ولو اتبع فیھن (23 : 71) ” اور حق کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے تو زمین و آسمان اور ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجا تا “۔ لہذا یہ نظام کلی طور پر حق کے تابع ہے حق کا مطیع فرمان ہے اور مدبر کائنات کی حیثیت کے مطابق چل رہا ہے ۔
یہ امت کے پاس یہ حق آیا ہے ‘ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ وہ اس مطیع ہوجائے۔ ایک تو یہ کہ یہ ایک حق کی بات ہے ، دوسرے یہ کہ اس امت کے لیے یہ بہت بڑی اعزاز بھی ہے پھر یہ سچائی اس امت کی شناخت بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نہ ہوتا تو اقوام عالم میں عربوں کی اور کیا شناخت ہوتی اور اسلام نہ ہوتا تو مسلمان ہوتے کہاں ؟
اسلام سے قبل تاریخ اقوام میں عربوں کا کوئی ذکر نہ تھا اور نہ ہی ان کا کوئی کردار تھا۔ پھر جب تک عرب قرآن کا دامن تھامے رہے ان کی آواز پوری کائنات میں گونج رہی تھی اور جب عربوں نے قرآن کو چھوڑا تو تاریخ میں ان کا کردار بھی گھٹتا گیا اور مٹتا گیا حتی کہ وہ قابل ذکر نہ ہی رہے اور نہ آئندہ کبھی وہ کوئی مقام حاصل کرسکتے ہیں الا یہ کہ وہ اپنے اصل عنوان کو اختیار کرلیں اور اپنی اصل شناخت کو اختیار کرلیں ۔ چونکہ ان لوگوں کو دعوت حق دی گئی اور نہوں نے اس کا انکار کیا اور الٹا داعی حق پر الزام شروع کردیا اور غلط موقف اختیار کیا تو اس مضمون کی منا سبت سے اب روئے سخن ان کے اس غلط موقف کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کے اس غلط رویے کی مذمت کی جاتی ہے اور وہ رسول امین پر جو الزامات لگاتے تھے ان کی تردید کی جاتی ہے۔
آیت 71 وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَہْوَآءَ ہُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہِنَّ ط ”اگر حق کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین و آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ حق ان لوگوں کی خواہشات کے مطابق نہیں ڈھل سکتا ‘ بلکہ انہیں خود کو حق کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور اس کی پیروی کرنا ہوگی۔