سورۃ الممتحنہ: آیت 7 - ۞ عسى الله أن يجعل... - اردو

آیت 7 کی تفسیر, سورۃ الممتحنہ

۞ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ ٱلَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً ۚ وَٱللَّهُ قَدِيرٌ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

اردو ترجمہ

بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور اُن لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور وہ غفور و رحیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

AAasa Allahu an yajAAala baynakum wabayna allatheena AAadaytum minhum mawaddatan waAllahu qadeerun waAllahu ghafoorun raheemun

آیت 7 کی تفسیر

اسلام سلامتی کا دین ہے ، محبت کا عقیدہ ہے۔ وہ ایک ایسا نظام ہے جو پوری دنیا کو اپنے سایہ عاطفت میں لینا چاہتا ہے۔ اور پوری دنیا اپنا منہاج قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے جھنڈوں کے نیچے جمع کرتا ہے اور ان کو باہم متعارف بھائی بناتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ یہ ہے کہ اسلام کے دشمن اپنی معاندانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ وہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں۔ اگر مخالفین اسلام ، اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی ترک کردیں تو اسلام کو کسی کے ساتھ دشمنی میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام از خود کوئی دشمنی پیدا نہیں کرتا۔ وہ دشمنی اور جنگی حالت میں بھی انسانی نفوس کے اندر انس و محبت کے اسباب قطع نہیں کرتا۔ وہ منصفانہ معاملہ کرتا ہے اور ہر وقت اس امید میں رہتا ہے کہ تمام لوگ اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوجائیں۔ اسلام کبھی بھی کسی کو ہدایت اور راہ راست پر آجانے سے مایوس نہیں کرتا۔

اس قطعے کی پہلی آیت میں اس امید کا ذکر ہے ، جو کبھی بھی ناامیدی سے مغلوب نہیں ہوتی۔ یہ آیت ان لوگوں کے دلوں کے لئے مرہم ہے جن پر اسلام اور کفر اس جنگ کو مسلط کیا گیا تھا اور مجبوراً ان کو اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ بائیکاٹ کرنا پڑ رہا تھا۔

عسی .................... مودة (06 : 7) ” بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے “۔ اللہ کی طرف سے امید کا اظہار گویا قطعی اشارہ ہے کہ جلد ہی یہ دشمنی ختم ہوجائے گی۔ جن مومنین نے اسے سنا ہوگا ان کو یقین ہوگیا ہوگا۔ اس کے بعد جلد ہی مکہ فتح ہوگیا تھا اور سب اہل مکہ مسلمان ہوگئے تھے اور سب ایک جھنڈے کے نیچے آگئے تھے۔ اور ان تمام ، دشمنیوں اور عنادوں کے دفاتر لپیٹ لئے گئے تھے اور اہل مکہ اور اہل مدینہ بھائی بھائی بن گئے تھے۔

واللہ قدیر (06 : 7) ” اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے “۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

واللہ ............ رحیم (06 : 7) ” اور وہ غفور ورحیم ہے “۔ جو سابقہ زمانے میں اور حالت کفر میں کسی سے شرک ہوگیا ، اس کو بخشنے والا ہے۔ سابقہ زمانے کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔

جب تک اللہ کا وعدہ پورا نہیں ہوجاتا ، جس کے بارے میں اوپر کی آیت میں امید دلائی گئی تھی ، اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ تعلقات مودت قائم کرنے کی اجازت دے دی ، جو دین کے معاملے میں مسلمانوں سے برسر جنگ نہیں تھے ، جنہوں نے مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نہیں نکالا تھا ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرنے پر جو پابندی سمجھی جاتی تھی اسے رفع کردیا گیا کہ ایسے کفار کے ساتھ بھی عدل کرو اور ان کا کوئی حق اگر تمہارے دائرہ اختیار میں ہے تو اسے ادا کرو ، لیکن جو لوگ دین کے معاملے میں تم سے لڑ رہے ہیں ، انہوں نے تمہیں گھروں سے نکالا ہے ، یا تمہارے نکالنے میں معاونت کی ہے ، تو ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی موالات نہیں ہے ، اور جو لوگ ایسے لوگوں سے موالات کرتے ہیں وہ شالم ہیں۔ ظلم کے معانی میں سے ایک معنی شرک بھی ہے۔ آیت۔

ان الشرک لظلم عظیم پیش نظر ہونی چاہئے۔ مومنین کے لئے یہ شدید تہدید ہے۔ اس لئے انہیں اس قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا چاہئے کہ کہیں سب کچھ نہ گنوادیں۔

یہ اصول جو غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں وضع کیا گیا ہے ، یہ اس دین کے مزاج کے مطابق ہے اور نہایت ہی منصفانہ الاقوامی قانون ہے۔ یہ خالص انسانی نقطہ نظر سے ہے بلکہ اس کو اس پوری کائنات کے نظام کو پیش نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات ایک ہی الٰہ واحد کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ پوری کائنات رب واحد کی طرف متوجہ ہے اور پوری کائنات اللہ کے منصوبے اور نظام اور نقشے کے مطابق چل رہی ہے۔ اگرچہ اس میں لوگوں کے درمیان اختلافات ہیں اور وہ باہم منقسم ہیں۔

یہ اصول اسلام کے بین الاقوامی قانون کا اساسی اصول ہے جس کے مطابق لوگوں کے درمیان امن وسلامتی کی حالت اصلی اور مستقل حالت ہے ، اور اس حالت کے اندر تغیر جارحیت اور دفاع جارحیت کی وجہ سے آجاتا ہے۔ یا اس وجہ سے آتا ہے کہ دو اقوام کے درمیان معاہدہ ہو ، اور ان میں سے ایک معاہدے کو توڑ دے یا خیانت کے امکانات پیدا ہوجائیں یا کوئی قوت آزادی اعتقاد یا آزادی اظہار رائے اور دعوت اسلامی کی راہ میں مزاحم ہوجائے۔ اور یہ بھی دراصل ایک جارحیت ہے۔ ان حالات کے علاوہ اسلام امن وسلامتی ، محبت ، نیکی اور عدل کے احکام دیتا ہے۔

یہ قاعدہ اسلامی نظریہ حیات کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ اسلام انسان اور انسان کے درمیان فرق و امتیاز صرف عقیدے کی بنیاد پر کرتا ہے۔ ایک مومن اگر کسی دوسری قوم کے ساتھ جنگ کرتا ہے تو محض اپنے عقیدے کی وجہ سے کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کی کوئی اور وجہ نہیں ہے۔ الام صرف دعوت کی آزادی اور رائے کی آزادی کے لئے لڑتا ہے۔ اس کے علاوہ فقط وہ اسلامی نظام کے قیام اور اعلائے کلمة اللہ کے لئے لڑتا ہے۔

یہ توجیہہ اور تفسیر اس پوری سورت کے رخ کے ساتھ بھی موافق ہے جس کے اندر عقائد ونظریات کی اہمیت سے بحث ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان صرف نظریاتی جھنڈے کے نیچے لڑ سکتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اس محاذ میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا تو وہ ان میں سے ہے۔ اور جس نے اس نکتے پر ان سے جنگ کی تو وہ ان کا دشمن ہے۔ جس شخص نے ان کے ساتھ امن کی حالت کو برقرار رکھا اور ان کو ان کے عقائد پر چھوڑ دیا کہ وہ اپنے عقائد کی طرف لوگوں کو بلائیں اور ان کی راہ روکنے کی کوشش نہ کی اور لوگوں کو زبردستی اسلامی عقائد قبول کرنے سے روکا تو وہ مسالم ہے اور اسلام ان کے ساتھ نیکی اور سماجی تعلق قائم کرنے سے نہیں روکتا۔

اصل بات یہ ہے کہ ایک مسلم اس کرہ ارض پر اپنے عقیدے کی خاطر زندہ ہوتا ہے۔ اس کا مسئلہ اس کا نظریہ اور اس کے ماحول کے ساتھ اس مسئلہ بھی یہی نظریہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے مصلحت اور مفادات پر کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔ وہ کسی عصبیت کے لئے جہاد نہیں کرتا مثلاً رنگ ، نسل ، زبان اور علاقے کی عصبیت۔ اسلام میں جنگ اگر ہے تو صرف نظریات کے لئے ہے۔ اس لئے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو ، اور اسلامی نظام کے لئے جنگ ہے۔

اس کے بعد سورة توبہ نازل ہوئی۔ جس میں ہے۔

براءة من اللہ ................ المشرکین (9 : 1) ” اللہ اور رسول کی طرف سے مشرکین سے بیزاری کا اعلان ہوتا ہے “۔ اس کے ذریعہ جزیرة العرب میں مشرکین کے ساتھ معاہدات ختم کردیئے گئے۔ جن لوگوں کے معاہدے میں میعاد مقرر نہ تھی ان کو چار ماہ کی مہلت دے دی گئی اور جن کے ساتھ میعاد مقرر تھی ان کے ساتھ معاہدے کی مدت طے کی گئی۔ لیکن امن کے وہ معاہدات جو جزیرة العرب کے مشرکین کے ساتھ تھے اور جنہیں منسوخ کیا گیا وہ اس لئے کہ مشرکین عرب بار بار معاہدے توڑ رہے تھے۔ جب انہیں فائدہ ہوتا تو معاہدے پر عمل کرتے ، اور جب نقصان ہوتا تو توڑ دیتے۔ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے اسلام نے ایک دوسرابین الاقوامی قاعدہ بنایا۔

واما تخافن ........................ الخاء نین ” اگر تمہیں کسی قوم سے خیانت کا خطرہ ہو تو اعلانیہ ان کا معاہدہ ان کے سامنے پھینک دو ، بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتا “۔ اور یہ ضرورت اس وقت اس لئے بھی پیش آئی تھی تاکہ اسلام کے پایہ تخت اور مرکز کو محفوظ کردیا جائے۔ اس وقت مرکز اسلام جزیرة العرب تھا۔ اور اس کو ان لوگوں سے پاک کرنا ضروری تھا ، جو مسلمانوں کے بارے میں ہر وقت انتظار میں رہتے تھے ، کہ کوئی موقعہ ملے اور وہ حملہ آور ہوں۔ مشرکین اور اہل کتاب معاہدین بار بار عہد توڑے تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ چونکہ دشمنی کی حالت ہوا کرتی ہے ، اس لئے ایسے حالات میں اگر فریقین حالت جنگ پر ہوں تو دونوں کے لئے مفید ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ قیصر وکسریٰ عظیم مملکتوں نے اسلامی مملکت کے خلاف افواج جمع کرنا شروع کردی تھیں۔ اور دونوں نے اسلام کو اپنے لئے خطرہ سمجھ لیا تھا۔ دونوں نے جزیرة العرب کے ساتھ ساتھ عربی ریاستوں کا رخ جزیرة العرب کی طرف پھیر دیا تھا۔ لہٰذا اسلامی بلاک کی اندرونی تطہیر ضروری ہوگئی تھی تاکہ متوقع بیرونی جارحیت کا موثر مقابلہ کیا جاسکے۔ یہ نوٹ یہاں کافی ہے۔

آیت 7{ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْہُمْ مَّوَدَّۃً } ”بعید نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تمہاری دشمنی ہے ‘ دوستی پیدا کر دے۔“ ظاہر ہے اگر وہ بھی ایمان لے آئیں گے تو وہ تمہارے بھائی بن جائیں گے ‘ جیسا کہ سورة التوبہ کی آیت 11 میں فرمایا گیا : { فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِط } ”پھر بھی اگر وہ توبہ کرلیں ‘ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں“۔ اور یہ مرحلہ کوئی زیادہ دور بھی نہیں تھا۔ زیرمطالعہ آیات فتح مکہ سے قبل 8 ہجری میں نازل ہوئیں اور اس سے اگلے ہی سال فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں مشرکین عرب کو چار ماہ کا الٹی میٹم دے دیا گیا کہ یا ایمان لے آئو ‘ یا سب قتل کردیے جائو گے۔ اس کے نتیجے میں سب لوگ ایمان لا کر اسلامی بھائی چارے میں شامل ہوگئے۔ آیت زیرمطالعہ میں دوستی اور محبت کے اسی رشتے کی طرف اشارہ ہے جو ان کے درمیان ایک سال بعد بننے والا تھا۔ { وَاللّٰہُ قَدِیْرٌط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”اللہ ہر شے پر قادر ہے ‘ اور اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔“

کفار سے محبت کی ممانعت کی دوبارہ تاکید کافروں سے محبت رکھنے کی ممانعت اور ان کی بغض و و عداوت کے بیان کے بعد اب ارشاد ہوتا ہے کہ بسا اوقات ممکن ہے کہ ابھی ابھی اللہ تم میں اور ان میں میل ملاپ کرا دے، بغض نفرت اور فرقت کے بعد محبت مودت اور الفت پیدا کر دے، کونسی چیز ہے جس پر اللہ قادر نہ ہو ؟ وہ متبائن اور مختلف چیزوں کو جمع کرسکتا ہے، عداوت و قساوت کے بعد دلوں میں الفت و محبت پیدا کردینا اس کے ہاتھ ہے، جیسے اور جگہ انصار پر اپنی نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے (ترجمہ) الخ تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو کہ تمہاری دلی عداوت کو اس نے الفت قلبی سے بدل دیا اور تم ایسے ہوگئے جیسے ماں جائے بھائی ہوں تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے لیکن اس نے تمہیں وہاں سے بچا لیا، آنحضرت ﷺ نے انصاریوں سے فرمایا کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی اور تم متفرق تھے میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں جمع کردیا، قرآن کریم میں ہے (ترجمہ) الخ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد سے مومنوں کو ساتھ کر کے اے نبی تیری مدد کی اور ایمان داروں میں آپس میں وہ محبت اور یکجہتی پیدا کردی کہ اگر روئے زمین کی دولت خرچ کرتے اور یگانگت پیدا کرنا چاہتے تو وہ نہ کرسکتے یہ الفت منجانب اللہ تھی جو عزیز و حکیم ہے، ایک حدیث میں ہے دوستوں کی دوستی کے وقت بھی اس بات کو پیش نظر رکھو کہ کیا عجب اس سے کسی وقت دشمنی ہوجائے اور دشمنوں کی دشمنی میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو کیا خبر کب دوستی ہوجائے، عرب شاعر کہتا ہے۔ یعنی ایس دو دشمنوں میں بھی جو ایک سے ایک جدا ہوں اور اس طرح کہ دل میں گرہ دے لی ہو کہ ابد الا آباد تک اب کبھی نہ ملیں گے اللہ تعالیٰ اتفاق و اتحاد پیدا کردیتا ہے اور اس طرح ایک ہوجاتے ہیں کہ گویا کبھی دو نہ تھے، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے کافر جب توبہ کریں تو اللہ قبول فرما لے گا جب وہ اس کی طرف جھکیں وہ انہیں اپنے سائے میں لے لے گا، کوئی سا گناہ ہو اور کوئی سا گنہگار ہو ادھر وہ مالک کی طرف جھکا ادھر اس کی رحمت کی آغوش کھلی، حضرت مقاتل بن حیان ؒ فرماتے ہیں یہ آیت ابو سفیان صخر بن حرب کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان کی صاحبزادی صاحبہ سے رسول اللہ ﷺ نے نکاح کرلیا تھا اور یہی مناکحت حجت کا سبب بن گئی، لیکن یہ قول کچھ جی کو نہیں لگتا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ نکاح فتح مکہ سے بہت پہلے ہوا تھا اور حضرت ابو سفیان کا اسلام بالاتفاق فتح مکہ کی رات کا ہے، بلکہ اس سے بہت اچھی توجیہ تو وہ ہے جو ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو کسی باغ کے پھلوں کا عامل بنا رکھا تھا حضور ﷺ کے انتقال کے بعد یہ آ رہے تھے کہ راستے میں ذوالحمار مرتد مل گیا آپ نے اس سے جنگ کی اور باقعادہ لڑے پس مرتدین سے پہلے پہل لڑائی لڑنے والے مجاہد فی الدین آپ ہیں، حضرت ابن شہاب کا قول ہے کہ انہی کے بارے میں یہ آیت عسی اللہ الخ، اتری ہے، صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابو سفیان نے اسلام قبول کرنے کے بعد حضور ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ میری تین درخواستیں ہیں اگر اجازت ہو تو عرض کروں آپ نے فرمایا کہو اس نے کہا اول تو یہ کہ مجھے اجازت دیجئے کہ جس طرح میں کفر کے زمانے میں مسلمانوں سے مسلسل جنگ کرتا رہا اب اسلام کے زمانہ میں کافروں سے برابر لڑائی جاری رکھوں آپ نے اسے منظور فرمایا، پھر کہا میرے لڑکے معاویہ کو اپنا منشی بنا لیجئے آپ نے اسے بھی منظور فرمایا (اس پر جو کلام ہے وہ پہلے گذر چکا ہے) اور میری بہترین عرب بچی ام حبیبہ کو آپ اپنی زوجیت میں قبول فرمائیں، آپ نے یہ بھی منظور فرما لیا، (اس پر بھی کلام پہلے گذر چکا ہے) پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جن کفار نے تم سے مذہبی لڑائی نہیں کی نہ تمہیں جلا وطن کیا جیسے عورتیں اور کمزور لوگ وغیرہ ان کے ساتھ سلوک و احسان اور عدل و انصاف کرنے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا بلکہ وہ تو ایسے با انصاف لوگوں سے محبت رکھتا ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ کے پاس ان کی مشرک ماں آئیں یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جس میں آنحضرت ﷺ اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح نامہ ہوچکا تھا حضرت اسماء خدمت نبوی میں حاضر ہو کر مسئلہ پوچھتی ہیں کہ میری ماں آئی ہوئی ہیں اور اب تک وہ اس دین سے الگ ہیں کیا مجھے جائز ہے کہ میں ان کے ساتھ سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا ہاں جاؤ ان سے صلہ رحمی کرو، مسند کی اس روایت میں ہے کہ ان کا نام قتیلہ تھا، یہ مکہ سے گوہ اور پنیر اور گھی بطور تحفہ لے کر آئی تھیں لیکن حضرت اسماء نے اپنی مشرکہ ماں کو نہ تو اپنے گھر میں آنے دیا نہ یہ تحفہ ہدیہ قبول کیا پھر حضور ﷺ سے دریافت کیا اور آپ کی اجازت پر ہدیہ بھی لیا اور اپنے ہاں ٹھہرایا بھی، بزار کی حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا نام بھی ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں اس لئے کہ حضرت عائشہ کی والدہ کا نام ام رومان تھا اور وہ اسلام لا چکی تھیں اور ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائی تھیں، ہاں حضرت اسماء کی والدہ ام رومان نہ تھیں، چناچہ ان کا نام قتیلہ اوپر کی حدیث میں مذکور ہے۔ واللہ اعلم مقسطین کی تفسیر سورة حجرات میں گذر چکی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، حدیث میں ہے مقسطین وہ لوگ ہیں جو عدل کے ساتھ حکم کرتے ہیں گواہل و عیال کا معاملہ ہو یا زیردستوں کا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ممانعت تو ان لوگوں کی دوستی سے ہے جو تمہاری عداوت سے تمہارے مقابل نکل کھڑے ہوئے تم سے صرف تمہارے مذہب کی وجہ سے لڑے جھگڑے تمہیں تمہارے شہروں سے نکال دیا تمہارے دشمنوں کی مدد کی۔ پھر مشرکین سے اتحاد و اتفاق دوستی دیکھتی رکھنے والے کو دھمکاتا ہے اور اس کا گناہ بتاتا ہے کہ ایسا کرنے والے ظالم گناہ گار ہیں اور جگہ فرمایا یہودیوں نصرانیوں سے دوستی کرنے والا ہمارے نزدیک انہی جیسا ہے۔

آیت 7 - سورۃ الممتحنہ: (۞ عسى الله أن يجعل بينكم وبين الذين عاديتم منهم مودة ۚ والله قدير ۚ والله غفور رحيم...) - اردو