سورۃ المومنون: آیت 68 - أفلم يدبروا القول أم جاءهم... - اردو

آیت 68 کی تفسیر, سورۃ المومنون

أَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا۟ ٱلْقَوْلَ أَمْ جَآءَهُم مَّا لَمْ يَأْتِ ءَابَآءَهُمُ ٱلْأَوَّلِينَ

اردو ترجمہ

تو کیا اِن لوگوں نے کبھی اِس کلام پر غور نہیں کیا؟ یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afalam yaddabbaroo alqawla am jaahum ma lam yati abaahumu alawwaleena

آیت 68 کی تفسیر

افلم یدبرو لنکبون (آیت نمبر 68 تا 74)

حضرت محمد ﷺ نے جو تعلیمات پیش کی ہیں اگر ان پر کوئی ذرا بھی غور کرے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان سے منہ پھیرے کیونکہ اس کلام میں بہت ہی خوبصورتی ، بہت کی کمال ، بہت ہی جازبیت ہے۔ اس کی تعلیمات نہایت ہی فطری اور انسانی عقل و وجدان کے مطابق ہیں ۔ اس میں دل دماغ کی غذا موجود ہے ، ان کا رحجان بہت ہی تعمیری ہے۔ یہ جو نظام و قانون پیش کرتی ہیں وہ نہایت ہی مستحکم ہے ۔ ان پوری تعلیمات کو دیکھ رکر انسانی فطرت ان کو تسلیم کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ منکرین نے اس کلام پر تدبر ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے منہ مورتے ہیں۔

افلم ید بر و القول (23 : 8 6) تو کیا انہوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا۔

ام جاء ھم ھم الاولین (23 : 68) ” یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی “۔ یا یہ بات کہ پغمبر کا بھیجنا ان کے اور ان کے آباء کی روایات میں کوئی مانوس بات نہیں ہے ۔ ان کی رویات میں بات نہیں ہے کہ کوئی رسول آئے یا ان کے سامنے کوئی کلمہ توحید جیسے افکار و نظریات پیش کرے۔ رسولوں کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ رسول پے در پے آتے ہیں اور تمام رسولوں نے یہی تعلیم دی ہے جو نبی آخر الزمان دے رہے ہیں اور ان رسولوں میں سے کئی کے بارے میں وہ معلومات بھی رکھتے ہیں۔

ام لم یعرفوا رسولھم فھم لہ منکرون (23 : 69) ” یا یہ اپنے رسول کبھی واقف نہ تھے اور اب یہ اس سے بد کتے ہیں “۔ یعنی ان کے امراض کا یہ سبب بھی نہیں ہوسکتا کہ جو رسول آیا ہے اس سے ان کی جان پہچان نہیں ہے ۔ وہ تو اس رسول کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کی شخصیت کو جانتے ہیں۔ اس کے نصب کو جانتے ہیں ، وہ اس کی ذات وصفات سے اچھی طرح با خبر ہیں۔ وہ یقین سے جانتے ہیں کہ وہ صادق و امین ہیں اور رسالت سے پہلے ہی خود انہوں نے ان کو صادق وامین کے لقب سے نوازا تھا ۔

ام یقولون بہ جنۃ (23 : 70) ” یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنوں ہے “۔ ان میں سے بعض بیوقوف آپ پر یہ الزام لگاتے تھے لیکن یہ محض الزام تھا ، دل سے تو وہ بھی جانتے تھے کہ وہ عاقل اور کامل سے کیونکہ پوری زندگی میں انہوں نے اس کے حوالے سے کسی لغزش کا نہ سنا تھا۔

مذکورہ بالا شبہات میں سے کسی شبہ کی کوئی گنجائش تو نہ تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ حق کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سچائی کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ جو سچائی آپ لائے تھے وہ ان سے وہ باطل اقدار چھین رہی تھی جن میں وہ زندگی بسر کرتے تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور یہ سچائی ان کی خواہشات نفس اور ان کی زندگیوں میں رچی بسی اور جمی ہوئی عادات کے خلاف تھی۔

بل جاء ھم بالحق و اکثر ھم للحق کرھون (23 : 70) بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہیـــ“۔ سچائی تو سچائی ہوتی ہے۔ وہ ان کی خواہشات کے ساتھ بدل نہیں سکتی۔ سچائی پر تو زمین و آسمان کا قیام ہے ۔ اس کائنات پر نافذ ہونے والا ناموس دراصل حق ہے۔ اسی ناموس اور اسی حق کے مطابق یہ کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والی تما موجود ات چل رہی ہیں۔

ولو اتبع الحق فیھن (23 : 71) ” اور حق اگر ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ حق ایک ہے اور ثابت ہے۔ خواہشات تو ہر انسان کی جدا جدا ہوتی ہے ، بدلتی رہتی ہیں۔ یہ پوری کائنات حق پر چلتی ہے اور اسکی چالایک ہے۔ اس کا اصول اور ناموس نہیں بدلتا ۔ اور نہ کسی عارض خواہشات کے مطابق اس ناموس میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے۔ اگر کائنات کا یہ نظام لوگوں کی تمنائوں اور بدلتی ہوئی خواہشات کے تابع ہوجائے اور لوگوں کی عارضی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تو دنیا کا یہ پورا نظام فساد پذیر ہوجائے۔ لوگوں کے حالات اور طریقے بگڑ جائیں ۔ اقدامات حیات اور حسن و فتح کے بدل جائیں۔ اگر کوئی خوش ہوتا ہے تو اقدار ہوتے ہن اور کوئی خفا ہوتا تو اقدار و پیمانے اور ہوتے۔ اسی طرح لوگوں کے پیمانے ان کی پسند ناپسند ، رغبت اور خوف ، خوشی اور غم کے مختلف حالات میں بھی بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسانی مزاج ایک حال میں نہیں رہتا۔ اس پر عوارض آتے رہتے ہیں جبکہ حق اپنی جگہ قائم رہتا اور یہ نظام کائنات اور اس کے مقاصد یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے نظام میں ثبات ، یکجہتی اور تسلسل قائم رہے اور نہایت ہی پختہ اور قابل تغیر ضوابط کے مطابق یہ کائنات چلے اور تغیرات اور بےیقینی سے اس کا نظام پاک ہو۔

اس کائنات کا نظام چونکہ حق پر ہے اور اس کو حق کے مطابق ہی چلایا جا رہا ہے ۔ چناچہ انسانی زندگی کو چلانے کے لیے بھی اللہ نے ایک سچائی پر مشتمل ضابطہ مقرر کردیا گیا ہے ۔ یہ ضابطہ بھی اس ذات نے مقرر کیا ہے جو اس پوری کائنات کو چلارہی ہے۔ جس طرح کائنات کا ضابطہ اٹل ہے اسی طرح یہ انسانی ضابطہ بھی اٹل ہے کیونکہ انسان بھی کائنات کا ایک جز ہے تاکہ انسانی طرز عمل اور اس کائنات کی رفتار کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ اس لیے حق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات کا شارع ہی انسانی ضابطہ حیات کا شارع اور مصنف ہو تاکہ انسان کی چلت کائنات کی چلت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر انسانوں کی زندگی کی ضابطہ بندی ان کی خواہشات پر چھوڑدی جائے تو انسانوں کی زندگی کا نظام فسا پذیر ہوجائے گا اور اس میں خلل واقع ہوجائے گا۔

آیت 68 اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَ ہُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَ ہُمُ الْاَوَّلِیْنَ ”تو کیا وحی کا نازل ہونا اور رسول علیہ السلام کا من جانب اللہ مبعوث ہونا انہیں اس لیے عجیب لگ رہا ہے کہ ان کے باپ دادا یعنی بنو اسماعیل علیہ السلام پر اس سے پہلے کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ان کی طرف اس سے پہلے کوئی نبی علیہ السلام آیا تھا ؟

قرآن کریم سے فرار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کردیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہوگئے۔ کیا یہ لوگ محمد ﷺ کو جانتے نہیں ؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں ؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے ؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے شاہ حبش نجاشی ؒ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابو سفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آگئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقالبے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبریہ مستانفعہ، واللہ اعلم۔ مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہوجا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص حضور ﷺ کو راستے میں ملا آپ نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ برا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیرآباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلوگے یا نہیں ؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتاتو ؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کروگے اس نے کہا سچے امین سے فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی ؒ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنادیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لئے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ اعلان کردو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورة یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے مسند امام احمد میں ہے حضور ﷺ سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہوگا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آرہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچادوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بےروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہوگئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہوگئی اور انھوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہا ہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی با ہوں میں سمیٹ کر تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو ؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں ؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرسامان ہوں۔ وہاں تم اکا دکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤگے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کرلیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کرلے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں ؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لئے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہوگی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہوگا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہوگا جو اونٹ کو لئے ہوئے آئے گا جو بلبلا رہا ہوگا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہوگا جو ہنہنا رہا ہوگا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد ﷺ یامحمد ﷺ ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ امام علی بن مدینی ؒ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے توحسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں نکب فلان عن الطریق۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفر وعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہوگا تو کس طرح ہوگا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لئے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ تو جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہوجاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹا بھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہوگی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو ؟ اسے اللہ جانتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔

آیت 68 - سورۃ المومنون: (أفلم يدبروا القول أم جاءهم ما لم يأت آباءهم الأولين...) - اردو