ومن ۔۔۔۔ یبعثون (23 : 100) ” “۔ برزخ یعنی پردہ حائل ہے۔ نہ وہ اہل دنیا سے ہوتے ہیں اور نہ اہل آخرت سے ہوتے ہیں۔ یہ اس برزخ کے عالم میں ہیں اور قیام قیامت تک یہ لوگ یہاں رہیں گے۔ اب سیاق کلام قیامت میں داخل ہوجاتا ہے جب کہ صور پھونکا جاتا ہے۔
آیت 100 لَعَلِّیْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَکْتُ کَلَّا ط ”اے میرے پروردگار ! اب اگر تو مجھے واپس دنیا میں بھیج دے تو میں اپنے مال و اسباب کو تیرے راستے میں اور تیرے دین کی خدمت میں لٹا دوں گا !وَمِنْ وَّرَآءِہِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ”موت کے بعد تو اب بعث بعد الموت تک ان کے لیے عالم برزخ کی زندگی ہے۔