اس صفحہ میں سورہ Al-Muminoon کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المؤمنون کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
بَلْ أَتَيْنَٰهُم بِٱلْحَقِّ وَإِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ
مَا ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُۥ مِنْ إِلَٰهٍ ۚ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ سُبْحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ
عَٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
قُل رَّبِّ إِمَّا تُرِيَنِّى مَا يُوعَدُونَ
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِى فِى ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
وَإِنَّا عَلَىٰٓ أَن نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقَٰدِرُونَ
ٱدْفَعْ بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ ٱلسَّيِّئَةَ ۚ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ
وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَٰتِ ٱلشَّيَٰطِينِ
وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَهُمُ ٱلْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ٱرْجِعُونِ
لَعَلِّىٓ أَعْمَلُ صَٰلِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ كَلَّآ ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا ۖ وَمِن وَرَآئِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
فَإِذَا نُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَلَآ أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَآءَلُونَ
فَمَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
وَمَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فِى جَهَنَّمَ خَٰلِدُونَ
تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَٰلِحُونَ
بل اتینھم یشرکون (آیت نمبر 90 تا 92 ۔ ۔ یہ فیصلہ مختلف اسالیب میں آتا ہے ۔ ان کے ساتھ اس مباحثے کو ختم کردیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔
بل اتینھم بالحق اونھم لکذبون (23 : 90) ” جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ اس کے بعد ان کے جھوٹ کی تفصیل دی جاتی ہے
ما تخذ الہ (23 : 90) ” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسراخدا اس کے ساتھ نہیں “۔ اور اس کے بعد پھر ان کے دعوے کے رو میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے عقیدئہ شرک میں کس قدر کمزوری ہے۔
اذ لذھب کل الہ بما خلق (23 : 90) ” تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا ہے “۔ وہ اپنی مخلوقات میں ایک مستقل خدا ہوتا اور وہ اپنی مخلوقات میں اپنے مخصوص قانون قدرت کے مطابق تصرفات کرتا ۔ اس طرح مختلف کائناتوں میں مختلف قوانین نظر آئے اور وہ یہ دوسرے خدا کے قوانین نظر آئے اور وہ دوسرے خدا کے قوانین اور سے علیحدہ نظر آتے۔ پھر تضاد کی صورت میں۔
ولعلا بعضھم علی بعض (23 : 90) ” پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے “ تضاد کی صورت میں بعض خدا بعض پر غالب ہوتے ۔ یوں آخر کا ایک ہی خدا متصرف اور مقتدر اعلیٰ رہتا اور دنیا میں آخر کا ایک ہی نظام چلتا کیونکہ ایک ملک میں دو مقتدر اعلی تو نہیں ہوسکتے۔
چونکہ کائنات میں اس قسم کا تضاد نہیں ہے ، اس کی وحدت ساخت ، اور اس کی حرکت کی یانگت اور اس کے ناموس اور قانون قدرت کی وحدت اس با کی دلیل ہے کہ اس کا مقتدر اعلیٰ ایک ہے کیونکہ اس کا ئنات کے اندر اور اس کے اجزاء کے اندر کوی تصادم نظر نہیں آتا۔ یہ کامل ہم آہنگی کے ساتھ چل رہی ہے اس لیے اس کا رب اور متصرف بھی ایک ہے ۔
سبحن اللہ عما یصفون (23 : 90) ” وہ بالا تر ہے ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں “۔ وہ عالم الغٰب ہے اور عالم شہادت ہے ۔ اس کے سوا کسی اور کی کوئی مخلوق نہیں ہے اس لیے اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کرتے ہیں۔
اب یہاں سے روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اے محمد ؐ اس بات سے اللہ کی پناہ طلب کریں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ آپ ؐ شامل ہوجائیں اگرچہ الل نے یہ فیصلہ کردیا کہ ان لوگوں کو جو سزا ملنے والی ہے وہ اللہ آپ کو دکھائے گا ۔ بہر حال آپ شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگیں اور یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کریں ۔
قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی دے رہے ہیں “۔ اور غزوہ بدر میں اللہ نی نبی ﷺ کو اس کی ایک جھلکی دکھا بھی دی ۔ اس کے بعد فتح مکہ میں بھی ایک رنگ دکھایا گیا۔
ادفع یصفون (23 : 92) ” اے نبی ؐ ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو ، جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں “۔ اس سورة کے نزول کے وقت مکہ مکرمہ میں دعوت اسلامی کے لیے یہ منہاج اختیار کیا گیا تھا کہ برائی کا دفعیہ بھلائی کے ساتھ کیا جائے ۔ اللہ کا حکم آنے تک صبر کیا جائے اور معالات اللہ کے سپرد کردیئے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ دعا کہ اے رب میں تجھ سے شیطان کی اکساہٹوں سے پناہ مانگتا ہوں ، جب کہ آپ خدا کی طرف سے حفاظت میں تھے اور معصوم تھے ، یہ بات زیادہ احتیاط اور زیادہ تقویٰ کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ التجا اور امت کو تعلیم دینے کی خاطر ہے کیونکہ حضور ہی اپنی امت کے لیے اسوہ ہیں ۔ یہ دراصل امت کو تعلیم ہے کہ شیطان کو اکساہٹوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ہر وقت مانگتے رہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ؐ شیطان کے قرب سے پناہ طلب کریں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
واعوذبک رب ان یحضرون (23 : 98) ” بلکہ میں تو اے رب ، اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں “۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وفات کے وقت حضور ﷺ اس بات سے پناہ مانگتے ہوں کہ شیطان اس وقت آموجود ہو۔ اس آیت کے بعد اگلی آیت جو اگلے سبق میں ہے اس طرف اشارہ بھی کرتی ہے ۔
حتی اذا جاء احدھم الموت (23 : 99) ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے “۔ یہ قرآن کا انداز کلام ہے کہ ایک مفہوم سے دوسرامفہوم بڑی ہم آہنگی سے نکلتا چلا جاتا ہے۔
دحتی اذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یبعثون (99 : 100) ”(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ” اے میرے رب ‘ مجھ یا سی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ؟ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک “۔
اس آخری سبق میں بھی مشرکین کے برے انجام کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔ اب یہ لوگ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں ہیں۔ اس میں آغاز دنیا میں روح قبض کرنے کے وقت سے ہوتا ہے اور نفعع صور پر ختم ہوتا ہے۔ آخر میں سورة کے اختتام پر اصل مضمون کی طرف آتے ہوئے اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ سورة کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ خود حضور ﷺ اللہ کی مغفرت طلب فرمائیں۔
حتی اذا۔۔۔۔۔۔۔ رب ارجعون (23 : 99) لعلی اعمل۔۔۔۔۔ فیماترکت (23 : 100)
یہ منظر حالت نزع کا ہے۔ جب موت آتی ہے تو ہر شخص توبہ کرتا ہے۔ رجوع الی اللہ کرتا ہے ‘ یہ درخواست کرتا ہے کہ اے اللہ ایک موقعہ اور دیجئے ۔ ایک بار اور زندگی دیجئے تاکہ ہم ان کوتاہیوں کی تخصیح کرلیں اور جو اہل و عیال اور مال و دولت ہم نے چھوڑے ہیں ان میں تیری مرضی کا تصرف کریں۔ یہ ایک منظر ہے جسے سب دیکھ رہے ہیں اور مرنے والا یہ درخواست کررہا ہے اور جو اب بھی اعلانیہ آجاتا ہے۔
کلا انھا کلمۃ ھو قائلھا (23 : 100) ” ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے “۔ یہ ایک بات ہے جو وہ کررہا ہے۔ اسکا کوئی مصداق وجود میں آنے والا نہیں ہے۔ یہ لفظ اور اس کا قائل قابل توجہ نہیں ہیں۔ یہ تو حالت خوف کی ایک چیخ ہے جو منہ سے نکل رہی ہے۔ یہ کسی اخصلاص پر مبنی نہیں ہے۔ نہ حقیقی توبہ ہے۔ مشکلات میں ہر کوئی یہ بات کرتا ہے۔ دل میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی نہ ارادہ ہوتا ہے۔
اب حالت نزع کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ یہ بات کہنے والے اور دنیا کے درمیان پر وہ حائل ہوجاتا ہے۔ معاملہ ختم ہوگیا۔ تعلقات ختم ہوگئے۔ دروازے بند ہوگئے اور پردے گر گئے۔
ومن ۔۔۔۔ یبعثون (23 : 100) ” “۔ برزخ یعنی پردہ حائل ہے۔ نہ وہ اہل دنیا سے ہوتے ہیں اور نہ اہل آخرت سے ہوتے ہیں۔ یہ اس برزخ کے عالم میں ہیں اور قیام قیامت تک یہ لوگ یہاں رہیں گے۔ اب سیاق کلام قیامت میں داخل ہوجاتا ہے جب کہ صور پھونکا جاتا ہے۔
فاذا۔۔۔۔۔ ولایتسآء لون (101) ۔ تمام رابطے کٹ جائیں گے۔ وہ اقدار ختم ہوجائیں گی جن کے مطابق وہ دنیا میں زندگی بسر کرتے تھے۔
فلآ۔۔۔۔۔ یومئذ (23 : 101) ” اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ نہ رہے گا “۔ اس قدر خوف چھا جائے گا کہ سب خاموش ہوں گے۔ چپ کھڑے ہوں گے ‘ کوئی بات ہی نہ کرے گا۔ اب یہاں نہایت سرعت اور اختصار کے ساتھ حساب و کتاب کا میزان پیش کیا جاتا ہے۔
فمن ثقلت۔۔۔۔۔۔ کلحون (102 : 104) یہ کہ تمام اعمال کو ترازو میں تولا جائے گا ‘ یہ بھی قرآن مجید کا ایک مخصوص انداز کلام ہے کہ وہ کسی بھی مفہوم کو حسی انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ نہایت ہی مجرد معانی کو ہر شخص سمجھ جائے۔
نیز ان اعمال کے ساتھ ذرادیکھئے کہ ان کے چہروں پر سے آگ گوشت کو چاٹ جائے گی اور وہ اس طرح نظر آرہے ہو نگے جس طرح کسی مردے کے منہ کی ہڈیاں نظر آتی ہیں ‘ دانت نکلے ہوئے۔
یہ لوگ ہیں جن کا میزان اعمال ہلکا ہوگیا ہے۔ یہ ہار گئے ہیں سب کچھ ‘ اپنے نفسوں کو بھی ہار گئے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی جان ہی ہار جائے تو پھر وہ کس چیز کا مالک رہ جاتا ہے۔ اس کی ملکیت میں کیا چیز رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے نفس کو ہار گیا۔ اس کی ذات چلی گئی ہے۔ گویا اس کا وجود ہی باقی نہیں رہا۔
اب حکایتی انداز کلام اچانک بدل جاتا ہے اور خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے۔ جسمانی عذاب اس قدر درد ناک نہیں جس قدر یہ سرزنش اذیت ناک ہے۔ اب گویا ہم پھر ایک منظر میں دیکھ رہے ہیں کہ ان کی سرزنش کی جارہی ہے اور ان کو ملامت کی جارہی ہے۔