کی باتیں بنانے میں آزاد ہیں۔