سورۃ المومنون: آیت 52 - وإن هذه أمتكم أمة واحدة... - اردو

آیت 52 کی تفسیر, سورۃ المومنون

وَإِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَٰحِدَةً وَأَنَا۠ رَبُّكُمْ فَٱتَّقُونِ

اردو ترجمہ

اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wainna hathihi ommatukum ommatan wahidatan waana rabbukum faittaqooni

آیت 52 کی تفسیر

آیت 52 وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ”تمام پیغمبروں کا تعلق ایک ہی امت یا جماعت سے ہے۔ بعض روایات کے مطابق انبیاء ورسل علیہ السلام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ ان میں سے تین سو تیرہ رسول علیہ السلام ہیں اور باقی انبیاء علیہ السلام۔ ان انبیاء علیہ السلام ورسل علیہ السلام میں سے بعض کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے جبکہ اکثر کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ سورة النساء ‘ آیت 164 میں اس بارے میں یوں وضاحت فرمائی گئی ہے : وَرُسُلاً قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلاً لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ ط ”اور بھیجے وہ رسول علیہ السلام جن کا ہم اس سے پہلے آپ ﷺ کے سامنے تذکرہ کرچکے ہیں ‘ اور ایسے رسول بھی جن کے حالات ہم نے آپ ﷺ کے سامنے بیان نہیں کیے۔“

آیت 52 - سورۃ المومنون: (وإن هذه أمتكم أمة واحدة وأنا ربكم فاتقون...) - اردو