اب سیاق سورت کی طرف آتے ہیں۔ اب مومنات مہاجرات کی بات۔
یایھا الذین .................................... بہ مومنون (0 : 11) 06 : 01۔ 11)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کرلو ، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال۔ ان کے کفار شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔ یہ الہل کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔ اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیئے ہوئے مہروں کے برابر ہو۔ اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو “۔
ان آیات کے شان نزول کے بارے میں آیا ہے کہ صلح حدیبیہ کی عبارت یوں تھی :” یہ کہ نہیں آئے گا ہم سے کوئی شخص تمہاری طرف جو تمہارے دین پہ ہو ، تو تم اسے ہماری طرف لوٹاؤ گے “۔ جب رسول اللہ ﷺ اور مسلمان ابھی حدیبیہ کے نشیبی علاقے میں تھے کہ کچھ مومن عورتیں آئیں ، یہ ہجرت کا مطالبہ کررہی تھیں اور دارالاسلام آنا چاہتی تھیں۔ قریش آگئے ، کہ ان کو مطابق معاہد واپس کریں۔ معاہدہ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاہدے میں عورتوں کے بارے میں کچھ بھی نہ تھا۔ یہ تو آیات نازل ہوئیں ، جنہوں مہاجر عورتوں کو لوٹانے سے منع کردیا۔ کیونکہ عورتیں کمزور تھیں اور ان کو ان کے دین کے بارے میں فتنے میں مبتلا کیا جاسکتا تھا۔
ان کی ہجرت کے ساتھ ہی اس سلسلے کے بین الاقوامی احکام بھی نافذ ہوگئے۔ یہ قانون سازی بھی نہایت ہی منصفانہ انداز پر کی گئی اور اس میں فریق مخالف کی زیادتیوں کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ کیونکہ اسلام داخلی اور خارجی معاملات میں کوئی قانون انتقامی جذبات پر نہیں بناتا۔
اس سلسلے میں اسلام نے پہلے اقدام یہ کیا کہ ان عورتوں کے حالات کو دیکھا جائے کہ آیا وہ کس مقصد کے لئے ہجرت کررہی ہیں ؟ یہ نہ ہو کہ وہ اپنے سابق خاوندوں سے جان چھڑانا چاہتی ہوں ، یا کسی منفعت کی طلب گار ہوں ، یا یہ نہ ہو کہ وہ دارا الاسلام میں کسی محبوب کے پیچھے تو نہیں جارہی ہیں۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ان سے حلف لیا جاتا تھا کہ وہ خاوند کی دشمنی میں تو نہیں نکل آئیں۔ یہ بھی حلف لیا جاتا تھا کہ مکہ سے تنگ آکر مدینہ کی زمین کی طرف تو نکل آنا نہیں چاہتیں۔ یہ حلف لیا جاتا تھا کہ دنیا کے کسی اور مفاد کے لئے تو نہیں آگئیں۔ اور یہ حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کی محبت کے سوا کسی اور جذبہ کے تحت تو نہیں آگئیں ؟ اور یہ حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کی محبت کے سوا کسی اور جذبہ کے تحت تو نہیں آگئیں ؟ حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ حلف میں یہ بھی تھا کہ تم صرف اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں آرہی ہو ، مسلمانوں میں سے کسی شخص کے ساتھ تمہیں محبت تو نہیں ہے ، یا تم اپنے خاوند سے بھاگنا تو نہیں چاہتی ہو ؟
یہ ہوتا تھا ان کا امتحان۔ ان کے ظاہری حالات پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے حلیفہ بیان پر اکتفا کیا جاتا تھا۔ رہا یہ معاملہ کہ ان کے دلوں میں کیا ہے تو اس سے صرف اللہ خبردار ہے۔ انسان کے لئے کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کے راز جان سکے۔
اللہ اعلم بایمانھن (06 : 01) ” ان کی حقیقت ایمان تو اللہ ہی جانتا ہے “۔ اگر وہ اس مضمون کا اقرار بذریعہ بیان حلفی کردیں تو پھر۔
فلا ترجعو ........................ لھن (06 : 01) ” تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال “۔
اصل میں اعلیٰ تعلق آگیا ہے۔ ایمانی تعلق اور اس نے تمام دوسرے تعلقات کاٹ دیئے ہیں۔ اس لئے اب کوئی ایسا تعلق باقی نہیں رہا ہے کہ اس جدانی کو جوڑ سکے۔ میاں بیوی کا تعلق تو ایسا تعلق ہے کہ اس میں دو افراد ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں ، جڑ جاتے ہیں اور ایک مستقل اور دائمی تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ جب زوجین کے درمیان ایمانی اتحاد نہ ہو تو زوجیت کے حقوق پورے کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایمان دل کی اعلیٰ زندگی کا نام ہے اور اس کی جگہ کوئی جذبہ قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ اگر ایمان کا تعلق نہ ہو تو میاں بیوی کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی ممکن نہیں ہے۔ نہ فریقین کے درمیان انس پیدا ہوسکتا ہے نہ یگانگت۔ جبکہ میاں بیوی کے درمیان محبت ، باہم شفقت اور انس و سکون ضروری ہے۔
ابتدائی زمانہ ہجرت میں یہ حکم نہ آیا تھا۔ مومنہ عورت اور کافر مرد کے درمیان تفریق نہ کی جاتی تھی۔ نہ مومن مرد اور کافرہ عورت کے درمیان تفریق کی جاتی تھی۔ اس لئے کہ اس دور میں اسلامی نظام معاشرت اور اسلامی سوسائٹی ابھی مستحکم نہ تھی۔ لیکن صلح حدیبیہ یا فتح حدیبیہ کے بعد ، زیادہ تر روایات کے مطابق یہ فیصلہ کردیا گیا کہ اب مومن اور کافر کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ رہے۔ ازدواجی تعلق صرف مومن اور مومنات کے درمیان ہو۔ جیسا کہ عملی صورت یہ ہوگئی تھی کہ صرف ایمان کا رابطہ رہ گیا تھا اور مدینہ طیبہ میں صرف ایمانی تعلق تھا۔ اللہ اور رسول کا تعلق رہ گیا تھا ، باقی تمام قسم کے تعلقات کاٹ دیئے گئے تھے۔ بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے تھے۔
لیکن اس تفریق کے بعد پھر نقصان رسیدہ فریق کے لئے منصفانہ قانون سازی کی گئی۔ اگر کسی کافر خاوند کی بیوی کی جدائی کا حکم صادر ہوتا ہے تو اس نے بیوی کو جو مہر دیا تھا ، یا دوسرے اخراجات اٹھائے تھے وہ واپس کرنے ہوتے تھے۔ اسی طرح اگر کسی کافر عورت کو مسلم مرد سے جدا کیا تو مسلم مرد نے جو مہر دیا اور نفقہ دیا وہ اسے واپس کردیا جاتا تھا۔
اب مومنات مہاجرات کے ساتھ مومنین کا نکاح جائز قرار دیا گیا بشرطیکہ وہ ان کو مہر ادا کردیں۔ اس میں ایک فقہی اختلاف ہے کہ آیا ان عورتوں کو عدت گزارنی تھی یا نہیں۔ صرف حاملہ عورتوں کو عدت گزارنی تھی یعنی جب تک وضع حمل نہ ہوجائے۔ اگر عدت ہے تو کیا یہ مطلقہ عورت کی عدت ہے یعنی تین طہریا ینی۔ یا یہ کہ ایک حیض آنے کے ساتھ اور رحم پاک ہونے کا تیقن کافی ہے۔ (کتب فقہ دیکھیں)
واتوھم ما ................ ماانفقوا (06 : 01) ” ان کے کافر شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں “۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان تمام احکام پر عمل کا ضامن اور چوکیدار مقرر کرتا ہے جو ہر مسلم کے دل میں ہے۔ کہ اللہ دیکھ رہا ہے ، اللہ سے ڈرو۔
ذلکم .................... حکیم (06 : 01) ” یہ اللہ کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے “۔ یہ واحد ضمانت ہے جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ کوئی دھوکہ ، حلیہ یا نقص عہد نہ کرے گا ، کیونکہ اللہ کے احکام تو علیم وخبیر کے احکام ہیں۔ اور یہ اس حاکم کے احکام ہیں جو دلوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ یہ احکام نہایت قوی اور قدرتوں والے حاکم کے ہیں۔ ایک مسلمان کے ضمیر میں بس یہی رابطہ کافی ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ حکم کہاں سے آیا ہے اس لئے وہ ان احکام پر چلتا ہے اور ان کا خیال رکھتا ہے۔ کیونکہ مومن کو یقین ہوتا ہے کہ اس نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔
اب اگر مسلمانوں نے اپنی بیویوں کو مہر وغیرہ دیا ہو اور وہ بیویاں دارالکفر میں رہ گئی ہوں جہاں وہ اس قانون کے مطابق جدا ہوگئی ہوں اور ان کے اہل خانہ یا اولیاء نے مومن مسلمانوں کے حق کو واپس نہ کیا ہو ، جیسا کہ بعض حالات میں عملاً ایسا ہوا۔ تو امام وقت ان کے نقصان کی تلاف اس فنڈ سے کردے گا جو ان کافروں کی ملکیت ہوگا جن کی بیویاں دارالاسلام کو آگئی ہوں یا ان رقومات سے ادائیگی کردی جائے گی جو کفار کے ہاں سے مال غنیمت مسلمانوں کو ملا۔
وان فاتکم .................... ما انفقوا (06 : 11) ” اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیئے ہوئے مہروں کے برابر ہو “۔
اور اس حکم اور اس پر عمل کرنے کو بھی ایمان سے جوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ اسلام میں ہر حکم اللہ سے مربوط ہے۔
واتقوا ................ بہ مومنون (06 : 11) ” اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو “۔ اللہ پر ایمان لانے والوں کے لئے یہ بہت ہی موثر یاد دہانی ہے۔
یوں یہ احکام زوجین کے درمیان ایک حقیقت پسندانہ فسخ نکاح کرتے ہیں۔ اور یہ جدائی اسلامی تصور حیات کے مطابق ہے۔ اسلام ازدواجی رشتوں کے لئے ایک الگ تصور رکھتا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اسلامی صفیں دوسری صفوف سے مکمل طور پر جدا اور ممتاز ہوں۔ اور اسلام کی پوری زندگی اسلامی نظریہ حیات پر استوار ہو۔ اور ایمان کے محور کے ساتھ وہ مربوط ہو۔ اور ایک ایسی انسانی سوسائٹی تشکیل پائے جس کے اندر نسل ، رنگ ، زبان ، نسب اور زمین اور علاقوں کی بنیادوں پر کوئی اجتماعی نظام نہ ہو۔ اور صرف ایک ہی جھنڈا ہو جس کے مطابق لوگوں کے درمیان تفریق ہو۔ یعنی وہ پارٹی جو اللہ والوں کی ہے۔ وہ حزب اللہ ہے اور وہ پارٹی جو شیطان کی ہے جسے حزب الشیطان کہا جاتا ہے۔
آیت 10{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ } ”اے اہل ِایمان ! جب تمہارے پاس آئیں مومن خواتین ہجرت کر کے تو ان کا امتحان لے لیا کرو۔“ یعنی ہر خاتون سے ضروری حد تک جانچ پڑتال اور تحقیق و تفتیش کرلیا کرو کہ آیا واقعی وہ سچی اور مخلص مومنہ ہے۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِہِنَّ } ”اللہ تو ان کے ایمان کے بارے میں بہت اچھی طرح جانتا ہے۔“ کسی کے دل میں ایمان ہے یا نہیں ‘ اور اگر ہے تو کتنا ایمان ہے ‘ اس کا صحیح علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ تم لوگ اپنے طور پر کسی کے ایمان کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتے۔ لیکن محض ایک احتیاطی تدبیر کے طور پر مناسب طریقے سے کسی نہ کسی درجے میں ایک اندازہ لگانے کی کوشش ضرور کیا کرو کہ ہجرت کرنے والی خواتین کیا واقعی مومنات ہیں اور کیا واقعی وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہجرت کر کے مدینہ آئی ہیں۔ { فَاِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنٰتٍ } ”پھر اگر تم جان لو کہ وہ واقعی مومنات ہیں“ { فَلَا تَرْجِعُوْہُنَّ اِلَی الْکُفَّارِ } ”تو انہیں کفار کی طرف مت لوٹائو۔“ { لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّوْنَ لَہُنَّ } ”نہ اب یہ ان کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال ہیں۔“ { وَاٰتُوْہُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا } ”اور ان کافروں کو ادا کر دو جو کچھ انہوں نے خرچ کیا تھا۔“ یعنی ان کے کافر شوہروں نے ان کو جو مہر دیے تھے وہ انہیں بھجوا دو۔ اگر کسی مشرک کی بیوی مسلمان ہو کر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئی ہے تو اب وہ اس کی بیوی نہیں رہی ‘ ان کے درمیان تعلق زوجیت ختم ہوچکا ہے ‘ لیکن عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مہر کی وہ رقم جو وہ شخص اس خاتون کو اپنی بیوی کی حیثیت سے ادا کرچکا ہے وہ اسے لوٹا دی جائے۔ اس حکم سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام بلاتفریق مذہب و ملت کسی حق دار کا حق اس تک پہنچانے کے معاملے کو کس قدر سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اور یہ سنجیدگی یا تاکید صرف قانون سازی کی حد تک ہی نہیں بلکہ حضور ﷺ نے قرآنی قوانین و احکام کے عین مطابق ایسا نظام عدل و قسط بالفعل قائم کر کے بھی دکھا دیاجس میں حق دار کو تلاش کر کے اس کا حق اس تک پہنچایا جاتا تھا۔ حضرت عمر رض کے دور خلافت میں شام کے محاذ پر حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رض سپہ سالار تھے۔ انہوں نے رومیوں کے خلاف یرموک کے میدان میں صدی کی سب سے بڑی جنگ لڑی۔ جنگ یرموک کی تیاری کے دوران ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب مسلمانوں کو جنگی حکمت عملی کے تحت کچھ مفتوحہ علاقوں کو خالی کر کے پیچھے ہٹنا پڑا۔ ان علاقوں کی عیسائی رعایا سے مسلمان جزیہ وصول کرچکے تھے۔ جزیہ ایک ایسا ٹیکس ہے جو اسلامی حکومت اپنے غیر مسلم شہریوں سے ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری کے عوض وصول کرتی ہے۔ اسی لیے یہ ٹیکس ادا کرنے والے شہری ذِمّی کہلاتے ہیں۔ بہرحال مذکورہ علاقوں سے مسلمان وقتی طور پر چونکہ واپس جا رہے تھے اور اپنی غیر مسلم رعایا کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانے سے قاصر تھے ‘ اس لیے حضرت ابوعبیدہ رض کے حکم پر جزیہ کی تمام رقم متعلقہ افراد کو واپس کردی گئی۔ مسلمانوں کے اس عمل نے عیسائیوں کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کے واپس جانے پر وہ لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ یہ ہے اس دین کے نظام عدل و قسط کے تحت حق دار کو اس کا حق پہنچانے کی ایک مثال ‘ جس کے ماننے والوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کے مہر کی رقوم ان کے مشرک شوہروں کو لوٹا دیں۔ { وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ اِذَآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ } ”اور اے مسلمانو ! تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم ان خواتین سے نکاح کرلو جبکہ تم انہیں ان کے مہر ادا کر دو۔“ { وَلَا تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ } ”اور تم کافر خواتین کی ناموس کو اپنے قبضے میں نہ رکھو“یعنی اگر تم میں سے کچھ لوگوں کی بیویاں ایمان نہیں لائیں اور ابھی تک مکہ ہی میں ہیں تو تم ان کو اپنے نکاح میں روکے نہ رکھو ‘ بلکہ انہیں طلاق دے دو اور انہیں بتادو کہ اب تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ { وَاسْئَلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْیَسْئَلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا } ”اور تم مانگ لو وہ مال جو تم نے بطورِ مہر خرچ کیا ہے ‘ اور وہ کافر بھی مانگ لیں جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہے۔“ یعنی جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو ‘ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔ { ذٰلِکُمْ حُکْمُ اللّٰہِط یَحْکُمُ بَیْنَـکُمْ } ”یہ اللہ کا حکم ہے ‘ وہ تمہارے مابین فیصلہ کر رہا ہے۔“ { وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ } ”اور اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔“
صلح حدیبیہ کا ایک پہلو سورة فتح کی تفسیر میں صلح حدیبیہ کا واقعہ مفصل بیان ہوچکا ہے، اس صلح کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان جو شرائط ہوئی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ جو کافر مسلمان ہو کر حضور ﷺ کے پاس چلا جائے آپ اسے اہل مکہ کو واپس کردیں، لیکن قرآن کریم نے ان میں سے ان عورتوں کو مخصوص کردیا کہ جو عورت ایمان قبول کر کے آئے اور فی الواقع ہو بھی وہ سچی ایمان دار تو مسلمان اسے کافروں کو واپس نہ دیں، حدیث شریف کی تخصیص قرآن کریم سے ہونے کی یہ ایک بہترین مثال ہے اور بعض سلف کے نزدیک یہ آیت اس حدیث کی ناسخ ہے۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابو میط ؓ مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مدینہ چلی آئیں، ان کے دونوں بھائی عمارہ اور ولید ان کے واپس لینے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا سنا پس یہ آیت امتحان نازل ہوئی اور مومنہ عورتوں کو واپس لوٹانے سے ممانعت کردی گئی، حضرت ابن عباس سے سوال ہوتا ہے کہ حضور ﷺ ان عورتوں کا امتحان کس طرح لیتے تھے ؟ فرمایا اس طرح کہ اللہ کی قسم کھا کر سچ سچ کہے کہ وہ اپنے خاوند کی ناچاقی کی وجہ سے نہیں چلی آئی صرف آب و ہوا اور زمین کی تبدیلی کرنے کے لئے بطور سیرو سیاحت نہیں آئی کسی دنیا طلبی کے لئے نہیں آئی بلکہ صرف اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں اسلام کی خاطر ترک وطن کیا ہے اور کوئی غرض نہیں، قسم دے کر ان سوالات کا کرنا اور خوب آزما لینا یہ کام حضرت عمر فاروق ؓ کے سپرد تھا اور روایت میں ہے کہ امتحان اس طرح ہوتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے معبود برحق اور لاشریک ہونے کی گواہی دیں اور آنحضرت ﷺ کے اللہ کے بندے اور اس کے بھیجے ہوئے رسول ہونے کی شہادت دیں، اگر آزمائش میں کسی غرض دنیوی کا پتہ چل جاتا تو انہیں واپس لوٹا دینے کا حکم تھا۔ مثلاً یہ معلوم ہوجائے کہ میاں بیوی کی ان بن کی وجہ سے یا کسی اور شخص کی محبت میں چلی آئی ہے وغیرہ، اس آیت کے اس جملہ سے کہ اگر تمہیں معلم ہوجائے کہ یہ باایمان عورت ہے تو پھر اسے کافروں کی طرف مت لوٹاؤ ثابت ہوتا ہے کہ ایمان پر بھی یقینی طور پر مطلع ہوجانا ممکن امر ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں کافروں پر اور کافر مرد مسلمان عورتوں کے لئے حلال نہیں، اس آیت نے اس رشتہ کو حرام کردیا ورنہ اس سے پہلے مومنہ عورتوں کا نکاح کافر مردوں سے جائز تھا، جیسے کہ نبی ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کا نکاح ابو العاص بن ربیع سے ہوا تھا حالانکہ یہ اس وقت کافر تھے اور بنت رسول ﷺ مسلمہ تھیں، بدر کی لڑائی میں یہ بھی کافروں کے ساتھ تھے اور جو کافر زندہ پکڑے گئے تھے ان میں یہ بھی گرفتار ہو کر آئے تھے حضرت زینب نے اپنی والدہ حضرت خدیجہ ؓ کا ہار ان کے فدیئے میں بھیجا تھا کہ یہ آزاد ہو کر آئیں جسے دیکھ کر آنحضرت ﷺ پر بڑی رقت طاری ہوئی اور آپ نے مسلمانوں سے فرمایا اگر میری بیٹی کے قیدی کو چھوڑ دینا تم پسند کرتے ہو تو اسے رہا کردو مسلمانوں نے بہ خوشی بغیر فدیہ کے انہیں چھوڑ دینا منظور کیا چناچہ حضور ﷺ نے انہیں آزاد کردیا اور فرما دیا کہ آپ کی صاحبزادی کو آپ کے پاس مدینہ میں بھیج دیں انہوں نے اسے منظور کرلیا اور حضرت زید بن حارثہ ؓ کے ساتھ بھیج بھی دیا، یہ واقعہ سنہ 2 ہجری کا ہے، حضرت زینب نے مدینہ میں ہی اقامت فرمائی اور یونہی بیٹھی رہیں یہاں تک کہ سنہ 8 ہجری میں ان کے خاوند حضرت ابو العاص کو اللہ تعالیٰ نے توفیق اسلام دی اور وہ مسلمان ہوگئے تو حضور نے پھر اسی اگلے نکاح بغیر نئے مہر کے اپنی صاحبزادی کو ان کے پاس رخصت کردیا اور روایت میں ہے کہ دو سال کے بعد حضرت ابو العاص مسلمان ہوگئے تھے اور حضور ﷺ نے اسی پہلے نکاح پر حضرت زینب کو لوٹادیا تھا یہی صحیح ہے اس لئے کہ مسلمان عورتوں کے مشرک مردوں پر حرام ہونے کے دو سال بعد یہ مسلمان ہوگئے تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ ان کے اسلام کے بعد نئے سرے سے نکاح ہوا اور نیا مہر بندھا، امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت یزید نے فرمایا ہے پہلی روایت کے راوی حضرت ابن عباس ہیں اور وہ روایت ازروئے اسناد کے بہت اعلیٰ اور دوسری روایت کے راوی حضرت عمرو بن شعیب ہیں اور عمل اسی پر ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ عمرو بن شعیب والی روایت کے ایک راوی حجاج بن ارطاۃ کو حضرت امام احمد ؒ وغیرہ ضعیف بتاتے ہیں، حضرت ابن عباس والی حدیث کا جواب جمہوریہ دیتے ہیں کہ یہ شخصی واقعہ ہے ممکن ہے ان کی عدت ختم ہی نہ ہوئی ہو، اکثر حضرات کا مذہب یہ ہے کہ اس صورت میں جب عورت نے عدت کے دن پورے کر لئے اور اب تک اس کا کافر خاوند مسلمان نہیں ہوا تو وہ نکاح فسخ ہوجاتا ہے، ہاں بعض حضرات کا مذہب یہ بھی ہے کہ عدت پوری کرلینے کے بعد عورت کو اختیار ہے اگر چاہے اپنے اس نکاح کو باقی رکھے گار چاہے فسخ کر کے دوسرا نکاح کرلے اور اسی پر ابن عباس والی روایت کو محمول کرتے ہیں۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مہاجر عورتوں کے کافر خاوندوں کو ان کے خرچ اخراجات جو ہوئے ہیں وہ ادا کردو جیسے کہ مہر۔ پھر فرمان ہے کہ اب انہیں ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی حرج نہیں، عدت کا گذر جانا ولی کا مقرر کرنا وغیرہ جو امور نکاح میں ضروری ہیں ان شرائط کو پورا کر کے ان مہاجرہ عورتوں سے جو مسلمان نکاح کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تم پر بھی اے مسلمانو ان عورتوں کا اپنے نکاح میں باقی رکھنا حرام ہے جو کافرہ ہیں، اسی طرح کافر عورتوں سے نکاح کرنا بھی حرام ہے اس کے حکم نازل ہوتے ہی حضرت عمر ؓ نے اپنی دو کافر بیویوں کو فوراً طلاق دے دی جن میں سے ایک نے تو معاویہ بن سفیان سے نکاح کرلیا اور دوسری نے صفوان بن امیہ نے حضور ﷺ نے کافروں سے صلح کی اور ابھی تو آپ حدیبیہ کے نیچے کے حصے میں ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں سے کہہ دیا گیا کہ جو عورت مہاجرہ آئے اس کا باایمان ہونا اور خلوص نیت سے ہجرت کرنا بھی معلوم ہوجائے تو اس کے کافر خاوندوں کو ان کے دیئے ہوئے مہر واپس کردو اسی طرح کافروں کو بھی یہ حکم سنا دیا گیا، اس حکم کی وجہ وہ عہد نامہ تھا جو ابھی ابھی مرتب ہوا تھا۔ حضرت الفاروق نے اپنی جن دو کافرہ بیویوں کو طلاق دی ان میں سے پہلی کا نام قریبہ تھا یہ ابو امیہ بن مغیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری کا نام ام کلثوم تھا جو عمرو بن حرول خزاعی کی لڑکی تھی حضرت عبید اللہ کی والدہ یہ ہی تھی، اس سے ابو جہم بن حذیفہ بن غانم خزاعی نے نکاح کرلیا یہ بھی مشرک تھا، اسی طرح اس حکم کے ماتحت حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے اپنی کافرہ بیوی ارویٰ بنت ربیعہ بن حارث بن عبدامطلب کو طلاق دے دی اس سے خالد بن سعید بن عاص نے نکاح کرلیا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے تمہاری بیویوں پر جو تم نے خرچ کیا ہے اسے کافروں سے لے لو جبکہ وہ ان میں چلی جائیں اور کافروں کی عورتیں جو مسلمان ہو کر تم میں آجائیں انہیں تم ان کا کیا ہوا خرچ دے دو۔ صلح کے بارے میں اور عورتوں کے بارے میں اللہ کا فیصلہ بیان ہوچکا جو اس نے اپنی مخلوق میں کردیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے باخبر ہے اور اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا اس لئے کہ علی الاطلاق حکیم وہی ہے۔ اس کے بعد کی آیت وان فاتکم الخ کا مطلب حضرت فتادہ ؒ یہ بیان فرماتے ہیں کہ جن کفار سے تمہارا عہد و پیمان صلح و صفائی نہیں، اگر کوئی عورت کسی مسلمان کے گھر سے جا کر ان میں جا ملے تو ظاہر ہے کہ وہ اس کے خاوند کا کیا ہوا خرچ نہیں دیں گے تو اس کے بدلے تمہیں بھی اجازت دی جاتی ہے کہ اگر ان میں سے کوئی عورت مسلمان ہو کر تم میں چلی آئے تو تم بھی اس کے خاوند کو کچھ نہ دو جب تک وہ نہ دیں۔ حضرت زہری ؒ فرماتے ہیں مسلمانوں نے تو اللہ کے اس حکم کی تعمیل کی اور کافروں کی جو عورتیں مسلمان ہو کر ہجرت کر کے آئیں ان کے لئے ہوئے مہر ان کے خاوندوں کو واپس کئے لیکن مشرکوں نے اس حکم کے ماننے سے انکار کردیا اس پر یہ آیت اتری اور مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ اگر تم میں سے کوئی عورت ان کے ہاں چلی گئی ہے اور انہوں نے تمہاری خرچ کی ہوئی رقم ادا نہیں کی تو جب ان میں سے کوئی عورت تمہارے ہاں آجائے تو تم اپناوہ خرچ نکال کر باقی اگر کچھ بچے تو دے دو ورنہ معاملہ ختم ہوا، حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا یہ مطلب مروی ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو مسلمان عورت کافروں میں جا ملے اور کافر اس کے خاوند کو اس کا کیا ہوا خرچ ادا نہ کریں تو مال غنیمت میں سے آپ اس مسلمان کو بقدر اس کے خرچ کے دے دیں، پس فعاقبم کے معنی یہ ہوئے کہ پھر تمہیں قریش یا کسی اور جماعت کفار سے مال غنیمت ہاتھ لگے تو ان مردوں کو جن کی عورتیں کافروں میں چلی گئی ہیں ان کا کیا ہوا خرچ ادا کردو، یعنی مہر مثل، ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں مطلب یہ ہے کہ پہلی صورت اگر ناممکن ہو تو وہ سہی ورنہ مال غنیمت میں سے اسے اس کا حق دے دیا جائے دونوں باتوں میں اختیار ہے اور حکم میں وسعت ہے حضرت امام ابن جریر اس تطبیق کو پسند فرماتے ہیں فالحمد اللہ۔