سورۃ الملک: آیت 30 - قل أرأيتم إن أصبح ماؤكم... - اردو

آیت 30 کی تفسیر, سورۃ الملک

قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَآءٍ مَّعِينٍۭ

اردو ترجمہ

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لا دے گا؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul araaytum in asbaha maokum ghawran faman yateekum bimain maAAeenin

آیت 30 کی تفسیر

قل ارءیتم .................... معین

” ماﺅکم غورا (76 : 03) ” کے معنی اس پانی کے ہیں جو زمین کی رگوں میں دور تک چلاجائے اور اسے واپس لانے کی کوئی سبیل نہ ہو۔

معین (76 : 03) وہ چشمہ جو زمین سے ابل کر پانی لارہا ہو۔ یہ مناظر وہ دیکھتے رہتے تھے۔ اگرچہ وہ اس دن اس میں شک کرتے تھے۔ لیکن زمین و آسمان کی بادشاہت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہ جس وقت چاہے ان چشموں کو خشک کردے۔ اگر اللہ ان کی زندگی کے اس سبب کو ہی کشید کرلے تو نتائج کیا ہوں۔ اس کے بعد ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ذرا اس پر بھی غور کرلو۔

یوں اس سورت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ یہ دلائل ، تاثرات ، ملکوت سماوات اور ارض کی سیر ، ہر آیت ایسی کہ بذات خود فکر انگیز ، قلب ونظر اور فکر و خیال کی جولانی۔

یہ بہت ہی زیادہ فکر انگیز سورت ہے۔ حجم اگرچہ کم ہے لیکن تصورات ، ہدایات آفاق کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ اشاراتی تیر ہیں جو بہت ہی دور تک فکر و خیال کو لے جاتے ہیں اور کائنات کی سیر کراتے ہیں۔

یہ سورت اسلامی تصور حیات کی بنیادیں رکھ دیتی ہے۔ یہ ضمیر کے اندر بٹھاتی ہے کہ تمام فیصلے ازل میں ہوچکے ہیں۔ تمام کائنات پر اللہ کا مکمل کنٹرول ہے ، انسانوں کو یہاں آزمائش اور امتحان کے لئے بھیجا گیا جس کا نتیجہ حشر ونشر کے دن نکلے گا۔ اللہ کی مخلوقات میں کمال و جمال انتہاﺅں پر ہے۔ اللہ کا علم ظاہر و باطن پر محیط ہے ، رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ مخلوقات کا محافظ ہے ، وہ مخلوقات کے ساتھ ہے ، ایک مسلم کا تصور اب کیا ہے ، پھر اس کائنات کا اللہ کے ساتھ کیا تعلق ہے ، یہ وہ مجموعہ تصورات ہے جس کے اوپر اسلامی نظام حیات کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ مومن کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ، مومن کا تعلق اپنے نفس کے ساتھ ، مومن کا تعلق اپنے بھائیوں اور انسانوں کے ساتھ ، مومن کا تعلق تمام زندہ مخلوقات کے ساتھ ، مومن کا تعلق روئے زمین کے اشیاء کے ساتھ۔ یہ تصورات انسان کے ضمیر میں ان تعلقات کو اس تفصیلی کیفیات عطا کرتے ہیں۔ اس سے ایک مسلم کی زندگی کی اقدار اور پیمانے واضع ہوتے ہیں۔

آیت 30{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُکُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْکُمْ بِمَآئٍ مَّعِیْنٍ۔ } ”آپ ﷺ کہیے کہ ذرا سوچو ! اگر تمہارا پانی گہرائی میں اتر جائے تو کون ہے جو لائے گا تمہارے پاس صاف ‘ نتھرا ہواپانی ؟“ آج کے دور میں اس آیت کا مفہوم واضح تر ہو کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔ آج متعلقہ ماہرین بار بار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بارشوں کی کمی کے باعث مستقبل قریب میں زیرزمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جاسکتی ہے۔ بیشتر علاقوں میں انسانی ‘ حیوانی اور نباتاتی زندگی کا زیادہ تر دار و مدار زیرزمین پانی پر ہی ہے جو عموماً آسانی سے دستیاب بھی ہے۔ صاف شفاف اور میٹھے پانی کا یہ عظیم الشان ذخیرہ ”زندگی“ کے لیے قدرت کا بہت بڑا عطیہ ہے۔ اگر یہ پانی واقعی ایسی گہرائی میں چلا جائے جہاں سے اس کا نکالنا ناممکن یا مشکل ہوجائے تو اس کے نتائج کا تصور بھی روح فرسا ہے۔

آیت 30 - سورۃ الملک: (قل أرأيتم إن أصبح ماؤكم غورا فمن يأتيكم بماء معين...) - اردو