اس صفحہ میں سورہ Al-Mumtahana کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الممتحنة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْءَاخِرَ ۚ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ
۞ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ ٱلَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً ۚ وَٱللَّهُ قَدِيرٌ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
لَّا يَنْهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمْ يُقَٰتِلُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوٓا۟ إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ
إِنَّمَا يَنْهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ قَٰتَلُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمْ وَظَٰهَرُوا۟ عَلَىٰٓ إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا جَآءَكُمُ ٱلْمُؤْمِنَٰتُ مُهَٰجِرَٰتٍ فَٱمْتَحِنُوهُنَّ ۖ ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَٰنِهِنَّ ۖ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى ٱلْكُفَّارِ ۖ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ ۖ وَءَاتُوهُم مَّآ أَنفَقُوا۟ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۚ وَلَا تُمْسِكُوا۟ بِعِصَمِ ٱلْكَوَافِرِ وَسْـَٔلُوا۟ مَآ أَنفَقْتُمْ وَلْيَسْـَٔلُوا۟ مَآ أَنفَقُوا۟ ۚ ذَٰلِكُمْ حُكْمُ ٱللَّهِ ۖ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
وَإِن فَاتَكُمْ شَىْءٌ مِّنْ أَزْوَٰجِكُمْ إِلَى ٱلْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَـَٔاتُوا۟ ٱلَّذِينَ ذَهَبَتْ أَزْوَٰجُهُم مِّثْلَ مَآ أَنفَقُوا۟ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ
لقد کان .................... الحمید (06 : 6) ” انہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لئے اور ہر اس شخص کے لئے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو۔ اس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔
لہٰذا ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی صری اس شخص کے لئے نمونہ ہیں جو اللہ سے امیدوار ہو اور آخر ت کی جواب دہی کے لئے فکر مند ہو۔ صرف ایسے ہی لوگوں کے دلوں میں حضرت ابراہیم کے تجربات کی قدر ہوسکتی ہے۔ اور وہ ان کے لئے نمونہ اور اسوہ ہوسکتے ہیں۔ اور ان کو دیکھ کر کوئی رہنمائی پاسکتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کے مقاصد اللہ اور آخرت ہوں وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نمونے کو دیکھیں۔ یہ اشارہ ہے اہل ایمان کو۔
لیکن جو اسلامی نظام کی پرواہ نہیں کرتے اور جو قافلہ ابراہیمی کے راستے سے ادھر ادھر جانا چاہتے ہیں۔ جو شخص اس شجرہ نسب سے دور جانا چاہتا ہے ، تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔
فان اللہ ............ الحمید (0 : 6) ” اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔ اس سفر سے اب ہم واپس ہورہے ہیں ، اہل ایمان نے اپنی تاریخ کا مطالعہ کرلیا۔ اب وہ زمین پر اپنی یادیں لے کر واپس ہوگئے۔ امم سابقہ میں ان کے لئے جو سبق آموز تجربات تھے وہ انہوں نے جمع کرلیے اور امم سابقہ میں سے جو لوگ ایسے ہی حالات سے گزرے تھے انہوں نے کیا فیصلے کیے تھے اور انہوں نے پالی کہ جس راہ پر وہ چل رہے تھے یہ تو ایسی راہ ہے جس پر پہلے بھی لوگ چلتے رہے ہیں۔ وہ پہلے لوگ نہیں ہیں جنہوں نے یہ کام کیا۔
قرآن کریم اس تصور کو قافلہ اہل اسلام کے دلوں میں خوب بٹھارہا ہے تاکہ یہ قافلہ چلتا رہے۔ اور وہ یہ محسوس نہ کرے کہ وہ اکیلا ہے یا انوکھا ہے۔ اگرچہ موجودہ نسل میں وہ اکیلا ہے۔ یوں اسے سہارا ملتا ہے اور اس راہ پر چلنے میں مشقت کم ہوجاتی ہے۔ یواں کہ راہ اگرچہ دسوار گزار ہے۔ لیکن کئی لوگ پہلے بھی چلتے رہے ہیں اور انہی گھاٹیوں سے ہوکر گزرے ہیں۔
مکہ و مدینہ کے درمیان جو جنگی صورت حالات جاری تھی اور جس کے اندر بھائی بھائی سے کٹ گیا تھا اور لوگ اس صورت حال کو بہت ہی بھاری سمجھتے تھے۔ اب ان کی امید کی ایک کرن دکھائی جاتی ہے کہ یہ صورت حالات اہل مکہ کی ضد کی وجہ سے ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ بالآخر یہ لوگ بھی اس قافلہ میں شریک ہوجائیں گے۔ اسی جھنڈے کو اٹھالیں۔ یوں ممکن ہوگا کہ بھائی بھائی کا باہم تعلق بھی بحال ہوجائے گا اور اب مزید تخفیف کی جاتی ہے اور ایک بین الاقوامی قانون کا مستقبل قاعدہ بیان کردیا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان مقاطعت اور عداوت اور دشمنی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اسلام کے دشمن ہیں۔ اور اگر کوئی اسلام کی دشمنی ترک کردے تو پھر ہر مسلمان کو اجازت ہے کہ جس کے ساتھ نیکی کرنا چاہے اور وہ مستحق ہے اس کے ساتھ نیکی کرے۔ اور باہم منصفانہ اور عادلانہ روابط قائم کیے جائیں۔
اسلام سلامتی کا دین ہے ، محبت کا عقیدہ ہے۔ وہ ایک ایسا نظام ہے جو پوری دنیا کو اپنے سایہ عاطفت میں لینا چاہتا ہے۔ اور پوری دنیا اپنا منہاج قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے جھنڈوں کے نیچے جمع کرتا ہے اور ان کو باہم متعارف بھائی بناتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ یہ ہے کہ اسلام کے دشمن اپنی معاندانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ وہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں۔ اگر مخالفین اسلام ، اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی ترک کردیں تو اسلام کو کسی کے ساتھ دشمنی میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام از خود کوئی دشمنی پیدا نہیں کرتا۔ وہ دشمنی اور جنگی حالت میں بھی انسانی نفوس کے اندر انس و محبت کے اسباب قطع نہیں کرتا۔ وہ منصفانہ معاملہ کرتا ہے اور ہر وقت اس امید میں رہتا ہے کہ تمام لوگ اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوجائیں۔ اسلام کبھی بھی کسی کو ہدایت اور راہ راست پر آجانے سے مایوس نہیں کرتا۔
اس قطعے کی پہلی آیت میں اس امید کا ذکر ہے ، جو کبھی بھی ناامیدی سے مغلوب نہیں ہوتی۔ یہ آیت ان لوگوں کے دلوں کے لئے مرہم ہے جن پر اسلام اور کفر اس جنگ کو مسلط کیا گیا تھا اور مجبوراً ان کو اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ بائیکاٹ کرنا پڑ رہا تھا۔
عسی .................... مودة (06 : 7) ” بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے “۔ اللہ کی طرف سے امید کا اظہار گویا قطعی اشارہ ہے کہ جلد ہی یہ دشمنی ختم ہوجائے گی۔ جن مومنین نے اسے سنا ہوگا ان کو یقین ہوگیا ہوگا۔ اس کے بعد جلد ہی مکہ فتح ہوگیا تھا اور سب اہل مکہ مسلمان ہوگئے تھے اور سب ایک جھنڈے کے نیچے آگئے تھے۔ اور ان تمام ، دشمنیوں اور عنادوں کے دفاتر لپیٹ لئے گئے تھے اور اہل مکہ اور اہل مدینہ بھائی بھائی بن گئے تھے۔
واللہ قدیر (06 : 7) ” اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے “۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
واللہ ............ رحیم (06 : 7) ” اور وہ غفور ورحیم ہے “۔ جو سابقہ زمانے میں اور حالت کفر میں کسی سے شرک ہوگیا ، اس کو بخشنے والا ہے۔ سابقہ زمانے کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔
جب تک اللہ کا وعدہ پورا نہیں ہوجاتا ، جس کے بارے میں اوپر کی آیت میں امید دلائی گئی تھی ، اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ تعلقات مودت قائم کرنے کی اجازت دے دی ، جو دین کے معاملے میں مسلمانوں سے برسر جنگ نہیں تھے ، جنہوں نے مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نہیں نکالا تھا ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرنے پر جو پابندی سمجھی جاتی تھی اسے رفع کردیا گیا کہ ایسے کفار کے ساتھ بھی عدل کرو اور ان کا کوئی حق اگر تمہارے دائرہ اختیار میں ہے تو اسے ادا کرو ، لیکن جو لوگ دین کے معاملے میں تم سے لڑ رہے ہیں ، انہوں نے تمہیں گھروں سے نکالا ہے ، یا تمہارے نکالنے میں معاونت کی ہے ، تو ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی موالات نہیں ہے ، اور جو لوگ ایسے لوگوں سے موالات کرتے ہیں وہ شالم ہیں۔ ظلم کے معانی میں سے ایک معنی شرک بھی ہے۔ آیت۔
ان الشرک لظلم عظیم پیش نظر ہونی چاہئے۔ مومنین کے لئے یہ شدید تہدید ہے۔ اس لئے انہیں اس قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا چاہئے کہ کہیں سب کچھ نہ گنوادیں۔
یہ اصول جو غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں وضع کیا گیا ہے ، یہ اس دین کے مزاج کے مطابق ہے اور نہایت ہی منصفانہ الاقوامی قانون ہے۔ یہ خالص انسانی نقطہ نظر سے ہے بلکہ اس کو اس پوری کائنات کے نظام کو پیش نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات ایک ہی الٰہ واحد کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ پوری کائنات رب واحد کی طرف متوجہ ہے اور پوری کائنات اللہ کے منصوبے اور نظام اور نقشے کے مطابق چل رہی ہے۔ اگرچہ اس میں لوگوں کے درمیان اختلافات ہیں اور وہ باہم منقسم ہیں۔
یہ اصول اسلام کے بین الاقوامی قانون کا اساسی اصول ہے جس کے مطابق لوگوں کے درمیان امن وسلامتی کی حالت اصلی اور مستقل حالت ہے ، اور اس حالت کے اندر تغیر جارحیت اور دفاع جارحیت کی وجہ سے آجاتا ہے۔ یا اس وجہ سے آتا ہے کہ دو اقوام کے درمیان معاہدہ ہو ، اور ان میں سے ایک معاہدے کو توڑ دے یا خیانت کے امکانات پیدا ہوجائیں یا کوئی قوت آزادی اعتقاد یا آزادی اظہار رائے اور دعوت اسلامی کی راہ میں مزاحم ہوجائے۔ اور یہ بھی دراصل ایک جارحیت ہے۔ ان حالات کے علاوہ اسلام امن وسلامتی ، محبت ، نیکی اور عدل کے احکام دیتا ہے۔
یہ قاعدہ اسلامی نظریہ حیات کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ اسلام انسان اور انسان کے درمیان فرق و امتیاز صرف عقیدے کی بنیاد پر کرتا ہے۔ ایک مومن اگر کسی دوسری قوم کے ساتھ جنگ کرتا ہے تو محض اپنے عقیدے کی وجہ سے کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کی کوئی اور وجہ نہیں ہے۔ الام صرف دعوت کی آزادی اور رائے کی آزادی کے لئے لڑتا ہے۔ اس کے علاوہ فقط وہ اسلامی نظام کے قیام اور اعلائے کلمة اللہ کے لئے لڑتا ہے۔
یہ توجیہہ اور تفسیر اس پوری سورت کے رخ کے ساتھ بھی موافق ہے جس کے اندر عقائد ونظریات کی اہمیت سے بحث ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان صرف نظریاتی جھنڈے کے نیچے لڑ سکتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اس محاذ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا تو وہ ان میں سے ہے۔ اور جس نے اس نکتے پر ان سے جنگ کی تو وہ ان کا دشمن ہے۔ جس شخص نے ان کے ساتھ امن کی حالت کو برقرار رکھا اور ان کو ان کے عقائد پر چھوڑ دیا کہ وہ اپنے عقائد کی طرف لوگوں کو بلائیں اور ان کی راہ روکنے کی کوشش نہ کی اور لوگوں کو زبردستی اسلامی عقائد قبول کرنے سے روکا تو وہ مسالم ہے اور اسلام ان کے ساتھ نیکی اور سماجی تعلق قائم کرنے سے نہیں روکتا۔
اصل بات یہ ہے کہ ایک مسلم اس کرہ ارض پر اپنے عقیدے کی خاطر زندہ ہوتا ہے۔ اس کا مسئلہ اس کا نظریہ اور اس کے ماحول کے ساتھ اس مسئلہ بھی یہی نظریہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے مصلحت اور مفادات پر کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔ وہ کسی عصبیت کے لئے جہاد نہیں کرتا مثلاً رنگ ، نسل ، زبان اور علاقے کی عصبیت۔ اسلام میں جنگ اگر ہے تو صرف نظریات کے لئے ہے۔ اس لئے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو ، اور اسلامی نظام کے لئے جنگ ہے۔
اس کے بعد سورة توبہ نازل ہوئی۔ جس میں ہے۔
براءة من اللہ ................ المشرکین (9 : 1) ” اللہ اور رسول کی طرف سے مشرکین سے بیزاری کا اعلان ہوتا ہے “۔ اس کے ذریعہ جزیرة العرب میں مشرکین کے ساتھ معاہدات ختم کردیئے گئے۔ جن لوگوں کے معاہدے میں میعاد مقرر نہ تھی ان کو چار ماہ کی مہلت دے دی گئی اور جن کے ساتھ میعاد مقرر تھی ان کے ساتھ معاہدے کی مدت طے کی گئی۔ لیکن امن کے وہ معاہدات جو جزیرة العرب کے مشرکین کے ساتھ تھے اور جنہیں منسوخ کیا گیا وہ اس لئے کہ مشرکین عرب بار بار معاہدے توڑ رہے تھے۔ جب انہیں فائدہ ہوتا تو معاہدے پر عمل کرتے ، اور جب نقصان ہوتا تو توڑ دیتے۔ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے اسلام نے ایک دوسرابین الاقوامی قاعدہ بنایا۔
واما تخافن ........................ الخاء نین ” اگر تمہیں کسی قوم سے خیانت کا خطرہ ہو تو اعلانیہ ان کا معاہدہ ان کے سامنے پھینک دو ، بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتا “۔ اور یہ ضرورت اس وقت اس لئے بھی پیش آئی تھی تاکہ اسلام کے پایہ تخت اور مرکز کو محفوظ کردیا جائے۔ اس وقت مرکز اسلام جزیرة العرب تھا۔ اور اس کو ان لوگوں سے پاک کرنا ضروری تھا ، جو مسلمانوں کے بارے میں ہر وقت انتظار میں رہتے تھے ، کہ کوئی موقعہ ملے اور وہ حملہ آور ہوں۔ مشرکین اور اہل کتاب معاہدین بار بار عہد توڑے تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ چونکہ دشمنی کی حالت ہوا کرتی ہے ، اس لئے ایسے حالات میں اگر فریقین حالت جنگ پر ہوں تو دونوں کے لئے مفید ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ قیصر وکسریٰ عظیم مملکتوں نے اسلامی مملکت کے خلاف افواج جمع کرنا شروع کردی تھیں۔ اور دونوں نے اسلام کو اپنے لئے خطرہ سمجھ لیا تھا۔ دونوں نے جزیرة العرب کے ساتھ ساتھ عربی ریاستوں کا رخ جزیرة العرب کی طرف پھیر دیا تھا۔ لہٰذا اسلامی بلاک کی اندرونی تطہیر ضروری ہوگئی تھی تاکہ متوقع بیرونی جارحیت کا موثر مقابلہ کیا جاسکے۔ یہ نوٹ یہاں کافی ہے۔
اب سیاق سورت کی طرف آتے ہیں۔ اب مومنات مہاجرات کی بات۔
یایھا الذین .................................... بہ مومنون (0 : 11) 06 : 01۔ 11)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کرلو ، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال۔ ان کے کفار شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔ یہ الہل کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔ اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیئے ہوئے مہروں کے برابر ہو۔ اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو “۔
ان آیات کے شان نزول کے بارے میں آیا ہے کہ صلح حدیبیہ کی عبارت یوں تھی :” یہ کہ نہیں آئے گا ہم سے کوئی شخص تمہاری طرف جو تمہارے دین پہ ہو ، تو تم اسے ہماری طرف لوٹاؤ گے “۔ جب رسول اللہ ﷺ اور مسلمان ابھی حدیبیہ کے نشیبی علاقے میں تھے کہ کچھ مومن عورتیں آئیں ، یہ ہجرت کا مطالبہ کررہی تھیں اور دارالاسلام آنا چاہتی تھیں۔ قریش آگئے ، کہ ان کو مطابق معاہد واپس کریں۔ معاہدہ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاہدے میں عورتوں کے بارے میں کچھ بھی نہ تھا۔ یہ تو آیات نازل ہوئیں ، جنہوں مہاجر عورتوں کو لوٹانے سے منع کردیا۔ کیونکہ عورتیں کمزور تھیں اور ان کو ان کے دین کے بارے میں فتنے میں مبتلا کیا جاسکتا تھا۔
ان کی ہجرت کے ساتھ ہی اس سلسلے کے بین الاقوامی احکام بھی نافذ ہوگئے۔ یہ قانون سازی بھی نہایت ہی منصفانہ انداز پر کی گئی اور اس میں فریق مخالف کی زیادتیوں کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ کیونکہ اسلام داخلی اور خارجی معاملات میں کوئی قانون انتقامی جذبات پر نہیں بناتا۔
اس سلسلے میں اسلام نے پہلے اقدام یہ کیا کہ ان عورتوں کے حالات کو دیکھا جائے کہ آیا وہ کس مقصد کے لئے ہجرت کررہی ہیں ؟ یہ نہ ہو کہ وہ اپنے سابق خاوندوں سے جان چھڑانا چاہتی ہوں ، یا کسی منفعت کی طلب گار ہوں ، یا یہ نہ ہو کہ وہ دارا الاسلام میں کسی محبوب کے پیچھے تو نہیں جارہی ہیں۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ان سے حلف لیا جاتا تھا کہ وہ خاوند کی دشمنی میں تو نہیں نکل آئیں۔ یہ بھی حلف لیا جاتا تھا کہ مکہ سے تنگ آکر مدینہ کی زمین کی طرف تو نکل آنا نہیں چاہتیں۔ یہ حلف لیا جاتا تھا کہ دنیا کے کسی اور مفاد کے لئے تو نہیں آگئیں۔ اور یہ حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کی محبت کے سوا کسی اور جذبہ کے تحت تو نہیں آگئیں ؟ اور یہ حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اللہ اور رسول کی محبت کے سوا کسی اور جذبہ کے تحت تو نہیں آگئیں ؟ حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ حلف میں یہ بھی تھا کہ تم صرف اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں آرہی ہو ، مسلمانوں میں سے کسی شخص کے ساتھ تمہیں محبت تو نہیں ہے ، یا تم اپنے خاوند سے بھاگنا تو نہیں چاہتی ہو ؟
یہ ہوتا تھا ان کا امتحان۔ ان کے ظاہری حالات پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے حلیفہ بیان پر اکتفا کیا جاتا تھا۔ رہا یہ معاملہ کہ ان کے دلوں میں کیا ہے تو اس سے صرف اللہ خبردار ہے۔ انسان کے لئے کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کے راز جان سکے۔
اللہ اعلم بایمانھن (06 : 01) ” ان کی حقیقت ایمان تو اللہ ہی جانتا ہے “۔ اگر وہ اس مضمون کا اقرار بذریعہ بیان حلفی کردیں تو پھر۔
فلا ترجعو ........................ لھن (06 : 01) ” تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال “۔
اصل میں اعلیٰ تعلق آگیا ہے۔ ایمانی تعلق اور اس نے تمام دوسرے تعلقات کاٹ دیئے ہیں۔ اس لئے اب کوئی ایسا تعلق باقی نہیں رہا ہے کہ اس جدانی کو جوڑ سکے۔ میاں بیوی کا تعلق تو ایسا تعلق ہے کہ اس میں دو افراد ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں ، جڑ جاتے ہیں اور ایک مستقل اور دائمی تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ جب زوجین کے درمیان ایمانی اتحاد نہ ہو تو زوجیت کے حقوق پورے کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایمان دل کی اعلیٰ زندگی کا نام ہے اور اس کی جگہ کوئی جذبہ قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ اگر ایمان کا تعلق نہ ہو تو میاں بیوی کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی ممکن نہیں ہے۔ نہ فریقین کے درمیان انس پیدا ہوسکتا ہے نہ یگانگت۔ جبکہ میاں بیوی کے درمیان محبت ، باہم شفقت اور انس و سکون ضروری ہے۔
ابتدائی زمانہ ہجرت میں یہ حکم نہ آیا تھا۔ مومنہ عورت اور کافر مرد کے درمیان تفریق نہ کی جاتی تھی۔ نہ مومن مرد اور کافرہ عورت کے درمیان تفریق کی جاتی تھی۔ اس لئے کہ اس دور میں اسلامی نظام معاشرت اور اسلامی سوسائٹی ابھی مستحکم نہ تھی۔ لیکن صلح حدیبیہ یا فتح حدیبیہ کے بعد ، زیادہ تر روایات کے مطابق یہ فیصلہ کردیا گیا کہ اب مومن اور کافر کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ رہے۔ ازدواجی تعلق صرف مومن اور مومنات کے درمیان ہو۔ جیسا کہ عملی صورت یہ ہوگئی تھی کہ صرف ایمان کا رابطہ رہ گیا تھا اور مدینہ طیبہ میں صرف ایمانی تعلق تھا۔ اللہ اور رسول کا تعلق رہ گیا تھا ، باقی تمام قسم کے تعلقات کاٹ دیئے گئے تھے۔ بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے تھے۔
لیکن اس تفریق کے بعد پھر نقصان رسیدہ فریق کے لئے منصفانہ قانون سازی کی گئی۔ اگر کسی کافر خاوند کی بیوی کی جدائی کا حکم صادر ہوتا ہے تو اس نے بیوی کو جو مہر دیا تھا ، یا دوسرے اخراجات اٹھائے تھے وہ واپس کرنے ہوتے تھے۔ اسی طرح اگر کسی کافر عورت کو مسلم مرد سے جدا کیا تو مسلم مرد نے جو مہر دیا اور نفقہ دیا وہ اسے واپس کردیا جاتا تھا۔
اب مومنات مہاجرات کے ساتھ مومنین کا نکاح جائز قرار دیا گیا بشرطیکہ وہ ان کو مہر ادا کردیں۔ اس میں ایک فقہی اختلاف ہے کہ آیا ان عورتوں کو عدت گزارنی تھی یا نہیں۔ صرف حاملہ عورتوں کو عدت گزارنی تھی یعنی جب تک وضع حمل نہ ہوجائے۔ اگر عدت ہے تو کیا یہ مطلقہ عورت کی عدت ہے یعنی تین طہریا ینی۔ یا یہ کہ ایک حیض آنے کے ساتھ اور رحم پاک ہونے کا تیقن کافی ہے۔ (کتب فقہ دیکھیں)
واتوھم ما ................ ماانفقوا (06 : 01) ” ان کے کافر شوہروں نے جو مہران کو دیئے تھے وہ انہیں پھیر دو ۔ اور ان سے نکاح کر لنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کردو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیئے تھے وہ تم واپس مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیئے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں “۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان تمام احکام پر عمل کا ضامن اور چوکیدار مقرر کرتا ہے جو ہر مسلم کے دل میں ہے۔ کہ اللہ دیکھ رہا ہے ، اللہ سے ڈرو۔
ذلکم .................... حکیم (06 : 01) ” یہ اللہ کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے “۔ یہ واحد ضمانت ہے جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ کوئی دھوکہ ، حلیہ یا نقص عہد نہ کرے گا ، کیونکہ اللہ کے احکام تو علیم وخبیر کے احکام ہیں۔ اور یہ اس حاکم کے احکام ہیں جو دلوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ یہ احکام نہایت قوی اور قدرتوں والے حاکم کے ہیں۔ ایک مسلمان کے ضمیر میں بس یہی رابطہ کافی ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ حکم کہاں سے آیا ہے اس لئے وہ ان احکام پر چلتا ہے اور ان کا خیال رکھتا ہے۔ کیونکہ مومن کو یقین ہوتا ہے کہ اس نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔
اب اگر مسلمانوں نے اپنی بیویوں کو مہر وغیرہ دیا ہو اور وہ بیویاں دارالکفر میں رہ گئی ہوں جہاں وہ اس قانون کے مطابق جدا ہوگئی ہوں اور ان کے اہل خانہ یا اولیاء نے مومن مسلمانوں کے حق کو واپس نہ کیا ہو ، جیسا کہ بعض حالات میں عملاً ایسا ہوا۔ تو امام وقت ان کے نقصان کی تلاف اس فنڈ سے کردے گا جو ان کافروں کی ملکیت ہوگا جن کی بیویاں دارالاسلام کو آگئی ہوں یا ان رقومات سے ادائیگی کردی جائے گی جو کفار کے ہاں سے مال غنیمت مسلمانوں کو ملا۔
وان فاتکم .................... ما انفقوا (06 : 11) ” اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیئے ہوئے مہروں کے برابر ہو “۔
اور اس حکم اور اس پر عمل کرنے کو بھی ایمان سے جوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ اسلام میں ہر حکم اللہ سے مربوط ہے۔
واتقوا ................ بہ مومنون (06 : 11) ” اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو “۔ اللہ پر ایمان لانے والوں کے لئے یہ بہت ہی موثر یاد دہانی ہے۔
یوں یہ احکام زوجین کے درمیان ایک حقیقت پسندانہ فسخ نکاح کرتے ہیں۔ اور یہ جدائی اسلامی تصور حیات کے مطابق ہے۔ اسلام ازدواجی رشتوں کے لئے ایک الگ تصور رکھتا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اسلامی صفیں دوسری صفوف سے مکمل طور پر جدا اور ممتاز ہوں۔ اور اسلام کی پوری زندگی اسلامی نظریہ حیات پر استوار ہو۔ اور ایمان کے محور کے ساتھ وہ مربوط ہو۔ اور ایک ایسی انسانی سوسائٹی تشکیل پائے جس کے اندر نسل ، رنگ ، زبان ، نسب اور زمین اور علاقوں کی بنیادوں پر کوئی اجتماعی نظام نہ ہو۔ اور صرف ایک ہی جھنڈا ہو جس کے مطابق لوگوں کے درمیان تفریق ہو۔ یعنی وہ پارٹی جو اللہ والوں کی ہے۔ وہ حزب اللہ ہے اور وہ پارٹی جو شیطان کی ہے جسے حزب الشیطان کہا جاتا ہے۔