سورۃ الممتحنہ: آیت 6 - لقد كان لكم فيهم أسوة... - اردو

آیت 6 کی تفسیر, سورۃ الممتحنہ

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْءَاخِرَ ۚ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ

اردو ترجمہ

اِنہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لیے اور ہر اُس شخص کے لیے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو اِس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laqad kana lakum feehim oswatun hasanatun liman kana yarjoo Allaha waalyawma alakhira waman yatawalla fainna Allaha huwa alghanniyyu alhameedu

آیت 6 کی تفسیر

لقد کان .................... الحمید (06 : 6) ” انہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لئے اور ہر اس شخص کے لئے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو۔ اس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔

لہٰذا ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی صری اس شخص کے لئے نمونہ ہیں جو اللہ سے امیدوار ہو اور آخر ت کی جواب دہی کے لئے فکر مند ہو۔ صرف ایسے ہی لوگوں کے دلوں میں حضرت ابراہیم کے تجربات کی قدر ہوسکتی ہے۔ اور وہ ان کے لئے نمونہ اور اسوہ ہوسکتے ہیں۔ اور ان کو دیکھ کر کوئی رہنمائی پاسکتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کے مقاصد اللہ اور آخرت ہوں وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نمونے کو دیکھیں۔ یہ اشارہ ہے اہل ایمان کو۔

لیکن جو اسلامی نظام کی پرواہ نہیں کرتے اور جو قافلہ ابراہیمی کے راستے سے ادھر ادھر جانا چاہتے ہیں۔ جو شخص اس شجرہ نسب سے دور جانا چاہتا ہے ، تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔

فان اللہ ............ الحمید (0 : 6) ” اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔ اس سفر سے اب ہم واپس ہورہے ہیں ، اہل ایمان نے اپنی تاریخ کا مطالعہ کرلیا۔ اب وہ زمین پر اپنی یادیں لے کر واپس ہوگئے۔ امم سابقہ میں ان کے لئے جو سبق آموز تجربات تھے وہ انہوں نے جمع کرلیے اور امم سابقہ میں سے جو لوگ ایسے ہی حالات سے گزرے تھے انہوں نے کیا فیصلے کیے تھے اور انہوں نے پالی کہ جس راہ پر وہ چل رہے تھے یہ تو ایسی راہ ہے جس پر پہلے بھی لوگ چلتے رہے ہیں۔ وہ پہلے لوگ نہیں ہیں جنہوں نے یہ کام کیا۔

قرآن کریم اس تصور کو قافلہ اہل اسلام کے دلوں میں خوب بٹھارہا ہے تاکہ یہ قافلہ چلتا رہے۔ اور وہ یہ محسوس نہ کرے کہ وہ اکیلا ہے یا انوکھا ہے۔ اگرچہ موجودہ نسل میں وہ اکیلا ہے۔ یوں اسے سہارا ملتا ہے اور اس راہ پر چلنے میں مشقت کم ہوجاتی ہے۔ یواں کہ راہ اگرچہ دسوار گزار ہے۔ لیکن کئی لوگ پہلے بھی چلتے رہے ہیں اور انہی گھاٹیوں سے ہوکر گزرے ہیں۔

مکہ و مدینہ کے درمیان جو جنگی صورت حالات جاری تھی اور جس کے اندر بھائی بھائی سے کٹ گیا تھا اور لوگ اس صورت حال کو بہت ہی بھاری سمجھتے تھے۔ اب ان کی امید کی ایک کرن دکھائی جاتی ہے کہ یہ صورت حالات اہل مکہ کی ضد کی وجہ سے ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ بالآخر یہ لوگ بھی اس قافلہ میں شریک ہوجائیں گے۔ اسی جھنڈے کو اٹھالیں۔ یوں ممکن ہوگا کہ بھائی بھائی کا باہم تعلق بھی بحال ہوجائے گا اور اب مزید تخفیف کی جاتی ہے اور ایک بین الاقوامی قانون کا مستقبل قاعدہ بیان کردیا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان مقاطعت اور عداوت اور دشمنی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اسلام کے دشمن ہیں۔ اور اگر کوئی اسلام کی دشمنی ترک کردے تو پھر ہر مسلمان کو اجازت ہے کہ جس کے ساتھ نیکی کرنا چاہے اور وہ مستحق ہے اس کے ساتھ نیکی کرے۔ اور باہم منصفانہ اور عادلانہ روابط قائم کیے جائیں۔

آیت 6{ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْہِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ”تمہارے لیے یقینا ان کے طرزِعمل میں ایک بہت اچھا نمونہ ہے“ لیکن یہ نمونہ اور اسوہ فائدہ مند کس کے لیے ہوسکتا ہے ؟ { لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ } ”اس کے لیے جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو۔“ بالکل یہی الفاظ سورة الاحزاب میں حضور ﷺ کے اسوہ کے حوالے سے آئے ہیں : { لَقَدْ کَانَ لَـکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا۔ } یعنی حضور ﷺ کی شخصیت اور سیرت یقینا اسوہ کاملہ ہے ‘ لیکن اس سے مستفیض صرف وہی لوگ ہو سکیں گے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہوں۔ { وَمَنْ یَّـتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۔ } ”اور جو کوئی منہ موڑ لے تو یقینا اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔“

آیت 6 - سورۃ الممتحنہ: (لقد كان لكم فيهم أسوة حسنة لمن كان يرجو الله واليوم الآخر ۚ ومن يتول فإن الله هو الغني الحميد...) - اردو