قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی دے رہے ہیں “۔ اور غزوہ بدر میں اللہ نی نبی ﷺ کو اس کی ایک جھلکی دکھا بھی دی ۔ اس کے بعد فتح مکہ میں بھی ایک رنگ دکھایا گیا۔
ادفع یصفون (23 : 92) ” اے نبی ؐ ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو ، جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں “۔ اس سورة کے نزول کے وقت مکہ مکرمہ میں دعوت اسلامی کے لیے یہ منہاج اختیار کیا گیا تھا کہ برائی کا دفعیہ بھلائی کے ساتھ کیا جائے ۔ اللہ کا حکم آنے تک صبر کیا جائے اور معالات اللہ کے سپرد کردیئے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ دعا کہ اے رب میں تجھ سے شیطان کی اکساہٹوں سے پناہ مانگتا ہوں ، جب کہ آپ خدا کی طرف سے حفاظت میں تھے اور معصوم تھے ، یہ بات زیادہ احتیاط اور زیادہ تقویٰ کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ التجا اور امت کو تعلیم دینے کی خاطر ہے کیونکہ حضور ہی اپنی امت کے لیے اسوہ ہیں ۔ یہ دراصل امت کو تعلیم ہے کہ شیطان کو اکساہٹوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ہر وقت مانگتے رہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ؐ شیطان کے قرب سے پناہ طلب کریں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
واعوذبک رب ان یحضرون (23 : 98) ” بلکہ میں تو اے رب ، اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں “۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وفات کے وقت حضور ﷺ اس بات سے پناہ مانگتے ہوں کہ شیطان اس وقت آموجود ہو۔ اس آیت کے بعد اگلی آیت جو اگلے سبق میں ہے اس طرف اشارہ بھی کرتی ہے ۔
حتی اذا جاء احدھم الموت (23 : 99) ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے “۔ یہ قرآن کا انداز کلام ہے کہ ایک مفہوم سے دوسرامفہوم بڑی ہم آہنگی سے نکلتا چلا جاتا ہے۔
دحتی اذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یبعثون (99 : 100) ”(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ” اے میرے رب ‘ مجھ یا سی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ؟ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک “۔
اس آخری سبق میں بھی مشرکین کے برے انجام کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔ اب یہ لوگ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں ہیں۔ اس میں آغاز دنیا میں روح قبض کرنے کے وقت سے ہوتا ہے اور نفعع صور پر ختم ہوتا ہے۔ آخر میں سورة کے اختتام پر اصل مضمون کی طرف آتے ہوئے اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ سورة کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ خود حضور ﷺ اللہ کی مغفرت طلب فرمائیں۔
برائی کے بدلے اچھائی سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہوسکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کرلینے کے عادی ہوجائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔ شیطان سے بچنے کی دعائیں انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لئے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک واحسان سے بس میں نہیں آنے کے استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ دعا (اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم) من ہمزہ ونفخہ ونفشہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔ ابو داؤد میں ہے کہحضور ﷺ کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ (اللہم انی اعوذبک من الھرم واعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت)۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہوجانے کے مرض کو دور کرنے کے لئے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ دعا (بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامتہ من غضبہ و عقابہ ومن شر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وان یحضرون)۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کرسکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ ابو داؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی ؒ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔