اس صفحہ میں سورہ Al-Muminoon کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المؤمنون کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَٱلَّذِينَ يُؤْتُونَ مَآ ءَاتَوا۟ وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَٰجِعُونَ
أُو۟لَٰٓئِكَ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَهُمْ لَهَا سَٰبِقُونَ
وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَلَدَيْنَا كِتَٰبٌ يَنطِقُ بِٱلْحَقِّ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
بَلْ قُلُوبُهُمْ فِى غَمْرَةٍ مِّنْ هَٰذَا وَلَهُمْ أَعْمَٰلٌ مِّن دُونِ ذَٰلِكَ هُمْ لَهَا عَٰمِلُونَ
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذْنَا مُتْرَفِيهِم بِٱلْعَذَابِ إِذَا هُمْ يَجْـَٔرُونَ
لَا تَجْـَٔرُوا۟ ٱلْيَوْمَ ۖ إِنَّكُم مِّنَّا لَا تُنصَرُونَ
قَدْ كَانَتْ ءَايَٰتِى تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَكُنتُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَٰبِكُمْ تَنكِصُونَ
مُسْتَكْبِرِينَ بِهِۦ سَٰمِرًا تَهْجُرُونَ
أَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا۟ ٱلْقَوْلَ أَمْ جَآءَهُم مَّا لَمْ يَأْتِ ءَابَآءَهُمُ ٱلْأَوَّلِينَ
أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا۟ رَسُولَهُمْ فَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ
أَمْ يَقُولُونَ بِهِۦ جِنَّةٌۢ ۚ بَلْ جَآءَهُم بِٱلْحَقِّ وَأَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَٰرِهُونَ
وَلَوِ ٱتَّبَعَ ٱلْحَقُّ أَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ بَلْ أَتَيْنَٰهُم بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَن ذِكْرِهِم مُّعْرِضُونَ
أَمْ تَسْـَٔلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَيْرٌ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ
وَإِنَّكَ لَتَدْعُوهُمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ
وَإِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ عَنِ ٱلصِّرَٰطِ لَنَٰكِبُونَ
ولا نکلف لا یظلمون (آیت نمبر 26)
اللہ نے انسان کچھ فرائض عائد کیے ہیں ، لیکن اللہ نے یہ فرائض اور تکالیف انسانی استعداد کے مطابق عائد کی ہیں۔ اور یہ بات اللہ خوب جانتا ہے کہ انسان اس کی مخلوق ہے اور حساب بھی اللہ اس عمل کالے گا جو ان کے حد استطاعت میں ہو۔ اللہ انسانوں پر یہ ظلم نہیں کرتا تا کہ ان پر اس قدر بوجھ لاد دے جس کو وہ اٹھا نہیں سکتے۔ نہ اللہ ان کے اعمال میں سے کسی بھی چیز کو چھوڑدے گا یا ساقط کردے گا۔ جو بھی وہ کریں گے اس کا حساب درج ہوگا۔
ینطق بالحق (23 : 62) ” ٹھیک ٹھیک بتا دے گی “۔ ہر چیز کو وہ کھول کر رکھ دے گی ۔ اللہ بہترین حساب کرنے والا ہے۔ پھر لوگ غفلت کیوں کرتے ہیں ؟ ٹھیک ٹھیک بتا دے گی “۔ ہر چیز کو وہ کھول کر رکھ دے گی۔ اللہ بہترین حساب کرنے والا ہے۔ پھر لوگ غفلت کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ ان کے دل حقیقت سے بیخبر ہیں۔ ان میں وہ روشنی داخل ہی نہیں ہوئی جو دلوں کو زندہ کردیتی ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اس روشنی کو چھوڑ کر دوسرے کاموں مین مشغول ہوگئے ہیں اور اپنی ان مشغولیات میں بہت ہی آگے جاچکے ہیں جس وقت انہیں ہوش آئے گا تو ان کے سامنے عذاب الیم ہوگا اور اس عذاب کے ساتھ توبیخ اور سرزنش بھی ہوگی اور ان کو ایک حقارت انگیز سلوک کا سا منا کرنا ہوگا۔
بل قلو بھم تھجرون (آیت نمبر 62 تا 67)
یعنی یہ لوگ جن حالات میں مشغول ہیں ان میں وہ اس لیے غرق نہیں ہیں کہ پیغبران کوا ان کی طاقت سے زیادہ احکام دیتے ہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سچائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے بلکہ وہ ان دوسری راہوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ راہیں اسلام سے متضادرا ہیں ہیں۔
ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون (23 : 63) ” اور ان کے اعمال اس طریقے سے مختلف ہیں اور یہ لوگ وہ اعمال کرتے دلے جاتے ہیں “۔ اب اس منظر کو پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب ان کو آلیتا ہے ۔ یہ عذاب بہت ہی تباہ کن ہے ، اچانک ہے دفعتہ ان کو گھیر لیتا ہے ۔
حتی اذا اخذنا متر فیھم بالعذاب اذا ھم یحشرون (23 : 63) ” یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کے عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ذکرانا شروع کردیں گے “۔ مالدار لوگوں کی روش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ بسا اوقات عیا شیوں ، مد ہوشیوں اور خر مستیوں میں بہت زیادہ غرق ہوتے ہیں اور یہ لوگ ان خر مستیوں کے انجام کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اب زرا ان کی حالت دیکھ لو کہ ان کو اچانک خدا کا عذاب آلیتا ہے اور وہ چیختے چلانے لگ جاتے ہیں ۔ اب وہ فریاد کرتے ہیں اور رحم کے طلبگا ہوتے ہیں ۔ ان کی یہ حالت اس لیے ہوتی ہے کہ عیاشی میں بدمت ، غافل ، اور متکبر اور مغرور تھے۔ اب اس شورو فغاں اور فریاد پر کچھ نرمی کرنے اور رحم کرنے کے بجائے ان کی تواضع زجرو توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ سے کی جاتی ہے۔
لا تنصرون (23 : 65) ” اب بند کرو ، اپنی فریاد و فغاں ، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملتی “۔ یہ منظر سامنے ہے ۔ ان مجرموں کو ڈانٹ پلائی جارہی ہے ، ان کو کسی قسم کی امداد اور نرمی سے مایوس کن جواب دیا جارہا ہے اور ساتھ ان کو یاد دلانے جارہا ہے کہ وہ کس طرح غفلت میں غرق تھے اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا ردعمل کیا تھا۔
قد کانت ایتی تتلی علیکم فکنتم علی اعقابکم تنکصون (23 : 66) ” میری آیات سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پائوں بھاگتے تھے “۔ یعنی الٹے پائوں ہٹ کر تم بھاگ جاتے تھے گویا جو کچھ پڑھ کر تمہیں سنایا جا رہا تھا وہ کوئی خطرناک بات تھی یا نہایت ہی مکروہ امر تھا جس سے علیحدہ ہونا ضروری تھا ۔ حق پر ایمان لانے سے وہ اپنے آپ کو بہت ہی برا سمجھتے تھے۔ نہ صرف یہ کہ وہ الٹنے پائوں پھر کر بھاگ جاتے تھے بلکہ وہ اپنی چو پا لوں میں رات کو جو مجالس منعقد کرتے تھے ان میں دعوت اسلامی کے بارے میں سخت نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے اور یہ ان کے لیے مذاق کا ایک موضوع تھا۔
یہ لوگ اپنی مجالس میں اسلام کے بارے میں نہایت ہی گھٹیا زبان استعمال کرتے تھے۔ یہ مجالس وہ خانہ کعبہ میں اپنے بتوں کے ارد گر بیٹھ منعقد کیا کرتے تھے۔ قرآن کریم ان کی مشغولیوں کی بہت ہی خوبصورت تصویر کشی کرتا ہے جبکہ اب عذاب آنے کے بعد وہ سخت فریاد کرتے ہیں اور مدد طلب کرتے ہیں۔ قرآن ان کو یاد دلاتا ہے کہ ذر ان مجالس کو تو یاد کرو۔ یہ تصویر کشی اس انداز میں کی جاتی ہے گویا یہ واقعہ ابھی ہو رہا ہے اور وہ رات دیکھ رہے ہیں اور ان ہی حالات میں زندہ ہیں ۔ قیامت کے مناظر کی ایسی تصویر کشی قرآن کا مخصوص اسلوب ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی فی القرآن) ۔
مشرکین رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر اپنی مجلسوں میں اعتراضات کرتے تھے اور ایام جاہلیت کے اخلاق کے مطابق اپنے اس رویہ پر فخر کرتے تھے ، وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ وہ قرآن کی سچائی کو سمجھتے کیونکہ وہ بصیرت کے اندھے تھے ۔ حق قبول کرنا تو کجاوہ تو قرآن کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ نبی ﷺ پر الزامات لگاتے تھے ۔ یہی وجہ بات ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے ۔ ہر جاہلیت میں یہی ہوتا ہے اور یاد رہے کہ عرب جاہلیت بھی دوسری جاہلیت میں سے ایک جاہلیت تھی اور نزول قرآن تک کئی جاہلتیں آتی رہیں اور اس کے بعد بھی آتی رہیں گی۔
قیامت کے اس منظر سے قرآن کریم ان لوگوں کو دنیا کی طرف منتقل کرتا ہے ۔ یہ از سر نو اب دنیا میں ہیں۔ اس منظر میں خود ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ عجیب و غریب اور غیر معقول موقف کیوں اختیار کیا اور یہ کہ وہ کیا معقول وجہ ہے کہ یہ لوگ رسول امین ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ آخر وہ کیا شبہات ہیں جو ان کے دلوں میں خلجان پیدا کرے ہیں۔ اور ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں وہ کیا دلائل ہیں جن کی وجہ سے وہ امراض کرتے ہیں اور اپنی مجالس میں بکواس کرتے ہیں حالانکہ دین اسلام ایک سیدھا سادھا دین حق صراط مستقیم ہے۔
افلم یدبرو لنکبون (آیت نمبر 68 تا 74)
حضرت محمد ﷺ نے جو تعلیمات پیش کی ہیں اگر ان پر کوئی ذرا بھی غور کرے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان سے منہ پھیرے کیونکہ اس کلام میں بہت ہی خوبصورتی ، بہت کی کمال ، بہت ہی جازبیت ہے۔ اس کی تعلیمات نہایت ہی فطری اور انسانی عقل و وجدان کے مطابق ہیں ۔ اس میں دل دماغ کی غذا موجود ہے ، ان کا رحجان بہت ہی تعمیری ہے۔ یہ جو نظام و قانون پیش کرتی ہیں وہ نہایت ہی مستحکم ہے ۔ ان پوری تعلیمات کو دیکھ رکر انسانی فطرت ان کو تسلیم کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ منکرین نے اس کلام پر تدبر ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے منہ مورتے ہیں۔
افلم ید بر و القول (23 : 8 6) تو کیا انہوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا۔
ام جاء ھم ھم الاولین (23 : 68) ” یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی “۔ یا یہ بات کہ پغمبر کا بھیجنا ان کے اور ان کے آباء کی روایات میں کوئی مانوس بات نہیں ہے ۔ ان کی رویات میں بات نہیں ہے کہ کوئی رسول آئے یا ان کے سامنے کوئی کلمہ توحید جیسے افکار و نظریات پیش کرے۔ رسولوں کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ رسول پے در پے آتے ہیں اور تمام رسولوں نے یہی تعلیم دی ہے جو نبی آخر الزمان دے رہے ہیں اور ان رسولوں میں سے کئی کے بارے میں وہ معلومات بھی رکھتے ہیں۔
ام لم یعرفوا رسولھم فھم لہ منکرون (23 : 69) ” یا یہ اپنے رسول کبھی واقف نہ تھے اور اب یہ اس سے بد کتے ہیں “۔ یعنی ان کے امراض کا یہ سبب بھی نہیں ہوسکتا کہ جو رسول آیا ہے اس سے ان کی جان پہچان نہیں ہے ۔ وہ تو اس رسول کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کی شخصیت کو جانتے ہیں۔ اس کے نصب کو جانتے ہیں ، وہ اس کی ذات وصفات سے اچھی طرح با خبر ہیں۔ وہ یقین سے جانتے ہیں کہ وہ صادق و امین ہیں اور رسالت سے پہلے ہی خود انہوں نے ان کو صادق وامین کے لقب سے نوازا تھا ۔
ام یقولون بہ جنۃ (23 : 70) ” یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنوں ہے “۔ ان میں سے بعض بیوقوف آپ پر یہ الزام لگاتے تھے لیکن یہ محض الزام تھا ، دل سے تو وہ بھی جانتے تھے کہ وہ عاقل اور کامل سے کیونکہ پوری زندگی میں انہوں نے اس کے حوالے سے کسی لغزش کا نہ سنا تھا۔
مذکورہ بالا شبہات میں سے کسی شبہ کی کوئی گنجائش تو نہ تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ حق کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سچائی کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ جو سچائی آپ لائے تھے وہ ان سے وہ باطل اقدار چھین رہی تھی جن میں وہ زندگی بسر کرتے تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور یہ سچائی ان کی خواہشات نفس اور ان کی زندگیوں میں رچی بسی اور جمی ہوئی عادات کے خلاف تھی۔
بل جاء ھم بالحق و اکثر ھم للحق کرھون (23 : 70) بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہیـــ“۔ سچائی تو سچائی ہوتی ہے۔ وہ ان کی خواہشات کے ساتھ بدل نہیں سکتی۔ سچائی پر تو زمین و آسمان کا قیام ہے ۔ اس کائنات پر نافذ ہونے والا ناموس دراصل حق ہے۔ اسی ناموس اور اسی حق کے مطابق یہ کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والی تما موجود ات چل رہی ہیں۔
ولو اتبع الحق فیھن (23 : 71) ” اور حق اگر ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ حق ایک ہے اور ثابت ہے۔ خواہشات تو ہر انسان کی جدا جدا ہوتی ہے ، بدلتی رہتی ہیں۔ یہ پوری کائنات حق پر چلتی ہے اور اسکی چالایک ہے۔ اس کا اصول اور ناموس نہیں بدلتا ۔ اور نہ کسی عارض خواہشات کے مطابق اس ناموس میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے۔ اگر کائنات کا یہ نظام لوگوں کی تمنائوں اور بدلتی ہوئی خواہشات کے تابع ہوجائے اور لوگوں کی عارضی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تو دنیا کا یہ پورا نظام فساد پذیر ہوجائے۔ لوگوں کے حالات اور طریقے بگڑ جائیں ۔ اقدامات حیات اور حسن و فتح کے بدل جائیں۔ اگر کوئی خوش ہوتا ہے تو اقدار ہوتے ہن اور کوئی خفا ہوتا تو اقدار و پیمانے اور ہوتے۔ اسی طرح لوگوں کے پیمانے ان کی پسند ناپسند ، رغبت اور خوف ، خوشی اور غم کے مختلف حالات میں بھی بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسانی مزاج ایک حال میں نہیں رہتا۔ اس پر عوارض آتے رہتے ہیں جبکہ حق اپنی جگہ قائم رہتا اور یہ نظام کائنات اور اس کے مقاصد یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے نظام میں ثبات ، یکجہتی اور تسلسل قائم رہے اور نہایت ہی پختہ اور قابل تغیر ضوابط کے مطابق یہ کائنات چلے اور تغیرات اور بےیقینی سے اس کا نظام پاک ہو۔
اس کائنات کا نظام چونکہ حق پر ہے اور اس کو حق کے مطابق ہی چلایا جا رہا ہے ۔ چناچہ انسانی زندگی کو چلانے کے لیے بھی اللہ نے ایک سچائی پر مشتمل ضابطہ مقرر کردیا گیا ہے ۔ یہ ضابطہ بھی اس ذات نے مقرر کیا ہے جو اس پوری کائنات کو چلارہی ہے۔ جس طرح کائنات کا ضابطہ اٹل ہے اسی طرح یہ انسانی ضابطہ بھی اٹل ہے کیونکہ انسان بھی کائنات کا ایک جز ہے تاکہ انسانی طرز عمل اور اس کائنات کی رفتار کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ اس لیے حق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات کا شارع ہی انسانی ضابطہ حیات کا شارع اور مصنف ہو تاکہ انسان کی چلت کائنات کی چلت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر انسانوں کی زندگی کی ضابطہ بندی ان کی خواہشات پر چھوڑدی جائے تو انسانوں کی زندگی کا نظام فسا پذیر ہوجائے گا اور اس میں خلل واقع ہوجائے گا۔
ولو اتبع فیھن (23 : 71) ” اور حق کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے تو زمین و آسمان اور ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجا تا “۔ لہذا یہ نظام کلی طور پر حق کے تابع ہے حق کا مطیع فرمان ہے اور مدبر کائنات کی حیثیت کے مطابق چل رہا ہے ۔
یہ امت کے پاس یہ حق آیا ہے ‘ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ وہ اس مطیع ہوجائے۔ ایک تو یہ کہ یہ ایک حق کی بات ہے ، دوسرے یہ کہ اس امت کے لیے یہ بہت بڑی اعزاز بھی ہے پھر یہ سچائی اس امت کی شناخت بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نہ ہوتا تو اقوام عالم میں عربوں کی اور کیا شناخت ہوتی اور اسلام نہ ہوتا تو مسلمان ہوتے کہاں ؟
اسلام سے قبل تاریخ اقوام میں عربوں کا کوئی ذکر نہ تھا اور نہ ہی ان کا کوئی کردار تھا۔ پھر جب تک عرب قرآن کا دامن تھامے رہے ان کی آواز پوری کائنات میں گونج رہی تھی اور جب عربوں نے قرآن کو چھوڑا تو تاریخ میں ان کا کردار بھی گھٹتا گیا اور مٹتا گیا حتی کہ وہ قابل ذکر نہ ہی رہے اور نہ آئندہ کبھی وہ کوئی مقام حاصل کرسکتے ہیں الا یہ کہ وہ اپنے اصل عنوان کو اختیار کرلیں اور اپنی اصل شناخت کو اختیار کرلیں ۔ چونکہ ان لوگوں کو دعوت حق دی گئی اور نہوں نے اس کا انکار کیا اور الٹا داعی حق پر الزام شروع کردیا اور غلط موقف اختیار کیا تو اس مضمون کی منا سبت سے اب روئے سخن ان کے اس غلط موقف کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کے اس غلط رویے کی مذمت کی جاتی ہے اور وہ رسول امین پر جو الزامات لگاتے تھے ان کی تردید کی جاتی ہے۔
ام تسئلھم خرجا (23 : 72) ” کیا تو ان سے کچھ مانگ رہا ہے “ کیا اس ہدایت وتعلیم کی کوئی بھاری فیس تم مانگ رہے ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس سے بھاگ رہے ہیں۔ تم تو ان سے کچھ بھی طلب نہیں کرتے ہو کیونکہ تمہارا اجر تو اللہ ہے۔
فخراج ربک خیر وھو خیر الرزقین (23 : 72) ” تیرے لیے تو رب یکا دیا بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے “۔ کوئی نبی لوگوں سے کسی معاوضے کا طلبگار نہیں ہوتا جبکہ انسان بہت ہی ضیعف ، فقیر اور محتاج ہوتے ہیں ۔ نبی تو اللہ سے متصل اور مربوط ہوتا ہے جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ نبی کے معبین بھی اس دنیا کے مفادات میں سے کسی مفاد کے طلبگار نہیں ہوتے کیونکہ ان کی نظریں بھی اس اجر پر ہوتی ہیں جو اللہ کے ہاں ان کے لیے تیار ہے اور دنیا میں تو قلیل ہو یا کثیر ہو ، وہ اس پر راضی ہوتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جب انسان کی روح اللہ سے مل جائے تو اس کے لیے پھر یہ کام پوری کائنات اور پر کہ کے برابر نہیں رہتی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ تو ان لوگوں کی رہنمائی اس نظام کی طرف کررہے ہیں جو نہایت ہی مستخکم ہے۔
وانک لتد عو ھم الی صراط مستقیم (23 : 73) ” اور تو ‘ تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلا رہا ہے “۔ آپ ان کو اس ناموس فطرت بلا رہے ہیں اور ان کو اس قافلہ کے ساتھ ہم آہنگ کررہے ہیں اور سیدھا خالق کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔
ان لوگوں کی حالت بی ایسی ہے جس طرح ان تمام لوگوں کی ہوتی ہے جو ایمان نہیں لاتے اور راہ راست سے بھٹک جاتے ہیں۔
وان الذین لا یومنون بالا خرۃ عن الصراط لنکبون (23 : 73) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں “۔ اگر یہ ہدایت پر ہوتے تو وہ اپنے دل دماغ اس زندگی پر غور کرتے ، جس کے نتیجے میں انسانی حتمی طور پر آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ ایک ایسے جہان کا وہ ضرور قائل ہوجاتا ہے جس میں یہ زندگی اپنی نہایت ہی مکمل حالت میں ہوگی اور جس کے اندر لوگوں کے ساتھ مکمل انصاف ہوگا کیونکہ آخرت ناموس کائنات کا ایک آخری حلقہ ہے جس میں اللہ کی تدبیر کائنات اپنے اختتام کو پہنچے گی ۔
یہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ، جو رراہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں اگر ان کو بہت دولت دی جائے اور آزمایا جائے تو بھی وہ راہ راست پر نہیں آتے اور اگر ان کو مشکلات سے دو چار کر کے آزمایا جائے تو بھ راہ راست پر نہیں آتے۔ اگر ان کو نعمت سے نوازا جائے تو کہتے ہیں۔
انما نمدھم بہ من مال وبنین (55) نسارع لھم فی الخیرات (23 : 56) ” یہ جو ہم نے انہیں مال اور اولاد دے کر امداد کی ہے وہ اس لیے کہ ہم ان کے لیے بھلائی میں جلدی کرنے والے ہیں “۔ اور اگر ان پر عذاب آجائے تو بھی ان کے دل نرم نہیں ہوتے ، ان کے ضمیر نہیں جاگتے اور اس مصیبت کو دور کرنے کے لیے اللہ کے سامنے عاجزی نہیں کرتے کہ وہ ان کی اس مصیبت کو دور کرے۔ یہ اسی طرح رہیں گے یہاں تک کہ قیامت کے دن ان کو عذاب الہی آلے اور وہاں مایوس اور حیران رہ جائیں ۔